July 5, 2022

واجد شمس الحسن تحریر۔عارف الحق عارف

تحریر۔عارف الحق عارف

ممتاز صحافی،ایڈیٹر اور سفارتکار واجد شمس الحسن کے انتقال کی خبر سن کر افسوس ہوا۔ان کا تعلق دلی کے ایک نواب خاندان سے تھا اور صحافت میں بھی ان کی یہ خاندانی روائت برقرار رہی وہ اپنے رویوں، دوسروں سے تعلقات،برتاؤ اور رکھ رکھاؤ میں نوابی شان رکھتے تھے اور نوابوں جیسی زندگی جیئے۔ہم دونوں کے درمیان نظریاتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود دوستی کا تعلق تھا اور یہ تعلق آخر تک قائم رہا۔ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ احترام اور رواداری کے ساتھ ملتے تھے۔ہم دونوں نے کم و بیش ۱۳سال تک جنگ گروپ میں ایک ساتھ کام کیا۔وہ جنگ گروپ کے شام کے انگریزی اخبار دی ڈیلی نیوز کے ایڈیٹر اور کالم نگار تھے اور ہم روزنامہ جنگ میں تھے۔وہ شروع ہی سے نظریاتی طور بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے اور پیپلز پارٹی کے بانی زیڈ اے بھٹو  کی سیاست اور قیادت کے بڑے شیدائی اورحامی تھے۔وہ اپنے ان خیالات کا اظہار اپنے کالموں میں کھل کر کرتے تھے، جس کا علم جنگ گُروپ کے بانی میر خلیل الرحمن کو تھا۔میر صاحب نے اپنے گروپ میں ہر قسم کے نظریات اور سیاسی فکر رکھنے والے لائق صحافیوں کو ایک خوب صورت گلدستے کی صورت میں جمع کر رکھا تھا اور یہی اس گروپ کی کامیابی کا بہت سے رازوں میں سے ایک راز بھی تھا۔ میر صاحب کو کسی کے سیاسی نظریات اور خیالات اور ذاتی زندگی سے کوئی تعلق اور سروکار نہیں تھا۔ان کو جو بھی لائق اور اچھا ایڈیٹر ،کالم نگار،فیچر رائٹر،رپورٹر یا فوٹو گرافر ملتا، اس کو اپنے اخبارات میں لے آتے،ان سے بہترین کام لیتے اور اس طرح وہ جنگ گروپ کو پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤس بنانے میں کامیاب رہے۔

واجد شمس الحسن صحافت میں ہم سے کافی سینیئر تھے۔ہم جب ۱۹۶۷ میں جنگ سے وابستہ ہوئے تو وہ ڈیلی نیوز کے چیف رپورٹر تھے۔اور چند برس بعد اس کے ایڈیٹر بنے ۔وہ ویکلی میگ کے بھی ایڈیٹر رہے۔انہون نے ۱۹۶۸ میں پہلی بارلندن سے عملی صحافت کی تربیت کا ایک کورس کیا اور کامن ویلتھ پریس یونین اسکالرشپ بھی حاصل کیا جو کسی پاکستانی کے لئے ایک بڑا اعزازتھا اس کے علاوہ انہوں نے آکسفورڈ سے بھی عملی صحافت میں کئی شارٹ کورسز کئے اور اپنی صحافتی مہارت کو جلا بخشی۔ ۱۹۸۹ میں بے نظیر کے دور حکومت میں وہ جنگ گروپ سے علاحدہ ہو کر کر نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین مقرر بن گئے اور صحافت سے اپنا رابطہ برقرار رکھا۔وہ پاکستان کی انگریزی صحافت کا ایک بڑا نام تھے۔انہوں نے اپنے سیاسی نظریات کی قیمت بھی چکائی اور نواز شریف کے دور میں کچھ وقت اسیری میں بھی گزارا۔نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے ٹرسٹ کے اخبارات میں صحافیوں کے حالات کار بہتر بنانے کی کوشش بھی کی۔وہ تین سال تک اس منصب پر رہے ۱۹۹۴ میں پہلے وہ وزیراعظم بینظیر بھٹو کے مشیر رہے اور اس کے بعد ان کو برطانیہ میں پاکستان کا ہائی کمشنر مقرر کیا گیا جہاں وہ ۱۹۹۶ تک کام کرتے رہے۔۲۰۰۸ میں ان کو دوبارہ ہائی کمشنر برطانیہ مقرر کیا گیا۔

پیپلز پارٹی سے سیاسی تعلق کے باوجود ان کے ساری سیاسی جماعتوں سے اچھے تعلقات تھے اور ان کو سیاسی خبریں حاصل کرنے کےلئے خوب استعمال کرتے تھے اور ان کی یہ خبریں جنگ گروپ کے اخبارات کہ شہ سرخیاں بنتی تھیں۔وہ نو آموز صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان کو خبریں، کالم اور اداریئے لکھنے کی ترغیب دیتے اور ان کی تحریروں کی نوک پلک درست کرتے تھے۔وہ بے شمار صحافیوں کے استاد تھے۔جن میں عبدالحمید چھاپرا مرحوم اور کامران خان بھی شامل ہیں۔عبد الحمید چھاپرا کو انگریزی صحافت میں لانے کا ذریعہ واجد بھائی ہی تھے۔ان دونوں کی دوستی بڑی مثالی تھی۔


واجد بھائی سے دفتر میں تو رابطہ رہتا ہی تھا لیکن اس میں اس وقت اور  اضافہ ہو گیا جب ۱۹۷۴ میں ناظم آباد نمبر چار میں ہم دو سال تک ان کے پڑوسی رہے۔ جنگ گروپ سے الگ ہونے کے باوجود ہمارا ان سے رابطہ رہا۔ان کے لندن کے زمانے میں ان سے عرصے تک رابطہ منقطع رہا۔ ہمیں ظہور نیازی بھائی سے معلوم ہوا کہ واجد صاحب آج کل علیل ہیں تو جون ۲۰۱۹ میں ہم نے ان کو لندن فون کیا اور ان کی خیر خیریت دریافت کی۔ وہ بہت خوش ہوئے اور پرانے دور کی باتیں کرتے رہے۔ہم نے بتایا کہ ہم لندن آنے کا پروگرام بنا رہے ہیں تو بہت خوش ہوئے اور کہا کہ میرے پاس ہی قیام کرنا۔اسی سال ہم اگست میں لندن گئے۔ ۱۳ اگست تھا۔اپنے پرانے دوست حبیب جان کے یہاں ہمارا قیام تھا۔واجد بھائی  سے رابطہ کیا۔وہ کسی  تقریب میں آکسفورڈ میں تھے جو لندن شہر سے ۷۰/۶۰ کلو میٹر دور ہے۔طبیعت ناساز تھی،پھر بھی دوسرے دن ۱۴ اگست کو لنچ پر مدعو کرلیا۔ظہور نیازی اور حبیب جان کے ساتھ ہم نے ان سے کھانے پر ملاقات کی۔کافی دیر تک بیتے دنوں کی یادوں کو تازہ کیا۔ یہ ہماری ان سے آخری ملاقات تھی۔اب وہ اپنے خالق حقیقی کے روبرو پیش ہوگئے ہیں اور دعا گو ہیں کہ وہ ان کی خطاؤں اور لغزشوں سے در گزر کرے۔

Leave your comment !

Close