سردارعبدالواہاب تاتاری
دنیا کی ہر چیز میرے اللہ نے بنائی ہے۔ تو اللہ کہتے  ہیں کہ لکھو میری بڑائی ، میری کبریائی، میری عظمت ،میری ہیبت، فرمایا کہ تم لکھتے لکھتے تھک جاؤ گے ، پھر میں جنات کو بلاؤں گا تم بھی لکھو  وہ بھی لکھتے لکھتے تھک جائیں،پھر میں فرشتوں  کو کہوں گا تم بھی لکھو وہ بھی لکھتے لکھتے تھک جائیں گے ،پھر میں مَلإ اَعلیٰ کے فرشتوں کو بلاؤں گا کہ تم بھی لکھو وہ بھی لکھتے لکھتے تھک جائیں گے،پھر میں عرش کے فرشتے جبریل،میکائیل،عزائیل،اسرافیل، کو نیچے اتاروں گا اور قلم دوں کا جبرائیل تو میرے بہت قریب ہے تو بھی لکھ کہ رب کیسا ہے اللہ کیسا ہے۔ وہ عرش کے فرشتے بھی لکھتے لکھتے تھک جائیں۔ پھر میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو بلاؤں گا ان کہ ہاتھ میں قلم دوں گا نبیوں کا علم فرشتوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ وہ سب پیغمبر بھی لکھتے لکھتے تھک جائیں گے،پھر میں  رسولوں کو بلاؤں گا۔ان کہ ہاتھ میں قلم دوں گا وہ بھی لکھتے لکھتے تھک جائیں گے ،پھر میں چار بڑے رسولوں نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام ،موسیٰ علیہ السلام،عیسی علیہ السّلام، کو بلاؤں گا ان کے ہاتھ میں قلم دوں گا کہ تم بھی لکھو وہ بھی لکھتے لکھتے تھک جائیں گے ۔پھر میں کس کو بلاؤں گا ؟ میں اس کو بلاؤں گا ۔جس کا میں نے سینہ کھولا،جس کے میں نے بوجھ اٹھائے،جس کی شہرت و عزت کو میں نے بلند کیا،کس کو بلاؤں گا؟جس کہ روشن چہرے کہ میں نے قسم کھائی۔کس کو بلاؤں گا؟ جس کی  سیاہ زلفوں کی مین نے  قسم کھائی،کس کو بلاؤں گا؟جس کے شہر کی میں نے قسم اٹھائی ،کسے بلاؤں گا جس کی کتاب کی میں نے قسم کھائی،کسے بلاؤں گا جس کے زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی بھی میں نے قسم اٹھائی،جس کا وکیل و صفائی بن کر میں نے قسم اٹھائی، کسے بلاؤں گا جیسے میں نے پیار سے نبی پکارا ،کسے بلاؤں گا جسے میں نے پیار سے  رسول  پکارا ۔کسے بلاؤں گا جسے میں نے مزمل پکارا،کسے بلاؤں گا جسے میں نے ،مدثر،یس،طہ پکارا،کسے بلاؤں گا جس کی زبان،ہاتھ،گردن،اور سینے کا ذکر قرآن میں کیا،کسے بلاؤں گا جس کے ،دن ،رات کو قرآن میں بتایا، کسے بلاؤں گا جس کی دعوت ،چال چلن،اخلاق کو قرآن میں بتایا، کسے بلاؤں گا جس کو میں نے محمد،احمد،حاشر،فاتح،ابوقاسم،طہ،یس،مزمل مدثر،مبشر،نزیر  سے پکارا۔کسے بلاؤں گا؟

پھر  میں اپنے حبیب ،رسول اللہ ،حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو بلاؤں گا- اے میرے حبیب،تمام انسان،جنات،فرشتے، تمام انبیاء اکرام، ابراہیم اسماعیل،یعقوب ،یحییٰ، یونس ،یوسف، موسیٰ ،عیسیٰ ،آدم علیہ السّلام سب لکھتے لکھتے تھک گے۔ تمام کائنات کے محبوب آئے انہوں نے قلم اٹھائی لکھنا شروع کیا،سمندر سیاہیاں سکڑتی گئیں، میرے محبوب لکھتے گے لکھتے گے تمام کائنات کی ہر عقل والی مخلوق لکھتی گئی انسان،ملائکہ،رسول،نبی سب لکھتے گئے لیکن سب تھک گے نتیجہ کیا ہو گا، میرا رسول بھی تھکے گا سب رسول بھی تھکیں گے ،سب نبی بھی تھکیں گے،سب فرشتے بھی تھکیں گے،سب جنات بھی تھکیں گے،سب انسان بھی تھکیں گے،دریا خوش ہو جائیں گے لیکن تیرے رب کی تعریف کا اک ذرہ بھی ادا نہ ہو گا،یہ اللہ ہیں،یہ اللہ ہیں ،یہ میرا رب ہے اللہ پاک کو راضی کر کہ ہم جہاں مرضی رہیں ہم کامیاب ہیں وہ دنیا ہو یا آخرت اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کو راضی نہ کیا تو ہم ذلیل و رسوا ہو کر دنیا میں بدترین ناکامی کا شکار ہوں گے۔یہ دنیا دھوکا کا گھر ہے اس دنیا کی خاطر اللہ و رسول کو ناراض نہ کیجیۓ۔ ہمیں اپنے اللہ کو پانا ہو گا کیونکہ جس نے اللہ کو پایا اس نے سب کچھ پایا ، جو اللہ کو نہ پا سکا وہ کچھ بھی نا پا سکا۔ اللہ پاک ہم سب کو دین السلام کی سمجھ دیں،اور ہم اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بن جائیں۔آمین یا رب العالمین

Leave your comment !