دنیائے علم و ادب کی پیشانی پر چمکنے والے چاند سورج کی جوڑی اپنے چاہنے والوں کو داغ مفارقت دے گئی.

شعبہ تصنیف و تالیف

اردو کی مایہ نازافسانہ نگار اور ادیبہ تبسم فاطمہ صاحبہ اپنے رب کو پیاری ہو گئیں -دو روز قبل ان کے شریک حیات مشرف عالم ذوقی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے – ہماری گزارش پر تبسم فاطمہ صاحبہ نے پریس فارپیس کی لکھاری فوزیہ تاج کی آنیوالی کتاب“ سنگ ریزے“ کا پیش لفظ لکھا تھا – کتاب ابھی اشاعت کے مر احل میں ہے –پریس فار پیس فاؤنڈیشن اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے – ہم محترمہ تبسم فاطمہ اور جناب مشرف عالم کے وصال پر  ہندوستان کی ادبی برادری با لخصوص

ڈاکٹر نسترن فتیجی (ایڈیٹر دیدبان اور مرحومہ کی رفیق کار) کے ساتھ دلی اظہار تعزیت کرتے ہیں -اللہ پاک مرحومین کے درجات بلند کرے –

تبسم فاطمہ حالات زندگی و ادبی خدمات

پیدائش: تین جولائی وطن: آرہ،بہار تعلیم: علم نفسیات   میں ایم.اے،صحافت میں ڈپلوما، انعام وا عزاز:دلی اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی کے انعامات.ہیومن  رائٹس دلی کی طرف سے خصوصی انعام تبسّم فاطمہ کی پیدائش بہار میں ہوئی.تعلیم بہار میں حاصل کی.شادی کے بعد دلی میں سکونت  اختیار کر لی.اب تک اردو اور ہندی میں انکی کئی  کتابیں منظر عام  پر آ چکی ہیں.لیکن جزیرہ نہیں،سیاہ لباس،تاروں کی آخری منزل افسانوی مجموعے ہیں.ذرا دور چلنے کی حسرت رہی ہے، میں پناہ تلاش کرتی ہوں شعری  مجموعے شایع  ہو کر مقبول ہو چکے ہیں،جرم (ہندی افسانوی  مجموعہ.اردو سے ہندی، اور ہندی سے اردو میں اب تک وہ بیس سے زاید  کتابوں کا ترجمہ کر چکی ہیں.الیکٹرانک میڈیا کے لئے انہوں نے پچاس سے زیادہ ڈوکیو منٹری فلمیں بنایی ہیں.پچیس سے زیادہ سیریل بنا چکی ہیں.ادب سے وابستہ ہستیوں پر بھی انہوں نے ٥٢ سے زیادہ مختصر فلمیں بنائی  ہیں..وہ مختلف رسائل میں کالم بھی لکھتی رہتی ہیں.پاکستان کے روزانہ جناح اور دینک بھاسکر میں انکے کالم کو پسند کیا  گیا.پچھلے چار برسوں سے وہ روزنامہ انقلاب میں بھی کالم لکھ رہی ہیں.تبسم کے یہاں ’نہیں‘ ان کے فکری نظام کا کلیدی لفظ ہے۔ شعور کے ایک مرحلے میں ہر نہیں، ہاں سے بڑی ہوتی ہے۔ تبسم فاطمہ کی تخلیقات  شعور کے اسی مرحلے کی تخلیق ہیں۔ انہوں نے اپنے ارد گرد کی بے کس مظلوم استحصال زدہ اور نفسیاتی طور پر کچلی ہوئی عورتوں کو اپنی تحریروں میں کسی نہ کسی طرح باغی بننے کی ترغیب دی ہے۔ ان کی آئیڈیل عورت ٹپیکل سچویشن میں رہتے ہوئے بھی بالآخر زمانے کی ستم رانیوں سے ٹکراتی ہے اور اپنا حساب خود ہی بے باق کرتی ہے۔

پوسٹ دیکھیں

 (بحوالہ دید بان ڈاٹ کام)

مشرف عالم ذوقی

مشرف عالم ذوقی ہندوستان کے فکشن نگاروں میں اپنی منفرد تخلیقات کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ ان کےچودہ ناول اور افسانوں کےآٹھ مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ موجودہ ہندوستان کے سیاسی پس منظر میں لکھے گئے ان کے ناول مرگ انبوہ، اور مردہ خانے میں عورت نے عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کی ،انھوں نے اپنے ہم عصر ادیبوں کے بہترین خاکے بھی لکھے ۔ انھوں نے دیگر اصناف میں بھی متعدد کتابیں لکھیں، ان کی مطبوعات کی کل تعداد ۵۰ سے بھی زیادہ ہے۔ مشرف عالم ذوقی ۲۴ نومبر ۱۹۶۳ کو بہار کے ضلع آرہ میں پیدا ہوئے اور مگدھ یونیورسٹی، گیا سے انھوں نے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۹۲ میں ان کا پہلا ناول ‘نیلام گھر’ شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ان کے ناولوں میں ‘شہر چپ ہے’، ‘مسلمان’، ‘بیان’، ‘لے سانس بھی آہستہ’، ‘آتشِ رفتہ کا سراغ’ پروفیسر ایس کی عجیب داستان ، ‘نالۂ شب گیر’ اور ‘مرگ انبوہ’ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ذوقی کا فکشن متنوع موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ برصغیر کے اقلیتی طبقوں کے مسائل اور سماجی و انسانی سروکاروں کی انھوں نے اپنی تحریروں میں بھرپور ترجمانی کی ۔ وہ موجودہ عہد کی گھٹن، صارفیت اور سیاسی ظلم و زیادتی کے خلاف مسلسل احتجاج کرتے رہے ۔ ان کا فکشن اردو تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندی اور دوسری زبانوں کے رسائل و جرائد میں بھی ان کی تخلیقات شائع ہوتی رہی ہیں۔ وہ اس عہد کے ان فن کاروں میں سے تھے جن کا تخلیقی کینوس وسیع و ہمہ رنگ تھا۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کئی ادبی اداروں نے انھیں مختلف اعزازات سے بھی نوازا ۔ آخری ایوارڈ انھیں ادارہ کسوٹی جدید کی طرف سے اِس سال کے شروع میں دیا گیا تھا۔