نام کتاب :”یادوں کی الماری”
مصنف : نسیم سلیمان
مبصر : پروفیسر سید وجاہت گردیزی
گورنمنٹ ماڈل سائنس کالج باغ آزاد کشمیر


“یادوں کی الماری” پروفیسر نسیم سلیمان صاحبہ کی زندگی سے جڑی یادداشتوں مشتمل دلچسپ تصنیف ہے ۔پروفیسر نسیم سلیمان کی فیس بک وال پر اس کتاب کے کچھ حصے نظر سے گذر چکے تھے کتابی نسخہ ممتاز غزنی صاحب نے غزنی سٹریٹ لاہور سے ارسال کیا۔فیس بک پر پڑھنا مشکل سا عمل ہے کیونکہ ہم نصف صدی پہلے کے لوگ جب تک کتاب ہاتھ میں لے کر اس کا لمس محسوس نہ کریں مطالعہ سکون نہیں دیتا ،آنکھیں طراوت نہیں حاصل کرسکتی۔ کتاب ہاتھ میں لیتے ہی تحریر کے جمالیاتی حسن سے حظ اٹھانے  اور تسکین قلب وجاں کا فطری احساس جاگ اٹھا۔یادوں کی الماری کے سرورق پر انگریزی اردو جلی حروف میں جگماتا
 “Closet Of Memories”
اور “یادوں کی الماری” جاذب نظر ہے۔سیاہ دھندلکے میں الماری میں سجی کتابیں ،علم وشعور کا نور بکھیرتی کرنوں سے روشنی پھیلا رہی ہیں۔ دنیا کو جہالت کی تاریکیوں سے نکالتی یہ منور کرنیں انسانی تجربات کو اجالوں میں بدلتی نظر آرہی ہیں۔کتاب کا ٹائٹل دیدہ زیب ہے۔160صفحات پر مشتمل اس کتاب کا انتساب اپنی امی اور ماں جیسی بھابھی کے نام کیا ہے ۔انتساب  کے لفظوں سے ماں کی ممتا کی شفقت ٹپک رہی ہے۔کتاب دارالمصحف غزنی سٹریٹ لاہور سے شائع کی گئی ہے ۔اس دلچسپ کتاب میں 51یادوں کو مختلف عنوانات سے سادہ اور دلچسپ اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔پیش لفظ میں مصنفہ نے ان یادوں کو خوداحتسابی کا عمل قراردیا ہے اور کورونا وبا کے مقید شب وروز میں لکھاری بننے کی تحریک ” ممتاز غزنی کی تصنیف ” بچپن لوٹا دو ” کو قرار دیا ہے۔مصنفہ کھڑک راولاکوٹ سے تعلق رکھتی ہیں اور پاچھیوٹ میں بستی ہیں۔ممتاز غزنی نے “حرف چند “کے عنوان سے مصنفہ کی یادوں کو آب حیات قرار دیا ہے اور اسلوب بیاں پر روشنی ڈالی ہے۔
“ایک بجے کی بس” پہلی یاد ہے جو قاعدہ کلاس سے سفر کا آغاز کرتی ہے ۔اس یاد کا مرکزی کردار مولوی شاہ زمان ،کوئی روایتی مولوی نہیں بلکہ وہ عظیم معلم ہے جو الجھے بالوں اور بہتی ناک والے بچوں کو نڑ کی ڈنڈیاں تراش کر قلمیں بنا ،ہاتھ پکڑ کر تختی لکھانے والی شخصیت ہے۔جو رزلٹ کے دن ” قاعدے والے سارے پاس کا اعلان کرکے بچوں کو خوشیوں سے سرشار کردیتا ہے ۔مولوی شاہ زمان کے لیے مصنفہ کے کلمات تحسین احترام معلم کے جذبات سے لبریز ہیں ۔مصنفہ نے کھڑک ناڑے کے سکول میں پہلی سے تیسری جماعت کی یادوں کو دلنشیں پیرائے میں بیان کیا ہے ۔یہ یادیں اس دور کے سماجی، تعلیمی ،معاشرتی اور معاشی حالات کی عکاسی کررہی ہیں۔چھٹی کے وقت کی خوشی اور نعرہ مستانہ اس یاد کا عنوان بنا۔”وی یے وی یے چارسو” لکھ کر مصنفہ نے پہاڑے کی نفسیاتی سرگرمی کی یاد دلائی ہے۔اصول تاثیرکی سرگرمی تدریس میں اس لیے شامل تھی کہ پہاڑے دہرانے سے طالب علم کوسکون ملتاتھا ۔اصول تاثیر یہ ہے کہ کسی سرگرمی سے اگر فرد کو سکون ملتا رہے تو وہ سرگرمی بار بار دہرائے گا۔تدریس میں طلبہ کی شراکت کا یہ سنہری اصول انھیں کاہلی اور سستی سے بچاکر مستعد رکھتا تھا۔پہاڑے وقت اور زمانے سے ہم آہنگ تدریس تھی ۔مصنفہ کی یہ یاد ورلڈکپ کے فائنل میچ کے آخری لمحات ہیں جب پسندیدہ ٹیم جیت کے قریب ہو اور آخری اوور کی آخری بال ہو۔پہاڑے کے ان آخری الفاظ وی یے وی یے چارسو کی خوشی کے احساس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
مٹی کا گھڑا تہذیبی بازیافت ہے ۔مٹی کاگھڑا سوہنی کا ہو یا کاکوچاچی کی بہو کا آخر میں ٹوٹ کر ایک نئی کہانی جنم دیتا ہے۔مٹی کے برتن بنانے والے گلاووٹا پہیا بھی اس کتاب کے آخر میں  یادگار کردار بن کر سامنے آتے ہیں ۔مصنفہ کی زندگی کے اس دلچسپ سفر میں کالی ماسی،چڑیاکاگھونسلہ،جماڑو، کہونڈی، چودہ انی،خادو لالہ کاٹرک ،نئے جوتے،استانی جی کا پروٹوکول،پراٹھوں کی خوشبو،کالی ٹنگیاں،گھرسکول،تھلہ،مس فخرالنسا، ABCمحرم جان ماسی،میم رخسانہ،میم زرینہ،میم روبینہ،موٹر سائیکل اور سائیکل کی سواری،جنگل میں خدیجہ اور رضیہ کے ساتھ تر کی بوریاں جیسی لطیف یادیں قاری کو محوسفر رکھتی ہیں۔
یادوں کی الماری کا مطالعہ کرتے ہوئے قدم قدم پر ماضی سفر نامہ بن کر سامنے آتا ہے جس میں مختلف کردار مصنفہ کو متاثر کرتے ہیں۔مصنفہ پونچھ کی تہذیب وثقافت کی علمبردار ہیں وہ ثقافتی سرگرمیوں کامرکز ومحور بن جاتی ہیں ۔وہ منظرنامے میں ہنستے کھیلتے،کھاتے پیتے،خوش پوش اور خوش گفتار لوگوں کے خاکے بناتی جاتی ہیں۔ان لوگوں کے کردار سامنے لاتی ہیں جو کچے گھروں کے باسی تھے،درختوں کے سائے میں بچوں کوپڑھاتے تھے، مائیں جنگل سے لکڑیاں لاکر مٹی کے بنے چولہوں میں آگ جلاتی تھیں اور سارے خاندان کی پرورش اور تربیت کا فریضہ سرانجام دیتی تھیں۔کچھ خاکے مجذوبوں کے ہیں ۔یادوں میں آباد ان کرداروں کے ساتھ مٹی کی محبت، کوہسار وسبزہ زار،درخت اور میدان، چشمے اور ندی نالے حسین فطری مناظر لیےمحوسفر ہیں۔اس میں شک نہیں کہ مصنفہ کودھرتی سے پیار ہے لیکن مصنفہ کی لازوال محبت انسانوں سے ہے۔وہ ماضی میں گم ہوجانے والے انسانوں کی تلاش میں نکلتی ہیں اور لاشعور کو شعور کے ساتھ ملا کے دیکھتی ہیں۔وہ انسانوں کی کہانیاں سناتی ہیں ان کے دکھ درد سے زندگی کی سچی تصویریں بناتی ہیں۔کالج میں میڈم خالدہ شمسی ،خدیجہ حفیظ،سائرہ مصطفی،عذرا لطیف ،شادمینہ اور برکت لطیف کے کردار عظیم روپ لیے ہیں ۔مصنفہ نے داخلی جذبات واحساسات کااظہار حقیقت نگار کی حیثیت سے کیا ہے۔پہاڑی الفاظ کی حسن کاری ،نشست وبرخاست،اور ترتیب سے صوتی آہنگ کا خیال رکھاگیا ہے۔مصنفہ نے نہ صنائع بدائع کا استعمال کیا ہے نہ پرشکوہ الفاظ استعمال کیے ہیں ۔انھوں نے نفیس خیالات کو سادہ کاری سے پرکشش بنایا ہے جاذب نظر تحریر میں قاری کھو جاتا ہے اور ان یادوں میں محفوظ شخصیات کی تصویریں دیکھنے لگتا ہے ۔مصنفہ نے وویمن گارڈ کی تربیت کاذکر جذباتی انداز میں کیا ہے۔نہال سنگھیا نا موہڑا،شیطان کے ڈنڈے،دفع او مراساریاں لاشعور میں چھپی تخیلی یادیں ہیں جن کے ساتھ فطری حسن، کی رنگینی شامل ہے بلاشبہ یہ یادیں قدرتی حسن کی تصویر کشی کی عمدہ مثالیں ہیں “مرا او ساریاں” نوک زباں پہ پھسلنے والا ایسا کلمہ ہے جو ہر شخص کے روزمرہ میں داخل ہوتا ہے۔
تعلیمی سیڑھیاں مکمل کرنے کے بعد مصنفہ سنرائز پبلک سکول سے معلمہ کاروپ اپنا لیتی ہے ۔پھر سرکاری معلمہ کی زندگی کے شب وروز اور مشکلات خوشگوار انداز سے بکھرتے چلے جاتے ہیں ۔نہال سنگھیا ناں موڑا اور مانو سنگھیاناں موڑا آزادی سے پہلے نہال سنگھ اور مانو سنگھ کے مسکن رہے ہوں گے۔یہاں مصنفہ کاتاریخی شعور جھلکتا نظر آتا ہے۔پھوپھی کا کردار عزم واستقلال اور محنت ومشقت کی علامت ہے۔ ترنوٹی سکول میں مصنفہ کی ہمسفر پھوپھی ہیں جو لاشعور سے شعور کا سفر طے کراتی ہیں۔گلہ چوکیاں،پڑاٹ کی یادیں سنیئر معلمہ ترقی پانے اور پہاڑی علاقوں میں معلمات کی مشکلات کی دلچسپ داستان ہے ۔مصنفہ نے چاربہیاڑ کی طلسماتی داستان دلچسپ انداز سے بیان کی ہے جہاں چار ریڑھ کے درختوں پر پتھر مارنے سے عورتوں کے بین کرنے کی آوازیں آتی ہیں۔
پہاڑی زبان کے برجستہ الفاظ ادبی شان اور فصاحت سے بھرپور ہیں۔جیسے” اقلیمہ بھابھی کے چولہے کے پاس پیڑی پربیٹھ کرپلوٹی پہ پسی سرخ مرچ ،خمیری روٹیاں اور گہنیار کی کڑھی”.
مصنفہ نے تجسس سے بھرپور کمال حسیں کی دیوانگی کی داستان لکھی ہے جو تاریک رات کی تیزبارش اور آندھی میں دیومالائی کردار لیے دروازے پر دستک دیتا رہتا ہے۔تہوبی ماٹو اور جیورو ماسی کے مجذوبانہ کردار بھی یادوں میں نقش ہیں۔AEO سے لیکچرار اور پھر پرنسپل کی انتظامی حیثیت سے مصنفہ کی یادیں دلچسپ پہاپولہ ٹرانسپورٹ کے سفر کی روداد پیش کرتی ہیں ۔بین السطور مصنفہ معلمانہ کردار کی مہک لیے ہنستی مسکراتی دردمندی کا جذبہ لیے راہنما کا روپ دھار لیتی ہیں۔دس سال راولاکوٹ سے قلعاں کا دو اڑھائی گھنٹے کاسفر حوصلے پست نہیں کرتا بلکہ جہد مسلسل کا سبق دیتا ہے۔تین سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ جانا اور زندگی کی دوڑ میں سلیقہ مندی سے اپنا مقام بنانا ،ہمت اور شجاعت کاکام ہے ۔یہ یادیں درد اور غم سے لبریز ہیں لیکن پروفیسر نسیم سلیمان کی خوش مزاجی اور گرفت رنجیدہ نہیں ہونے دیتی۔ریڑھ بن کالج میں منتظم کی حیثیت سے یادیں مثبت ،تعمیری اور مشعل راہ ہیں۔KIMS،پہلی پرواز ،بنگلے والے جنرل رحیم صاحب،قصہ بیس روپے کا، اور اپنا درمن بہاروں کا مسکن پرلطف تحریریں ہیں ۔اس تصنیف سے نسیم سلیمان کا معلمہ اور منتظم کا کردار عیاں ہوتا ہے جو دستیاب وسائل،ضروریات اور مواقع کے مطابق طالبات کی درست راہنمائی کرتی ہیں۔معاشرتی تبدیلیوں کے مطابق  راہنمائی میں وہ تربیت یافتہ مشیر،کے روپ میں جلوہ افروز ہیں۔ان کے شب وروز شدید موسمی حالات،برف باری،سردی ،اور سفر کی صعوبتوں میں فرض شناسی کی بہترین مثال ہیں۔اعصاب شکن سفر میں ان کے احساسات خوشگوار یاد بن کر سامنے آتا ہے۔پرنسپل کی حیثیت سے انفرادی مشاورت،اجتماعی مشاورت اورکمیونٹی کی راہنمائی سے کالج ہال تک تعمیر کرلیتی ہیں۔ادارے اور طالبات کے ماحول سے کمیونٹی کو آگاہ رکھتی ہیں ،کمیونٹی سے رابطہ کاری کرتی ہیں۔طالبات کو نصابی ،ہم نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں میں شریک کرتی ہیں ،کالج کی فللاح وبہبود اور تعمیروترقی کے لیے بہترین فیصلہ سازی کرتی ہیں۔پرنسپل شپ کی یادیں بین السطور نسیم سلیمان کے معاشرتی تجسس،احترام آدمیت اور مشاہدے کی بھرپور صلاحیت کی خوبیاں سامنے آتی ہیں۔
یادوں کی الماری میں مصنفہ نے روایتی سوانحی حالات لکھنے سے اجتناب کیا ہے اور زندگی کے یادگار واقعات کے علاوہ بھی بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ہر شخص کی زندگی میں اہم یادگارواقعات سے ہٹ کر بھی بہت کچھ ہوتا ہے ۔انسان خوبیوں اور خامیوں کا مرقع ہے۔صرف خوبیوں سے مکمل تصویر سامنے نہیں آتی،چھوٹی چھوٹی باتیں انسان کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرنے میں بہت مدد دیتی ہیں۔نسیم سلیمان اس راز سے واقف ہیں انھوں نے یادوں کی الماری میں زندگی کے حالات کو بغیر تراش خراش کے پیش کیا ہے۔ان کے تمام کردار حقیقی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جنھیں بڑی مہارت اور سلیقے سے پیش کیا گیا ہے۔مصنفہ ماہر تعلیم ہیں ،بہت خلیق اور ملنسار ہیں۔ان کا حلقہ احباب وسیع ہے۔جن لوگوں نے ان کی یادوں میں جگہ پائی ان کے ساتھ مصنفہ کا جذباتی لگاو ہے۔واقعات حقیقی چاشنی سے لبریز اور دلآویز ہیں۔واقعات میں طنزومزاح کی پھلجڑیاں،چٹکلے دار باتوں کی مٹھاس اور رنج والم کے آنسو سبھی کچھ موجود ہے۔اس پرلطف تصنیف کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ نسیم سلیمان ایک صابر اور شاکر راہبر بنی دولت کی ہوس سے کوسوں دور مطمئن اور پرسکون زندگی بسر کرتی نظر آتی ہیں جو زندگی کی حقیقت کو تلاش کرتی ہیں راستے میں حائل رکاوٹوں کودور کرتی ،چیلنج سمجھ کر ہر مشکل سے نبرد آزما ہوتی ہیں۔وہ حیات پرور کیفیات کو زندگی سنوارنے میں صرف کرتی ہیں ۔
یادوں کی الماری کا تانیثی مطالعہ دعوت دیتا ہے کہ پونچھی تعلیم یافتہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ فرائض سرانجام دیتی ہیں۔کسی بھی یاد میں عورت کی محرومی کا احساس دکھائی نہیں دیتا بلکہ ان کی جہد مسلسل انھیں معاشرے میں باعزت مقام اور راہنمائی کا فریضہ سونپتا ہے۔ان کا شعور ذات،نفسیات اور داخلی معیارات سے تشکیل پاکر تعمیری انداز اختیار کرتا ہے۔آخر میں کچھ مزید کردار جو یادوں کی الماری میں زیادہ دمکتے نظر آتے ہیں:
1۔ڈاکٹر جاویدایک مسیحا : انسان کے روپ میں ایک فرشتہ جو مریض کی نفسیات کے مطابق علاج معالجہ کرتا ہے۔شفقت ،ہمدردی اور ایثار کا نمونہ،جس پر لوگوں کا یقین ہے کہ ڈاکٹر صاحب چیک کریں گے تو ٹھیک ہوجائیں گے اور بوڑھی خواتین کو کہتے سنا گیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ میں شفا ہے۔مصنفہ نے دلنشیں الفاظ میں ڈاکٹر جاوید کی مسیحانہ مصوری پیش کی ہے۔
2۔گلاووٹا پہیا : مٹی کے برتن بنانے والا ہنر مند فردجو پونچھ کی تہذیبی علامت ہے۔پچاس سال پہلے ہر گاوں میں ایک مٹی کے برتن بنانے والاہنرمند موجود تھا جسے جدید سائنس نے نگل لیا۔گاووٹا پہیا کی بڑی بہن جری دیدی اور بیگم سہاواو جان پہاڑی پونچھی تہذیب کے کردار ہیں۔گلاووٹا پہیا برتن ہی نہیں بناتا گاوں کے گھروں میں نیاز،ختم شریف پر کھانا بھی پکاتا ہے۔اس کے ہاتھ میں برکت ہے اس لیے کھانا بھی وہی تقسیم کرتا ہے۔
3۔ڈاکٹرعذرالطیف: بہترین ماہر تعلیم جو کھڑک کالج میں تعلیم کے ساتھ تربیت اور کیرئیر کونسلنگ بھی کرتی ہیں۔خود ڈاکٹریٹ کرکے یونیورسٹی تک جا پہنچی ہیں۔محنت اور لگن کادرس دینے والا ایسا کردار جو مشعل راہ ہے۔
4۔جان بھابھی: اسلام قبول کرکے جین سے جان فاطمہ بننے والے ایک کردار کی عجیب طلسماتی کہانی،جو سری لنکا سے براستہ انڈیا کراچی آتی ہے اور سفارت خانے کے ایک فرد سے شادی کرکے کھڑک راولاکوٹ آپہنچتی ہے۔رزق چگنے کے لیے درمن کا انتخاب اور زندگی کی مشکلات سے نبرد آزمائی کی پرتجسس اور حیرت سے بھرپور داستان۔زندگی کے نشیب وفراز دکھاتی کتھا جو ایک بے نام عورت سہتی ہے ۔
5۔ارشاد آپا: ارشاد آپا کی احساس محرومی کی کہانی ،درد کرب،دکھ اور غم کی دل دہلا دینے والی کہانی جسے پڑھتے ہوئے رونگھٹے کھڑے ہوتے ہیں اور  قاری انسانی زندگی کی حقیقت جان کر  مبہوت رہ جاتا ہے۔
ان کرداروں میں خواتین کاثقافتی کردارحساسیت کے ساتھ حقیقت پسندانہ انداز میں سامنے آتا ہے۔یہ یادیں لاشعوری ہیں جو انفرادی تاریخ کاسراغ دیتی ہیں۔اس میں موجود جذباتی ہیجان اور بچپن کی یادیں انسانی رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔رابطے،تصورات،رسم ورواج،تعلقات اور معاشرتی عناصر مصنفہ کے کرداروں سے اظہار پاتے ہیں۔یادوں کی الماری کا اسلوب سادہ،شگفتہ اور رواں ہے۔پہاڑی پونچھی الفاظ اور جملوں کا برمحل استعمال عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے جو روانی اور دلچسپی کے ساتھ پرکشش رنگ اختیار کرکے قاری کو اسی ماحول کا حصہ بنا دیتا ہے۔

پروفیسر سید وجاہت گردیزی

  پروفیسر سید وجاہت گردیزی اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں-تحقیق میں دلچسپی ہے ۔۔نوائے وقت میں پھول اور کلیاں سے لکھنا شروع کیا۔ادبی تنظیم طلوع کے شماروں میں مزاح لکھا۔

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج باغ کے مجلے ماہل کے نائب مدیر رہ چکے ہیں -گورنمنٹ ماڈل سائنس کالج باغ سے مجلہ باغبان شائع کیا۔ایم فل اردو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کی۔اکبر حیدری کشمیری بطور غالب شناس ان کی تحقیق کا موضوع تھا۔