//مظہراقبال مظہر


خواب ،آنکھیں، رتجگے

سب استعارے تم سے ہیں

جگنو، روشنی ، چمک ، چاند

سب ستارے تم سے ہیں

ہمدم ، ہمنفس و ہم نوا

سبھی سبیلیں صورت آرائی کی

یوں تو لفظ مگر یہ

نام سارے تم سے ہیں

ٹھہرگئے تو بار گراں

بہے تو سیل رواں

بہت ناز ہے جن پر

سبھی سہارے تم سے ہیں

خستہ حالی وشکستہ پائی

یہ تو ہمارا عذر ٹھہری

رہ عشق کے یہ

خار سارے تم سے ہیں

شام پڑتے ہی جنہیں

طاقوں پر سجا لیتے ہیں

ہیں دئیے امید کے

مگر سارے تم سے ہیں

(مظہر اقبال مظہر)