کہانی کار شیخ عمر نزیر

تصاویر فاروق عمر

ویسے تو نیلم ویلی جانے کیلے ایک ہی راستہ ہے جسے نیلم ویلی روڈ کہتے ہیں مظفرآباد سے شروع ہوکر تاوبٹ تک جاتی ہے لیکن آج میں اپکو ایک متبادل راستے کی سیر کرواتا ہوں مظفرآباد سے جب آپ نیلم کی جانب سفر شروع کرتے ہیں تو دیولیاں کے مقام سے ایک پکی روڈ بائیں جانب مڑ جاتی ہے جس پر مچھیارہ نیشنل پارک کا بورڈ بھی لگا ہوا یہ روڈ دراصل دفاعی روڈ ہے اور فائرنگ کے دوران متبادل راستے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے پہلے اس روڈ کی حالت کافی خراب تھی اور سفر کرنے کے قابل نہیں تھی لیکن اب یہ روڈ مکمل تعمیر ہوچکی ہے اور کارپٹٹڈ روڈ ہے۔ تصاویر دیکھ سکتے ہیں۔ جب آپ اس روڈ پر سفر شروع کرتے ہیں تو کچھ ہی دیر میں آپ کو محسوس ہونے لگتا ہیکہ آپ ایک دوسری جنت میں داخل ہوچکے ہیں۔اس روڈ پر خوبصورت وادیاں، گھنے جنگلات، ٹھنڈے چشمے، آبشاریں بلند چوٹیاں اور ایک جھیل بھی واقع ہے جسے سر کہتے ہیں۔جب آپ ٹاپ پر پہنچتے ہیں تو سامنے چنچ پہاڑی ہے اور گھنا جنگل ہے جہاں تمام قسم کی جنگلی حیات دانگیر جنگلی مرغ،مرغ زریں ریچھ  اور اس طرح کی ساری جنگلی حیات موجود ہیں۔ اوپر ٹاپ پر پہنچنے کے بعد دوسری جانب سے نیچے اترنے سے پہلے گلی اتی ہے جس سے پیر پنجال کی بیشتر چوٹیوں کا نظارا کیا جاسکتا ہے۔

گوگل دھوپ نامی چوٹی جس کی بلندی 11 ہزار فٹ سے زیادہ یے اس روڈ پر ہے اور چوٹی پر جانے کیلے جیپ کا راستہ بھی ہے۔

ڈبراں گاوں ایسا ہی ایک گاوں ہے جیسے اڑنگ کیل جب آپ ڈبراں سے نیچے اترتے ہیں تو لیسواہ کٹھیاں گاوں آتا ہے جو اپنی خوبصورتی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے بل کھاتی روڈ گھروں کے درمیان سے گزرتی ہے۔اس کے بعد لیسوا گاوں اتا ہے جہاں بازار ہے اور ضرورت زندگی کی چیزیں دستیاب ہیں۔ لیسواہ گاوں میں دو بڑی آبشاریں ہیں جس کے لیے اپکو جیپ پر اور کچھ پیدل سفر کرنا پڑتا ہے ان کا نام۔پجا آبشار اور بیکڑی آبشار ہے۔لیسواہ گاوں کے اوپر ایک چوٹی ہے جسے کھوئی کی مالی کہتے ہیں اس کو بھی آپ وزٹ کر سکتے ہیں جس کی بلندی فلوقت نامعلوم ہے اسی طرح اس 52 کلومیٹر کے روٹ پر آپ بے شمار سیاحتی مقامات کو وزٹ کر سکتے ہیں۔52کلومیٹر کے بعد یہ روڈ دوبارہ مین روڈ سے مل جاتی ہے جس مقام کو زیرو پوائنٹ کہتے ہیں