کہانی اور تصویر :انجینئر صدیق شاذؔ

دیہاتوں میں ٹوکرے بنانے والے کو استاد کہا جاتا ہے بلکہ جو شخص جس فن کا مظاہرہ کرتا ہے وہ استاد کہلاتا ہے ۔۔۔۔۔انسان کے اندر ذوق ہو تو وہ ہر فن سیکھ سکتا ہے اور استاد بن سکتا ہے ۔۔۔۔اس فن میں میرا استاد میری والدہ ہیں جنہوں نے مجھے پڑھائی کے ساتھ ساتھ ٹوکریاں بنانے کا فن بھی سکھا دیا ۔۔۔۔۔ٹوکری کا فن ہمارے ہاں تقریباً 1107ٕ ٕ میں  ہمارے آباؤ اجداد مراد ڈار نے متعارف کروایا ۔۔۔۔اس سے قبل بھی ٹوکری بنائی جاتی تھی لیکن کوئی خاص محارت نہ تھی انہوں نے اپنی خاص مہارت سے یہ فن ہمارے ہاں بزرگ خواتین کو سکھایا اور کامیاب رہے اُس کے بعد ہمارے ہاں یہ فن نسل درنسل چلتا رہا اور ہم تک پہنچ پایا ۔۔۔۔لیکن ہم اور ہماری نسلیں اس فن کو معیوب سمجھتی ہیں چونکہ ہم بازار سے پلاسٹک کی چیزوں کو ےترجیع دیتے ہیں لیکن اتنی زحمت نہیں کرتے کہ اپنی ہاتھوں سے ایسی چیزیں تیار کریں جو ہمارے لیئے نفع بخش اور مفید ہوں ۔۔۔۔۔ٹوکری جسے ہم اپنی مادری زبان میں (پُھت ) کہتے ہیں یہ درختوں کی ٹہنیوں سے تیار کیئے جاتے ہیں خزاں کے موسم میں درختوں سے باریک ٹہنیں کاٹی جاتی ہیں ان کی قلم بنانے کے بعد انہیں خشک کیا جاتا ہے برف پڑتے ہی انہیں نکال کر پانی کے نالے یا برف میں چند ہفتوں کیلئے دفن کیا جاتا ہے تاکہ یہ شاخیں بہتر انداز میں نرم ہوں ۔۔۔۔برف کے دنوں میں چونکہ ہمارے ہاں کوئی خاص کام نہیں ہوتا لہذا بزرگ خواتین اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہوئی ٹوکریاں اور دیگر کارآمد چیزیں تیار کرتی تھیں ۔۔۔۔آج سے تقریباً 20 برس قبل جہاں ہمارے ہاں موبائل فون اور بجلی کی سہولت میسر نہ تھی اس لیئے خواتین آپس میں محفلیں سجاتی ہوئی روزمرہ کے کام آنے والی اشیا تیار کرتی ۔۔۔۔اس دوران چھوٹے بچوں کا ہجوم جمع ہو جاتا جن کو مائیں پرانے زمانے کے قصے سناتیں ۔۔۔بچوں کے جمع ہونے کا ایک اور بھی بڑا اہم مقصد ہوا کرتا تھا جو یہ تھا کہ ہر بچہ ٹوکری کی تاک میں رہتا تھا جونہی ٹوکری تیار ہوتی تو وہ جھٹ اُس پہ کود پڑتے یوں بچوں کے درمیان اچھا خاصا تصادم ہو جاتا جس پر مائیں انہی ٹوکریوں کے لیئے لائی گئی شاخوں سے جم کے برسات کرتیں سکون ہونے کے بعد پیار کیا جاتا اور ٹوکری سب سے چھوٹے بچے کو دی جاتی یوں مائیں ٹوکریاں بنا کر سب سے پہلے بچوں میں تقسیم کرتیں آپ حیران ہوں گے کہ آخر بچوں کا ان ٹوکریوں سے کیا واسطہ ۔۔۔۔۔سردیوں میں ہمارے ہاں جہاں بزرگ لوگ جنگل میں جانوروں کا شکار کرتے ہیں تو وہیں بچے بھی گھر ہی میں شکار کرتے ہیں وہ ان ٹوکریوں کی مدد سے گھر کی چھت پہ جا کر ٹوکری کا ایک جال بناتے ہیں جس جال کے ذریعے وہ حلال پرندوں کو پکڑ کر جشن کرتے ہیں اور یوں فارمی مرغ کھانے کے بجاۓ وہ حلال پرندوں کو کھا کر اپنے گال سرخ کر دیتے تھے ۔۔۔۔اس کے علاوہ یہ ٹوکریاں روٹیاں رکھنے کے کام آتی ہیں بڑے ٹوکرے گوبر اور چھلیاں اٹھانے کے کام آتے ہیں یہ مختلف سائز میں تیار کی جاتی ہیں سب سے بڑا سائز اتنا بڑا ہوتا ہے کہ ایک اڑھائی من کا آدمی باآسانی اس میں چھپ سکتا ہے ان ٹوکریوں کی عمر 4 سال تک ہوتی ہے اُس کے بعد شاخیں بوسیدہ ہونے کے بعد ناکارہ ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔۔اتنی بڑی تحریر  لکھنے کا  ایک ہی مقصد ہے کہ وہ خواتین جو موٹاپا کا شکار ہو چکی ہیں ان کیلئے بہترین راۓ ہے وہ پاکستانی ڈرامے اور بھارتی فلمیں دیکھانے کے بجاۓ یہ فن سیکھیں اور اپنے مردوں کے شانہ بشانہ چلیں ۔۔۔۔بازار سے ٹوکریاں خریدنے کے بجاۓ خود کو تھوڑی زحمت دیں نفع بھی ملے گا اور موٹاپا سے چھٹکارا بھی ۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری ثقافت زندہ رہے گی ۔۔۔۔۔

Leave your comment !