غزل

زکریا شاذ 

ملے ہی جن سے نہ سوزوگداز پڑھتے ہوئے

ہم ان سے کیوں نہ کریں احتراز پڑھتے ہوئے

کہیں کہیں سے پڑھوں میں کتاب اپنی بھی

کہ اپنا بھی نہیں رکھتا لحاظ پڑھتے ہوئے

تمام عمر جسے پوجا ہو خدا کی طرح

وہ یاد آئے نہ کیسے نماز پڑھتے ہوئے

کُھلی کتاب سا تھا جسم کوئی ہاتھوں میں

سو کُھلتے جاتے تھے رازوں پہ راز پڑھتے ہوئے

کوئی ورق نہیں ایسا جو تربتر نہ ملے

یہ کون رویا ہماری بیاض پڑھتے ہوئے

دُھنیں نہ خود ہی سر اپنا، لکھیں تو ایسا لکھیں

سدا زمانہ کرے جس پہ ناز پڑھتے ہوئے

یہ زندگی کسی مکتب سے کم نہیں دیکھی

تمام عمر گزاری ہے شاذ پڑھتے ہوئے