فرہاد احمد فگارؔ، لیکچرر  اردو ، گورنمنٹ انٹر کالج،میرپورہ،ضلع نیلم

اردو نظم نگاری کی باقاعدہ ابتدا تو سید ولی محمد نظیرؔ اکبر آبادی سے ہوگئی تھی لیکن یہ صنف انجمن پنجاب کے قیام کے بعد زیادہ ثروت مند ہوئی۔ بیس ویں صدی کے آغاز اور سرسید احمد خان کی تحریکِ علی گڑھ سے قبل نظیر ہی ایک ایسا نام تھا جس نے اردو نظم کی صورت میں اردو ادب میں اضافہ کیا۔ وہ ایک ایسا شاعر تھا جس نے اپنی نظم کے ذریعے وہ الفاظ و تراکیب بھی اردو ادب کے دامن میں بھر دیں جن سے پہلے اردو شاعری نا آشنا تھی۔ نظیرؔ اکبر آبادی کی نظم کا لگایا ہوا پودا مولانا الطاف حسین حالیؔ اور مولانا محمد حسین آزاد کی آبیاری سے توانا اور ثمر بار ہوگیا۔ اردو نظم  کی صنف اس وقت زیادہ اہم اور قابلِ قبول ہوگئی جب حالی اور آزاد جیسے خالصتاً منظومات کے شعرا نے عام اور چھوٹے چھوٹے موضوعات پر قلم اٹھایا اور نظمیں لکھنا شروع کر دیں۔ حالیؔ اور آزادؔ کی انھی مساعی کا نتیجہ تھا کہ انیس ویں صدی کے اختتام کے ساتھ ہی نظم لکھنے والوں کی ایک ایسی پود سا منے آئی جس نے اردو نظم کے دامن کو مزید وسعت بخشی۔ اس دور میں حالیؔ اور آزادؔ کے ساتھ ساتھ علامہ اقبالؔ جیسا عظیم نظم نگار بھی سامنے آیا۔ اقبالؔ جو ابتدا میں غزل کہتےتھے جلد ہی غزل کو ترک کر کے نظم نگاری کی طرف آگئے۔ اقبالؔ نے نہ صرف نظمیں لکھیں بل کہ ان نظموں میں ایسی جان ڈال دی کہ آج ان کے اُسلوب کی گرد کو بھی کوئی نہ چھوپایا۔

حالیؔ، آزادؔ اور اقبال ؔسے ہوتی ہوئی نظم کی دنیا میں شبیر حسن خاں جوش ؔملیح آبادی جیسا نام ظاہر ہوا۔ جوشؔ نے بھی غزل کی نسبت نظم کو پسند کیا۔ حفیظؔ جالندھری، محمد داؤد اخترؔ شیرانی اور عظمت اللہ خاں جیسے شعرا نے نظم میں نام پیدا کیا۔ یہ تمام شعرا نظم نگاروں کی اس کھپت سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے اپنی دھرتی اور اپنی مِٹی سے جڑے رہنے کے بعد نظم پر کام کیا فطرت نگاری ان شعرا کے تخیل میں بنیادی اہمیت کی حامل رہی۔ ہمارے ہاں مغرب سے متاثر ہونے والی نظم کا آغاز بعد کو ہوا۔ جس نے کارل مارکس کے نظریات کو بھی اپنے اندر سمولیا۔ ١٩٣۰ء کے بعد جب تمام تر ادبی رویوں  میں تبدیلی آنا شروع ہوئی آزاد نظم نے آنکھ کھولی۔ آزاد نظم نے اردو نظم نگاری میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ اس میدان میں جن لوگوں نے کارہائے نمایاں سر انجام دیے ان میں مجید امجدؔ، نذر محمد راشدؔ، ثناء اللہ ڈار میراؔ جی اور تصدیق حسین خالدؔ جیسے نام لیے جا سکتے ہیں۔ آزاد نظم لکھنا اردو نظم کے حوالے سے ایک جدید اور نیا تجربہ تھا۔ یہ تجربہ کس قدر کام یاب ثابت ہوا اس کا فیصلہ آنے والے وقت نے با آسانی کر دیا۔ اس نظم میں اپنے جذبات و احساسات کا اظہار برملا کیا جا سکتا تھا۔ ہر طرح کے فلسفے اور جدید و قدیم فکر اس نظم کے ذریعے بیان کی جا سکتی تھی۔ آزاد نظم میں قافیہ اور ردیف کی قدغن تو نہ رہی تاہم اوزان و بحور کی پابندی برقرار رہی۔ فکری سطح پر اس نظم  نے حالیؔ اور آزاد ؔکے در سے بھی کچھ نہ کچھ استفادہ ضرورکیا۔

آزاد نظم کے بعد نظم کا ایک اگلا پڑاؤ  ترقی پسند شعرا کا تھا۔ ١٩٣۶ء میں گو کہ ترقی پسند تحریک کا آغاز ہو چکا تھا تاہم ابھی یہ تحریک اس قدر فعال نہ ہوئی تھی کہ اس میں کھل کر اظہار کیا جا سکتا۔ رفتہ رفتہ اس تحریک نے اپنی جڑیں مضبوط کیں اور اردو نظم کو اصلاحِ معاشرہ اور مقصدیت کے لیے بھی کارآمد بنایا گیا۔ اس قبیل سے متعلق شعرا نے کمال ہنر مندی  سےا پنے جذبات کا اظہار بھی کیا اور معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو بھی سامنے لایا۔ ان شعرا نے اردو نظم کو ایک نئی نہج پر گامز ن کیا۔ اس قسم کی نظم لکھنے والوں میں فیض احمد فیضؔ اور علی سردار ؔجعفری کے علاوہ اسرارالحق مجازؔ، عبدالحی ساحرؔ لدھیانوی، اطہر حسین رضوی کیفیؔ اعظمی اور پیرزادہ احمد شاہ اعوان یعنی احمد ندیم ؔقاسمی نمایاں ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سبھی نظم نگاروں نے زبان و بیان اور اندازوتکلم کے کچھ ایسے تجربات کیے جس سے اردو ادب میں کئی نئی راہیں کھل گئیں۔ نئے نئے موضوعات اور جدید اسالیب سامنے آئے۔ ساٹھ کی دہائی میں اصلاح ِزبان کی تحریک شروع ہوئی۔ جیلانی کامران نے “استانزے” لکھ کر ایک نیا آہنگ فراہم کیا۔ انیس ؔناگی اور ادا ؔجعفری جیسے شعرا نے بھی نظم کے میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں افتخار عارفؔ اردو نظم کے ایک ہم شاعر ثابت ہوئے جب کہ احمد شمیمؔ اور آفتاب اقبال شمیمؔ بھی اس فہرست میں اپنا نام لکھوانے والوں کی صف میں شامل رہے۔

اردو نظم نگاروں نے جدیدیت کو فروغ دیا نئے نظریات کو اپنی نظم کا موضوع بنایا اور موضوعاتی نظمیں لکھیں۔ نئے نئے علائم و رموز وضع ہونے لگے جن سے اردو نظم کا قاری پہلے آشنا نہ تھا۔ نئی نظم نے جس وقت اور جس دور میں ارتقا کی منازل طے کیں وہ زمانہ نظم ِجدید میں تبدیلیوں کا زمانہ تھا۔ معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی  سطح پر ایک اور طرح کی فضا پیدا ہو رہی تھی نہ تبدیلی نہ صرف خارجی سطح پر تھی بل کہ باطنی اور داخلی سطح پر موجود تھی۔ پرانی اقدار کی جگہ نئی اور جدید اقدار نے لے لی تھی۔ قبل اس کے اردو شاعری میں داخلی رجحانات صرف غزل کا خاصا سمجھے جاتے تھے جیسا کہ ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:

“جدید دور سے قبل اردو شاعری میں داخلی کیفیات کے اظہار کا منصب زیادہ تر غزل کے سپرد تھا اور نظم ایک بڑی حد تک خارج کی دنیا سے متعلق نظر آئی تھی۔ نتیجتاً غم اور افسردہ دلی کی تمام کیفیات جو انہماک اور دروں بینی کی مرہون منت ہیں زیادہ تر غزل کے اشعار ہی امیں ابھری ہیں۔۔۔۔۔خارج کی دنیا اور اس کے مسائل کو شعر کا موضوع قرار دینے کے اس رجحان کے مقابلے میں باطن کی دنیا سے اخو اکتساب کا رجحان اردو نظم کے جدید دور میں ابھرا ہے۔”

یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اردو نظم میں نئے موضوعات کو جس نئی شعری زبان کی ضرورت تھی اس سے بھی وضع کرنے کی سعی کی گئی۔ انیس ناگی کی کتاب “شعری لسانیات” اس تناظر میں اہم کتاب ثابت ہوئی۔ نظم ِجدید کی یہ تحریک جلد ہی قبول خاص و عام ہوگئی۔ اس تحریکِ نظم کے اثرات تا دیر قائم رہے اور تادمِ تحریر یہ اثرات اردو نظم میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

اردو نظم کی گوناگوں خصوصیات میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ نظم مختصر سے مختصر ترین اور طویل سے طویل ترین ہو کر بھی اپنا آہنگ اور انفرادیت برقرار رکھنے کی اہل ہے۔ نظم نگار کے لیے الفاظ کا چناؤ اس لیے بھی اہم ہو جاتا ہے کہ نظم ایک ہی موضوع پر مشتمل ہوتی ہے اور شروع سے آخرتک اس موضوع کو نبھانا کوئی آسان کام بھی نہیں ہوتا۔ نظم نگار اگر نظم میں ثقیل اورکھردرے الفاظ کا استعمال کرے تو قاری کی طبع پر یہ گراں گزرے گا۔ نظم نگار کو قاری کی گرانیء طبع کے مقابلے اس لیے حظ کا سامان فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ الفاظ ایسے ہوں جو نظم سے مطابقت رکھیں اور دل کشی کا باعث کہلائیں۔ نظم کا موضوع کتنا ہی اعلا اور بہترین کیوں نہ ہو جب اس میں لفطی جان نہ ڈالی جائے گی تو اعلا موضوع بھی پھسپھسا اور کھاری ہو جائے گا۔ سید غفور شاہ قاسم کہ بہ قول:

“نظم ایک کائی، یونٹ، ایک وحدت اور شعری تجربے کا نقطہ ارتکاز ہے۔ نظم کی کرافٹ میں کسی خیال، ایک عنوان، ایک مصرعے یا ایک مشاہدے کو پہلے مرتکز کیا جاتا ہے پھر لفظوں میں سمودیا جاتا ہے۔ نظم تخصیص کا عمل ہے جہاں معنی اور گردابِ معنی کی تلاش ہے۔ نظم دریافت ، باذیافت اور طویل فکری مسافت کی ایسی تخلیقی سرگرمی ہے جس میں مقاسیت سے لے کر آفاقیت تک تمام زاویے سمٹ آتے ہیں۔”

اردو شاعری کی مقبول ترین صنف غزل کے بعد جس صنف نے بے مثال ترقی حاصل کی وہ نظم ہے۔ نظم کی اس ترقی کا اندازہ اس بات سے بھی ہو جاتا ہے کہ جدید عہد کے شعرا نے باضابطہ طور پر غزل کی بہ جائے نظم نگاری کی اور اردو نظم کو فروغ بخشا، ڈاکٹر وحید ؔاحمد، ڈاکٹر روشؔندیم، ڈاکٹر احسانؔ اکبر، ڈاکٹر ارشد ؔمعراج، الیاس بابرؔ اعوان، افضال ؔاحمد، یامینؔ، اختر رضا ؔسلیمی،رانا سعید دوشیؔ،جاوید الحسن جاویدؔ،خوش حال ناظرؔاور کئی دیگر نام ور شعرا نے اردو نظم نگاری میں اپنی شناخت قائم کی۔ یہ نظم کا اعجاز ہے کہ اس نے غزل کی دنیا میں رہ کر بھی ایسے ایسے نظم نگاروں کو جنم دیا جن کی نظم نے چاروں اور کامیابی کے جھنڈے گاڑھے۔اردو نظم کے سفر میں مذکورہ بالا شعرا اس بات کے ضامن ہیں کہاردو نظم کا مستقبل بہت تاب ناک اور جان دار ہے۔ ان شعرا کے ساتھ ساتھ کئی دیگر لکھنے والے بھی اردو نظم کے میدان میں وہ معرکے سر انجام دے رہے ہیں جو ادب کی اس صنف کی ثروت مندی میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے۔