ڈاکٹر ساجد خاکوانی

drsajidkhakwani@gmail.com

               ”پانی“اللہ تعالی کی بہت بڑی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ”وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ اَفَلَا یَؤْمِنُوْنَ“(۱۲:۰۳)ترجمہ:اورہم نے پانی سے ہرزندہ چیزپیداکی،کیاوہ(ہماری اس خلاقی کو)نہیں مانتے؟“پانی سے پیدائش اور پانی سے ہی بقائے حیات ہے۔بچہ ماں کے پیٹ میں پانی میں ہی تیرتارہتاہے اور پھراس دنیامیں وارد ہوتاہے۔زمین سے اگنے والی کل نباتات پانی سے تخلیق ہوتی ہیں،اگرپانی میسر نہ آئے تو زراعت تودم ہی توڑ دے۔قدرت نے زمین اور اہل زمن کے لیے پانی کی فراہمی کاایک شاندارنظام تخلیق کیاہے اور اسے اس طرح خود کار طریقے سے چلادیاہے کہ دیکھنے والے کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔سچ ہے کہ اللہ تعالی بہترین خلاق ہے۔ تیزدھوپ کی تمازت سے سمندروں سے پانی کے بخارات بنتے ہیں،اپنے ہلکے وزن کے باعث ہوائیں انہیں اپنے کندھوں پراٹھالیتی ہیں۔یہ بخارات جمع ہوتے ہوتے کچھ وقت میں گھن گھور گھٹاؤں کی شکل اختیارکرلیتی ہیں۔قدرت ان کے اند ر گھن گھرج بھی ڈالتی ہے اور یہ گرجتی ہوئی اورشورمچاتی ہوئی بجلیاں اللہ تعالی کے حکم سے اپنے سفرکاآغازکردیتی ہیں۔اللہ تعالی کے حکم سے یہ گھنے بادل روئی کے گالوں کی طرح آسمان پرنمودارہوتے ہیں اور اکٹھے ہو کر امڈتے ہی چلے آتے ہیں۔سمندروں سے پہاڑوں تک کاسفر یہ اللہ تعالی کے حکم سے دنوں دنوں میں طے کر لیتے ہیں۔اللہ تعالی کی شان ہے کہ پانی سے بھرے ان بادلوں کی منزل کے لیے اس جگہ پر خلا پیداکردیاجاتاہے۔اس خلا کوپر کرنے کے لیے یہ بادلوں کے قافلے جوق درجوق محوسفرہوجاتے ہیں۔ان بادلوں کے راستے میں اونچے اونچے،بلندقامت اور دیوہیکل پہاڑی سلسلے آجاتے ہیں،جوان کے بہاؤ میں سدراہ بنتے ہیں اور یوں قدرت ان بادلوں کونچوڑ کر پہاڑوں کو سیراب کردیتی ہے۔یہاں تک پانی کے سفرکاپہلا مرحلہ مکمل ہوچکتاہے۔پانی کایہ پہلا مرحلہ مائع سے ہوائی شکل اور پھرٹھوس شکل میں پانی کی موجودگی پرمنتج ہوجاتاہے۔

               دوسرے مرحلے میں پہاڑوں پربرسنے والا بارش کاپانی ایک خاص مدت تک برف کی شکل میں جمارہتاہے۔برف کے بڑے بڑے تودوں کی شکل میں پانی کایہ کردار اس کرہ ارض پردرجہ حرارت کو قابومیں رکھنے کاباعث بنتاہے۔اللہ تعالی نے زمین کے درجہ حرارت کو قابل حیات بنانے کے لیے یہ نظام تشکیل دیاہے کہ برف کے بڑے بڑے پہاڑ،تودے اور برفانی میدان اور برفانی سمندروغیرہ درجہ حرارت کو ایک خاص حدسے بڑھنے نہیں دیتے جس سے مخلوقات کو زندہ رنے کے وافرامکانات میں قابل قدرتسلسل باقی رہ جاتاہے۔اگرزمین کادرجہ حرارت ایک خاص حدسے آگے نکل جائے تو شدت حدت کے باعث پہلے مرحلے میں چھوٹی مخلوق اور پھر بڑی مخلوق بھی درجہ بدرجہ موت کے منہ میں جانے لگے جبکہ نباتات بھی اس بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی تاب نہ لا سکیں اوریہ سب پانی جیسی نعمت کے باعث ممکن ہوا۔سال کے جس دورانیے میں سورج کاطواف کرنے والی زمین سورج کے بہت قریب ہوجاتی ہے تو برف کے یہ ذخیرے پگھنے لگتے ہیں۔قطرہ قطرہ پانی بلآخردریاؤں کی شکل اختیارکرلیتاہے۔یہ دریائی بہاؤ پہلے پہاڑی راستوں سے ہوتاہوا،شورمچاتا،اچھلتا،چھلانگتا،پھلانگتااور آبشاریں بناتا،جھیلوں اور کاریزسے گزرتاہوااور چٹانوں سے سر ٹکراتاہوا میدانی علاقوں میں پہنچ جاتاہے۔اب یہ پانی انسانی بستیوں کے لیے وجہ ووسیلہ حیات بن چکاہے۔میدانی علاقوں میں اس پانی کو بڑے بڑے ذخیروں میں جمع کرلیاجاتاہے،اس کی قوت بہاؤ سے کارخانوں کا پہیہ چلایاجاتاہے اور دانے پیس کر آٹابنانے سے لے کر بجلی بنانے اور بڑی بڑی مشینوں کو ٹھنڈاکرنے تک کاکام بھی اس پانی سے لیاجاتاہے۔میدانی علاقے میں دریائی پانی پر بندبناکراس سے نہریں نکالی جاتی ہیں اور نہری نظام سے پھرزرعی زمین کی سیرابی اوربنجرزمینوں کی آبادکاری جیساکام بھی اس پانی کے ذمے ہے۔جہاں جہاں سے دریاگزرتے ہیں وہاں پر زیرزمین پانی کی سطح بھی انسانی دسترس تک پہنچ جاتی ہے اور دستی و برقی کوئیں انسانی گھریلو ضروریات پوری کرنے کاباعث بن جاتے ہیں۔انسانی ضروریات سے بچاہوااور دیگر فاضل و ناقابل استعمال پانی ایک بارپھر شمال سے جنوب کی طرف بڑھتاہوادریاؤں میں بہتاہوا سمندرکی گہرائیوں میں پہنچ جاتاہے اوریوں پانی کی گردش کادوسرامرحلہ بھی پوراہونے کے بعد یہ پانی پہلے مرحلے میں باردیگرشمولیت کے لیے تیارہوجاتاہے۔صدیوں اورقرنوں سے قدرت کایہ کارخانہ اللہ تعالی کی نگرانی میں چل رہاہے اور جب تک اللہ تعالی چاہے گا چلتارہے گا۔

               پانی کے بارے میں اللہ تعالی کی سنت بعض اوقات دریائی پانی کی بجائے آسمانی پانی سے کھیتوں کی سیرابی ممکن بنادیتی ہے۔اس طرح بادل پہاڑوں پر برسنے کی بجائے میدانی علاقوں پر ہی اپنے قطرے نچھاورکردیتے ہیں۔زمین کے ایک خاص موسم میں جب فصلیں تشنہ کام ہوتی ہیں اورانسان کی بار بارآسمان کی طرف اٹھتی ہوئی نگاہیں رحمت خداوندی کی منتظرہوتی ہیں تب اللہ تعالی اپنی خاص رحمت سے بادلوں کارخ میدانوں کی طرف موڑ دیتاہے اور اپنی قدرت کاملہ سے پیاسی میدانی فصلوں کو سیراب کردیتاہے اور انسانوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔بعض اوقات موسم کی شدت اس قدرزیادہ ہوجاتی ہے کہ انسان گرمی سے پگھلنے لگتے ہیں،ایسی صورت میں رحمت خداوندی ایک بار پھر جوش میں آتی ہے بارش کی بوندیں ہوامیں خنکی پیداکر کے موسم کو خوشگواربنادیتی ہیں۔اسی طرح جب کبھی بارش ہوئے ایک مدت گزرجاتی ہے تو زمین سے اٹھنے والا گردوغبارفضاکواس قدر آلودہ کردیتاہے کہ انسانوں کے گلے اس کی تاب نہیں لاسکتے اور بیماریاں پھیلناشروع ہو جاتی ہیں۔اس صورتحال میں رب رحیم کی رحمت ایک بارپھرجوش میں آتی ہے اوربارش سے زمین کے اس حصے کی فضا پاک صاف ہوجاتی ہے،بارش کی بوندیں اپنے قدرتی دباؤ سے سب میل کچیل کو زمین برد کردیتی ہیں اورانسان بیماریوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔آسمان سے برسنے والا پانی اپنی طبی تاثیرمیں زمینی پانی سے بہت مختلف ہوتاہے۔اطباء حضرات اس پانی کوجمع کرتے ہیں اور اسے دوائیوں میں ڈال کر اس کی افادیت سے فیض حاصل کرتے ہیں۔خاص طورپر جب بارش کے ساتھ اولے پڑتے ہیں تو ان برفانی اولوں کاپانی بھی بعض بیماریوں میں اکسیرکادرجہ رکھتاہے۔جولوگ سمندروں میں محوسفرہوتے ہیں ان کے لیے سمندرکاپانی پینے کے قابل نہیں ہوتااور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانابھی ایک مشکل ترمرحلہ ہوتاہے۔ایسے میں جب بارش ہوتی ہے توسمندری جہازوں میں اس برسنے والے پانی کو پینے کے لیے ذخیرہ کرلیاجاتاہے جو قدرت کا مفت تحفہ ہے۔زمین کے بھی چھوٹے بڑے گڑھے جب پانی سے خالی ہو جاتے ہیں تو قریب کے جانور دوردراز ایسے مقامات پر ہجرت کرجاتے ہیں جہاں انہیں پانی آسانی سے میسر ہوجائے۔اورجب بارش کے پانی سے سے وہ خالی گڑھے بڑھ جاتے ہیں تو جنگلی حیات و چرندوپرندمیں بھی خوشی کی لہردوڑجاتی ہے۔اللہ تعالی اس بارش سے مردہ زمین میں زندگی کی لہرپیداکردیتاہے اور گھاس کھانے والے جانور وں کے لیے رزق کے وسیع ذخائرمیسرآجاتے ہیں۔

               اللہ تعالی کی سنت ہے کہ شکر کرنے سے نعمت باقی رہتی ہے اور کفرکرنے سے زوال نعمت ہو جاتاہے۔سیکولرازم نے اللہ تعالی کی پانی جیسی اس نعمت کی بری طرح ناقدری کی۔زیرزمین ایٹمی ڈھماکے کیے جس سے سینکڑوں مربع میل کے علاقے میں پانی کے تمام ذخیرے خشک ہوجاتے ہیں اور زیرزمین حیات جل کر مر جاتی ہے۔مسلمانوں نے اس دنیاپر ازشرق تا غرب کم و بیش ایک ہزارسال حکومت کی ہے۔اس کل دورحکومت میں کسی دوقوموں کے درمیان اسلحے کی دوڑ نہیں ہوئی۔مسلمان سائنسدانوں نے روم و یونان کی صدیوں سے جامد سائنسی تحقیق کی تاسیس نوکا حسین فریضہ سرانجام دیا اور ان قدرتی علوم عصریہ کو اوج کمال تک پہنچایا،لیکن کسی مسلمان ماہرعلوم نے آتشیں اسلحہ بناکر انسان دشمنی کا ثبوت نہیں دیااور نہ ہی مسلمان حکمرانوں نے انسانی بستیوں کوکسی طرح کی عالمی جنگ کے الاؤ میں جھونکا۔اس کے مقابلے میں سیکولرازم نے ایسے ایسے ہتھیار انسانی بستیوں پر آزمائے کہ ان کی گرمائش سے پانی کے بڑے بڑے ذخیرے ہوابن کر اڑگئے۔مغربی دنیامیں بے پناہ کارخانہ سازی سے زمین کادرجہ حرارت خطرناک حدتک بڑھ چکاہے جس کے باعث زیرزمین پانی خشک ہو کر ختم ہوتاچلارہاہے۔ان کارخانوں سے اٹھنے والا دھواں فضاسے بھی آبی بخارات کی شرح کودن بدن کم سے کم کرتاچلاجارہاہے۔سیکولرازم کا یہ فطرت دشمن رویہ یورپ میں کارخانوں کوکم کرنے کی بجائے ایشیاکے درپے ہے کہ فضائی آلودگی اور آبی قلت کاشورمچاکر یہاں کارخانے لگانابندکروائے جائیں تاکہ یورپ کی ساختہ اشیاء یہاں فروخت ہوں اور ایشیائی عوام یورپی کارخانوں کی منڈی بنی رہیں۔یورپی قیادت کی سرتوڑ کوشش ہے کہ مشرقی دنیامیں کارخانے نہ لگنے پائیں اور کارخانے لگیں بھی توان پر آلودگی ختم کرنے والاایک اوربھاری بھرکم پرزہ لگاکر یہاں کی مصنوعات اتنی مہنگی کردی جائیں کہ عوام یورپ کی بنی ہوئی ارزاں ترچیزیں ہی خریدنے پر مجبورہوجائیں۔اوراس ساری مہم کے لیے آلودگی اورقلت آب کاشورمچایاجاتاہے جب کہ اس آبی کمی کااصل ذمہ دار یورپ خودہے۔پانی کادن منانے کاتقاضاہے یورپ کی سرزمین سے کارخانوں کے اختتام کی مہم شروع کی جائے تاکہ انسانیت کو کچھ سکون میسرآئے اور پانی کی بچت ہو۔