پروفیسر یعقوب شائق ممتاز ماہر تعلیم‘ کالم نگار،شاعر اور محقق ہیں -پروفیسر یعقوب شائق کے کالم ”نوائے وقت“ کےادارتی صفحہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ پروفیسر محمد یعقوب شائق کا تعلق آزاد کشمیر کے خوبصورت علاقے ضلع باغ کے نواحی گاوں غنی آباد سے ہے۔ پروفیسر یعقوب شائق صاحب طویل علالت کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔اللہ رب العزت مرحوم کی کامل مغفرت اورجنت الفردوس میں اعلی مقام عطاءفرمائے

پروفیسر صاحب کا تعلق قلم قبیلے سے تعلق تھا. وہ ناصرف معروف کالم نگار بلکہ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے اس کے ساتھ ساتھ بطور محقق اور ادیب بھی وہ ایک الگ مقام رکھتے تھے

تصانیف

مضراب ۔ شاعری

بہار ہو کہ خزاں،

عمر عزیز رفت،سوانح عمری

فیض الغنی،

رمضان نیکیوں کا موسم بہار

تحریک آزادی کشمیر میں اساتذہ کا کردار

پروفیسر یعقوب شائق – چند یاد گار لمحات

تری ذات عقل سے ماورا

پروفیسر یعقوب شائق

یہ چمن، یہ پھول ، یہ وادیاں، یہ ہوا، یہ رات، یہ کہکشاں

یہ صبا، یہ دشت، یہ تِتلیاں ، یہ زمیں ، وُہ جلوہ آسماں

یہ نسیمِ صبح کی نغمگی، وہ ہے مہر و ماہ کی روشنی

یہ حرا کی شوخ بلندیاں، وہ فرازِ طُور ہے ضَو فشاں

توُ ہر ایک شے میں ہے جلوہ گر ، تری ذات عقل سے ماورا

تری جستجو میں ہے مضطرب، یہ زمیں، زماں ، یہ مکیں مکاں

ترے کارخانہ ¿ خلق میں ہیں کروڑوں جلوے چھپے ہوئے

کہیں گنگناتی ہیں ندیاں ، کہیں عندلیب ہے نغمہ خواں

کہیں خوشگوار سی دھوپ ہے، کہیں خوش جمال سی چاندنی

کہیں لُو میں جُھلسے ہوئے بدن، کہیں موجِ ابررواں دواں

کہیں بزمِ کیف و سرور ہے، کہیں دلگداز سی حسرتیں

کہیں رنگ و نور کی نکہتیں ، کہیں ظلمتوں کے ہیں کاررواں

کہیں گل رخوں کی نزاکتیں، کہیں دلبروں کی عنایتیں

کہیں زلف و رُخ کی حکایتیں، کہیں صبر و ضبط کا امتحاں

کہیں قمریوں کے ہیں قہقہے، کہیں زاغ و بوم کا شور ہے

کہیں وصل و قرب کا امتحاں، کہیں ہجر و غم کی ہے داستاں

کہیں ذکر و فکر کی محفلیں، کہیں رسم و راہِ جہاد ہے

کہیں لَو چراغ ملال کی کہیں نقشِ حسرتِ رائیگاں

تری ابتدا ہے نہ انتہائ، تری ذات فہم سے ماورا

میں حصارِ وقت میں قید ہوں ، توُ نگاہ شوق سے ہے نہاں

مگر اے خدا مرے آئینے میں ہے ایک نقشِ گریز پا

جِسے کوئی نام نہ دے سکوں ، جسے کر سکو ںنہ کہیں بیاں

وہی ایک لمحہ ¿ کرب و غم ،جہاں دسترس میں نہ کچھ رہے

شبِ تار میں کوئی ناﺅ جیسے ہو موجِ سیل کے درمیاں

کبھی ایک دستِ دعا اٹھے، کبھی بہر سجدہ جبیس جھکے

کبھی آنسوﺅں کے جلو میں آئے تو لا مکاں سے سرِ مکاں

مرے قلب و ذہن کی تیرگی میں کرن سی بن کے نکھر اٹھے

تیری حمد بن کے چمک اٹھے مرا آئینہ ، مرا دشتِ جاں

تیرے دستِ غیب کی منتظر، میری مشکلیں، مری کلفتیں

تری رحمتوں کی ہیں وسعتیں، کفِ پاسے تاسرِ کہکشاں

”نہ مٹے گی دل سے یہ آرزُو کہ لگا کے آنکھوں سے چوم لوں“

ترے آستاں کی زمیں سہی، نہ ملے اگر ترا آستاں