عبدالہادی احمد

روس افغانستان سے شکستہ خوردہ

1989ء میں روس افغانستان سے شکستہ خوردہ ہو کرواپس گیا،اسی سال کشمیر کے جہاد کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ جہاد کشمیرشروع کرنے میں جماعت اسلامی پاکستان، مقبوضہ کشمیر اورجماعت اسلامی آزاد کشمیر کے مابین رابطوں نےاہم کردار انجام دیا۔

جماعت اسلامی آزاد کشمیر

بالکل ابتدامیں جب مقبوضہ کشمیر پر سناٹا طاری تھا۔ اس سناٹے کو توڑنے کے لیےجماعت اسلامی آزاد کشمیر کےامیر مولانا عبدالباری نے مقبوضہ کشمیر کا ایک تفصیلی دورہ کیا۔

امیر جماعت اسلامی مولانا سعد الدینؒ کی جنرل ضیاء الحق سے ملاقات

انہوں نے ہی امیر جماعت اسلامی مولانا سعد الدینؒ کی پاکستان کے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کا اہتمام کیا۔ تین افراد کے درمیان یہ ملاقات کئی روز تک جاری رہی، ان ہی ملاقاتوں میں مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی شروع کرنے کا منصوبہ طے کیا گیا ۔

جنرل ضیاء کی حادثاتی موت

1988ء میں جنرل ضیاء کی حادثاتی وفات سے اس منصوبے کا تار وپود بکھرنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا۔اس موقعے پر حکومتی اداروں کے بجائےکنٹرول لائن کے دونوں جانب جماعت اسلامی کی قیادت کو اس منصوبے کو بچانے کے لیے آگے آنا پڑا۔

مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو مایُوسی سے بچا لیا

اگرچہ اس منصوبے میں کئی تبدیلیاں واقع ہو گئیں،لیکن مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو مایُوسی سے بچا لیا گیا۔
بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیر اعظم بن گئی تھیں، جن کو کشمیر کی تحریک آزادی کے بارے میں کچھ پتہ تھا،نہ ہی دلچسپی تھی۔تاہم کشمیر کی جدو جہد آزادی کا جو پلان جنرل ضیاء اور جماعت اسلامی کی قیادت  نے تیار کیا تھا،اسے جماعت اسلامی کی قیادت اور بعض سرکاری اور نیم سرکاری اداروں نے روبہ عمل لانے کا فیصلہ کیا۔

افغان جہاداور روس کی پسپائی

گزشتہ چند برسوں میں مقبوضہ خطے کے نوجوانوں میں آزادی کی جو تڑپ پیدا ہوگئی تھی افغان جہاد کی کامیابی نے اس پر بہت مثبت اثرات ڈالے ۔ افغانوں کی فتح نے کشمیریوں میں امیدکی شمع جلادی۔جب انہوں نے دیکھا کہ افغان جہاد کے نتیجے میں روس جیسی سپر پاور پسپائی سے دوچارہو گئی  ،دیوار برلن گر گئی ،یورپ اور وسط ایشیاکمیونزم کی گرفت سے آزاد ہوگئے  اور وسطِ ایشیا کی مسلم ریاستیں دوبارہ دنیا کے نقشے پر نموارد ہوگئیں،تو کے اندر بھی کشمیر کو آزاد کرا نے  کی آرزو شدت اختیار کرتی چلی گئی۔

مقبوضہ کشمیر میں اسمبلی کے انتخابات

1987ء میں مقبوضہ کشمیر میں اسمبلی کے انتخابات آزادی کے نعرے پر لڑے گئے۔ آزادی پسند بھاری مارجن سے جیت رہے تھے،مگربھارت نے کھلی دھاندلی سے اپنی شکست کو فتح میں بدل دیا۔ اس پر کشمیر کی نوجوان نسل کا غصہ بے قابو ہو گیا۔

مقبوضہ کشمیر سے نوجوانوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ  پہلے ہی جہادی تربیت کے لیے تیار تھے،انتخابی دھاندلی نے ان کے غم وغصے میں اضافہ کر دیا۔ یہ نوجوان کنٹرول لائن پر واقع برف زاروں کو عبور کرتے ہوئے آزاد کشمیر پہنچنے لگے  ۔

یہ سب عسکری تربیت حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔ چراغ سے چراغ جلا اورپوری قوم جذبہ آزادی سے سر شار ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔ گزشتہ پروگرام کی رو سےان کی میزبانی جنرل ضیاءالحق کو کرنی تھی،جو اب موجود نہ تھے۔

قاضی حسین احمد کا کردار

آزاد کشمیر میں جماعت کے امیرجناب عبدالرشید ترابی اور ان کی ٹیم کے پُر جوش نوجوانوں نے پہاڑوں سے اتر کر آنے والے مجاہدین کی مقدور بھر دیکھ بھال کی۔تاہم ان کوعسکری تربیت دلانے کا انتظام امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب قاضی حسین احمد نے کیا۔ پاک أفغان سرحد کے قریب واقع جہادی تربیت گاہوں پرحزب اسلامی کے سربراہ حکمت یار اور جمعیت اسلامی کے رہنما پروفیسرربانی کا کنٹرول تھا۔

یہ دونوں آپس میں سخت مخالف تھے،لیکن  کشمیرکی جد وجہد آزادی سے ہر ممکن تعاون پر دونوں متفق تھے۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی اپیل پرانہوں نے بخوشی کشمیری نوجوانوں کو تربیت دلانے کی حامی بھر لی۔

کشمیری نوجوانوں کی تربیت

اس طرح کشمیری نوجوانوں کا سری نگر سے مظفر آباد اوروہاں سے افغانستان پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ مگر رفتہ رفتہ یہ کام دشوار تر ہوتا چلا گیا، پہلے بیج میں20…25 نوجوان آئے تھے،تاہم جب یہ کشمیری نوجوان تربیت حاصل کر کے واپس گئے،تو ان کے ساتھ جہاد افغانستان کا انقلاب آفریں پیغام بھی مقبوضہ کشمیر کے گھر گھر پہنچا۔ جد وجہد آزادی کی بجھی ہوئی راکھ میں دبی ہوئی چنگاریاں یکبارگی بھڑک اٹھیں،جہادی ترانوں سے ساری وادی گونجنے لگی۔

بیس کیمپ میں کشمیری مجاہدین کی آمد

سری نگر کی بسوں پر مظفر آباد کے بورڈ آویزاں ہو گئے، کشمیری نوجوان ان بسوں پرکپواڑا اوراس سے آگے برفانی وادیوں سے گزرتےہوئے بیس کیمپ پہنچنے لگے۔ اس کے بعد یہ کوہ سفید کی ترائیوں میں واقع تربیت گاہوں میں پہنچ جاتے تھے۔
جنوری1990 ءکے بعد توروزانہ دو تین سو لوگ آنے لگے۔ اس طرح بیس کیمپ کے دشوار گزار راستوں میں اور تربیت گاہوں میں نوجوانوں کاایک ہجوم اکٹھا ہو گیا۔اس سےایک نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا،کسی کے پاس اتنے لوگوں کو کھانا کھلانے اوربستر مہیا کرنے کا انتظام نہ تھا ۔ یہ کام حکومت ہی کر سکتی تھی،مگر بے نظیرحکومت اس پوری صورت حال سے بالکل بے خبر بلکہ لاتعلق تھی۔

جنگ بندی لائین عبور کرتے کشمیری نوجوان

دسمبر اور جنوری فروری میں سترہ ہزار فٹ اونچے برف سے ڈھکے پہاڑوں سے گزر نے والے اکثر نوجوان بے سرو سامانی میں تن کے ایک جوڑے میں یا فیرن(کشمیری چوغہ) پہنے جنگ بندی لائن عبور کر لیتے تھے ۔ شدید سردی میں کچھ فراسٹ بائٹنگ کا شکاربھی ہو جاتے تھے، ہاتھ اور پائوں کی انگلیاں کٹ جاتی تھیں،انہیں ہیسپتالوں میں لے جانا پڑتا تھا،علاج کے انتظامات ناکافی تھے۔اس مرحلے پرامیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد بروئے کار آئےجو اہل پاکستان کے بیدارضمیر کا زندہ نشان تھے۔انہوں نےاس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کا فیصلہ کیا۔
 ایک تفصیلی انٹرویو میں قاضی صاحب نے  مجھےبتایا تھا کہ جب ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی تکمیل کی جنگ لڑنے والے کشمیری مجاہدین بے سروسامان ہیں اوران کی تعداد روز بروزبڑھتی جا رہی ہے اور حکومتِ وقت اس صورت حال سے لاتعلق بنی ہوئی ہے، تو ہم نے فیصلہ کیا کہ  پاکستان کے عوام کو آزادی کی اس تحریک سے آگاہ کیا جائے۔ قاضی صاحب اور ان کی جماعت کے پاس تجربے کی کمی نہ تھی۔

افغان جہاد کے کشمیر پر اثرات

جماعت اسلامی افغان جہاد میں حصہ لے کر روس جیسی عالمی طاقت کو چاروں شانے چت کر نے میں اہم کردار ادا کر چکی تھی۔ قاضی صاحب نے جماعت کی قیادت اور کارکنوں کو کشمیر کی تحریک آزادی کے لیے تن من دھن وقف کرنے پر آمادہ کیا۔پاکستان کے کونے کونے میں کشمیر کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔
 قاضی صاحب نے عملی طور پر پُوری قوم کو کشمیر کی تحریک آزادی کی پُشت پر لا کھڑا کیا۔میں نے انٹرویو کے دوران قاضی حسین احمد صاحب سے پُوچھا کہ انہوں نے پانچ فروری کا دن کس طرح اہل کشمیر سے یک جہتی کا دن بنادیا؟ اس دن کو منانے کی غرض و غایت کیا تھی اور خاص طور پر پانچ فروری کی تاریخ کیسے یوم یک جہتی بنی اور  قرعہ فال آپ کے نام کیوں کرنکل آیا؟یہ کام تو پاکستان کے حکمرانوں کو کرنا چاہیے تھا؟ اس سوال کے جواب میں قاضی صاحب نے بتایا:

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی معنی خیز خاموشی


 کشمیری مجاہدین ہزاروں کی تعداد میں مقبوضہ کشمیر کے برفانی پہاڑوں سے اتر کر آگئے تھے،سیکڑوں راستوں میں تھے اورہزاروں افغانستان کے سرحدی علاقوں میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے ۔جماعت اسلامی کے سوا  کوئی ان کا پُرسان حال نہ تھا۔ میں نے پانچ جنوری1990ء کو ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی میڈیا کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں اتنی بڑی عوامی تحریک چل رہی ہے،کشمیری نوجوان اپنے سر ہتھیلیوں پر اٹھا ئے ہوئے آزاد خطے میں پہنچ رہے ہیں اورپیپلز پارٹی کی حکومت اس تحریک کو پاکستانی عوام سے چھپائے ہوئے ہے۔ حکومت نے لوگوں کو اس تحریک  آ زادی کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کواس کام میں شریک کریں۔

کشمیر ایک متنازعہ ریاست ہے ، قاضی حسین احمد

قاضی صاحب نے پانچ جنوری 1990ء کو اپنی اسی پریس کانفرنس میں قومی میڈیا کے نمائندوں کوان کا فرض یاد دلاتے ہوئےکہا ، آپ لوگ دنیا کو بتائیں کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ،بلکہ ایک متنازعہ علاقہ ہے اور وہاں کے لوگ بھارتی قبضے کے خلاف جائز اور قانونی مزاحمت کررہے ہیں۔ آپ لوگ اہل پاکستان کوکشمیرکی اہمیت سے آگاہ کریں،اہل کشمیر صرف کشمیر کی آزادی کے لیے ہی مصروفِ جہد نہیں،بلکہ وہ پاکستان کی بقا کی جدو جہد بھی کر رہے ہیں ،اس لیے کہ کشمیر کا آزاد ہونا پاکستان کی شہ رگ کا آزاد ہونا ہے۔ خدا نخواستہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ مستحکم ہو گیا،توبھارت پوری کوشش کرے گا کہ پاکستان کے پانیوں پر قبضہ جما کر پاکستان کو بنجر اورصحرا بنا دے ۔

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، قائد اعظم

قائد اعظم نے بجا طور پرجموں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا تھا ۔اس لیے کہ کشمیر پاکستان کا تاریخی ،جغرافیائی اور مذہبی جزو بھی ہے ،کشمیر کے بغیر پاکستان کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ کشمیر پاکستان کے لیے اقتصادی اور معاشرتی شہ رگ بھی ہے ،اس لیے ان آمادئہ جہد نوجوانوں کی مدد کرنا تمام اہل پاکستا ن کا مقدس فرض ہے ۔عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں آنے والے نوجوانوں کی مدد کریں،عوام کو یہ احساس دلایا گیا کہ ریاست میں تحریک آ زادی شروع ہو چکی ہے ،اس وقت لوہا گرم ہے ،تحریک کو ہماری حمایت اور سپورٹ کی ضرورت ہے ۔ قاضی صاحب نےپانچ جنوری کی اسی پریس کانفرنس میں یہ اعلان بھی کیا کہ ٹھیک ایک ماہ بعد(پانچ فروری کو) کشمیریوں سے یک جہتی کے اظہار کے لیے ہڑتال کی جائے۔ تاکہ کشمیریوں کویہ اعتماد ہو کہ پاکستان کی پوری پاکستانی قوم ان کی پشت پر ہے۔

5 فروری یوم ِ یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر


1990 ء میں مرکزی حکومت پیپلز پارٹی کے پاس تھی اور صوبہ پنجاب میں نواز شریف اسلامی جمہوری اتحاد کے کے وزیر اعلیِٰ تھے، انہوں نے قاضی صاحب کی کال کی حمایت کی ۔5فروری1990ء کو پنجاب بھر میں سرکاری طور پر یومِ یک جہتی کشمیر منانے کا اعلان کر دیاگیا۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے بھی قاضی صاحب کی کال کی حمایت کردی۔اس دن پورے پاکستان میں قومی چھٹی کا اعلان ہو گیا۔ پانچ جنوری سے پانچ فروری 1990تک۔۔۔اس ایک ماہ کے عرصے میں کانفرنسوں، اجتماعات اور مظاہروں کے ذریعے ایسی فضا بنائی گئی کہ پانچ فروری 1990ء کو تاریخی ہڑتال ہوئی۔ پاکستان کی حکومت، اپوزیشن ،سیاسی جماعتوں اور عوام نے مل کر یوم یک جہتی کشمیر منایا ۔

کشمیر کاز کے لیے غیر ملکی دورے


تحریک آزادیٔ کشمیر کے پیغام کوعالم اسلام کی سطح تک اجاگر کرنے لیے قاضی حسین احمد کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد مسلمان ممالک کا دورہ کر کے ان ممالک کی حکومتوں اور اسلامی تحریکوں کے ذمہ داروں سے ملا۔ ان کو بھی مسئلہ کشمیر کی نوعیت و اہمیت سے اور بھارت کے اسلام اور عالم اسلام کے خلاف عزائم سے آگاہ کیا۔قاضی صاحب نے مختلف ممالک کی اسلامی تحریکوں سے بھی یہ دن یومِ یک جہتی کشمیر کے طور پر منانے کی اپیل کی؛ چنانچہ اس کے بعد سے یہ دن نہ صرف یہ کہ سرکاری طور پر اہتمام کے ساتھ پورے ملک میں منایا جاتا ہے بلکہ دنیا کے اکثر ملکوں میں وہاں کی اسلامی تحریکوں کی طرف سے بھی اسے یومِ یک جہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔

مظفرآباد میں عالمی اسلامی کانفرنس


مئی1990ء کے اوائل میں مظفر آباد میں قاضی حسین احمد کی صدارت میں ایک عالمی اسلامی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں تمام عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین اور نمائندے شریک ہوئے۔گزشتہ بتیس برس سے یہ روایت قائم و دائم ہے۔ ہر سال یوم یک جہتی کشمیر کے موقعے پر آزاد کشمیر اور پاکستان کے کونے کونے میں کشمیر کی تحریک آزادی سے اظہار یک جہتی کے لیے اجتماعات اور سیمی نار ہوتے ہیں اور ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں ۔ مختلف شہروں میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی ہے۔ اگرچہ حکومتی سطح پرہونے والے پروگرام زیادہ تر بے جان اور رسمی نوعیت کے ہوتے ہیں، تاہم عوام الناس کے جوش و خروش میں کمی نہیں آئی ،خصوصاً جماعت اسلامی آج بھی پانچ فروری کو ہر اول دستے میں موجود نظر آتی ہے۔