تحریر : محمد ارشاد خان عباسی

اپریل 1912 میں دنیا میں اس وقت کا سب سے بڑا، سب سے زیادہ آرام دہ، سب سے زیادہ محفوظ سمجھا جانے والا اور unsinkable کہلانے والا برطانیہ کا بحری جہاز ٹائی یٹینک امریکہ جاتے ہوۓکینیڈا کے ساحلوں کے نزدیک آئس برگ سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا، اس میں موجود عملے کے ارکان سمیت ٢٢٠٠ افراد میں سے پندرہ سو لوگ ڈوب کر ہلاک ہو گٸے اور اتنا بڑا جہاز صرف دو سے اڑھائی گھنٹے میں سطح سمندر سے غائب ہو چکا تھا۔

پہلا سوال یہ تھا کہ Unsinkable جہاز صرف دو گھنٹے میں سمندر کے فرش پر کیسے پہنچ گیا ؟ دوسرا سوال یہ کہ چالیس میل دور کھڑے دوسرے جہاز کو ڈیزاسٹر کے سگنل کیوں موصول نہ ہوٸے ؟ تیسرا سوال یہ کہ لوگوں کو لائف بوٹس کے زریعے کیوں نہ بچایا جا سکا ؟ دوسرے کا جواب یہ ملا کہ ریڈیو آپریٹر جہاز میں موجود ہی نہیں تھا جو ایس او ایس سگنل پاس کرتا، تیسرے سوال کا یہ پتا چلا کہ جہاز میں لائف بوٹس کی تعداد اتنی کم تھی کہ بمشکل بچوں اور خواتین کو نکالا گیا جن کے دوسرے جہاز پر پہنچنے اور واپس آنے کے تقریباََ اڑھائی  گھنٹے کے وقت میں جہاز اپنے مسافروں سمیت ڈوب چکا تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ جہاز اتنی جلدی کیسے ڈوب گیا، اس کا جواب ڈھونڈنے کیلۓ جہاز کے ملبے کی تلاش کیے لئے کئی ناکام مہمات روانہ ہوئیں لیکن ملبہ کہیں نہ مل سکا لیکن بقول اقبال

”صورت شمشیر ہے دست قضإ میں وہ قوم، 

کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب“

آخر ستمبر 1985 کو 73 سال 5 ماہ بعد جب ان مرحومین کے سوگواران میں سے بھی شاید ہی کوئی زندہ بچا ہو، ایک اور مہم ٹاٸیٹینک کے ملبہ کو تلاش کرنے کیلٸے روانہ کی گئی جس نے بالآخر 13000 فٹ گہرے پانیوں سے جہاز کا ملبہ تلاش کر لیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ برف کے سمندری تودے سے ٹکرانے کی وجہ سے جہاز کے ایک حصے سے بولٹ اور ان پر لگی کیپس اکھڑ گٸلئیں جس کی وجہ سے اس حصے کی بڑی بڑی پلیٹیں اکھڑ کر دور جا گریں اور یوں سمندر کا پانی دریا کی صورت جہاز میں داخل ہوا اور دو گھنٹے میں آٹھ سو فٹ سے زیادہ لمبا جہاز اپنے سر کے بل سمندر کی تہہ میں پہنچ گیا۔

مذید تحقیق پر معلوم ہوا کہ جو پلیٹیں اکھڑ کر دور جا لگیں ان پر لگے بلٹس اور کیپس ناقص معیار کی تھیں جبکہ جہاز کے باقی حصوں میں یہی کیپس بہت معیاری تھیں۔ اب اس جہاز ران کمپنی کا 75 سال پرانہ ریکارڈ کھنگالا گیا تو معلوم ہوا کہ بلٹس اور رپٹس کی شارٹیج کا سامنا ہوا تو کمپنی نے رپٹس اور بولٹ بنانے والی ایک کمپنی سے رابطہ کیا جونئی نئی  قائم تھی اور اس کا مٹیریل بغیر معیار جانچے جہاز میں جڑ دیا گیا اور یوں جب جہاز ٹکرایا تو یہ ناقص مٹیریل  زور دار جھٹکا لگنے سے اکھڑ گیا اور بہت جلد سارا جہاز پانی سے بھر  کر ڈوب گیا۔ 

اگر 1985 میں ٹائی یٹینک کا ملبہ نہ بھی ملتا تو بھی اس زندہ قوم نے اس حادثے پر مٹی نہیں ڈالنی تھی کہ جس کے سوگواران بھی یقیناََ اب دنیا میں نہیں رھے تھے، اب تک تلاش جاری رھنا تھی لیکن دیکھیں یہ اس ملک خداداد پاکستان میں کتنے بڑے حادثات ہوٸے، قائداعظم کی ایمبولنس کے پٹرول کے ختم ہونے سے لیکر فاطمہ جناح، لیاقت علی خان، ضیإ الحق سے میر مرتضی بھٹو، بینظیر بھٹو تک، اوجڑی کیمپ سانحہ سے بلدیہ ٹاٶن اور سانحہ ١٢ مئی، سب پر مٹی ڈال دی گئ، سقوط مشرقی پاکستان سے لیکر ایبٹ آباد آپریشن، سب پر مٹی ڈال دی گئی اور ایوان اقتدار کی قالینوں کے نیچے اب اتنی لاشیں جمع ہو چکی ہیں کہ ان کے تعفن کی وجہ سے اب ان ایوانوں میں درندے ہی داخل ہو سکتے ہیں کوئی  سلیم الفطرت سلیم الطبع شخص ان ایوانوں کے قریب سے بھی نہیں گزر سکتا۔ 

ان جراٸم پر ڈالی گئی مٹی اب لاوے کی صورت اختیار کر چکی ہے اور پورے ملک میں اس لاوے کا دھواں نکل رہا ہے جس کا کسی بھی وقت پھٹنے کا اندیشہ ہے۔ 

اب بھی وقت ہے کہ قالینوں کے نیچے سے لاشیں نکالی جائیں اور قاتلوں کی نشاندھی کی جائے، ہر جرم ہر نااہلی کے اوپر سے مٹی کی دبیز تہیں ہٹائی جائیں تاکہ بننے والے لاوے کے پھٹنے کی تباہی سے بچا جا سکے۔ کوئی فرد اس ملک سے زیادہ اہم نہیں ہے


لکھاری کا تعارف 

محمد ارشاد خان عباسی  ضلع باغ  تحصیل دھیرکوٹ  کے رہائشی  ہیں ۔پیشے کے  لحاظ سے آزاد کشمیر میں شعبہ صحت میں  سینئر ہیلتھ ٹیکنیشن  کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ ابتدائی تعلیم  دھیرکوٹ سے حاصل کی اور پولیٹیکل سائنسز میں ایم اے  کی ڈگری جامعہ مظفر آباد سے حاصل کی ۔  سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ نثر نگار بھی ہیں اور معاشرے کی اصلاح کے لئے کوشاں رہتے ہیں