August 8, 2022

تھے وہ بھی دن کہ خدمت استاد کے عوض ۔۔۔ جمیل احمد

جمیل احمد
کہتے ہیں ایک بار فاتحِ عالم، سکندر اپنے استاد ارسطو کے ساتھ گھنے جنگل سے گزر رہے تھے کہ راستے میں ایک بڑا برساتی نالہ آیا جو موسلا دھار بارش کی وجہ سے بپھرا ہوا تھا۔ یہاں استاد اور شاگرد کے درمیان تکرار شروع ہوگئی کہ پہلےکون  نالہ پار کرے گا؟ سکندر بضد تھے کہ وہ پہلے نالہ پار کریں  گے۔ کافی بحث کے بعد بالآخر ارسطو نے ہار مان لی اور پہلے سکندر ہی نے نالہ پار کیا۔ جب استاد اورشاگرد  نے نالہ پار کرلیا تو ارسطو ذرا  سخت لہجے میں سکندر سے مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ، “کیا تم نے مجھ سے پہلے راستہ عبور کرکے میری بے عزتی نہیں کی؟” سکندر نے انتہائی ادب سے جھک کر جواب دیا، “ہرگز نہیں استادِ محترم، دراصل نالہ بپھرا ہوا تھا اور میں یہ اطمینان کرنا چاہتا تھا کہ کہیں آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے، کیونکہ ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندرِ اعظم وجود میں آئیں گے لیکن سکندر ایک بھی ارسطو کو وجود میں نہیں لا سکتا۔” تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہو گا کہ ہر دور میں استاد کو والدین کے بعد سب سے زیادہ عزت  حاصل رہی ہے، بادشاہ ہوں یا سلطنتوں کے شہنشاہ، خلیفے ہوں یا ولی اللہ سبھی اپنے استاد کے آگے ادب و احترام کے تمام تقاضے پورے کرتے نظر آئیں گے۔ وقت کے بہت بڑے خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹے مامون الرشید اور امین الرشید تھے، دونوں ایک بار استاد امام نسائی کی مجلس سے اٹھے تو دونوں استاد کو جوتے پکڑانے کیلئے لپکے ۔دونوں میں اس بات پر تکرار بھی ہو گئی ۔استاد کی عزت کرنے والے لائق بچوں نے فیصلہ کیا کہ دونوں ایک ایک جوتا اپنے استاد کو پکڑائیں گے۔ جب خلیفہ وقت کو معلوم ہوا تو اس نے امام نسائی کو بلایا اور نہایت عزت و احترام سے پوچھا کہ آپ بتائیے اس مملکت میں زیادہ عزت والا کون ہے۔ امام نسائی نے فرمایا کہ بے شک زیادہ عزت کے حقدار خلیفہ وقت ہیں۔ جواب میں ہارون الرشید نے کہا سب سے زیادہ عزت والا تو وہ ہے جس کے جوتے اٹھانے کیلئے خلیفہ کے بیٹوں میں جھگڑا ہونے لگے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے کہا، امام صاحب بے شک آپ ہی زیادہ عزت کے حق دار ہیں، اور اگر آپ نے میرے بیٹوں کو اس کام سے روکا تو میں آپ سے ناراض ہو جاوں گا۔ استاد کی عزت کرنے سے میرے بچوں کی عزت کم نہیں ہوتی بلکہ اور بڑھ جاتی ہے۔

وقت گزرا، زمانے نے چال بدلی ،روائتیں بدلیں، نہیں بدلا تو استاد اور شاگرد کا انوکھا اور خوبصورت رشتہ۔ نہ صدیوں کی مسافت نے اِس احترام کو گہنایا جو استاد کا خاصہ تھا، اور نہ ہی وقت کی دھول شاگرد کی اپنے استاد کے ساتھ بے پناہ اور بے لوث محبت پر ذرہ برابر اثر انداز ہوسکی۔ ویسے تو مولانا رومی اور اُن کے روحانی استاد، شمس تبریز کی پہلی ملاقات کے بارے میں کئی طرح کے قصے مشہور ہیں، مگر اِن کی سچائی یا حقیقت میں سر کھپانے کی بجائے ہم مولانا رومی ہی کے الفاظ میں جانتے ہیں کہ اُس ایک ملاقات نے کس طرح اُن کی زندگی میں انقلاب برپا کیا۔مولانا رومی کہتے ہیں: “مجھے آج بھی چینی کے گوداموں کے قریب کی وہ جگہ اچھی طرح یاد ہے جہاں میری اپنے روحانی استاد شمس تبریز سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اب جب کبھی اُن دنوں میں شمس سے دائمی جدائی کا غم شدت اختیار کر جاتا ہے تو میں چلّے میں بیٹھ کر شمس کے سکھائے محبت کے اُنہی چالیس اصولوں پر غور شروع کردیتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میرا شمس اِس دنیا سے رخصت ہوا تو کہیں دنیا کے کسی اور کونے میں کسی دوسرے نام سے ایک نئے تبریز نے جنم لیا ہوگا، کیونکہ شخصیت تبدیل ہوتی رہتی ہے لیکن روح وہی رہتی ہے۔”

 کچھ صدیاں پیچھے جا کر مغلیہ دور میں قدم رکھتے ہیں۔ مغل حکمرانوں کی عیش کوشی اور بداعمالیوں کے قصوں سے تاریخ بھری پڑی ہے لیکن استاد کا احترام وہ بھی خود پر واجب سمجھتے تھے۔ مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کو ملا احمد جیون سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ شہنشاہ بننے کے بعد ایک روز استاد کی یاد ستائی تو انہوں نے ملاقات کا پیغام بھیجا۔ دونوں نے عید کی نماز ایک ساتھ ادا کی۔ وقتِ رخصت اورنگزیب نے محترم استاد کو ایک چوّنی (چار آنے) بصد احترام پیش کیے۔ وقت کا دھارا بہتا گیا، اورنگزیب سلطنت کے  مسائل میں ایسا الجھے کہ ملا جیون سے ملاقات کا کوئی موقع ہی نہ ملا۔ لگ بھگ دس سال بعد اُن سے اچانک ملاقات ہوئی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ملا جیون اب علاقے کے خوشحال  زمیندار تھے۔ استاد نے شاگرد کی حیرت بھانپتے ہوئے بتایا، “بادشاہ سلامت میرے حالات میں یہ تبدیلی آپ کی دی ہوئی اس ایک چوّنی کی بدولت ممکن ہوئی۔” اِس بات پر اورنگزیب مسکرائے اور کہا کہ، “استادِ محترم آپ جانتے ہیں میں نے شاہی خزانے سے آج تک ایک پائی نہیں لی مگر اُس روز آپ کو دینے کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہ تھا، وہ چونی میں نے شاہی خزانے سے اُٹھائی تھی اور اُس رات میں نے ہی بھیس بدل کر آپ کے گھر کی مرمت کی تھی تاکہ خزانے سے لی ہوئی چونی  واپس لوٹا سکوں۔”

 استاد و شاگرد کے درمیان خلوص و محبت، جذبۂ ایثار اور انتہائی ادب و احترام صرف مشرقی یا اسلامی معاشرے کا خاصہ نہیں رہا بلکہ تاریخ میں کئی ایسی بھی مثالیں موجود ہیں جہاں مغربی  معاشرے میں بھی استاد نے والدین سے بڑھ کر قربانیاں دے کر شاگرد کی زندگی سنوارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اِنہی میں اسے ایک لا زوال داستان “ہیلن کیلر” اور اُن کی جذبۂ ایثار سے سرشار استانی “مس این سلیوان” کی بھی ہے۔ یہ ٹیلی فون کے مؤجد الیگزینڈر گراہم بیل تھے جنہوں نے اُن کی ملاقات ہیلن نامی اِس انوکھی بچی سے کروائی جو شدید دباؤ کا شکار تھی اور دیکھنے، سننے اور بولنے کی تینوں حسوں سے محروم  تھی۔ این سلیوان نے ایک مشکل فیصلہ کرتے ہوئے ہیلن کو پڑھانے کی ٹھانی۔ وہ اُس کے ہاتھ پر پانی گرا کر بتاتی کے پانی کیسا ہوتا ہے، اُس کے احساسات جگاتی، یوں بتدریج کھٹن مراحل کے بعد ہیلن اپنے ارد گرد کی دنیا سے آشنا ہوئی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ایک نامور مصنفہ بنیں، جس کا تمام تر سہرا این سلیوان کے سر ہے۔ زندگی کے آخری دنوں میں جب این سلیوان ہسپتال میں تھیں تو کامیابیوں کے عروج پر چڑھتی ہیلن ہر روز اُن سے ملنے آتیں مگر وہ کسی بھی طرح اُن قربانیوں کا خراج ادا کرنے سے قاصر تھیں جو اُس عظیم استانی نے اُن کی زندگی سنوارنے کے لیے دی تھیں۔

اشفاق احمد اپنی کتاب زاویہ میں روم میں قیام کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار وہاں اُن کا ٹریفک چالان ہوا اور اُنہیں بارہ آنے جرمانہ ادا کرنے کی سزا دی گئی۔ بوجوہ وہ جرمانہ ادا کرنے سے قاصر رہے تو اُنہیں عدالت میں حاضر ہونا پڑا۔ جج اُن سے سوال کرتے رہے مگر اُنہیں جواب دینے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ بس وہ یہی بول پائے کہ “جی میں یہاں پردیسی ہوں، اشفاق احمد کہتے ہیں “جج نے مجھ سے پوچھا آپ کرتے کیا ہیں؟” میں نے بڑی شرمندگی سے سر جھکا کر جواب دیا کہ “جی میں ٹیچر ہوں۔” یہ سننا تھا کہ جج اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور سب کو حکم دیا کہ “اے ٹیچر ان دی کورٹ۔” سب احترام میں اپنی کرسیوں سے کھڑے ہوگئے۔ پھر جج نے انہیں یوں مخاطب کیا جیسے بڑے ہی شرمندہ ہوں۔ اِسی شرمندگی میں جج نے کہا کہ “جناب آپ استاد ہیں، ہم جو آج جج، ڈاکٹر، انجینئر جو کچھ بھی بنے بیٹھے ہیں وہ آپ اساتذہ ہی کی بدولت ہی ممکن ہو پایا ہے، مجھے بہت افسوس ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدِنظر رکھ کر آپ کو چالان ادا کرنا ہوگا کیونکہ بہرحال آپ سے غلطی ہوئی ہے مگر میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔” اشفاق احمد نے مزید لکھا کہ اُس روز وہ اِس قوم کی ترقی کا اصل راز جان گئے تھے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے انقلاب نے اب بہت کچھ تبدیل کردیا ہے۔لگ بھگ ایک صدی قبل تعلیم جیسے مقدس پیشے کے بارے میں اقبال بھی کہہ گئے تھے:
تھے وہ بھی دن کہ خدمت استاد کے عوض
دل چاہتا تھا ہدیۂ دل پیش کیجیے
بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق
کہتا ہے ماسٹر سے کہ بل پیش کیجیے
پھر بھی دنیا اس تلاش میں ہے کہ شاید کہیں ارسطو اور امام نسائی جیسے استاد مل جائیں جنھوں نے سکندر اعظم ، مامون الرشید اور امین الرشید جیسے شاگرد پیدا کیے تھے۔

Leave your comment !

Close