July 6, 2022

شاعری افضل ضیائی

وطن کا قرض تھا اتنا کہ سر دیا جاتا
زمیں کو سرخ گلابوں سے بھر دیا جاتا

میں جب بھی تخت نشینوں سے حق طلب کرتا
تو میری گود کو مٹی سے بھر دیا جاتا

مسرتوں سے مستفید ھو نہیں سکتے
نہیں ھے جب تلک تاوان بھر دیا جاتا

شب وصال کا کیا المیہ بیان کروں
اٹھا کے ایک طرف مجھ کو دھر دیا جاتا

کمال طرز حکومت تھا اس ریاست کا
لباس کفن کا ،مٹی کا گھر دیا جاتا

وثیقے توڑ کر بانٹو، زمین لوگوں میں
جو نعرہ زن ھوا ؛ وہ قتل کر دیا جاتا

افضل ضیائی

Close