July 6, 2022

زکریا شاذ کی تازہ غزل

غزل

زکریا شاذ 

ملے ہی جن سے نہ سوزوگداز پڑھتے ہوئے

ہم ان سے کیوں نہ کریں احتراز پڑھتے ہوئے

کہیں کہیں سے پڑھوں میں کتاب اپنی بھی

کہ اپنا بھی نہیں رکھتا لحاظ پڑھتے ہوئے

تمام عمر جسے پوجا ہو خدا کی طرح

وہ یاد آئے نہ کیسے نماز پڑھتے ہوئے

کُھلی کتاب سا تھا جسم کوئی ہاتھوں میں

سو کُھلتے جاتے تھے رازوں پہ راز پڑھتے ہوئے

کوئی ورق نہیں ایسا جو تربتر نہ ملے

یہ کون رویا ہماری بیاض پڑھتے ہوئے

دُھنیں نہ خود ہی سر اپنا، لکھیں تو ایسا لکھیں

سدا زمانہ کرے جس پہ ناز پڑھتے ہوئے

یہ زندگی کسی مکتب سے کم نہیں دیکھی

تمام عمر گزاری ہے شاذ پڑھتے ہوئے

Close