کہانی کار اور تصویر  روبینہ ناز
زیر نظر تصویر میں جو ہرا بھرا دراز قد گھنے پتوں والا درخت نظر آرہا ہے یہ کہیں سالوں سے ایسے ہی تروتازہ ہرا بھرا ہے اس کی چھاؤں کے نیچے ٹھنڈی سرد ہواچلتی ہے یہ درخت کسی جنگل کا نہیں بلکہ آبائی زمین اورگھر کے پاس ہے۔۔ہمارے بزرگ درخت لگانے  اور انکی حفاظت میں بہت توجہ دیتے تھے جس کی وجہ سے ہمارے چاروں طرف ہر قسم کے گھنے سایہ دار درخت موجود ہیں- گرمیوں کے دنوں میں ٹھنڈک رہتی ہے اور ہلکی سی ہوا چلنے سے جب سب درخت جھومتے ہیں تو دیکھنے والا نظارہ ہوتا ہے آجکل جس طرح بے دردی سے جنگلوں کی کٹائی ہورہی ہیاس سے بہت سے نقصانات رونما ہونے لگیہیں – زمین کمزور ہوگئی جسکی وجہ سے زمینی کٹاؤ میں شدت آگئی/  جنگلی جانوروں کے رہنے کی جگہ کم ہوگئ اور اب جنگلی جانور آبادی کا رخ کررہے ہیں- پہلے کبھی یہ سناکرتے تھے کہ جنگل میں شیرچیتے اور بندر  رہتے ہیں مگر اب یہ شیر،چیتے، بندر اور دیگر جنگلی جانور گھروں کے آس پاس گھومتے دکھائی  دیتے ہیں -جب جنگل کی کٹائ پہ عوام اور بالخصوص حکومت پابندی نہیں لگاتی تو خدا نخواستہ جنگل ختم ہونے کے ساتھ ساتھ نایاب جانوروں کی نسلیں بھی ختم ہورہی ہیں اور جب یہی جانور آبادی کا رخ کرتے ہیں تو لوگ اپنی جان و مال کی حفاظت کی خاطر انہیں گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں جسکی وجہ سے کچھ قیمتی اور نایاب جانوروں کی نسلیں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔۔۔قدرت کی طرف سے ہمیں جو تحفہ ملا ہے اسکی قدر کرنی چاہیے ورنہ ایسے جانور شاہد دوسرے ممالک سے بھی نہ ملیں۔۔۔
جنگل صرف انسانی ضروریات کے لیے نہیں بلکہ یہ زمین کے لیے اور جانوروں کے لیے بھی اہم ہیں -جس بے دردی سے قیمتی درخت کاٹے جارہے ہیں اور جنگل میں پہلے جیسی رونقیں نہیں رہی خدشہ ہے کہ آنے والی نسلوں کو گرد آلود ماحول دیں گے اللہ پاک نے کشمیر کو جتنا حسن عطا کیا ہے اسکی قدر کرنا ہمارا فرض ہے۔۔۔درختوں کی کٹائی کم کرنا ہوگی اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہوں گے تاکہ اس سے زمین کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ صاف فضا بھی ہو اور قمیتی نایاب جانوروں کی نسلیں بھی تباہ ہونیسے بچ سکیں۔۔۔اس سلسلے میں محکمہ جنگلات اپنی ذمہ داری پوری کرے – اور و ا ہلڈ لائف جانوروں کی حفاظت کرے۔۔۔اور جنگل میی زیادہ سے زیادہ درخت لگاہیں لوگ بھی اگر اپنی بنجر زمینوں میں پھلدار اور دیگر درخت لگاہیں تاکہ زمین کی مضبوطی برقرار رہے اور بارشوں میں زمینی کٹاؤ سے بچا سکے
ہم اکثر اس وقت پچھتاوے کا شکار ہوتے ہیں جب سب ختم ہوجاتا ہے
ہمیں درختوں کے ساتھ جنگلی جانوروں اور آبی حیات کی بھی حفاظت کرنی ہے۔۔
بنکوں میں جمع کیا ہوا پیسہ اصل دولت نہیں – سب سے اچھا اور بہترین تحفہ یہ ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو صاف سھترا ماحول دیں۔۔کیونکہ درخت ہمیں اکسجین فراہم کرتے ہیں جس سے ہم سانس لیتے ہیں اگر درخت نہیں ہونگے اور پیٹرول ڈیزل جیسا زہر ہم اپنی سانس میں لیں گے تو بہت جلد موت کی وادی میں چلے جاہیں گے۔۔۔
درختوں کو ایک موباہل ایک واہی فاہی اور ایک نیٹ پیکچ سمجھ کے  لگائیں کہ یہ ہمیں اچھے سگنل دیں گے اورہمارے ماحول کے لیے اچھے پیکچ دیں گے اچھا وائی  فائی دیں گے اگر آج درختوں سے واہی فاہی سے سگنل آتے تو ہر گھر ہر دروازے کھڑکی کے سامنے ایک درخت ضرور ہوتا۔۔
درخت ہمیں زندگی دیتے ہیں جس کا ہمیں شعور نہیں۔۔ اپنی اور آنے والی نسلوں کو اچھا تحفہ صاف سھترا ماحول دیں آلودگی سے بچنے کے لیے واحد حل درخت لگانا ہے۔۔۔دھرتی ماں کو صاف شفاف بنائیں اور کشمیر کے حسن کو چار چاند لگائیں۔ اسی میں ہماری بقا ہے


Leave your comment !