May 23, 2022

 (تبصرہ: تہذین طاہر۔لاہور) بہاولپور میں اجنبی

تہذین طاہر
”بہاولپور میں اجنبی“ مظہر اقبال مظہر کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب انہوں نے لندن ، برطانیہ سے اردو میں لکھ کر قارئین کی خدمت میں پیش کی۔ اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایک حصہ مصنف کے بہاولپور میں مختصر قیام کے حوالے سے ان تاثرات پر مبنی ہے جن میں موجودہ بہاولپور شہر کی سیر بھی ہے اور نوابوں کے دور کے بہاولپور کے خدوخال بھی دکھائی دیتے ہیں۔بہاولپور کے کئی رنگ اس کتاب میں سموئے گئے ہیں، اندرونِ بہاولپور، بہاولپور کی میٹھی سرائیکی زبان، ثقافت، نوابی عہد کی تعمیرات، تہذیبی ورثہ، بہاول پور کا صرافہ بازار، نوابی دور کی سرح عمارتیں، ٹھاٹھ، نوابی دور کی کہانیاں، کتاب پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے آپ بہاولپور کے نوابی عہد میں پہنچ گئے ہوں۔ یہ کتاب آپ کو ایک عہد کی سیر کرواتی ہے۔ جہاں پُرشکوہ شخصی دربار بھی ہے اور رعایا بھی۔ جبکہ دوسرا حصہ دو خوبصورت افسانوں پر مشتمل ہے۔”دل مندر“ اور ”ایک بوند پانی“۔ پہلا افسانہ محبت کی ان کہی داستان اور اس کے بھیانک اثرات پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا افسانہ سندھ کے صحرا میں پانی کی شدید قلت کے خوفناک اثرات کے بارے میں ہے۔ دونوں افسانوں میں انسانی دکھوں اور طبقاتی فاصلوں کو خوب نمایاں کیا گیا ہے ۔
کتاب کے بارے میں شمس رحمان( مانچسٹر، انگلینڈ) کہتے ہیں:”بہاولپور میں اجنبی“ کا پہلا حصہ مظہر اقبال مظہر کی اس تاریخی شہر کی معروف درسگاہ میں تعلیم کی غرض سے آمد اور مختصر قیام کی یادداشتوں کا مجموعہ ہے۔ کتاب کے شروع میں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کو تعلیم سے کہیں زیادہ اس شہر میں دلچسپی تھی ۔لیکن حقیقت میں مصنف علم کو اس شہر کی تاریخ، معاشرت اور معیشت کے مراکز اور بازاروں یعنی حقیقی زندگی کے مظاہر سے کشید کرنے کا شدید رجحان رکھتے تھے۔جس کانتیجہ یہ ہے کہ انہوں نے بہاولپور کے بارے میں نہ صرف اپنی اجنبیت دور کی بلکہ پڑھنے والے کو بھی شہر کے گلی کوچوں میں تانگے پر اس طرح لیے پھرتے ہیں کہ قاری خود کو بھی تانگے کی سواری محسوس کرتا ہے۔ مصنف نے بظاہر اس سرسری سے سفر نامے میں مختلف زبانوں اور لہجوں کے افراد کے درمیان تعلق اور شناخت کے کچھ نازک پہلوؤں کو بھی بیان کر دیاہے“۔
 کتاب کو اس خوبصورت انداز نے لکھا اور ترتیب دیا گیا ہے کہ قاری پڑھتے وقت خود کو اس کتاب کا ایک حصہ سمجھنے لگتا ہے۔ کتاب کے افسانے دل دہلا دینے والے ہیں۔مصنف نے کتاب کا انتساب اپنی والدہ محترمہ اور قلم و کتاب کی حرمت کی آئینہ دار مادر علمی جامعہ اسلامیہ بہاولپور کے نام کیا ہے۔ کتاب کی قیمت500/-روپے ہے۔”بہاولپور میں اجنبی“ کتاب پریس فار پیس فاؤنڈیشن(یوکے) کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔ جبکہ پریس فار پیس فاؤنڈیشن لوہار بیلہ، برانچ پوسٹ آفس ڈھلی باغ آزادکشمیر سے دستیاب ہے۔

Leave your comment !

%d bloggers like this: