تحریر:محمد الیاس راجہ کونسلر -ووکنگ سرے – یو کے 

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جمہوری طرز حکومت میں جائز مطالبات پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی مناسب شنوائی ان کا بنیادی حق ہے اور ملک کا آئین ہی ایک عام شہری کے حقوق اور فرائض کا تعین کرتا ہے چنانچہ جہاں جہاں حقوق کی بات ہوتی ہے وہاں فرائض کا بھی تذکرہ ہوتا ہے اور ان دونوں کے اپنی اپنی حدود و قیود کے اندر رہنے ہی سے مخلص لیڈرشپ کی راہنمائی میں ہی ایک صحت مند جمہوری معاشرہ پنپ سکتا ہے مگر بدقسمتی سے پچھلے تمام تر ادوار میں ایسا ممکن نہ ہو سکا ھوس اقتدار کے پجاریوں نے سادہ لوح عوام کو جھوٹے اور دلفریب نعرے دے کر ووٹ تو جمہوریت کے نام پر لیے مگر جمہور کے حق حکمرانی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوے اس ممکت خداداد پاکستان کو دولخت کر کے 71 کے پاکستان میں جمہوری قدروں کو ہمیشہ کے لیے دفنا کر من مانیوں کے دور کا آغاز کر دیا پھر جس جس کو جتنی ہمت اور جتنے اختیارات تھے ان کے بے دریخ استعمال کا ایک ایسا لا متناہی سلسلہ چل نکلا جو تاحال تھمنے کو نہیں آرہا اور لوٹ مار کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کو ہی بہتر سیاست سمجھا گیا اور اس گھناونے کھیل میں عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کے شاطران نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی اور ملک روز بروز تنزلی کی جانب بڑھتا رہا ریاست کمزور سے کمزور تر ہوتی گئی اور ہر بارسوخ آدمی اپنے آپ کو آہین و قانون سے بالاتر سمجھنے لگا اور حق حکمرانی چند خاندانوں تک محدود ہو کے رہ گیا جنہیں ہر دور میں اسلام دشمن طاقتوں کی مکمل تاہید و حمایت حاصل رہی حتی کہ اس بچے کھچے پاکستان کے بھی چار ٹکڑوں پر مشتمل نقشے منظر عام پر آنے لگ گہے۔

الحمد اللہ اس لمحہ فکریہ پر محبان قوم و ملت کی آنکھیں کھلیں اور الیکشن 2018 میں انہوں نے ایک بہادر دور اندیش جذبہ حب اوطنی پر غیر متزلز ل یقین کے حامل بے لوث شخص عمران خان نیازی کا انتخاب اس امید پہ عمل میں لایا کہ وطن عزیز کو چوروں ڈاکوں لٹیروں اور ان کی پشت پناہ غیر ملکی ایجنسیوں کے چنگل سے نکالا جا سکے- پچاس سالہ تاریخ میں پہلی بار اس درست فیصلے کے مثبت اثرات محسوس ہونے شروع ہو چکے ہیں۔ پچھلے ادوار کے مراحات یافتہ تین چار فیصد شکست خوردہ ذھنیت کے مالک لوگ انہیں سلیکٹڈ ہونے کے طعنے دے رہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے اور اگر  مان بھی لیا جاہے کہ ایسا ہوا ہے تو بھی سیلکٹ کرنے والی قوتیں مبارکباد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے صیح آدمی کو سیلکٹ کر کے نہ صرف اپنے وقار میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے _ بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کو بھی سر اٹھا کر چلنے کے قابل بنا دیا ہے وگرنہ پہلے تو یہ عالم تھا کہ حکمرانوں اور ان کے حواریوں کی بدعنوانیاں نااہلیوں اور کرپشن کے چرچوں کے باعث شرمندگی سے ایسے لوگ جن کا بیرون ممالک پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں سے رابطہ رہتا تھا اپنی قومیت پہ پردہ ڈالے رکھنے ہی میں عافیت سمجھتے تھے۔ دنیابھر کے مہذب ممالک کی اپوزیشن پارٹی بھی اتنی ہی محب وطن ہوتی ہیں جتنی کہ رولنگ پارٹی اور وہ اخلاقی اور قانونی حدود و قیود کے اندر رہ کر مثبت تجاویز دیتے ہیں اور اگر کہیں اختلافات بڑھ جاتے ہیں تو وہ اپنے جاہز مطالبات کے سلسلے میں حکومت سے مذاکرات کر کے کسی ممکنہ حل تک پہنچتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو حکومت کو کم از کم آٹھاہس دن کا نوٹس دیا جاتا جس میں اپنے روٹ کے رو ڈ میپ کے ساتھ ساتھ اوسطا متوقح تعداد کا بتانا ہوتا ہے تاکہ نظم و ضبط قاہم رکھے جانے کے لیے پولیس ایمبولینسز اور قانون نافظ کیے جانے کے دیگر معاون اداروں کا قبل از وقت مناسب اہتمام کیا جا سکے اور سب سے اہم بات احتجاج کرنے والی پارٹی کو حصول اجازت نامہ کے لیے سرکاری یا غیر سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچاہے جانے کی گارنٹی دینی ہوتی اور اگر اس کا پاس نہ رکھ سکیں تو انشورنس کمپنیاں اصل نقصان سے دس گناہ زیادہ ہرجانہ وصول کرتی ہیں۔ اب سنتے ہیں کہ کو ڈ ۱۹ کی اس نازک ترین صورت حال میں جس کے متعلق اکثر یہ کہا جا رہا ہے کہ آل پارٹیز کرپٹ کرپشن کانفرنس کے انعقاد کے بعد اب احتجاجی تحریک شروع کیے جانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جس کے لیے حالات قطعا سازگار نہیں اور نہ ہی کرونا کی درپیش صورت حال میں حکومت وقت کو اس کی آجازت دینی چاہیے کہ اس سے سینکڑوں محصوم جانوں کے ضیاء کا خطرہ ہے اور پھر ملک میں افرا تفری سے فاہدہ اٹھاتے ہوے را، موساد اور دگر کئی غیر ملکی ایجنسیاں اپنے تخریب کار ٹرینڈ ایجنٹوں کے ذریعے لا اینڈ آ رڈر کی پر امن فضاء کو تباہ و برباد کر سکتے ہیں ملک جس کا قطعا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسوقت دنیا بھر میں ایس او پیز پر سختی سے عمل کرواہے جانے کی تدابیر سوچی جا رہی ہیں جس سے کاروباری اداروں اور عبادت گاہوں تک کو مطلع کیا جا رہا ہے ایسے موقع پر حزب اختلاف کا احتجاج نہ صرف غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے بلکہ اپنے مفاد کی خاطر سادہ لوح لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا صریحا ایک غیر انسانی فعل ہے جس کی قطعا اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

Leave your comment !