تحریر : سردار عاشق حسین 

           درد کی شدت بڑھتی ہی جا رہی ہے ، کوئی دوا  کوئی تدبیر  کارگر ثابت  نہیں ہو رہی، جسم ناتواں اور کمزور  ہو چکا ہے۔میرے بھائی زرداد حسین حسرت نے  اپنے معالج  ڈاکٹر احسن کے  نام اپنے  آخری خط میں اپنی تکلیف کا زکر کیا تھا تاہم درد کی شدت کے باوجود  ان کی زبان پر کوئی  شکایت نہیں تھی۔ ضبط کا بندھن ٹوٹنے نہیں دیا ، صبر کا دامن تھامے رکھا  بلکہ اکثر انہیں  یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ اس حال میں میرا اللہ خوش  ہے  تو میں بھی خوش ہوں ۔ زرداد حسین حسرت پیشے کے اعتبار سے معلم تھے مگر حقیقی معنوں میں تعلیم جسمانی کے استاد کے ساتھ ساتھ  ایک فنکار ، سماجی کارکن اور، لکھاری بھی تھے ، فن تعمیرات ، گھروں کی آرائش وزیبائش سمیت کئی  ہنر انہوں نے اپنی شخصیت میں سمو رکھے تھے۔

زرداد حسین حسرت

      ریاست تعلیم جسمانی کے اس استاد سے  قانونی و عدالتی امور سے  متعلق  بھی کام لے رہی تھی۔12 دسمبر 2018 کو ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے تک  وہ  ایک پر خلوص ، زندہ دل ، باذوق اور پر جوش نوجوان کی طرح تھے۔ ایک روز ملنے گیا تو اپنی جسمانی تکلیف کا ذکر کیا اور کہنے لگے کوئی  معالج تو ہوگا جو میری تکلیف دور کرے ،چنانچے میں انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے شعبہ یورالوجی کے سابق سربراہ ڈاکٹر مظفر کے پاس لے گیا۔ ڈاکٹر مظفر نے حوصلہ بڑھایا اورپروسٹیٹ کا آپریشن تجویز کیا۔آپریشن کے وقت ، تاریخ اور مزید تفصیلات کے لیے ڈاکٹر مظفر کے معاون ڈاکٹر کے کمرے میں پہنچے تو ڈاکٹر پر تپاک انداز سے  ملا اور  پہاڑی زبان میں پوچھنے لگا، پہچاندے  او  سر؟میں نے جواب دیا ، ضرور  راولاکوٹ کے  ہوں گے ؟ ڈاکٹر کہنے لگا  میں شرافت اللہ ہوں، میں مردان کا پٹھان ہوں، میں نے افغانستان سے ایم بی بی  ایس کیا ہے ، سر  دریک  ہائی سکول میں میرے استاد تھے ۔ تمام تفصیلات طے ہونے پر بھائی جان  بولے کیا سرطان کا خطرہ بھی ہوتا ہے؟  ڈاکٹر شرافت اللہ نے ایک ٹسٹ تجویز کیا۔اس ایک ٹسٹ نے میرے بھائی کی دنیا بدل کر رکھ دی ۔ ہمارے مربی اور رہنما مرحوم ڈاکٹر حلیم نے لیبارٹری رپورٹ پڑھی مگر حقیقت آشکار نہیں ہونے دی۔

     ڈاکٹر حلیم جانتے تھے کہ سرطان جسم کے دوسرے حصوں سے زیادہ  دماغ پر حملہ آور ہوتا ہے، اس کا خوف دل ودماغ پر پنجے گاڑ دیتا ہے ،سرطان مارتا بھی ہے اور انسان کو زندہ لاش بھی بناتا ہے ۔اس ایک  لیبارٹری رپورٹ کے آنے کے بعد خطرے کی گھنٹی  بج چکی تھی۔ چنانچے  اس نئے دشمن کے خلاف مزاحمت کا آغاز ہوا۔ اس مرض کا علاج جتنا مہنگا ہے اتنا ہی مشکل بھی ہے ۔ریڈی ایشن کے 36 سیشن مکمل ہوئے تو پتہ چلا کہ ریڈی ایشن سے ایک کان ناکارہ ہو گیا ہے ۔ ریکٹم  بھی جل کر جسم کا ناسور بن گیا ۔ اس ناسور  کے خلاف کئی آپریشن ناکام گئے۔ جون  2021کے دوسرے ہفتے درد کی شدت  بڑھنے لگی, ڈاکٹر وں نے ایک اور آپریشن تجویز کیا۔ کوٹلی کے ضلعی ہسپتال میں آپریشن تھیٹر کی  دیکھ بھال کی ذمہ داریوں پر مامور بھائی امتیاز کے مشورے سے بڑے بھائی خالق ،حسرت صاحب کو کوٹلی لے گئے ۔ دراصل ان کے ریکٹم  سے جڑے مسائل پریشان کن حد تک بڑھ چکے تھے ۔

    کوٹلی کے ضلعی ہسپتال میں ڈاکٹر نصر اللہ انستھیزیا اسپیشلسٹ، ڈاکٹر عبد الحمید سرجیکل اسپیشلسٹ، ڈاکٹر شہزاد احمد یورالوجسٹ، ڈاکٹر سیلم، ڈاکٹر خاور نے ناسور کے خلاف بھرپورلڑائی لڑی۔16 جون کو ریکٹم   کی سرجری کی گئی۔ 17 جون کو پری نل ایب سیس اور22 جون کوسکو رٹل ایب سیس  کی نکاسی کا عمل کیا گیا۔ اے سی پی اور  سی ٹی سی کے ٹسٹ ہوئے ۔او ٹی سٹاف اور سرجیکل وارڈ کا اسٹاف اپنے حصے کی تدبیریں کرنے میں مصروف رہا۔جسم میں تکلیف بڑھتی ہے جسم کمزور ہوتا ہے تو ڈاکٹر اور طبی عملہ اپنی اپنی  تدبیریں شروع کرتے ہیں ۔ڈاکٹر سیلم نے تجویز کیا کہ تازہ خون جسم میں داخل کیا جائے تاکہ ان کے جسم میں طاقت آئے اور شاید وہ سنبھل سکیں ۔ ہسپتال کے بلڈ یونٹ میں مطلوبہ خون میسر نہیں تھا ۔ پلمبر منصور پہنچے اور خون عطیہ کیا۔ دوسرے دن پھر خون کی ضرورت پڑی، ہسپتال میں شعبہ نرسنگ کی سربراہ میڈم شاہدہ وزیر کا بیٹا محمد سمیع ہماری   مدد کو پہنچا۔ محمد سمیع  کا خون بھا ئی کے جسم میں دوڑنے لگا  تو بھائی الطاف کو تسلی ہوئی اور وہ واپس راولاکوٹ کا رخ  کر گئے ، مگراللہ کی مرضی کچھ اور تھی ۔ 

      24 جون کو ڈاکٹر شہزاد نے بھائی کا آخری بار معائینہ کیا ۔دن بارہ بجے رد کی شدت سہتے سہتے میرے بھائی کی زندگی کی کہانی تمام ہو گئی ۔ بقول شاعر کون جینے کے لیے مرتا ہے لو سنبھالو اپنی دنیا ہم چلے ۔ سب تدبیریں ناکام ہوئیں اور بھاہی اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔ ڈاکٹرز حضرات ناسور کے خلاف لڑائی میں ہمارے بہادری سے لڑے۔بے شک ڈاکٹرز ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حضرت انسان کے دنیا میں آنے اور دنیا سے رخصت ہونے کی خبر بھی  انہی کے پاس ہوتی ہے ۔ یہ ڈاکٹرز ہی ہیں جو علاج کرتے ہیں اور اللہ  شفا دیتا ہے۔ڈاکٹرز  اور طبی عملہ یہ سب ہمارے ہیروز ہیں، ہماری تعریف، تعظیم اور دل کی گہرائیوں سے تشکر کے حق دار ہیں۔ کوٹلی ہسپتال میں بھائی کی رخصتی کے بعد کئی نئی پریشانیوں نے جنم لیا یہ پریشیانیاں ان  لواحقین کے لیے ہوتی ہیں جو موقع  پر موجود ہوتے ہیں ۔حیرت ہے کہ اس جہاں میں کیسے کیسے لوگ ہیں ۔ ہمدردی کرنا چاہیں تو کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ سینیٹری انچارج فرید اور ان کی ٹیم نے  ناسور کے خلاف لڑائی کے بعد کے مراحل میں ہمارا ساتھ دیا۔ سب ایسے کام میں لگے تھے جیسے یہ کام انہی کا ہے اور انہوں نے ہی اسے مکمل کرنا ہے ۔

    ہر معاشرے میں خدائی خدمت گار بھی ہوتے ہیں ۔ جن کے کام سے دنیا کا حسن باقی ہے ۔ نوید ویلفیئر ٹرسٹ کے ذمہ داران بھی خدائی خدمت گار ہیں ۔ اس ادارے نے کوٹلی کے ضلعی شفاخانے میں کولڈ سٹوریج ہاؤس اور مریضوں کے لواحقین کے لیے اٹینڈنٹ ہاؤس بھی بنا رکھا ہے جو لوگوں کی مشکلات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔24 جون کو بھائی کی وفات کے بعد کوٹلی ضلعی ہسپتال میں نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ بعدازاں سات بجے راولاکوٹ میں بھائی کو سپردخاک کیا گیا۔ وقت کم تھا لوگوں کی مشکلات زیادہ تھیں پھر بھی جس نے موت کی خبر سنی  اس کے قدم  نماز جنازہ کے  مقام کی طرف بڑھتے گئے  حتی کہ عین وقت پر نماز  جنازہ کے لیے جگہ کم پڑگئی اور دوسری جگہ کا انتظام کیا گیا۔

       زرداد حسین حسرت بھائی اب ہم میں نہیں ہیں مگر یقین نہیں آرہا اس کے باوجود کہ جب آنکھ دیکھ نہیں سکتی زبان بول نہیں سکتی کان سن نہیں سکتے ہاتھ پیر کام نہیں کر سکتے، سانس رک جاتی ہے تو اٹل حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ موت آگئی ہے جو کسی پر رحم نہیں کرتی چاہے کوئی بادشاہ ہو یا چروہا۔ حسرت صاحب ہمیشہ دوست احباب ، ساتھیوں اور عام لوگوں کے مدد گار تھے ۔کوئی صبح اور کوئی شام ایسی نہیں گزری جب راوی ہوٹل والے اجمل صاحب کا بھائی سے رابطہ نہ ہوا ہو یا بیماری کے دنوں میں کسی دن  وہ بھائی کو بھولے ہوں۔ وہ بھائی کے دوست تھے،  اکثر کہتے تھے میں آپ لوگوں کا چھٹا بھائی ہوں۔ اجمل صاحب کہتے ہیں میں نے کسی شخص کو  زرداد صاحب سے مایوس ہو کر جاتے نہیں دیکھا۔ پروفیسر ڈاکٹر قاسم بن حسن کہتے ہیں زرداد حسین حسرت شکست تسلیم کرنے والے شخص نہیں تھے ۔ آپا نسیم حیات کہتی ہیں وہ حقیقی معنوں میں ماہر تعلیم تھے ۔ بیٹی سعدیہ کہتی ہیں بیماری کے دنوں میں ہم ڈرے  اور سہمے ہوئے تھے مگر وہ سخت تکلیف میں بھی ہنس کر ہم سے ملتے تھے ۔ اپنے آنسو ہم سے چھپا کر رکھتے تھے ۔ لندن سے ڈاکٹر ظفر اقبال نے ٹیلی فونک رابطے میں آئے اور کہنے لگے حسرت صاحب  دوسروں کے کام آتے تھے  وہ ایک اچھے سکاوٹ بھی تھے ۔ 

         ہمارے مرحوم  بھائی کتب بینی کا خوب شوق رکھتے تھے۔ بات صرف شوق تک ہی محدود نہ تھی بلکہ انہوں نے اپنے گھر میں ایک چھوٹی سے لائبریری بھی بنا رکھی تھی۔نامور پامسٹ افطار حسرت ایک سال قبل اللہ کے حضور پیش ہو گئے تھے۔ عظیم ہمالیہ کے حضور کتاب کے مصنف اور ہمارے ساتھی جاوید خان کو مرحوم افطار حسرت کے گھر سے دو بوری کتا بیں ملیں۔افطار حسرت کی فکری وراثت سے ایک بوری کتابوں کا حصہ بھائی زرداد حسرت کو بھی ملاتھا ۔کتابیں پڑھنا اور پھر ان پر تبادلہ خیال کرنا دونوں حسرتوں کا محبوب مشغلہ تھا ۔  دونوں پڑوسی بھی تھے اور دوست بھی ۔بھائی اکثر کہتے تھے حسرت ( افطار حسرت مرحوم ) کتاب کوعمر قیدسناتاہے وضاحت کی کہ افطار حسرت کے پاس جو کتاب  پہنچ جائے واپس نہیں ہو سکتی   

     حقیقت یہی ہے کہ آنسو چھپا کر رکھنے والا رخصت ہو گیا ہے ۔ میں اپنے خاندان کی طرف سے تمام دوست احباب سمیت تمام لوگوں کا شکرگزار ہوں جو اس مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے، نماز جنازہ میں شرکت کی ، تعزیت کے لیے گھر آئے ، ٹیلی فون کیا ،سوشل میڈیا کے زریعے ہماری ہمت بندھائی۔ سابق سنیٹر فرحت اللہ بابر نے جناب امان اللہ خان مرحوم (  لبریشن فرنٹ کے قائد) کی یاد میں اسلام آباد میں ہونے والی  تعزیتی مجلس میں مرحوم کی بیٹی آصمہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا، امان اللہ خان چلے گئے ہیں، آپ لوگ ان کی شاندار زندگی کو انجوائے ( لطف اندوز) کریں۔

          فرحت اللہ بابر کے الفاظ مجھے یاد ہیں، امان اللہ خان کی شاندار زندگی کی جھلک ان کی کتاب جہد مسلسل میں ملتی ہے۔ مرحوم  امان اللہ خان نے اپنی زندگی میں  جہد مسلسل کی ایک کاپی  مجھے دی تھی ۔ میں کبھی کھبی کتاب کھول کر ان کی زندگی  جہد مسلسل سے حوصلہ پاتا ہوں۔ اب

 ہمارے پاس   زرداد حسین حسرت  کی شاندار  زندگی ہے ۔ میں اپنے بھائی کی محبت کو یاد کرکے لطف اندوز ہو رہا ہوں ۔