تحریر: روبینہ ناز
‎         دور حاضر میں عورتوں کے لیے فنی اداروں کا قیام انتہائی ضروری ہے۔کسی بھی ملک و معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مردوں کے شانہ بشانہ خواتین بھی تمام شعبوں میں مردوں کا ساتھ دیں۔شہروں میں تعلیمی اداروں اور سہولیات کی وجہ سے پڑھنا آسان ہے مگر دیہاتوں میں خاص کر دور دراز علاقوں میں تعلیمی اداروں کا فقدان ہے جسکی وجہ سے بچیاں اپنی تعلیم آگے جاری رکھنے سے قاصر ہوتی ہیں اور وہ اپنی تتعلیم ادھوری  چھوڑ دیتی ہیں یوں سمجھیں آدھی عورتوں کی  پڑھائی بھی ضائع ہوجاتی ہے کیونکہ دور دراز علاقوں میں بڑے سکول و کالج نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے اور ساتھ کوئی  فنی مرکز بھی نہیں ہوتا جس سے علاقے کی عورتیں کچھ سیکھ سکیں۔۔۔
‎کہا جاتا ہے کہ ایک فرد کی تعلیم ایک فرد کو ہی فائدہ دیتی ہے جب کہ ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کو فائدہ دیتی ہے اس میں کوئی  دو راۓ نہیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے پڑھی لکھی ماں کی تربیت بچوں کی شخصیت پر  اچھے اثرات ڈالتی ہے مگر آج کی خواتین کی اکثریت بہت سے مسائل کا شکار ہے خصوصا معاشی مسائل ہر گھر کی کہانی ہے -خراب  معاشی صورت حال نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے تکلیفوں اور مصبیتوں کے پہاڑ کھڑے کردیے ہیں۔۔۔مردوں کیساتھ گھریلو خواتین بھی کچھ کرنا چاہتی ہیں مگر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں گھریلو خواتین بھی آمدنی میں اضافہ کرسکتی ہیں اور یہ اضافہ تبھی ممکن ہوگا جب خواتین کے لیے علیحدہ فنی ادارے ہوں گے -ملک کی زیادہ تر آبادی دیہاتی آبادی پر مشتمل ہے اور ہماری آبادی کار ترپن فی صد حصہ عورتوں پر مشتمل ہے -عورت کی زندگی دیکھی جاے تو یہ صدیوں سے محنت مشقت کا کام کرتی آئی  ہے مگر دلی دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کی محنت و مشقت کو نظر انداز کردیا جاتا ہے -اس کی محنت کی حوصلہ افزائی تک نہیں کی جاتی -عورتوں کو فنی تعلیم دے کر معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے -فنی تعلیم میں سلائی کڑھائی کا شعبہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایک ان پڑھ عورت بھی یہ  کام سیکھ کر خود کفیل بن سکتی ہے اور پڑھی لکھی با شعور خواتین اگر اس ہنر کو بہتر انداز میں جاری رکھیں تو گھریلو صعنت بھی بنا سکتی ہیں -ہمارے سامنے اس وقت چین کی مثال ہے اسکی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ یہاں کی خواتین محنت مشقت کرتی ہیں – چین میں گھریلو صنعتوں کو عورتیں خود ہنڈل کرتی ہیں -گھریلو صنعتیں عورتوں کا آسان ہدف ہوتی ہیں اور اس صنعت میں عورتیں اپنی  خدمات سر انجام دے سکتی ہیں سلائی کڑھائی کے علاوہ رنگائی، ڈیزاننگ،ٹائپنگ ، پرنٹنگ،کروشیہ،  بیوٹی پارلر اور دیگر شعبہ جات میں عورتیں دلچسپی رکھتی ہیں جس سے وہ  وقت کے بہتر استعمال کے ساتھ معاشی آسودگی بھی حاصل کرسکتی ہیں
‎اس لیے اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ حکومت سرکاری سطع پر خواتین کے فنی اداروں کی طرف بھی توجہ دے  شہروں میں بڑی بڑی فیکٹریوں میں دن رات  عورتیں کام کرتی ہیں مگر انہیں محنت کے برابر اجرت نہیں ملتی جتنی مرد کو اجرت ملتی ہے -ایک عورت کی وجہ سے اگر ایک  پراڈکٹ فروخت ہوتا ہے جس پر صرف عورت محنت مشقت کرتی ہے اورمگر اسے اسکی محنت کے برابر معاوضہ نہیں ملتا- جب کہ مرد اگر صرف زبانی کلامی سمجھا بھی دے تو اسے دگنی اجرت ملتی ہے -جب تک عورت کو برابر محنت کے حقوق نہیں ملیں گے معاشی ترقی ناممکن ہے کیونکہ عورتیں جس لگن اور محنت سے کام کرتی ہیں انہیں بہت کم اجرت ملتی ہے۔۔۔
‎ملکی معاشی کی بہتری اور غربت میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے کہ دیہاتوں میں فنی ادارے بناکر خواتین کو ہنر مند بنایا جاے تاکہ آبادی کے بڑے حصے کو ملکی ترقی میں شریک کیا جا سکے