August 8, 2022

عورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بشریٰ حزیں

عالمی یوم خواتین کے حوالے سے  جذبوں کی  شاعرہ  بشریٰ حزیں کی خا ص نظم

بشریٰ حزیں


عالمی دن

نہیں

پورا عالم مرا

سارے دن ہیں مرے

زندگی کی عمارت کی وہ اینٹ ہوں

جس کو بنیاد میں رکھ کے بھولے ہو تم

میں خداؤں

مجازی خداؤں کی جنت کی وہ حور ہوں

جس کو تمغوں سے باتوں کی تولا گیا

بس کرو

بس کرو

یہ قصیدے

یہ قصّے

نہیں چاہئیں

اتنے تمغے گلے میں ہیں ڈالے گئے

پورے قد سے کھڑی ہونا دشوار ہے

بھیک لفظوں کی

لہجوں کی سرگوشیاں

عمر بھر یہ کھلونے تھمائے گئے

میرے دن کے دریچے میں

تیرہ شبی کے بھیانک ہیولے بٹھائے گئے

اور میں چپ رہی

تین بولوں کی سولی چڑھایا گیا

خوں رلایا گیا

میری بولی لگی

اور میں چپ رہی

عالمی دن

نہیں

پورا عالم مرا

سارے دن ہیں مرے

ماں ہوں

قدموں تلے

لاکھ جنّت

مجھے

میرے بچوں کی نظروں کے آگے

تماشا بنایا گیا

اور میں چپ رہی

بس کرو

بس کرو

میں تماشا نہیں

میں کھلونا نہیں

میرے سائے میں بیٹھو تو تہذیب سے

میں کھلونا نہیں

میں تماشا نہیں

میں ہی عرفان ہوں

میں ہی وجدان ہوں

رب کی پہچان ہوں

اس کی تخلیق کاری میں شرکت مری

سامنے ہر مصیبت کے سینہ سپر

میں بہت معتبر

صنفِ نازک نہیں

عزم و ہمت کا کوہِ گراں ہوں

مجھے

میرے ہونے کی پاداش میں

اور اب نا سزا دیجئے

میری منزل مجھے خوب معلوم ہے

راستہ دیجئے

راستہ دیجئے

Leave your comment !

Close