تحریر  :-   شبیر احمد ڈار
       ووٹ ایک امانت ہے جس کا درست استعمال ہر شہری کا دینی و قومی فریضہ ہے ۔  عہد حاضر میں ووٹ کا استعمال اسلامی و قومی فریضہ کی نسبت ذاتی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے ۔ ووٹ کی اہمیت سے آگاہ ہونا وقت کی عین ضرورت ہے ۔  ریاست آزاد جموں و کشمیر میں الیکشن کی گہماگہمی عروج پر ہے  الزامات ، نعرے بازی اور جھوٹے وعدوں سے عوام کی توجہ حاصل کی جا رہی ۔  ریاست میں غربت ، بےروزگاری اور مہنگائی عروج پر ہے اور سیاست دان انہی چیزوں کو غنیمت سمجھتے ہوئےعوام کو سبز باغ دیکھا کر ووٹ حاصل کرنا چاہتےہیں ۔
     ووٹ کا درست استعمال ہر مرد و عورت پر فرض ہے کیوں کہ ووٹ کا درست استعمال ہی ملک میں استحکام لاتا ہے ۔  ووٹ کے درست استعمال کے ذریعے ہی ایک مثبت سوچ کا حامل باشعور سیاست دان اسمبلی میں جاتا ہے جہاں اسے عوام کی ترجمانی کا حق حاصل ہوتا ہے اور وہ معاشرے و قوم کے لیے مثبت تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے ۔ اس کے برعکس ووٹ کا غلط استعمال منفی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے ۔ 
   عہد حاضر میں ووٹ کے تقدس کو مکمل پامال کیا جا رہا ۔ ووٹ کو ذاتی مفادات اور دولت پر ترجیح دی جاتی ہے ۔ ملک و قوم کے بہتر و روشن مستقبل کے لیے درست ووٹ کا استعمال بہت ضروری ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں انتخانات امن کی بجائے مزید فسادات لے کر آتے ۔  سیاسی لیڈر اپنے گھر آرام کر رہا ہوتا اور گھروں میں بھائی بھائی آپس میں لڑ رہے ہوتے ، باپ بچوں کو ووٹ کے آزادانہ حق سے محروم کر رہا ہوتا ہے اور برداری ازم کا نعرہ زور پکڑنے لگتا اور مختلف گھرانے آپس میں مد مقابل آ جاتے ووٹ کا غلط استعمال ہمارے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے سوالیہ نشان بن جاتا ہے ۔
  ووٹ کا استعمال پارٹیوں اور امیدواروں  کےپر فریب نعروں ،دل کش منشور  یا جذباتی  تقریر کے پیش نظر نہیں بل کہ اس کی عملی کارکردگی اور ماضی کے کردار کو ذہن نشین رکھ کر ووٹ دینا چاہیے ۔  ہمارے سیاست دان ٹکٹ کے حصول کے لیے پارٹیاں ایسے بدلتے جیسے امیر شخص اپنے کپڑے بدلتا ہے  ۔ ہمارے سیاست دان جو صرف پانچ سال میں الیکشن کے دوران نظر آتے کسی کالی بھیڑوں سے کم بھی نہیں ہیں جنھیں پانچ سال تک عوام کی حالت اور ان کے مسائل کی خبر نہیں ہوتی ان کی بنیادی سہولیات کی پروا نہیں ہوتی بس اپنی کرسی کی فکر ہوتی اور عوام کی ووٹ کی فکر ہوتی ۔
     خدارا اب کی بار ووٹ کا استعمال درست کریں  آپ کا وقت کشمیر کی تقدیر اور ہماری نسلوں کے مستقبل کو بدل سکتا ہے ۔ ضمیر بیچ کر یا پھر نسلی ، مذہبی یا دیگر فرقہ پرستی کی بنا پر ووٹ کا استعمال نہ کریں ۔  بریانی کی خاطر ، لیڈر کے ساتھ سلفی کی خاطر  یا پھر ہزار دو ہزار کے لیے اپنے ووٹ کا استعمال غلط نہ کریں آپ کا ووٹ آپ کی مرضی سے اور ایسے شخص کے لیے ہو جو سب کے لیے فائدہ مند ہو جو خیر کا سبب بنے نہ کہ شر کا سبب بنے ۔  مخالفین پر الزام تراشی کرنے والا ، پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنے سامنے رقص کروانے والا ، برداری ازم یا فرقہ پرستی کو ہوا دینے والا کبھی سیاست دان نہیں ہو سکتا  ۔
   آپ کی سوچ بدلے گی تو کشمیر بدلے گا ۔  مرد حضرات کے ساتھ خواتین نے بھی گھروں سے نکل کر اپنے ووٹ کا آزادانہ اور درست انتخاب کرنا ہے یہ ہمارا دینی و قومی فریضہ بھی ہے  ۔ اس بار ضمیر نہیں بیچنا بل کہ درست امیدوار پر مہر لگانی ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کا باعث بنے۔

Leave your comment !