سردار محمد حلیم خان

‎کچھ دنوں سے خبریں آرہی ہیں کہ آزاد کشمیر کے  ایسوسی ایٹ انجنئیر نگ  کا تین سالہ ڈپلومہ دینے والے واحد ادارے خان محمد خان کالج راولاکوٹ کے طلباء سراپااحتجاج ہیں۔ حیرت ہے کہ اتنے اہم معاملے پہ طلبا تنہا ہیں اور سیاسی جماعتوں سول سوسائٹی کی اس طرف کوئی توجہ نہیں یا اس طرح کے کام ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہیں۔وزیراعظم پاکستان بار بار اس پہ فخر کا اظہار کرتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستانی ملکی آمدن کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔آزاد کشمیر کی مخصوص صورت حال پہ نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ستر فیصد سے زائد افراد کی امدن کا ذریعہ بیرو ملک ملازمت ہے  ایسے حالات میں ضرورت تو اس بات کی ہے کہ آزاد کشمیر کے ہر  سب ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پر خان صاحب کالج راولاکوٹ کے معیار کا ایک کالج موجود ہو۔تاکہ طلبا ڈورسٹپ پر فنی تعلیم حاصل کر کے بیرون ملک روزگار حاصل کر سکیں۔ایسے ادارے، کونسلنگ اور سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے آزاد کشمیر کے ہیرے موتی جس طرح خلیج کے ریگستانوں میں رلتے ہیں یہ مناظر خون کے آنسو رلانے والے ہوتے ہیں۔سیاسی دباو پر جس کا مقصد محض سیاسی کھڑپینچوں کو نوازنے اوران کے عزیزوں کو نوکریوں میں کھپانے کے  سوا کچھ نہیں ہوتاا داروں پہ ادارے کھلتے چلے جاتے ہیں لیکن یہ سادہ تعلیم عملی زندگی میں نوجوانوں کے  کسی کام نہیں اتی اور ان کو پھر سے صفر سے اغاز کرنا پڑتا ہے۔جب یہ بات طے ہے کہ ہمارے بچوں کی اکثریت نے بیرون ملک ہی جانا ہے تو پھر ہمارے نصاب تعلیم کو اس ضرورت سے ہم اہنگ ہونا چاہئے۔ابھی  سی پیک کے بہت چرچے ہیں اور کبھی کبھی یہ شکوہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ ہائیڈرو پراجیکٹس اور دیگر شعبوں میں مقامی لوگوں کو نہیں کھپایا جاتا۔لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ سی پیک ہو یا ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ ان میں ٹیکنیکل ٹرینڈ افراد کی ضرورت ہے۔ہمارے ایف اے بی اے ایم  اے پڑھے ہوے بچے کیا کام کریں گے؟

جیسا کہ اوپر ذکر کیا آزاد حکومت سب کو ملازمتیں دے سکتی ہے نہ سب کاروبار کر سکتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر تحصیل ہیڈکوارٹر پہ ایک معیاری  ٹکنیکل کالج ہو تاکہ ببیرون ملک جانے والے بچے ہزار بارہ سو ریال یا درہم میں اپنی ساری زندگی برباد نہ کریں۔ بلکہ وہ ایسے علم اور ایسی مہارت رکھتے ہوں کہ اچھے سے اچھے پیکیج پہ کمپنیوں کی ضرورت بن جائیں۔اس کی مثالیں موجود ہیں کہ کس طرح فلپائن جیسا چھوٹا سا ملک اپنی صرف تربیت یافتہ  فنی افرادی قوت کے ذریعے اربوں ڈالر ماہانہ کماتا ہے۔اپ کو کوئی فلپائینی یا کورین خام مال یعنی صرف ہیلپر نہیں ملے گا۔سیفٹی کے شعبے میں تو صرف فلپائنی ہی  چھائے ہوۓ ہیں۔آخر کیوں ہماری یونیورسٹیوں میں بین الاقوامی معیار کا کوئی ڈگری پروگرام شروع نہیں کیا جاتا؟برسبیل تذکرہ میٹرک کے حال ہی میں نتائج جاری ہوے ہیں۔میٹرک پاس کرنے والے بچوں اور ان کے والدین کو میرا مشورہ یہ ہے کہ جو اپنے شعبے میں پی ایچ ڈی نہیں  کر سکتا اسے صرف ایسوسی ایٹ انجنئرنگ والا تین سالہ ڈپلو مہ کرنا چاہیے۔اس کی بنیاد پہ وہ بیرون ملک کسی سادہ ایم اے پاس سے زیادہ کامیاب  ہو گا۔

‎یہ تو خیر ضمنا بات آگئی اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ جس شعبے سے فارغ ہونے والے طلبا یقینی طور پر والدین اور ملک کے لئے زرمبادلہ کا سبب بن سکتے ہیں وہ  چھت کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔حالانکہ خان صاحب کالج راولاکوٹ کی اپنی بہترین بلڈنگ اور سینکڑوں کنال اراضی موجود تھی اس کالج کو میڈیکل کالج کے حوالے کیا گیا تاکہ فوری طور پہ کلاسز شروع کی جا سکیں لیکن اس کے بعد میڈیکل کالج ادارے پہ مکمل قابض ہو گیا اور غریبوں کے بچے سڑکوں پہ دھکے کھانے پہ مجبور ہو گے۔یہ دھکے یہ بچے نہیں کھا رہے بلکہ ریاست کے مستقبل کو یہ دھکے پڑ رہے ہیں۔مشاہدہ ہے کہ درست رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے صرف غریب والدین کے بچے ہی ٹکنیکل ادارے کی طرف رجوع کرتے ہیں جبکہ میڈیکل کالج میں بااثر والدین کی اولادیِں زیر تعلیم یںں اس لئے کسی کی توجہ اس قیمتی اثاثے کی طرف نہیں ہے۔یہ کالج بلڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے اٹھا لیا گیا تو کیا غریبوں کے بچے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جا کر فنی تعلیم حاصل کر سکیں گے؟ پونچھ میڈیکل کالج کی تحریک جس میں شمولیت کا مجھے بھی اعزاز حاصل ہے کے دوران آفیسر کالونی کے قریب شیخ محمود صاحب کی زمین میڈیکل کالج کے لیے دیے جانے کا چرچا تھا یہی زمین پولی ٹکینکل کالج کے حوالے کیوں نہیں کی جاتی؟

‎آزاد کشمیر کی ہزاروں کنال خالصہ اور بیت المال زمین حکمران اہنے حواریوں میں بانٹ چکے ہیں اور اب صورت حال یہ ہے کہہ اتنے اہم تعلیمی ادارے کے لئے سر چھپانے کو ئی جگہ دستیاب نہیں۔اس وقت کی پونچھ میڈیکل کالج کی تحریک کے زمہ داران اور اس وقت کے صدر حاجی یعقوب صاحب اور موجودہ ایم ایل اے سردار حسن ابراہیم کی یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ طلبا کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ‎اب تو وزیراعظم آزاد کشمیر بھی اسی ضلع سے تعلق رکھتے ہیں ان کے لئے یہ ایک چیلنج ہے کہ پونچھ ڈویژن کے اس قیمتی اثاثے کو ضائع ہونے سے بچائیں

Leave your comment !