ڈاکٹرظفرحسین ظفر

ایک  سیانے کا قول ہے،رواں، ہر دم جواں زندگی کے لیے سفر شرط ہے. اور یہ سفر مثل جنت کشمیر کا ہو تو ’’وسیلہ ظفر‘‘ بن جاتا ہے۔ خوابوں اور خیالوں میں تو یہ سفر گزری تین دہائیوں میں جاری رہا، اکتوبر ۲۰۰۹ء میں آخر انہیں تعبیر مل گئی۔ ۸ اکتوبر کی صبح صادق سے ۱۶؍ اکتوبر کی صبح کاذب تک یہ سفر مکمل ہوا۔

کہتے ہیں بہت دُور، برف پوش پہاڑوں کے پار، سطح سمندر سے ساڑھے پانچ ہزار فٹ بلندی پر کبھی ایک جھیل ہوا کرتی تھی۔ چوراسی میل لمبی اور پچیس میل چوڑی اس جھیل کا نام ’’ستی سر‘‘ تھا۔ اس کا منبع پیر پنجال اور دوسرے پہاڑوں سے پگھلتی ہوئی ٹھنڈی میٹھی، صاف شفاف برف تھی یا بہتے جھرنے اور ابلتے چشمے۔ پیاری سی اس جھیل پہ ایک دیو، جلودبھو قابض تھا۔ گہرے نیلگوں پانیوں کا یہ حکمران آدم خور تھا۔ نسل انسانی اس کے خوف سے جھیل کے قریب جانے سے خوف زدہ رہی۔

پھر کہیں سے ’’کشپ رشی‘‘ آیا۔ محمد دین فوق کے بقول وہ ناگوں کا سردار اور پاک باز تھا۔ اُس نے ’’جلود بھو‘‘ کو زیر کیا اور ستی سر کا پانی بارہ مولہ کے قریب نشیب کی طرف بہا دیا۔جب سارا پانی بہہ گیا اور خشکی نمودار ہوئی تو اس جگہ انسانوں کی آبادی وجود میں آئی اس بستی کا نام کشپ میر پڑا،جو اب کشمیر کے نام سے دنیا کا حسین ترین قطعہ ارضی ہے۔ یہی کشمیر ہمارے خوابوں کی سر زمین ہے۔

 ڈھل گیا ھجر کا دن

سری نگرمیں ایک غیر سرکاری تنظیم، سی ڈی آر (Centre for dialogue and Reconciliation) کام کام کرتی ہے۔اِس نے مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں ایک مذاکرہ کرایا تو آزاد کشمیر اور پاکستان سے بھی دانش وروں اور صحافیوں کو مدعو کیا۔ راقم کا دورہ مقبوضہ کشمیر اِسی سلسلہ میں ہوا۔

ہم ۸؍اکتوبر کی صبح اٹاری اسٹیشن سے امرتسر روانہ ہوئے۔کشمیریوں کے لیے امرتسر عبرت کا مقام ہے کہ ان کی دستاویز غلامی(معاہدہ امرتسر۱۶ مارچ۱۸۴۶ئ) اسی شہر میں تحریر ہوئی۔ ظالموں اور غاصبوں کے قافلے اسی مقام پر منظم ہوئے، منصوبے بنے، مکینوں کو مکانوں سمیت زمینداروں کو زمینوں سمیت بیع کر لیا گیا۔ تاریخ کشمیر کا یہ انوکھا اور المناک باب ہے۔

قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

اِس معاہدے کا بھی خاص پس منظر ہے۔ گلاب سنگھ پنجاب کے سکھ حکمران رنجیت سنگھ کی قلمرو میں ۳ روپے ماہوار پر ایک معمولی ملازم تھا۔ اپنی چالاکی اور حسن کے باعث دربار میں خاص رسوخ حاصل ہوا، تو جمّوں کی جاگیر عطا ہو گئی۔رنجیت سنگھ (م ۱۸۳۹ئ) کی موت کے بعد اس نے سکھ حکومت کے خلاف افغانوں اور انگریزوں سے ساز باز شروع کی ،تو سکھوں نے اسے گرفتار کر لیا۔ وفاداری کے عہد اور تاوان کی ادائیگی کے وعدے پر رہا ہوا۔

یہ وہ دور ہے جب بر عظیم میں مسلم اقتدار برائے نام رہ گیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی بر عظیم میں ایک مضبوط اور توانا عامل کے طور پر موجود تھی۔ اس تسلسل میں دربار لاہور (سکھ حکومت) اور انگریزوں کے درمیان جاری سرد جنگ باقاعدہ کشمکش میں بدل گئی۔ گلاب سنگھ ، لاہور دربار کے خلاف صف آرا ہو کر انگریزوں کا مدد گار بن گیا۔ فروری ۱۸۴۶ء میں سکھوں کو شکست ہوئی اور انگریز بلا شرکت غیر پنجاب پر قابض ہو گئے۔ گلاب سنگھ کو وفاداری کا صلہ معاہدہ امرتسر کی صورت ملا۔یوں تب ۷؍ لاکھ کشمیریوں کو ۷۵؍ لاکھ نانک شاہی(موجودہ پچاس لاکھ روپے) کے عوض جائیدادوں سمیت گلاب سنگھ اور اس کی اولاد ِ نرینہ کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔ انگریزوں کی پشت پناہی کے باعث گلاب سنگھ رانی پور، راجوری، پونچھ کی خود مختار ریاستوں اور وادی کشمیر کے گورنر، امام دین کو شکست دی اور ۹؍ نومبر ۱۸۴۶ء کو ساڑھے ۸۴؍ہزار مربع میل رقبے کا واحد حکمران بن گیا۔

گلاب سنگھ کے قبضے کے ساتھ ہی ریاست میں مطلق العنانیت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک صدی (۱۸۴۶ء تا ۱۹۴۷ئ) گزرنے کے بعد اس المیے سے نئے المیوں اور سانحوں نے جنم لیا۔ ۱۴؍ اگست ۱۹۴۷ء کو برعظیم کے نقشے پر دو آزاد اور خود مختار ممالک کا ظہور ہوا اور برعظیم کی ۷۶۲ ریاستوں میں سے ۷۶۱ کے مستقبل کا فیصلہ ہو گیا۔ ایک بدنصیب ریاست کشمیر…جنت نشاں کی اُداسیاں اور محرومیاں ختم نہ ہوئیں۔ ریاست بٹ گئی، اس کے مکین بچھڑ گئے اور دونوں آزاد ممالک کے تعلقات کے راستے میں یہی ریاست سد راہ بن گئی۔ امرتسر کی گہما گہمی میں کس کو خیال ہے کہ یہ شہر کتنے بڑے المیوں کی جنم بھومی ہے۔

ہمارا ویزہ شہر جمّوں اور سری نگر تک محدود تھا۔ دائیں بائیں دیکھنے اور جھانکنے کی آزادی مفقود تھی۔ ویسے بھی لفظ ’’آزادی‘‘ سے بھارت سرکار بہت الرجک ہے۔ آزادانہ گھومنے پھرنے کو ادھر’’آوارہ گردی‘‘ جانا جاتا ہے اور آوارہ گردوں کی وہ دُرگت بنتی ہے کہ تصور ہی سے خوف آتا ہے   ؎

ایک پہلو یہ بھی ہے کشمیر کی تصویر کا

اسی لیے جس کسی کا بھی دنیا کی اس ’’عظیم‘‘ جمہوری مملکت میں جانے کا اتفاق ہو، وہ ناک کی سیدھ ہی میں دیکھ سکتا ہے۔ سو میں اپنی فطری ’’آوارہ گرد‘‘ طبیعت پر جبر کرتا رہا اور ’’صراط مستقیم‘‘ پر کاربند رہنے کی کوشش کی۔اگرچہ ’’صراط مستقیم‘‘ پر استقامت کے ساتھ گامزن رہنا خاصا مشکل ہے ۔

ہم شام کو دریائے توی عبور کر کے جموں میں داخل ہوئیجمّوں ایک تاریخی و تہذیبی شہر ہے، جس میں صدیوں سے ہندو، مسلمان اور سکھ آباد ہیں۔ کثیر المذاہب یہ شہر اپنے جلو میں تاریخ و تہذیب کے گہرے نقوش سمیٹے ہوئے ہے۔ یہاں ہندو اور مندر اکثریت میں ہیں۔اسی لیے یہ ’’مندروں کا شہر‘‘کہلاتا ہے۔ مسلمان صرف ۱۳ فیصد ہیں۔ ۵،۶ نومبر ۱۹۴۷ء کو جموں میں مسلمانوں کی غالب اکثریت کو ہجرت کا جھانسا دے کر جس انجام سے دوچار کیا گیا، اس الم ناک واقعہ کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔

ماہ و سال کیا صدیاں گزرنے کے بعد کربلا کی طرح جمّوں توی بھی قربانیوں کا استعارہ رہے گا۔ مسلمانوں کو ایک منصوبے کے تحت ایک گراؤنڈ میں جمع کر کے بسوں پر سوار کیا گیا اور سانبہ کے مقام پر ان کا اجتماعی قتل عام ہوا۔ یہ احساس آج بھی توانا ہے کہ نومبر ۱۹۴۷ء کا سانحہ اگر پیش نہ آتا تو آج جمّوں میں مسلمان اکثریت میں ہوتے اور سیاستِ کشمیر کا منظر نامہ بہت مختلف ہوتا۔

سابقہ انتظامی تقسیم کے مطابق تین مسلم جب کہ تین ہندو اکثریت والے اضلاع واقع ہیں۔ مجموعی طور پر صوبہ جمّوں میں مسلمانوں کی آبادی ۳۱؍ فیصد ہے ۔ شہر میں رہنے والے مسلمان کھاتے پیتے اور لکھے پڑھے  جب کہ دیہات میں رہنے والے جہالت، پسماندگی اور غربت کا شکار ہیں۔

۱۸۴۶ء کے معاہدہ امرتسر کے بعد مہاراجہ گلاب سنگھ نے مختلف ریاستی اکائیوں (جموں، وادیٔ کشمیر، گلگت  بلتستان) کو ملاکر جموں و کشمیر ریاست کی بنیاد رکھی، جسے مہاراجہ کا مثبت قدم تصور کیا جاتا ہے۔ ریاست کی ان مختلف اکائیوں کے درمیان مذہب، زبان و کلچر کے واضح اختلاف تھے، جن کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔ دشوار گزار پہاڑی درّے ، جنگل اور پہاڑ ریاست کے مختلف حصوںکے درمیان رابطے میں حائل رہے۔ ۱۵؍ اگست  ۱۹۴۷ء کو بر عظیم کی تقسیم نے رابطوں اور راستوں کو اور دشوار بنادیا۔ ایل او سی کے نام سے ایک خونی لکیر ریاست کی سرزمین ہی پر نہیں یہاں کے مکینوں کے سینوں پر کھینچی گئی۔

رابطوں کے فقدان نے خصوصاً مسلمانوں کی یکجہتی اور جداگانہ پہچان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایاہے۔ یہی وجہ ہے کہ جموں کا مسلمان اور ہندو اپنے حقوق کے لیے وادی کے خلاف ایک جیسی زبان بولتا ہے۔ایک دعوت میں کشمیر حکومت کے وزیر غلام حسن میر بھی شریک تھے۔ میں نے ان سے مسلمانانِ جمّوں کے احساسِ محرومی کا تذکرہ کیا تو انھوں نے اس کا ذمے دار بھی اُنہی کو ٹھہرایا۔ ان کے مطابق وادی کا مفاد ترجیح رکھتا تھا۔

سول سوسائٹی کاعشائیہ

ہوٹل جمّوں اشوک میں سستانے کا پروگرام بنا لیکن جلد ہی ذوالفقار صاحب اور امجد یوسف کی طرف سے حکم ہوا کہ جلدی کریں، جموں کی سول سوسائٹی کی طرف سے ہمارے اعزاز میںعشائیے کا اہتمام ہے۔ طویل سفر کی تکان پر شوق غالب آیا اور عشایئے پر پہنچ گئے۔عشائیہ گویا جمّوں کی سول سوسائٹی کا نمائندہ اجتماع تھا۔ ہندو، مسلمان، سکھ… دانشور، بیوروکریٹ، تاجر، حاضر سروس و ریٹائرڈ سرکاری ملازمین  یوں شیروشکر تھے کہ کچھ دیر کے لیے خوف و خطر کے سارے احساسات مٹ گئے۔میرے لیے تو یہ خوش گوارحیرت اور انوکھا تجربہ تھا۔محبت و اپنائیت کے وہ یادگار لمحے کبھی ذہن سے محو نہیں ہوں گے۔لیکن میں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو کیونکر بھلا دوں جو غاصبوں کے مظالم سہ رہے ہیں۔

ہمارا ارادہ تھا کہ جموں سے سری نگر بذریعہ سڑک جائیں لیکن سیکورٹی مسائل کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔ بعد ازاںزمینی راستوں کے لیے معلومات لینا شروع کیں تو تجسس بڑھتا گیا۔ تاریخی و جغرافیائی معلومات دلچسپ اور مفید لگیں۔ ان کا تذکرہ بھی بر محل ہے۔جہاز کے علاوہ   سری نگر پہنچنے کے لیے درج ذیل معروف راستے ہیں،جو صدیوں انسانوں کے استعمال میں رہے ہیں۔

سیالکوٹ ، جمّوں بانہال شاھراہ

یہ شاہراہ انگریزوں کے زمانے میں ۱۹۲۲ء میں بنی ۔یہ اودھم پور، رام بن، بانہال (۸۹۸۵؍فٹ بلند) ، قاضی گنڈ، بامپور، کھنہ بل، اونتی پورہ کے قصبوں سے گزرتی ہے۔ اس شاہراہ پر ۷۲۰۰؍فٹ بلندی پر بانہال کے مقام پر تاریخی سرنگ(جواہر ٹنل) واقع ہے۔اس کی لمبائی دو میل ہے۔ اس کے باوجود شدید برف باری میں سری نگر ، جمّوں کے درمیاں رابطہ منقطع رہتا ہے۔ جمّوں سے سری نگرتک ۳۰۵؍کلومیٹر سفرہے۔

گجرات بھمبر شاھراہ

یہ تاریخی طور پر مغل سڑک کے نام سے معروف ہے۔ اسے شاہراہِ نمک بھی کہا جاتا تھا، اس لیے کہ پنجاب سے نمک اسی راستے سے کشمیر آتا تھا۔ قدیم کشمیر میں نمک نایاب شے تھی(تاریخ راجوری، ص،۲۲۴)۔ ۱۵۸۶ء میں کشمیر فتح کے بعد مغلوں نے اس شاہراہ کو سفر کے قابل بنایا۔ پورے راستے میں بارہ دریاں، آرام گاہیں، سرائیں، مسجدیں، باولیاں اور قلعے تعمیر کیے۔ گجرات سے سری نگر تک اس سڑک کی لمبائی ۱۷۴؍میل(۲۸۰؍کلومیٹر) ہے۔ مغلوں کو کشمیر سے بے پناہ محبت تھی ،جس کے نقوش صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی کشمیر کے چپے چپے پر موجود ہیں۔ جہانگیر پندرہ مرتبہ کشمیر آیا بلکہ اس کی موت بھی کشمیر سے واپسی پر سفر ہی میں ہوئی۔ مغل روڈ پر راستے میں بے شمار پڑاؤ تھے۔ ایک سے دوسرے مقام تک عموماً دن بھر کا سفر ہوتا۔

۱۹۴۷ء کے بعد زمینی حقائق بدل گئے۔ نئے راستے اور  رابطے دریافت ہونے لگے۔ مغل شاہراہ بھی ماضی کی ایک یادگار بن کر رہ گئی۔بھارتی سرکار نے اس تاریخی شاہراہ کی از سر نو تعمیر شروع کی ۔ ۲۰۰۹ء اکتوبر (ہمارے قیام تک)ٌ اس کا افتتاح نہیں ہوا تھا لیکن کام مکمل ہو گیا تھا۔ جمّوں سے سری نگر تک اب یہ فاصلہ ۳ گھنٹوں تک سمٹ آیا ہے۔

کوھالہ، مظفرآباد، سری نگر روڈ

یہ سڑک بھی تاریخی ہے۔ راولپنڈی سے ملکہ کوہسار مری کی فضاؤں سے گزرتی ہوئی کوہالہ (۱۹۰۰؍فٹ بلند) کے مقام پر یہ کشمیر میں داخل ہوتی ہے۔ کوہالہ سے      سری نگر۲۱۲؍کلو میٹر دُور ہے۔ اس شاہراہ میں کوہالہ، مظفرآباد، چناری، چکوٹھی، اوڑی، بارہ مولہ کے اہم قصبات و شہر آتے ہیں۔ دریائے جہلم کے کنارے بنی یہ سڑک بہت خوبصورت ہے۔ بارہ مولہ سے کشمیر تک ۵۶؍کلو میٹرسڑک کا یہ ٹکڑا بہت حسین ہے۔ دونوں طرف سفیدے اور چنار کے سائے ہیں۔ مشہور سیاح نائٹ نے ۱۸۰۰ء میں اس راستے کشمیر کا سفر کیا تو اس نے کہا تھا کہ یہ ٹکڑادنیا کی خوبصورت ترین سڑکوں میں سے ایک ہے ۔

فردوس بر روئے زمیں است

 سری نگر ہوائی اڈہ کے رن وے سے جہاز کے پہیے مس ہوئے ،تو ہمارے قلب و ذہن میں بھی اِرتعاش آیا۔ خاکِ وطن سے خاک نشین ہم آغوش ہونے کو تھے۔ مستعد میزبانوں نے اعلان کیا، حفاظتی بند کھول لیجیے، سامنے والے دروازے کو استعمال کیجیے۔ مسافروں کا ہجوم تھا۔ ہماری روحیں بہت بے چین تھیں۔ من میں آیا کہ فوراً کھڑکی یا دروازے سے چھلانگ لگا دیں۔ پائلٹ نے اعلان کیا  اس وقت سری نگر کا درجہ حرارت ۱۸؍ سنٹی گریڈ ہے۔ ہمارے اندر کا درجہ حرارت تو کسی شمار ہی میں نہیں تھا۔ مطلع بالکل صاف، دھوپ ایسی تھی کہ اسے سیکنے اور تاپنے کو جی چاہا ۔ ہوائی اڈہ بین الاقوامی معیار کاہے اور سیکورٹی بھی ’’عالمی معیار‘‘ سے کم نہ تھی۔ چاروں طرف خاکی وردی کی چھاپ…جالبؔ کا شعر موزوں ہوا    ؎

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے

زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

ہوائی اڈے پر کشمیر ی فن تعمیر کی جھلک نظر آئی ۔ دیوداراور اخروٹ کے درختوں کی خوشبو ہر طرف تھی۔باہر نکلے تو چاروں اطراف میں چناروں کی موجودگی کشمیر کی انفرادیت کاواضح اظہار تھا۔ یہ وہی کشمیر ہے جسے مغربی سیاح فرانکوئس برنیئر کو،نے پہلی بار Paradise of the East(مشرق کی جنت) قرار دیا اور جہانگیر نے کہا تھا:

اگر فردوس بروئے زمیں است

ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

کشمیر کے اپنے مفکّر شاعر اقبال نے اسے ایرانِ صغیر سے تعبیر کر کے تہذیب و تمدن کے ارفع سلسلوں سے جوڑ دیا۔ فوسٹر ایک یورپی سیاح تھا جو افغانوں کے ہاتھوں اُجڑے ہوئے کشمیر میں آیا۔ اگرچہ ویرانیاں منہ کھولے بیٹھی تھیں لیکن پھر بھی اس وادی گلفام کے حسن نے اتنا متاثر کیا کہ وہ بے ساختہ پکار اٹھا:’’ ایسے لگتا ہے جیسے میں ملک پرستان کے کسی صوبہ میں آیا ہوں۔‘‘

 کھلی فضا میں چاروں طرف سلاخیں

واہگہ بارڈر سے ہی تفصیلی کوائف نامے ہمیں جاری کیے گئے تھے جنھیں پُر کرنا لازم تھا۔ ایک غیر ملکیوں کے لیے تھا۔جمّوں اور پھر سری نگر ہوائی اڈے پر ہمیں بھی غیر ملکی سمجھ کر  وہ کوائف نامہ دیا گیا۔ ہمارے وفد نے بالاتفاق اسے پُر کرنے سے انکار کر دیا کہ ہم غیر نہیں ،بلکہ ریاست جمّوں و کشمیر کے اوّل درجے کے شہری ہیں۔ ہمارے احتجاج پر سیکورٹی عملے نے خاموشی اختیار کی۔ ہم نے بھی ان کی خاموشی کو نیم رضامندی سمجھا اور نکل کر اگلے مرحلے میں داخل ہو گئے۔

سری نگر ہوائی اڈے سے باہر نکلتے ہوئے غیر محفوظ ہونے کا خوف ذہن میں موجود تھا۔ چاروں طرف سیکیورٹی کے گھیراؤ کے باعث خوف کے سائے مزید گہرے ہو گئے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر فوجی بیرکیں، خاردار تاریں، بنکرز ، بوریاں،ان کے اوپر ترپال اور ان کی اوٹ میں بندوقیں تانے سپاہی… اب تو یہ فوجی انتظام جدید سری نگر کے کلچر کا حصہ بن گیا ہے۔لیکن اس تاریخ ساز شہر  میں جب ہڑتال کی اپیل ہو تو گلی کوچوں سے پیرو جواں ٹولیوں اورجتھوں کی صورت یوں برآمد ہوتے ہیں کہ ’’آپ تَپ سی تے ٹُھس کرسی‘‘ والی پرانی پھبتی بے معنی لگتی ہے۔

گزشتہ بیس سال میں جہاں بھارتی فوجیوں کے ظلم کی داستانیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں،وہیں جرأت و شجاعت کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے والے کشمیری بھی اگلے وقتوں کے جنگجو قبائل کی اولاد معلوم ہوتے ہیں۔ یہ بدلے ہوئے ، بپھرے، نتائج سے بے خوف، سینہ سپر کشمیر ی وہ نہیں جنھیں ’’ہاتو‘‘ سمجھ کر مال برداری کا کام لیا جاتا تھا۔ دینی غیرت و حمیت کی بجلیاں ان کی رگوں میں دوڑ رہی ہیں۔ چپے چپے پر جدید اسلحہ سے لیس ہندوستانی فوج بھی انھیں مرعوب و مغلوب نہیں بنا سکی۔

آبھی گئی وصل کی رات

ہوائی اڈے سے سری نگر شہر ۱۴؍ کلومیٹر دُور ہے۔ ہوٹل تک پہنچانے کے لیے گاڑیوں کابہترین انتظام تھا۔ ایک گاڑی پر سوار ہوئے۔ ڈرائیور کشمیری تھا اور بہت سنجیدہ ۔ واہگہ بارڈرسے جمّوں تک،جوڈرائیور (ست پال) ہمیں ملا، خوش مزاج اور بے تکلف تھا۔ سفر شروع ہوا توپہلے بخشی سٹیڈیم پر نظر پڑی۔غلام محمد بخشی بھی تاریخ کشمیر کا ایک عجیب کردار ہے۔ یہ صاحب ۱۹۵۳ء سے ۱۹۶۳ء تک کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ رہے۔ شیخ محمد عبداللہ کی سیاست کا سحر جب کشمیریوں پر طاری تھا، اُسی زمانے میں ان کے زیر سایہ میدان سیاست میں آئے۔ باپ درزی، ماں آیا، تعلیم واجبی لیکن مکّارانہ ذہانت و دانش سے مالامال یہ شخص اس وقت مطلع سیاست پر طلوع ہوا جب عبداللہ نہرو رومان میں سرد مہری شروع ہوچکی تھی۔

کشمیر کی داخلی خودمختاری اور جداگانہ پہچان کے خاتمے اور آئین ہند کی دفع ۳۷۰ ساقط کرنے کے لیے جس مہرے کو استعمال کیا گیا، اُس کا نام بخشی غلام محمد ہے۔ وسائل کے اندھا دھند استعمال سے بخشی صاحب نے سیاسی کارکنوں کے ضمیر کو خریدا۔ ہندوستانی نیتاؤں کی ہر خواہش کو پورا کیالیکن کشمیریوں کے دلوں میں گھر نہ کر سکے۔ بخشی سٹیڈیم کے ساتھ ایک دوسرا پارک ہے جس کے باہر ’’ڈاکٹر سر محمد اقبال پارک‘‘ جلی حروف میں کندہ ہے۔ دونوں سٹیڈیم تقریباً آمنے سامنے ہیں۔ زمینی فاصلہ بہت کم ہے لیکن دونوں میں نسبت کیا    ؎

کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

ایک چند کلیوں پر قناعت کر کے ملعون و مطعون ٹھہرا۔ دوسرے کی آفاقی نظر ہمالہ سے اُبلتے چشموں میں مستقبل کا کشمیر دیکھتی ہے۔

اقبال سے محبت

 اقبال سے اس کے دیس کے لوگ آج بھی ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ایک پارک کیا، کشمیر میں دیگر کئی ادارے اقبال سے منسوب ہیں۔ مثال کے طور پر:

٭علامہ اقبال سنٹرل لائبریری۔ جامعہ کشمیر

٭ اقبال میموریل انسٹیٹیوٹ سری نگر

٭اقبال انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی بڈگام

٭اقبال انسٹیٹیوٹ اننت ناگ

٭علامہ اقبال حلقہ ادب راجوری

٭اقبال میموریل ٹرسٹ سری نگر

٭اقبال اکیڈمی سری نگر

٭اسلامک سٹڈی سرکل۔اقبال میموریل ہائیر سیکنڈری سکول برائے طلبہ/طالبات

٭ علامہ اقبال کنونشن سنٹر‘سنت گر

٭اقبال بزم ادب بھدرواہ

٭اقبال میموریل لائبریری جمّوں

٭اقبال انسٹیٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی یونیورسٹی آف کشمیر

حیدر پورہ اورسید علی گیلانی

تجسس، اضطراب اور شوق کے باعث میں نے ڈرائیور سے کہا، ذرا جگہوں کا تعارف کروائیے۔ وہ بولا، ابھی ہم جس ٹاؤن سے گزر رہے ہیں،یہ حیدر پورہ ہے اور یہاں گیلانی رہتا ہے۔ میں نے پوچھا ،کون گیلانی…؟ اس نے کہا ،سید علی گیلانی۔بزرگ کشمیری لیڈرہے۔ سید علی گیلانی میرے لیے کسی تعارف کے محتاج نہ تھے۔ ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے والے لوگ موجود ہیں لیکن جرأت ، استقامت، حق گوئی اور قربانیوں کے اعتبار سے وہ منفرد ہیں۔ گیلانی اپنی زندگی کاغالب حصہ جیل میں گزار چکے۔ ہم لوگ جب سری نگر میں تھے اس وقت بھی وہ نظر بند تھے۔

ضبط کا بندھن تھوڑی دیر بعد پھر ٹوٹ گیا۔ ایک اور سوال جڑ دیا،کشمیر میں گیلانی کے علاوہ اور کون کون سے لیڈر ہیں؟ کشمیری نوجوان ذرا رکا۔ اس نے گہرا سانس لیا۔ ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر ظاہر ہوئی۔ اسے معلوم ہو گیا کہ مہمان سب کچھ جاننے کے باوجود میری زبان سے کچھ سننا چاہتے ہیں۔ وہ بولا: ’’یاسین ملک ہیں،جو آپ کے داماد ہیں۔ انھوں نے پاکستان ہی سے شادی کی ہے۔ اس کی بڑی قربانیاں ہیں۔ بے باک اور نڈر ہے۔ مائی سیمہ کے علاقے میں اس کا زیادہ اثر ہے۔ یاسین کے علاوہ میر واعظ عمر فاروق ہے۔ وہ بھی بڑا ہوشیار لیڈر ہے۔ پاکستان بھی جاتا رہتا ہے، ڈاؤن ٹاؤن میں ان کا حلقہ مریدین ہے۔ ‘‘

ڈرائیور کی زبان سے رواں گفتگو اور گاڑی کی رفتار تقریباً برابر ہی تھیں۔ ڈرائیور نے سنجیدگی توڑی اور بولنے لگا تو یقین ہو گیا کہ کشمیری ہی ہے۔ فارسی کی ضرب المثل ہے کہ ایک کشمیری سے آپ افسوس اور غصے کے سوا کسی اور چیز کی توقع نہیں کر سکتے ۔ دونوں باتیں فطری ہیں۔ افسوس… تاریخ کے جبر نے افسوس ان کی سرشت میں ڈال دیا ہے اور غصہ … محکومی و بے بسی نے غصے کوبھی ان کی فطرتِ ثانیہ بنا دیا۔ اگر کوئی کشمیری بھائی سرد آہ بھرے یا تیوریاں چڑھائے تو اسے اس کی فطرت سمجھ کر نظر انداز کر دینا ہی بہتر ہے۔ اسی غصے اور افسوس کونکالنے کے لیے کشمیریوں نے بندوق اٹھائی ہے۔ کشمیریوں نے بیلٹ پر بھروسہ کیا تھا لیکن وہ ناقابلِ بھروسہ نکلا۔

لعل چوک

گاڑی کی رفتار ذرا کم ہوئی کہ اب شہر کی گہما گہمی میں داخل ہو چکے تھے۔ سامنے سائن بورڈ پر اشارہ تھا،لعل چوک، جب کشمیر کی تاریخ سے دلچسپی بڑھی، خصوصاً گزشتہ بیس سالوں میں لعل چوک کے بہت تذکرے سامنے آئے۔اس پر جھنڈے لہرانے کے ان گنت دعوے سنے۔ سری نگر کا لعل چوک، لاہور کا موچی دروازہ، کراچی کا نشتر پارک، راولپنڈی کا لیاقت باغ، ملتان کا قاسم باغ، بنگلہ دیش کا پلٹن میدان اور اب مصر کا تحریر چوک سیاسی اور انقلابی جدو جہد کے استعارے ہیں۔ ان تاریخی مقامات کی ایک خاص اہمیت ہے۔ ان کا تذکرہ جب بھی آئے تو ایک انقلاب ، اضطراب اور ہلچل کا تصور ابھرتا ہے۔ان کے قریب سے گزریں ،توبیتی تاریخ کے ان گنت واقعات زندہ حقیقت کی صورت سامنے آتے ہیں۔ ان مقامات کے درودیوار کو اگر نطق و کلام کی صلاحیت ودیعت ہو تو وہ زندہ جاوید تاریخ بن جائیں۔

براڈ وے ھوٹل

ضابطے کے تحت براڈ وے ہوٹل پہنچے۔ہوٹل کا کمرہ نمبر ۳۰۷؍ میرا عارضی ٹھکانہ ٹھہرا۔ تین یا پانچ ستارہ اس ہوٹل کی کھڑکی مشرق کو کھلتی ہے۔سطح سمندر سے۵۵۰۰ ؍فٹ بلند اس شہر میں اکتوبر کی دوپہر موسم کے اعتبار سے بہت سہانی تھی۔ مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کی کرنیں کھڑکی کے شیشے سے چھن چھن کر کمرے میں داخل ہو رہی تھیں۔کھڑکی کا پردہ ہٹا کر دھوپ سے لطف اندوز ہونے کو فطرتاً جی چاہتا۔

اس رومانوی اور افسانوی منظر سے بندہ حظ اٹھاتا ہے لیکن جب نگاہیں دوسری طرف پھیرے تو لطف و کرم کا سارا نشہ اتر جاتا ہے کیوں کہ ہوٹل کے چاروں طرف مسلح سپاہی آنے جانے والوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ نصب شدہ کیمروں کی آنکھ سے بچنا محال ہے۔’اگرچہ سانس لینے میں بھی خوف ہے تعزیر کا‘ میں پھر بھی خوش ہوں کہ نسیم صبح وطن کو اپنے قلب و روح میں اتار کے اشکوں کی سوغات لوٹا رہا ہوں۔

کانفرنس کا آغاز

 منتظمین سے ہدایات وصول کیں۔ کھانا کھایا۔ اسی دوران کانفرنس کے افتتاحی سیشن کا وقت قریب آگیا۔ میڈم شوشوبا باروے( Sosheba Barvey )نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے کہا کہ تنازع کشمیر کے حل کے لیے اعتماد سازی کی فضا پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے کے حل میں یہ بڑی رکاوٹ ہے۔ میڈم شوشوبا کی گفتگو جونہی ختم ہوئی،کانفرنس میں ایک دبلا پتلا ادھیڑ عمرکا کشمیری کھڑا ہوگیااور کانفرنس کے منتظمین کو مخاطب کر کے کہنے لگا’’ یہ کانفرنس عیاشی کے لیے ہے۔ ہوٹلوں میں بیٹھ کر کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کشمیر کی حقیقی تصویر اس ہوٹل کے مباحث میں سامنے نہیں آئے گی، بلکہ آپ لوگ وادی کے کوچہ و بازار میں آزادانہ سفر کریں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم پر کیا قیامت گزری ہے اور گزر رہی ہے۔ آپ(منتظمین میں بعض کشمیری نہیں تھے) کشمیری نہیں ۔ ہماری قسمت کے فیصلے کا اختیار آپ کو نہیں ۔ بعد ازاں اس شخص کو ہال سے نکال دیا گیا    ؎

ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو

 میرا خیال تھا کہ اس کا اگلا ٹھکانہ کوئی عقوبت خانہ ہوگا۔ اسے اتفاق سمجھئے کہ کانفرنس کے تیسرے روز رکشے پر میں ہری سنگھ روڈ سے گزر رہا تھا، تو یہ شخص پیدل چلتے ہوئے مجھے نظر آیا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اس غیرت مند کشمیری سے لپٹ جاؤں لیکن ایسا ممکن نہ تھا…… کانفرنس میں سیکورٹی کے سخت انتظام کے باوجود اس کشمیری کی جرأت و بے باکی نے سب کو حیرت زدہ کر دیا۔

سابق سیکریٹری خارجہ ہمایوں خان کا کلیدی خطاب تھا۔انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو اپنا نکتہ نظر بدلنا ہوگا۔ انھیں چاہیے کہ وہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے احساسات و خیالات بھی مد نظر رکھیں۔ ڈاکٹر ہمایوں خان نے مزید کہا کہ سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل نہیں کیا جاتا۔ دونوں حکومتوں کو اس اہم حقیقت کا ادراک نہیں اور نہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے اعتماد موجود ہے۔

 منطق کی دلیلوں میں ھے چالاک

مقبوضہ کشمیر میں ایسے وزرا ء اور سیاست دانوں کی کمی نہیں،جو سمجھتے ہیں کہ ’’حقیقت‘‘ کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ حقیقت ان کے نزدیک یہی ہے کہ وادی کشمیر بھارت کا حصہ رہے اور اُسے محدود سی خود مختاری اور مراعات مل جائیں۔ ان کے خیال میںحریت کانفرنس اور آزادی پسند عوام حقیقت سے بے خبر ہیں۔ ان میں سے ہر ایک یہ سوال کرتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کی قربانیوں کا ہمیں ’’نقد ‘‘ کیا فائدہ ہوا؟ ہم نے انھیں بتایا کہ آپ کی حد تک تو نقد نفع یہی ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کی قرباینوں کے نتیجے میں اصل قیادت کے منظر سے ہٹنے کے بعد آپ ریاست کے وسائل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

کانفرنس میں درج ذیل نکات پر بڑی شدّ و مدسے بحث ہوئی:

٭شمیریوں کی ۱۴؍ اگست ۱۹۴۷ء سے قبل والی پوزیشن بحال ہونی چاہیے۔

٭موجودہ سرحد ایل او سی موجود ہو لیکن غیر متعلق ہو جائے۔

٭کشمیر کی مختلف اکائیوں (جمّوں، کشمیر، لداخ، گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر) کے درمیان اعتماد سازی  بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

٭سیکورٹی فورسز وادی سے واپس چلی جائیں۔

٭کشمیر کے دونوں حصوں میں تعلقات کار کی نوعیت کیا ہو؟

٭کشمیر کے ہر حصے کو داخلی خودمختاری دی جائے۔

کپواڑہ کے حلقہ انتخاب سے منتخب ہونے والے انجینئر رشید سے پہلے ہی دن ملاقات ہوئی ۔ رشید صاحب ایک نوجوان انجینئر ہیں۔ کشمیر کی سیاہ بختی ، ماضی، حال کی پوری تاریخ سے با خبر، اپنے اور اپنی نسلوں کے مستقبل کے حوالے سے بے حد متفکر اور پریشان۔ سرکاری ملازمت اختیار کی لیکن ان کی بے چین روح اِس کے حصار میں پابندنہ ہو سکی۔ طوقِ ملازمت گردن سے اُتار پھینکا۔ مادر وطن کی محرومیوں کے ازالے کے لیے بہت کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ سو اپنے اُجڑے دیار کی تعمیر نو کے جذبے سے وہ بھی انتخابی میدان میں اُترے اور آزاد امیدوار کی حیثیت میں کامیاب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینے کا مطلب آزادی کی جدو جہد سے دستبرداری نہیں:

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں

کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ بیس برس سے وادی میں تعمیر و ترقی کا با ب بند ہو چکا ۔ کریک ڈاؤن، پکڑ دھکڑ اور جبر نے پوری وادی کو عقوبت خانے میں بدل دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جب جینا مشکل ہو،تو اُسی حال میں جینے کی کوئی سبیل نکالی جائے۔کشمیریوں کی ذہانت اور تردماغی ضرب المثل ہے۔ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ کشمیر کی نئی نسل کے ہاتھ میں بندوق ہے۔ ہڑتال، جلاؤ گھیراؤ اس کا مقصد ہے۔ پچھلے سال بھارتی آئی ایس آئی کے امتحان میں ملکی سطح پر ۴۴۴۷ ؍ امیدوار مقابلے میں شامل ہوئے۔ اُمیدواروں میں سے مقابلے کے امتحان میں وادیٔ لولاب کشمیر کے ایک دیہاتی، شاہ فیصل نے پہلا نمبر حاصل کیا۔ تیسرے نمبر پر پرویز احمد پرے بارہ مولہ کے ایک لائن مین کا بیٹا تھا۔ جبکہ  چھٹا نمبر بھی ایک کشمیری ہی کے حصے میں آیا۔

رشید صاحب کی باتیں ہمیں اچھی لگیں۔ انھوں نے کہا، آپ میرے حلقہ انتخاب میں چلیں،آپ کو اصل کشمیر کی تصویر نظر آئے گی۔ کانفرنس میں ہندوستانی افواج کا اصل روپ آپ کو نظر نہیں آ سکتا۔یہاں موجود دانش ور زبان خلق سے آشنا نہیں۔ کشمیر کی حقیقی تصویر وادی کے کوچہ و بازار میں بکھری ہے۔میں نے ان سے کہا، آپ کے جذبات تو قابل قدر ہیں مگر این جی اوزکے پروگراموں میں یہ مسئلہ تو موجود ہوتا ہے کہ وہ حکومت کی مرضی و منشا سے ہٹ کر پروگرام نہیں بنا سکتیں۔ مدعوئین کو عموماً وہی کچھ سننا اور دیکھنا پڑتا ہے جو این جی او ز کا ایجنڈ اہو۔ بلکہ وہاں بولنے کے لیے بھی ایک خاص اسلوب چاہیے، ہر ایک کو یہ رتبہ نہیںمل سکتا۔

براڈوے ھوٹل سے پہلا ’’فرار‘‘

مغرب سے پہلے کانفرنس کا پہلا سیشن ختم ہوا توہوٹل کی چار دیواری سے باہر کا منظر دیکھنے کے لیے میری بے تابی بڑھتی گئی۔خنکی کے باعث ڈل کی سیر اگلے دن تک اٹھائے رکھنے پر اتفاق ہوا اور گاڑی دائیں جانب چشمہ شاہی کی طرف مڑ گئی:

 قطرے قطرے سے ٹپکتی ہے تیری شانِ شاہی

 چشمہ شاہی ،جھیل ڈل کے مشرقی کنارے پر گورنر ہاؤس کے قریب اور شہر سری نگر سے۸ء ۸؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے گرد چنار کے قدیم درخت ہیں،جن کا تنا کئی فٹ چوڑا ہے۔ایک چھوٹا سا باغ بھی ہے۔ مغل بادشاہ شاہجہاں کے نام کی یہاں تختی آویزاں ہے۔اکتوبر کی خشک سالی میں بھی وہاں وافرپانی سے بے شمار سیاح اپنے من میں مگن…لطف اندوز ہو رہے تھے۔وہاں پہنچے تو مغرب کی اذان …اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں۔ جمّوں میں اذان کی آوازیں نہ سنی تھیں۔ ہمارے حسین احمد صدیقی ایڈووکیٹ نے بھی چشمہ شاہی سے متصل باغ میںبڑے چنار کے سائے تلے نعرہ تکبیر بلند کر دیا۔وہ امام ٹھہرے ،ڈاکٹر سعید اور میں مقتدی۔

ایک دن قبل جمّوں میں ہوٹل کے ہندوعملے سے میں نے قبلہ رخ کے متعلق پوچھا ۔ وہ حیرت سے میرا منہ تکنے لگے۔ پاکستان کے ہر ہوائی اڈے پر سمت قبلہ اور نماز کی جگہ مختص ہوتی ہے۔ بلکہ پرواز سے پہلے فضائی میزبان ضروری ہدایات کے ساتھ سفر کی دعا بھی سناتی ہے۔ یہ ایک مستحسن روایت ہے۔ جمّوں اور سری نگر ہوائی اڈوں پر اس طرح کی کوئی روایت موجود نہیں۔ خیر اس کی توقع بھی رکھنا فضول ہے۔جمّوں میںسورج کا اندازہ کر کے نمازیں پڑھتا رہا۔

سری نگر میں اذان کی آواز اجنبی نہ تھی۔صدیوں پرانی بات ہے ،۷۲۵ھ (۱۳۲۵ئ) میں ایک فقیر ڈل کنارے فجر کی نماز ادار کر رہا تھا۔ وادی کے باسی اس نووارد فقیر بلبل شاہ (سید شرف الدین) کے دین سے ناواقف تھے۔

بادشاہ رینچن شاہ (۱۳۲۵ئ۔۱۳۲۷ئ) اپنے آبائی وطن، تبت سے بھاگ کر وادی میں وارد ہوا۔وہ اپنے آبائی مذہب بدھ مت سے بیزارہو کر حقیقت کی تلاش میں تھا۔ ایک دن مصمم ارادہ کر لیا کہ کل صبح سب سے پہلے جس شخص پر نظر پڑے گی، اُسی کا دھرم اختیار کروں گا۔ علی الصبح اس نے محل کا دریچہ کھولا۔ ایک فقیر (بلبل شاہ) کو عبادت میں مشغول پایا۔بادشاہ نے درویش کو بلایا اور اس کا دین قبول کر کے صدرالدین نام اختیار کر لیا۔ اپنے مرشد کے لیے جھیل ڈل کے کنارے حجرہ تعمیر کروایا۔ آج بھی وہ جگہ بلبل لنگر کے نام سے تاریخ و تہذیب کو اعتبارعطا کرتی ہے۔ تب سے یہ وادی اللہ اکبر کی صداؤں سے مانوس ہے۔ یہاں کے پیرو جواں گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ عزم کر چکے کہ اگرچہ اجتماعیت کی آستینوں میں بُت ہیں لیکن’’ ہمیں‘‘ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ۔

چشمہ شاہی کا پانی زیر زمین گورنر ہاؤس میں بھی جاتا ہے۔ مغل بادشاہ جہانگیر یہ پانی آگرہ لے جاتا تھا(سنا ہے  ۱۹۴۷ء کے بعد یہ پانی پنڈت نہرو بھی بڑے اہتمام کے ساتھ دہلی منگوایا کرتے تھے۔ (کشمیر اداس ہے، ص،۵۹)۔ چشمے کے پانی کے استعمال کے حوالے سے یہ باتیں جاری تھیں کہ ایک صاحب نے اضافہ کر دیا ،نہرو اسی لیے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتے تھے۔

چشمہ شاہی کے قریب گورنر ہاؤس کی کرّوفر اور حشرسامانیوں کی تاریخ اب کوئی راز نہیں۔ پتا پتا، بوٹا بوٹا جانے ہے کہ جگ موہن سنگھ کا گورنر راج افغانوں اور سکھوں کے راج کی یاد دلاتا ہے۔ وسیع رقبے پر پھیلے گورنر ہاؤس… انگریز طرز حکمرانی کی یہ نشانیاں سرحد کے آر پار آج بھی موجود ہیں۔ گورنر ہاؤس کے قریب چھوٹے چھوٹے ہٹ نما مکانات ’’باغیوں‘‘ کو سیدھا کرنے کے ٹھکانے ہیں۔ گیلانی،یٰسین ملک، شبیر شاہ جیسے’’باغیوں‘‘ کا ’’علاج‘‘ ادھر ہی ہوتا ہے۔

ہوٹل پہنچے، طعام وکلام سے فارغ ہوئے تو رات کے منظر دیکھنے پھر لعل چوک پہنچ گئے اور بہت دیر اس کی گہما گہمی میں گم رہے۔ کشمیری شال کی طلب تھی۔ اگرچہ اس کا حصول یہاں کوئی مشکل نہیں :

دیتا ہے ہنر جس کا امیروں کو دوشالہ

یہ شال بھی کشمیر کا ایک مستند حوالہ ہے، جس نے پوری دنیا میں کشمیری صنعت کا سکّہ جما دیا۔ کشمیر ی شال کے نظارے کے لیے لعل چوک ، لعل منڈی اور شہر سری نگر کے دیگر حصوں میں مختلف دکانوں و مارکیٹوں میں گئے۔متعدد اقسام کی شالیں دیدار عام و خاص کے لیے سجی ہوئی تھیں۔ دکانوں کے علاوہ ایمپوریم بھی گئے لیکن شالوں کی قیمت ہماری قوت خرید سے بالا تھی۔ ایمپوریم میں ایک بہت ہی نرم اور ملائم شال کے بارے میں پوچھا تو قیمت ’’صرف‘‘ ۲۵؍ہزارروپے بتائی گئی۔ ہم نے اسی پر اکتفا کیا اور باہر آ گئے۔

شام کو برادر ذوالفقار عباسی خریداری کے بوجھ تلے دبے ہوئے نظر آئے۔ انھوں نے پوچھا ،ظفر بھائی !شال وال خریدی ہے۔ میں نے انھیں بتایا کہ بھائی! وہ تو بہت مہنگی ہیں۔ ۲۵؍ہزارروپے کی ایک شال… چادر ہی ہے ناں یار۔ انھو ں نے جواباً فرمایا۔ ارے ۲۵؍ہزار کیا ! میں تو ایک شال ۵۵؍ہزار  اور دوسری ۶۵؍ہزار روپے کی خرید لایا ہوں۔ میں نے کہا، آپ سرمایہ دار/صنعت کار ہیں۔ میں اس ’’عیاشی‘‘ کا متحمل نہیں ہو سکتا

بہرحال مجھے شال بافی کی صنعت کے بارے میں مزید جاننے کا شوق پیدا ہوا۔ کچھ پڑھا، کچھ سنا۔ کشمیری جنگلوں کو کشمیر کا سبز سونا، جبکہ صنعت شال بافی کو سفید سونے سے تعبیر کیا جانا قرین انصاف ہے۔ کشمیر پر قدرت کے عطیات اور مہربانیاں لاتعداد ہیں۔ اونچے اونچے سرسبز پہاڑ، جنگلات ، چشمے، صاف اور شفاف دریا، ندیاں ، آبشاریں، نیلگوں جھیلیں، درّے، زعفران کے کھیت، چناروں اور سفیدوں کے دیو ہیکل درخت،جڑی بوٹیوں سے مالا مال جنگلات ہر موسم اور ہر رنگ کے پھل۔ایسی رنگا رنگ سرزمین پر بسنے والے انسانوں کی شب غلامی پر جب غور کریں، تو حیرت ہوتی ہے کہ نہ جانے صبراور آزمائش کے کتنے اور کڑے مراحل ابھی باقی ہیں۔لیکن مالک کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے بس    ؎

اِک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں

کشمیر کے محنت کش ، چرب دست اور تر دماغوں کی مہارت اور محنت کا نتیجہ شال کی صورت سامنے آتا ہے۔ یہ کشمیر کی بہت پرانی صنعت ہے۔ لدّاخ کے ٹھنڈے علاقوں کی بکریوں کی اون پشم کہلاتی ہے۔ پشم جب باریک کاتی جائے تو وہ پشمینہ بن جاتی ہے پھر اور اس پر تر دماغوں کے چرب ہاتھ سوزن کاری سے بیل بوٹے بنتے ہیں۔ نتیجتاً ایسی ملائم ، ہلکی اور خوبصورت شال تیار ہوتی ہے، جو لمبائی میں عام چادر کے برابر، لیکن وزن میں اس درجے ہلکی ہوتی ہے کہ اسے گول کر کے ایک انگوٹھی سے گزارا جا سکے۔ پھر ایمپوریم میںسجائے، تو نظارہ کرنے والوں کی نظریں خیرہ ہو جاتی ہیں اور قیمت پوچھنے پر ہوش ٹھکانے لگ جاتے ہیں۔

شال ہماری اردو زبان کی طرح تُرک لفظ ہے۔ اردو تو ’’لشکری‘‘ ٹھہری جب کہ شال کو وسط ایشیا میں شالکی کہتے ہیں جس کا مطلب چادر ہے۔ بیرونی حملہ آور جہاں کشمیر کی مخصوص جغرافیائی حالت کے باعث حملہ آور ہوتے ،تووہاں شال بافی کی صنعت دیکھ کر ان کی حرص میں اضافہ ہوجاتا۔

سکھوں کا دورِ حکومت کشمیر کی تاریخ کا بدترین دور ہے۔ شال بافی سے افغان ۱۰؍ لاکھ ، جب کہ سکھ ۲۰؍ لاکھ روپے سالانہ ٹیکس لیتے تھے۔ اُس دور کے ۱۰؍ لاکھ آج اربوں کے برابر ہیں۔ اتنی منافع بخش صنعت کو ترقی دینے یا اپنا خون پسینہ ایک کرنے والے محنت کش نان شبینہ کے لیے مجبور رہتے۔ روس اور وسطِ ایشیا تک کشمیر کی شال برآمد ہوتی۔ خصوصیت یہ ہے کہ لدّاخ اور تبت کی آب و ہوا میں پلنے والی بکریاں دنیا کے کسی اور خطے میں موجود نہیں ہیں۔ ان بکریوں کی اون ہی دراصل کشمیری شال کی انفرادیت ہے۔ آج کل ایک شال کی قیمت ایک لاکھ روپے سے زائد ہوتی ہے۔ اگر یہ صنعت کشمیریوں کے اپنے اختیار میں ہو تو معاشی طور پر ریاست کی خوشحالی میں قابل قدر اضافہ ہو سکتا ہے۔

’’مغل سلاطین جب کبھی شاہانِ عالم کو تحائف بھیجتے تھے، تو ان میں کشمیری ساخت کے رنگا رنگ قالین، بو قلموں شالیں شامل ہوتی۔ ان کے شرف دیدار سے سلاطینِ عالم کی آنکھیں روشن ہو جاتی تھیں۔‘‘ (شیرازہ، ص،۲۶۹)کشمیری شال استعماریوں کے ذہن پر کس قدر سوار تھی، کہ رسوائے زمانہ معاہدۂ امرتسر تحریر کرتے وقت بھی انگریز صاحب بہادر اس سے چشم پوشی نہ کر سکے اور معاہدۂ امرتسر کی دفعہ ۱۰ میں لکھ دیا کہ ’’مہاراجہ گلاب سنگھ برطانوی حکومت کی اطاعت قبول کرتے ہیں اور اس اطاعت کی نشانی کے طور پر برطانوی حکومت کو ہر سال ایک گھوڑا، ۱۲ بکریاں اعلیٰ نسل کی(چھے بکریاں، چھے بکرے) اور تین جوڑے کشمیری شالوں کے پیش کریں گے‘‘۔

ریاست کے تر دماغ اور چرب دست اپنے خون اور پسینے سے یہ شالیں کس حال میں تیار کرتے، انگریز سیاح سر فرانسس ینگ ہز بینڈ(Sir, Francis Young Husband)یوں تبصرہ کرتا ہے:

’’شالیں بنانے پر بہت سی متوازی پابندیاں عائد تھیں۔ اون جب ریاست میں درآمد کی جاتی، اُس پر ٹیکس وصول کر لیا جاتا۔ پھر شالیں بنانے والے کارخانہ دار کو ایک ایک کاریگر پر ٹیکس اداکرنا ہوتا۔ اس کے بعد شال بننے کے ہر مرحلے پر مزید ٹیکس لگائے جاتے اور پھر آخر میں برآمدسے قبل فروخت کنندہ پر ۸۵ فیصدمالیت کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جاتا۔‘‘

اگلے دن دریائے جہلم کے بند(دریا کے کنارے دوتین میل پیدل چلنے والی فٹ پاتھ نما سڑک) پر چہل قدمی کرتے کرتے ’’آبی گزر ‘‘ سے بھی گزر ہوا۔ آبی گزر بھی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ اِسی کے کسی حصے میں سردار محمد ابراہیم خان رہائش پذیر تھے۔ ۱۸،۱۹؍ جولائی  ۱۹۴۷ء کو اُنہی کے گھر مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقدہوا، جس میں کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی گئی۔ میں اس گھر(غازی ملّت کے گھر) کے نقش و نگار اور درو دیوار کا مشاہدہ کرنا چاہتا تھالیکن وقت اور تاریخ کے سفر میں وہ نقوش تلاش کرنا اب مشکل تر ہے۔ بند کنارے کھڑے ہو کر دریائے جہلم کا نظارہ بھی نظر نوازہوا۔

سات پُلوں کا شہر

دریائے جہلم کا منبع چشمہ ویری ناگ ہے۔ جماعت دوم یا سوم کے میرے امتحان میں استاد نے سوال پوچھا تھا، دریائے جہلم کا منبع بتاؤ؟میں نے رٹے رٹائے انداز میں فر فر جواب دے دیا اور نمبر بھی پورے مل گئے ۔ تب سے جہلم اور’’ چشمہ ویری ناگ‘‘حافظے سے محو نہ ہوئے۔ سری نگر میں داخل ہوں تو شہر کے بیچوں بیچ دریائے جہلم واقع ہے اور اس کے اوپر بنے ہوئے پُلوں (کدل) سے گزرنا ہر ایک کا مقدر ہے۔ کبھی زیرو کدل سے اور کبھی امیرا کدل، حبہ کدل، زینہ کدل،عبداللہ کدل سے گزریں تو اس بے نظیر شہر کی تاریخ و تہذیب کے نت نئے ورق آپ کے سامنے کھلتے چلے جائیں گے۔ ہر کدل اور ہر ورق اپنے پس منظر میں تاریخ  کے ان گنت نقوش سمیٹے ہوئے ہے۔یہ پُل ہر عہد کی ضرورتوں کے مطابق تعمیر ہوئے۔

کشمیریوں کا طرزِ زندگی بہتر بنانے کے لیے چودھویں صدی میں مسلمان حکمرانوں نے کشمیری دریاؤں اور ندیوں پر پُل بنانا شروع کیے۔اگرچہ بعض تاریخوں میں مذکور ہے کہ راجہ ہرش(۱۱۰۳ء ۔ ۱۱۱۶ئ) نے دریا پر کشتیوں کا پہلا پل تعمیر کیا تھا۔ اگرچہ اس پُل کے اصل مقام کا تذکرہ کہیں موجود نہیں ہے۔ ۱۱۲۳ء میں سری نگر آتشزدگی کا شکار ہوا۔ لکڑی سے بنے مکانات اور دیگر عمارات کے ساتھ پُل بھی جل کر راکھ ہوئے۔ سری نگر شہر دریائے جہلم کے دونوں کناروں پر آباد ہے ۔ روایت ہے کہ سلطان زین العابدین کے عہد سے قبل سری نگر شہر کی آبادی دریا کے ایک کنارے پر تھی۔ سلطان کی ترغیب سے دوسری سمت میں بھی آباد کاری شروع ہوئی۔شہر کو ملانے کے لیے مختلف پُل تعمیر کیے گئے، جنھیں کشمیری میں کدل کہتے ہیں۔

اسلامی عہد میں جہلم پر پہلا لکڑی کا پُل علی کدل، سلطان علی شاہ (۱۴۱۵ئ)نے بنوایا۔ زینا کدل، زین العابدین نے (۱۴۳۷ئ)، فتح کدل، سلطان فتح شاہ نے  (۱۵۹۹ئ)میں ، صفا کدل، سلطان صفی الدین خان نے (۱۶۷۱ئ) اور امیرا کدل، امیر خان نے(۱۷۷۴ئ)میں تعمیر کروائے۔ انھی سات پُلوں کی مناسبت سے سری نگر کو سات پُلوں کا شہر (The city of seven bridges)بھی کہا جاتا تھا(اب پُلوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے)۔ لکڑی کے یہ پُل کشمیر فن تعمیر کا شاہکار نمونہ تھے ۔ آٹھواں پُل زیرو برج ۱۹۵۷ء میں بنایا گیا۔ نواں پل  عبداللہ برج ہے۔ ٹورسٹ ریسیپشن سنٹر کے ساتھ بہت ہی نمایاں جگہ پر تعمیر کیا گیا۔عبداللہ کدل شیخ عبداللہ سے منسوب ہے جو، کبھی کشمیریوں کا شیر کشمیر تھا، آج اس کی قبر پر اِس لیے پہرہ ہے کہ لوگ اِس سے نفرت کرتے ہیں۔اس خاندان کے لوگ آج بھی بظاہر حکمران ہیں لیکن عبداللہ کدل سے آزادانہ سفر کرنا ان کے لیے ناممکن ہے۔

۱۹۳۱ء کا سال کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے حوالے سے یادگار ہے۔ سری نگر میں ۱۳؍ جولائی ۱۹۳۱ء کو بائیس مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کر کے جدو جہد آزادی میں نیا رنگ بھر دیا۔ مہاراجا کے خلاف عوامی غیض و غضب کا درجہ حرارت بہت بلند ہو چکا تھا۔ مہاراجا نے رعایا کو قابو میں رکھنے اور انتقام لینے کے لیے جہلم پر بنے انھی پُلوں کی دونوں جانب اپنے سپاہی کھڑے کر دیے ۔ پُل پار کرنے والے ہر شخص کو حکم تھا کہ وہ دونوں ہاتھ کھڑے کر کے ’’مہاراجہ بہادر کی جے‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے گزرے۔ بعضوں کو پیٹ کے بل کہنیوں کے سہارے رینگ رینگ کر پُل عبور کر نے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

یہ کدل(پُل)دریائے جہلم کی پہچان اور اَن گنت المیوں کے گواہ بھی ہیں۔ صدیوں پہ صدیاں بیت گئی اور اِن پُلوں کے نیچے سے بھی بہت پانی بہہ چکا۔