تحریر :مریم جاوید چغتائی
نہ ڈھونڈ اِس چیز کو تہذیبِ حاضر کی تجلی میں۔۔ فی زمانہ یورپ و مغرب سے درآمد شدہ حقوقِ نسواں کے پُر فریب نعروں سے سے متاثرہ مُسلم معاشرے کے افراد کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ اٹھارویں صدی عیسوی تک ان سحر انگیز نعروں کے تخلیق کاروں کے معاشرے میں عورت اپنے بنیادی حقوق تک سے محروم تھی۔۔۔۔ اِس کو مال کمانے اور خرچ کرنے کا حق حاصل نہ تھا۔ جائیداد بنانے، جائیداد کا حصہ لینے اور ووٹ دینے پر پابندی عائد تھی۔ یورپ میں عورت کو جادوگرنی قرار دے کر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جانا یہاں تک کہ جلا دیا جانا تھا۔ عیسائی مذہب میں عورت کمتر سمجھی جاتی تھی اور اِس پر گناہوں کا دائمی داغ تھا کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق اماں حوا نے آدم علی السلام کو درخت کا پھل کھانے یعنی نعوذ بالله گناہ کرنے پر راضی کیا تھا۔ کینڈا میں 1929 تک عورت کو مکمل حیثیت حاصل نہ تھی بلکہ کچھ ہی سال میں اسکو قانون سازی کے ذریعے مکمل شخص ہونے کا حق حاصل ہوا۔ عورت پر روا ان تمام مظالم کے ساتھ ایک وحشیانہ سلوک بیواؤں کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ہندو معاشرے میں ستی کی رسم کے تحت عورت کو شوہر کی چتا کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا تھا۔اور جن معاشروں میں ستی کی رسم نہ تھی وہاں بھی بیوہ عورت کی زندگی تمام خوشیوں سے محروم، تنہائی،.  بے کس اور غم کی زندہ کہانی بن جاتی اس کے وجود کو منحوس سمجھا جاتا خوشیوں   کے موقع پر اس کے سائے سے دور بھاگنے کی کوشش کی جاتی۔ گویا شوہر کے مرتے ہی عورت ہمدری، حسن سلوک، دلجوئی اور زندگی کی ہر خوشی سے محروم ہی ہو جاتی۔لیکن مسلم معاشرے میں اس کے بالکل برعکس عورت کو بحثیت انسان وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایک مرد کو دیئے گئے ہیں اس کو مال کمانے اور خرچ کرنے کی آزادی ہے مرضی کی شادی اور وراثت کا حاصل ہے۔ عورت ماں بیٹی اور بہن کی صورت ہر روپ میں عزت و شرف کی مستحق ہے۔

عورتوں سے حسن سلوک اور اچھے برتاؤ کی قرآن و حدیث میں بار بار تاکید کی گئی ہے قرآن میں ارشاد ہے اور ان عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزارو۔ حضور اکرمﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں عورتوں کے حقوق بیان کرتے ہوئے تاکید کی کہ لوگو! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ شوہروں کو عورتوں سے نرمی و احسان اختیار کرنے ان کی ضروریات پوری کرنے اور ان کا خرچہ اٹھانے کا پابند بنایا گیا۔ باپ کو بیٹیوں کی اچھی تعلیم و تربیت اور پرورش پر جنت کی بشارت دی گئی بھائیوں کو بہنوں کا سائبان بنایا گیا۔ ایک مسلم معاشرے میں بیوہ و مطلقہ خواتین کو نحوست قرار دینے کی بجائے ان کے دوبارہ نکاح پر زور دیا گیا ہے قرآن میں حکم ہے کہ اور تم میں جو عورتیں بیوہ  ہوں ان کے نکاح کرا دو۔ دور رسالت میں مختلف طریقوں سے ترغیب دی جاتی کہ  بیوہ دوسرا نکاح کرئے اور اپنی پسند کے مطابق اپنے لئے شریکِ حیات کا انتخاب کرئے۔ کیونکہ عورت فطری طور پر ایک محافظ و نگران کی محتاج ہے۔عورت کا حقیقی نگران اور محافظ اس کا شوہر ہو سکتا ہے۔ایک شوہر سے وابستہ ہو کر ہی وہ سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکتی ہے اور ایک خوشگوار زندگی بسر کر سکتی ہے شوہر کے علاوہ بھائی اور باپ کی صورت میں بھی مرد عورت کی نگرانی اور حفاظت کے ساتھ ساتھ اس کی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اس لئے رب تعالیٰ نے مرد کو عورت محافظ بنایا ہے۔ اسلام کا عورت پر احسان ہے کہ اس نے عورت کو روزی روٹی کی دوڑ دھوپ سے آزاد کر دیا ہے تا کہ وہ پوری یکسوئی اور اطمینان کے ساتھ گھر میں رہ کر خانگی زندگی کے فرائض انجام دے کیونکہ بچوں کی تربیت کے لئے جو سوز، محبت صبر اور جانفشانی درکار ہے اور گھر کی آرائش و حفاظت کے لئے جن جذبات اور دلچسپوں کی ضرورت ہے اس کے لئے اللہ نے اسے موزوں صلاحتیں دی ہیں اور مرد جو کچھ کماتے ہیں اس کا بہترین مصرف ان کے اہل و عیال کو ہی قرار دیا گیا۔

 صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے جو میں یہاں بیان کرنا چاہوں گی راہِ خدا میں خرچ کرنے غلام آزاد کرنے اور صدقے میں دینے والے دینار سے زیادہ اجر و ثواب کا موجب اس دینار کو قرار دیا گیاہے جو گھروں پر صرف کیا جائے۔ اسطرح گھر والوں پر خرچ کرنے سے نہ صرف دنیا کی زندگی بنتی ہے بلکہ آخرت میں بھی اس پر پایاں اجر و ثواب ہے۔ غرض مغربی معاشرے کے بالکل بر خلاف اسلامی معاشرے میں عورت باعزت اور بلند مقام و مرتبے پر فائز ہے۔ یہاں عورت اور مرد ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہیں ۔ یہاں مرد گھر کا منظم ہے اور عورت گھر کی معمار ہے یہاں عورت کی حیثیت ایک مزدور کی سی نہیں بلکہ وہ ازدواجی زندگی میں مرد کی باعزت رفیق ہے۔ یہاں عورت مرد بن کر کمانے پر مجبور نہیں بلکہ مطمین اور باوقار انداز میں گھر کی نگہبان ہے۔ سچ ہے کہ اسلام کے عطا کردہ معاشرتی اصولوں کے تحت ہی دونوں اصناف اپنی صلاحتیوں اور اہلیت کے مطابق اپنی ذمہداریوں کو نبھا کر خوشگوار، پُر سکون، مہذب، اور مستحکم معاشرہ استوار کر سکتے ہیں۔

 یہ تو تھی اسلام کے مطابق عورت کو جو حقوق حاصل ہیں مگر اب چلتے ہیں کچھ حقیقت کی طرف چونکہ حقیقت کچھ کڑوی بھی ہو گی مگر کچھ علاقوں میں نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہی پرانی سوچ وہی پرانی روایات اب بھی پائی جاتی ہیں عورت کو اب بھی کمتر کمزور سمجھا جاتا ہے اُس کے حقوق اُسے نہیں دیے جا رہے اگر گھر سے تعلیم حاصل کرنے نکل جائے تو راستے میں اوباش لڑکے راستہ روک لیتے ہیں اور ماں باپ عزت کی وجہ سے اُس کی تعلیم روک دیتے ہیں اور ہزاروں خواب وہ جو اُس کی آنکھوں میں ہوتے وہ ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں اگر عورت ان پڑھ ہے تو بھی یہی کہا جاتا ہے یہ تو جاہل ہے یہ کیا خاندان کی تربیت کرئے گی اور اگر پڑھ لکھ کے کچھ بن جائے تو بھی یہی کہا جاتا کہ اِس میں غرور آ گیا اب تو نوکری کرتی ہے اب کسی کے قابو میں نہیں آئے گی۔۔۔۔۔

عورت عورت عورت!!!!!! آخر عورت ہونا اتنا بڑا جُرم ہے تو پیدا ہی کیوں کرتے ہیں لوگ اگر عورت اتنی ہی خراب ہے تو کیوں اپنی حوس بُجھانے کے لیے یہ پارسا مرد ذات اُس کا استعمال کرتا ہے؟؟؟؟ ہے اِس کا جواب کسی مرد کے پاس؟؟ آخر ہر بُری بات پر عورت کا نام ہی کیوں پہلے لیا جاتا ہے غیرت کے نام پر عورت کا ہی قتل کیوں کیا جاتا ہے عزت کے نام پر بیٹی کی ہی قربانی کیوں؟؟؟ کبھی دیکھا ہے کسے بیٹے کو غیرت کے نام پر قربان ہوتے؟؟؟ کبھی دیکھا ہے کہ بیٹا باپ کی عزت کی خاطر جان دے گیا پھر بیٹی قربانی بھی دے بیٹی لاج بھی رکھے بیٹی ظلم بھی سہے اور والدین کی عزت کی خاطر چُپ بھی رہے مگر پھر بھی وہی غلط وہی جُھوٹی آخر کیوں؟؟؟؟لڑکا ہمیشہ دود کا دُھلا اور بیٹی کو کچڑے کا ڈھیر کہا جاتا ہے بے گناہ ہو یا گناہ گار ہو دونوں صورتوں میں سزا لڑکی کو ہی ملتی ہے زمانہ کبھی لڑکے کو غلط نہیں کہتا ہمیشہ لڑکی کو خراب ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔۔۔۔

 حال ہی میں ایک واقعہ لاہور مینارِ پاکستان میں جو پیش آیا تھا جس کے بارے میں میں نے ایک تفصیلی کالم بھی لکھا تھا کہ اُس واقعے میں صرف عورت کو زیرِ بحث لایا گیا کہ وہ ٹک ٹاکر تھی وہی خراب۔۔۔۔۔ خیر حقیقت میں وہ غلط تھی یا درست یہ میں نہیں جانتی مگر جو انصاف کی رو سے دیکھا جائے تو 400 مردوں کے درمیان صرف ایک عورت۔۔۔۔۔۔ سوچ کر بھی خوف آتا ہے روح کھپنے لگتی ہے نعوذباللہ میں بھی ایک لڑکی ہوں مگر حقیقت کے دونوں پہلوں سامنے رکھ کر بات کرنے والی لڑکی ہوں حقیقت کو مدنظر رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کیا ٹھیک ہے کیا غلط۔۔۔۔۔ خیر چلیں لڑکی کو غلط مان لیتے ہیں مگر ذرا سوچیں کہ ایک لڑکی اکیلی اتنے مردوں کے درمیان ہے وہ 400 مرد اس سے زبردستی کر رہے تو کیا ہمارا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے ہمیں کہ ہم خاموش رہیں ہم تماشائی بنے رہیں۔ عورت غلط ہی تھی تو اُن چار سو مردوں میں غیرت مند باپ کی کوئی اولاد نہ تھا کوئی بہن کا غیرت مند بھائی نہیں تھا کسی ماں کا غیرت مند بیٹا نہیں تھا؟؟؟؟ کسی کے پاس اس سوال کا بھی جواب نہیں ہو گا یقیناً کیونکہ عورت تو ہے ہی غلط نا!!!!!  اُس کے بعد کچھ دن پہلے ایک واقعہ جو عباسپور میں پیش آیا بارہ سال کی بچی وہ معصوم سی ننھی کلی جس نے دنیا ٹھیک سے دیکھی بھی نہیں تھی اور اُس کے ساتھ زبردستی کر کے گٹر میں پھنک دیا گیا وہ ظالم بھی کہیں باہر کے ملک کا نہیں تھا وہ بھی اسی شہر پاکستان اسی بچی کا رشتہ دار تھا اب اس دور میں کسی رشتہ دار پر بھی بھروسہ نہ کیا جائے تو ہی ایک بیٹی بچ سکتی۔۔۔ اور پھر ہمیشہ کی طرح اس معاملے کی بھی کاروائی شروع کی گئی اخبارات و سوشل میڈیا میں ہر طرف خبریں پھیلا دی گئی رہی سہی کسر رہی سہی والدین کی عزت جو میڈیا نے بھی پوری کر دی کہ مُجرم کو جلد سزا ہو گی۔۔۔۔۔ اور پھر کیا ہواکچھ بھی نہیں اُس معصوم بچی کا بچپن چھین لیا گیا ابھی ابھی جوانی میں قدم رکھنے جا رہی تھی کہ اُس کے قدم کاٹ دیے گئے اُس کی آنکھوں میں مستقبل کے حسین خواب تھے مگر اُس کی آنکھیں نوچ دی گئی ۔۔۔۔۔۔ اُس معصوم بچی کا بچپن کھڑا نہیں ہو گا روز حشر تمہارے سامنے؟؟؟

اے نمرود کی اولاد حساب کتاب کا دن بھی آئے گا اور تجھے حساب دینا ہو گا یہ حوس کے پُجاری لوگ یہاں ماں باپ بیٹیوں کو ستر پردوں میں بھی چُھپا لیں نا پھر بھی کوئی نمرود اُس کی عزت پر نظریں گھارے بیٹھا ہو گا ہر انسان خوف کھا رہا کہ بچی کے ساتھ کیا ظلم ہوا مگر میرے پاس الفاظ نہیں جو میں اُس کا درد اُس کا بچپن بیاں کر سکوں اُس کی آنے والی جوانی بیاں کر سکوں اُس کے ٹوٹے ہوئے خواب بیاں کر سکوں اپنے ہی خونی رشتے نے اُس معصوم کی ہنسی چھین کر موت تحفے میں دے دی اگر ایک مجرم کو کسی بھی ایک مجرم کو سزا مل جاتی تو باقی شیطانوں کو عبرت مل جاتی مگر یہاں کا قانوں اندھا ہے یہاں انصاف نہیں ہوتا بلکہ انصاف بکتا ہے اور یہی سچائی ہے۔۔۔ ۔

ایسے کئی واقعات رونما ہوئے اور پھر دبا دیے گیۓ ضلع حویلی کہوٹہ جو کہ اب بہت سے لوگ بھول چُکے ہوں گے کہ ماں اور بیٹی کے ساتھ کیا کیا گیا اُن کی عزت اُوچھال کر قتل کر دیا گیا پھر پھانسی کا پھندہ اُن کے گلے میں ڈال کر خودکُشی قرار دے دیا گیا اور ایسے وہ بھی خودکُشی سمجھ کر صفحہ بند کر دیا گیا وہ قاتل بھی آزاد گُھوم رہا ہے کسی نئی حوا کی شہزادی کی تلاش میں۔۔۔۔ آخر کیوں یہ سماج عورت کو ہی غلط تصور کرتا ہے آخر انصاف کب تک بکتا رہے گا ؟؟؟جس دن کسی حوا کی شہزادی کو انصاف ملے گا میں مان لوں گی کہ یہاں محمدﷺ کے اُمتی ہیں یہاں عمر کی طرح انصاف کرنے والے بھی موجود ہیں۔۔

والدین اپنی بچیوں کا خود خیال رکھیں خدارا انہیں سپورٹ کریں اُن کا ساتھ دیں یہ ظالم سماج اُن کی مسکراہٹ چھینے کو تیار کھڑا ہے یہ درندے تاک میں ہیں تمہاری عزتیں اُوچھالنے میں۔ بیٹی کو ہی ہمیشہ غلط مت کہیں اگر بیٹی ہی عزتوں پر قربان ہوتی رہی تو تیرے پیٹے وحشی درندے بن جائیں گے۔  میں ہر گز ہر گز صرف مرد کو غلط نہیں ٹھہرا رہی میرے گھر میں بھی باپ بھائی ہیں ایک سوشل ورکر ہونے  اور ایک لکھاری ہونے کی حیثیت سے روزانہ میری بات ہر ایک نئے انسان سے ہوتی ہے اُس کے نتیجے میں میں یہ کہوں گی کہ ہر مرد غلط نہیں اگر بیٹی غلط ہے بھی تو اُسے سمجھائیں اسے سزا دیں کہ وہ سیدھے رستے پہ چلے جو اُس کے لیے بہتر ہو خواتین کو اُن کے جائز حقوق دلانے اُن کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اُٹھانے اُن کا سہارا بننے کے لیے ہر ممکن میں کھڑی ہوں یہاں ہر انسان کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا باپ ہے تو سائبان بن کر بھائی بہن کو غیرت سمجھ کر بیٹا ماں کا سہارا بن کر۔۔۔۔ خدارا اپنی بیٹیوں کی ہمت بنیں اُن کا حوصلہ بنیں اُنہیں بتائیں تم اپنے حقوق کی جنگ لڑو تم اکیلی نہیں ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔۔۔

Leave your comment !