دواوں نے اثر کیا نہ دعائیں رنگ لا سکیں۔ ڈاکٹروں کی کاوشیں، تیمارداروں کی بھاگ دوڑ، والدین کی التجائیں،بھائیوں کے صدقات و خیرات ہونی کو نہ ٹال سکے۔

بالاخر چار و ناچار ہم سب نے خدا کی رضا کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے سردار زبیر کو الوداع کہا ۔ اور مٹی کی امانت کو مٹی کے سپرد کر دیا۔

اب بس اس کی یادیں اور باتیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، مگر رہ رہ کر ایک خیال بار بار آتا ہے ۔ کہ اگر روڈ پر قاتل دھاتی کیٹ آئی نصب نہ ہوتیں تو شائد یہ حادثہ جاں لیوا نہ ہوتا-

زبیر عمر میں چھوٹا،رشتے میں بھتیجا مگر حقیقت میں دوست تھا۔ اڑھائی سال قبل پی ایس سی پاس کرکے گورنمنٹ کالج داتوٹ،راولاکوٹ میں فزکس پڑھانا شروع کی۔

14جنوری کو جس دن حادثہ ہوا، اس سے اگلے روز ایم فل فزکس کے تھیسز کا دفاع کرنا تھا۔ اس وقت بھی اسی سلسلے میں اپنے دوست کےہمراہ سپروائزر سے ملاقات اور مشاورت کے لیے آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی چھتر کلاس کیمپس کی جانب جاتے ہوئے امبور کے قریب موٹر سائیکل حادثے کا شکار ہو گیا۔

حادثہ بہت زیادہ خوفناک تو نہیں تھا، تاہم روڈ کے درمیان لگے کیٹ آئیز پر سر کے بل گرنے کی وجہ سے دماغ پر اس قدر شدید چوٹ آئی کہ دوبارہ ہوش میں نہ آیا- اور اس کے دماغ پر لگی چوٹ ہماری روحوں پر منتقل ہو گئی-

چھتر سے امبور کی جانب نکلیں تو سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کرنےکے لیے کیٹ آئیز کی ایک قطار نصب ہے۔ وہی کیٹ آئی جن کا استعمال دنیا دہائیوں پہلے ترک کر چکی۔ ویسے بھی اس کا استعمال صرف روڈ کی حد متعین کیے خاطر ہوتا رہا ہے۔

دھاتی کیٹ آئیز یا روڈ سٹڈ

اُن کا سائز بھی ہمارے ہاں کے دھاتی کیٹ آئیز سے چھوٹا اور اس پر پلاسٹک کی کوٹنگ لازمی کی جاتی ہے۔ مگر پاکستان اور آزاد کشمیر میں جس طرح ہر گنگا الٹی بہتی ہے،یہ قاتل دھاتی ٹکڑا اب بھی گاڑیوں کی رفتار کم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

آزاد کشمیر والے ترقیات اور منصوبہ بندی کے افلاطون تو ایک قدم اور آگے بڑھ گئےاور اس کا استعمال سڑک کے قاسم (ڈیوائیڈر) کے طور پر بھی شروع کر دیا۔ جس چیز کا مقصد جان بچانا ہو، ہم نے اسے جان لینے، گاڑیوں کے ٹائر اور انجن تباہ کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔

کیٹ آئیز کا بطور سپیڈ بریکر استعمال

ان کیٹ آئیز کو بطور سپیڈ بریکر استعمال کرنے سے جہاں گاڑیوں انجن کا بیڑہ غرق ہوتا ہے تو وہیں ٹائروں کی عمر بھی کم ہوجاتی ہے۔ گاڑی جونہی اس کیٹ آئی سے گزرتی ہے تو ایک الارمنگ جمپ لگتا ہے، جو باقی دنیا میں تو یہ بتاتا ہے کہ سڑک ختم ہوچکی، مگر ہمارے ہاں اسے سپیڈ بریکر کہا جاتا ہے۔

یک دم جمپ کی وجہ سے گاڑی کی بنیادیں تک ہل جاتی ہیں اور کئی گاڑیاں، خاص طور پر موٹر سائیکل تو حادثےکا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

اسکے مقابلے میں اصل سپیڈ بریکر اتنے سریع ہوتے ہیں کہ انکے اوپر سے اگر گاڑی تیز رفتار میں بھی گزر جاۓ تو تب بھی کوئی اتنا خوفناک جھٹکا محسوس نہیں ہوتا۔ جتنا ان کیٹ آئیز والے سپیڈ بریکروں سے گاڑی صفر کی رفتار پہ بھی گزارنے پہ محسوس ہوتا ہے۔

یہ ایک ظلم ہے، جس کی وجہ سے عام صارف کی گاڑی اورجان دونوں خطرے میں پڑتی ہیں ۔ مگر سب خاموشی سے اس کو سہہ رہے ہیں۔ ملک کے کئی حصوں میں جہاں عقل و شعور رکھنے والے پالیسی ساز اور انتظامی افسران موجود ہیں وہاں سے کیٹ آئی نامی اس قاتل ڈیوائس کو سڑکوں سے ہٹایا جا رہا ہے۔

مگر اسلام آباد اور مظفرآباد میں اس کا استعمال روزبروز بڑھ رہا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک عزیز کو ائیرپورٹ سے لیکر واپس گھر کی طرف آتے ہوئے جی 10 کے قریب کشمیر ہائی وے پر بچھائے گئے کیٹ آئیز کے جال میں پھنس گیا۔

ساتھ سے گزرتی گاڑی کو بچانے کی کوشش میں دائیں جانب کے دونوں ٹائر کیٹ آئی کی قطار پر چڑھ گئے۔ رش کی وجہ سے فوراً بریک لگانا یا کٹ مارنا خطرناک ہو سکتا تھا۔

جب تک حفاظت گاڑی کیٹ آئیز سے اترتی، دائیں جانب کے دونوں ٹائر ناکارہ ہو چکے تھے۔ بمشکل پشاور موڑ فلائی اوور تک پہنچے تو گاڑی لڑکھڑانےلگی۔ اتر کر دیکھا تو دونوں ٹائر کئی جگہوں سے پھٹ چکے تھے۔

یہ اور اس طرح کے کئ واقعات روزانہ کی بنیاد پر رونما ہوتے ہیں۔ بلا شبہ حادثات قدرت کی جانب سے ہوتے ہیں اور انکو روکنا انسانی بساط میں نہیں مگر حادثات کا باعث بننے اور ان کی شدت بڑھانے والے عوامل کا تدارک کرنے کے لیے عقل بھی تو قدرت کی عطا کردہ ہے جسکے استعمال پر قدرت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔

شاہراہوں پر لگے ان غیر ضروری کیٹ آئیز اور بے ڈھنگے سپیڈ بریکرز کو ہٹانے کے لیے ہم سب کو مشترکہ طور پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

وگرنہ ایک حادثے میں زبیر جان کی بازی ہار گیا تو دوسرے میں میں اور آپ یا ہمارا کوئی عزیز بھی ہو سکتا ہے۔ موت ایک حقیقت ہے مگریقین جانیے جوانی میں حادثے کی موت قیامت سے کم نہیں۔ یہ قیامت ہم پر ٹوٹ چکی ہے۔ (جلال الدین مغل)