مبصر : انعام الحسن کاشمیری
 جناب عبدالوحید کا شمار عہد حاضر کے بڑے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ افسانہ لکھنے اور اسے قاری کے مزاج میں ڈھالنے کے ہنر کے ساتھ ساتھ تنقید نگاری میں بھی یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ انھیں یہ بتانے میں ہی ملکہ حاصل نہیں کہ افسانہ کس معیار کا ہے اور یہ ادب کی معراج کو چھوسکتا ہے یا نہیں بلکہ وہ اس کے خدوخال درست کرنے، اس کی خامیوں اور خوبیوں کو اجاگر کرنے اور اسے ایک باکمال تخلیق بنانے کی بابت بھی لکھاری کو آگاہ کرتے ہیں تاکہ تنقید محض تنقید کے دائرے میں ہی مقید نہ رہے بلکہ اس سے باہر نکل کر مفید اور مثبت رخ اختیار کرکے نتیجہ خیز ثابت ہوسکے۔ یہ چیز لکھاری کے لیے بڑی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اور اسے بخوبی اندازہ ہوجاتاہے کہ کہاں ایسا سقم موجو دہے جسے دور کرکے تحریر کی افادیت دوچند کی جاسکتی ہے۔
 جناب عبدالوحید نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے سیکرٹری کی حیثیت سے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان ہی کے طفیل مجھے بھی انجمن کی ایک نشست میں اپنا افسانہ پیش کرنے کااعزاز حاصل ہوا۔ یہ نشست بڑی کامیاب رہی اور انجمن کے متحرک اراکین نے میرے افسانے کی خوبیوں اور خامیوں کو بجا طور پر نمایاں کیا۔ اس سے قبل کسی ایسی نشست میں میں نے اپنا افسانہ اس خوف سے کبھی پیش نہیں کیا کہ ناجانے تنقید کیا رخ اختیار کرجائے اور ممکن ہے صاحب الرائے قرار دے دیں کہ مجھ میں افسانہ نگاری کا ہنر سرے سے موجود ہی نہیں لیکن جناب عبدالوحید نے میرے افسانے ”دنیا کا آخری پاگل آدمی“ میں ایک مقام پر ضروری تبدیلیوں کے بعد اسے انجمن کے اجلاس میں پیش کیا جس میں ہونے والی مفید و پر تاثیر گفتگو نے جہاں مجھے اپنی تحریر میں سقم سے آگہی فراہم کی وہاں میرے جذبوں کو مہمیز بھی عطا کی۔ ایسا جناب عبدالوحید کی بے پایاں محبت اور ان کی شفقت کی بدولت ممکن ہوا۔
 جناب عبدالوحید کے افسانوی مجموعہ ”درختی گھر“ کی تقریب رونمائی گزشتہ دنوں پلاک لاہور کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جہاں نامور اشخاص نے اس پر گفتگو فرمائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر اپنی گفتگو کے نوٹس قبل ازیں ہی تیار کرکے لائے تھے اس طرح بخوبی عیاں ہوگیا کہ انھو ں نے محض سرسری نگاہ ڈال کر ہی تقریر نہیں فرمائی بلکہ افسانوی مجموعہ کا باقاعدہ مطالعہ کیا اور پھر اس میں موجود افسانوں کی اہمیت، حیثیت اور ان کے مقاصد سے ہمیں بخوبی آگاہی فراہم کی۔ یہ تقریب بڑے شاندار موسم میں ہوئی جب لاہور بارش کے باعث جل تھل تھا۔ بارش نے گرمی اور حبس کو کچھ وقت کے لیے دیس نکالا کردیاتھا اور ایسے میں پلاک کے آڈیٹوریم میں خوبصورت گفتگو سننے کا اپنا ایک لطف تھا۔ کسی ایک مقرر کی گفتگو میں بھاری یا بوجھل پن نہیں تھا کہ جو سامعین کی طبیعتوں پر گراں گزرتا۔ میں نے تب تک درختی گھر کا مطالعہ نہیں کیا تھا لیکن مقررین حضرات کی دلپذیر گفتگو نے مجبور کیا کہ کتاب تحفتاً نہیں، خرید کر پڑھنی چاہیے تاکہ اس کی اہمیت بہرحال برقرار رہے۔


جناب عبدالوحید


 درختی گھر دراصل ایک افسانے کا عنوان بھی ہے۔ یہ افسانہ ہمارے آج کے المیے کو بیان کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کس طرح رئیل اسٹیٹ کے کرتا دھرتا ہمارے ذہنوں کو آلودہ کرتے ہوئے ہمیں ایسے پلاٹوں اور گھروں کے خواب دکھاتے ہیں، جن کا حصول ہمارے لیے بے حد مشکل ہوتا ہے۔ رئیل ا سٹیٹ کے یہ ناخدا ہمیں بتاتے ہیں کہ جس کا اپنا پلاٹ یا گھر نہیں، اس کی کوئی زندگی ہی نہیں اور یہیں سے زندگی میں حقیقی مسائل کی دراندازی شروع ہوتی ہے جس سے نمٹتے نمٹتے خود انسان منوں مٹی تلے جوسوتاہے۔
 مجموعہ میں شامل تمام افسانے آج کے دکھڑے، مسائل، المیوں اور کہانیوں کو بیان کرتے ہیں۔ ہر افسانہ ایک مخصوص انداز لیے ہوئے ہے اور عبدالوحید نے روایت کو ترک کرکے افسانے کو نیا روپ، نیاانداز اور نیا آہنگ فراہم کرکے ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی ہے۔ ممکن ہے اس روایت پر آنے والے افسانہ نگار خامہ فرسائی کریں لیکن جو خاصا عبدالوحید کے ہنر کا ہے وہ شاید ہی کسی اور کو میسر آسکے۔ ”تہورا مرتے نہیں“ ایک نہایت شاندار اور جاندار افسانہ ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ دہائیوں قبل جو تہوار منائے جاتے تھے، وہ آج ختم یا بہت کم ہوچکے ہیں لیکن یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ ان کی جگہ نئے تہواروں نے لے لیے ہے۔ یہ تہوار دراصل خوشی و مسرت کے پیام بر ہوتے ہیں۔ یہ تہوار بچھڑے ہوؤں کو ملاتے اور ملنے والوں کو نئی حلاوت اور طراوت سے آشنا کرتے ہیں۔ تہوار اپنی مختلف شکلوں میں ہر دور میں ہر فرد کو یکساں خوشی، طمانیت اور راحت مہیا کرتے چلے آئے ہیں۔ مثلاً بسنت کا تہوار ختم ہوتا تو اس کی جگہ دوسرے تہواروں نے لے لی یعنی انسان نے اپنی خوشیوں کے اشتراک اور مل بیٹھ کر شغل میلہ کرنے کے نت نئے طریقے ہر دور اور ہر عہد میں ازخود ہی دریافت اور ایجاد کیے ہیں۔ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیاہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔
جیکب کی نسل میں جہاں ایک اقلیتی طبقے کے مسائل، درد اور اذیت ناک زندگی کا تذکرہ کیا گیا ہے وہاں ایک ایسے خاندان کی کہانی بیان کی گئی ہے جو خوبصورت بچے پیدا کرنا چاہتاہے اور اس مقصد کے لیے وہ کیا حربہ اختیار کرتاہے، یہی اس افسانے کا نہایت چونکا دینے والا موضوع ہے۔
 میرے بچے واپس کروان لوگوں کا ماجرا ہے جو لیڈروں کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔ یہ لیڈر انھیں اپنے مقصد کے لیے بخوبی استعمال کرتے ہیں اور آخر میں ان کی وقعت اتنی بھی نہیں رہ جاتی کہ کوئی ان کا نام لے۔ آج دنیا میں ہونے والی جنگوں، فرقہ وارانہ فسادات، قبائلی لڑائیوں کے ساری کہانی اس ایک افسانے کے ایک واقعہ میں بیان کرکے ہم پر بہت کچھ آشکار کردیا گیا ہے۔
  گومگو کوکھ اور بیج ایک بالکل نت نئے موضوع کا حامل افسانہ ہے جس میں دوجوانوں کی شادی، بچوں اور عورت کے دلچسپ موضوع پر سیرحاصل گفتگو اور آج کی آن لائن فحاشی کا ذکر ہے جو دراصل پڑھنے سے زیادہ سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
  لولی لنگڑی بے چینی سمیت مجموعہ میں شامل ہر افسانہ ایک نیا اور چونکا دینے والا موضوع لیے ہوئے ہے۔ جناب عبدلوحید جملوں کی بنت، رکھ رکھاؤ اور ان کے اظہاربیان میں کمال قدرت رکھتے ہیں۔ درختی گھر افسانے میں وہ لکھتے ہیں ”مکان کیونکہ تمام لڑکوں کو کھپانے کی نیت سے بنایا گیا تھا اسی لیے مکان کے نقشے میں حسِ ضرورت ہر حوالے سے حسِ جمالیات کو کھا گئی تھی۔“ جیکب کی نسل میں لکھتے ہیں: ”اس سارے دنگے میں اردگرد کی آبادیوں میں یہ بات پھیل گئی کہ ساری کٹری والے بغیر خدا کے بیٹھے ہیں۔“
 بوڑھی بہنیں افسانہ بے حد کمال کا ہے۔ اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو ایسے بڑے بوڑھوں کے درمیان موجود ہوں جن کا وقت بس ہمہ وقت چارپائی پر بسر ہوتاہو۔ وہ اپنے دل کے دکھڑے بیان کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے ہوں جن کا بظاہر کوئی مفہوم یا مقصد نہ ہو لیکن اگر دل کی گہرائی سے انھیں محسوس کیاجائے تو یہی چھوٹی چھوٹی باتیں درحقیقت بڑے مفہوم کی حامل ہوتی ہیں۔ انھی سے زندگی جنم لیتی ہے اور یہی زندگی کی اصل رونق، ہمہ ہمی اور ہنگامہ خیزی ہے جنھیں ہم بوڑھوں کے سٹھیائے جانے سے تعبیر کرکے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس دوران یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک روز ہمیں بھی بوڑھا ہونا ہے۔
 درختی گھر زندگی کے نئے مسائل، نئے کرب اور نئی معنویت سے آشنا کرتا ہے۔ یہ ہمیں ہمارے اردگرد پھیلی ایسی کہانیوں سے آگاہ کرتا ہے جن سے گزرنے کے باوجود ہم کچھ جان نہیں پارہے ہوتے۔ ہم زندگی کو ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھ رہے ہوتے ہیں جبکہ درختی گھر ہمیں اصل زاویے کی سمت لاتا ہے اور تب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دکھ درد، مسائل، کوفت، اذیت وغیرہ کے کچھ اور طرح کے روپ بھی ہیں۔ درختی گھر دراصل ایک ایسا افسانوی مجموعہ ہے جسے ایک بار شروع کرنے کے بعد ایک ہی نشست میں اختتام پذیر کیے بغیر بے کلی سی محسوس ہوتی ہے۔ یہی بے کلی اس مجموعہ کی اصل کامیابی اور

Leave your comment !