کتاب : ردا ئے ہجر ( شاعری )

شاعر تسنیم عابدی

تبصرہ نگار : صفی ربانی 

عصر نو کا اردو ادب بھی نو آبادیاتی تہذیبوں کی طرح مغرب سے بہت حد تک متاثر ہے۔ ایسے میں مشرقی شعری رویات میں پنپتے جذبوں پر وہی قہقہہ لگایا جاتا ہے جو جگ مگ کرتے شہروں میں کسی دیہاتی پر۔اپنا آپ نکھارنے کے لیے دوسروں سے متاثر ہونا تو اچھی بات ہے مگر خود فراموشی کی سزا مرگِ مفاجات ہے۔

“ردائے ہجر” میں لپٹی تسنیم عابدی کی شاعری میں وہی تہذیبی رکھ رکھاؤ ہے جو ان کی شخصیت میں ہے۔انہوں نے بدیسی زبان و اطوار کو اپنانے کی بجائے اپنی مٹی سے پھوٹتے چشموں سے اپنے گلشنِ شعری کی آبیاری کی ہے۔

صنفی امتیازات اور حقوقِ نسواں کے لیے احتجاج اب ایک فیشن بن چکا ہے۔جس میں ہر حرفوں کا سوداگر بلند بانگ نعرے لگا کر اپنے کھوٹے سکوں کو کھرا کرنے میں لگا ہے۔ جس کے سبب یہ انتہائی اہم اور حساس مسئلہ ڈگڈگی والے کا کھیل بن گیا ہے۔لیکن تسنیم عابدی صاحبہ جنہیں حالتِ حال کے ساتھ ماضی کے تہذیبی، سماجی اور تاریخی حوالوں کا شعور بھی ہے۔ انہوں نے انتہائی موثر انداز میں صنفی امتیازات پر احتجاج کیا اور عورت کے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ ان کی شاعری سے پتہ چلتا ہے کہ وہ عورت کو آزاد تو دیکھنا چاہتی ہیں مگر ساتھ ہی اسے اپنی روشن رویات سے جڑے رہنے کا درس بھی دیتی ہیں۔ واضع رہے کہ ہر تہذیب میں روشن و تارک دونوں طرح کی روایت ہوتی ہیں۔ تاریک روایتوں سے انحراف جس قدر ضروری ہے اتنا ہی روشن روایت کی پاسداری بھی ہے جس کے سبب کوئی بھی تہذیب عالمی تہذیبوں میں اپنا تشخص برقرار رکھتی ہے۔  تسنیم عابدی کی شاعری میں یہ تشخص ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔

ہمارے عہد کی شاعرات کو پڑھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے اُن کے اور ماضی کے درمیان کوئی اور قافلہ بھی تھا جو کہیں گم ہو گیا ہے یا اچانک کوئی ایسی خلیج پیدا ہو گئی جس سے ماضی اور حال کٹ کر علیحدہ ہو گئے  یا کسی ایسی کہانی کا گمان ہوتا ہے جس کے درمیانی صفحات غائب ہوں۔۔ یہ درمیانی صفحات آپ کو تسنیم عابدی کے ہاں ملینگے جن سے ماضی اور حال کا راستہ استوار ہوتا ہے اور مستقبل کے نقوش نمایاں ہوتے ہیں۔ اس درمیانی عہد کے بچھڑے ہوئے قافلے کے نقوش ردائے ہجر پر ثبت ہیں ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ تسنیم عابدی ہمارے نسائی ادب کے تسلسل میں سب سے اہم کردار ہیں ۔ انہیں منہا کرنے سے جو اندیشہ پیدا ہوتا ہے وہ محولہ بالا جملوں میں درج ہے۔

ان کی تہذیبی روایت لکھنو سے ہوتی ہوئی کربلا کے ریگ زاروں تک پہنچتی ہے جس میں بیک وقت سکوت بھی ہے اور کہرام بھی۔ تسلیم و رضا بھی ہے اور احتجاج بھی۔آپ احتجاج کرتے ہوئے اپنی مشرقی انفرادیت کو کھونے نہیں دیتیں اور ایسا بجز عرفان ذات ممکن نہیں۔

بات اگر وارداتِ عشق، ہجر، راہ وفا کی آبلہ پائی اور ردائے ہجر میں حرفوں کے موتی ٹانکنے کی، کی جائے تو آپ عشق کی اس معراج پر متمکن ہیں کہ کوئی بھی بات ہو انتہائی سہولت سے کہہ لیتی ہیں۔

ان کا شعری اسلوب قدیم و جدید کا خوبصورت امتزاج ہے۔ تراکیب کا استعمال روایت سے جڑا ہے جبکہ لفظوں کا مجموعی برتاؤ بہت جدید ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اگر ہم ماضی کی فہرست تیار کریں تو تسنیم عابدی ہمیں وہاں بھی نظر آئیں گی اور اگر جدید لہجوں کی قافلہ بندی کی جائے تو آپ ان کی سربراہی کرتی نظر آئیں گی۔



تسنیم عابدی

مجھ ایسے ادب کے معمولی ترین طالب علم کا آپ کی شاعری پر انصاف پر مبنی گفتگو کرنا پل سراط سے گزرنے جیسا ہے۔مَیں اپنی باتوں میں کس قدر سچ کے ساتھ ہوں اس کے ثبوت میں کچھ اشعار دیکھیے: 

خدا کے نام پہ جس طرح لوگ مر رہے ہیں 

دعا کرو کہ اکیلا خدا نہ رہ جائے 

ہوائے وحشتِ دل تیز چل رہی ہے بہت

ردائے ہجر مرا سر کھلا نہ رہ جائے

چشمِ ادراک کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ اب

درد سن سکتے ہیں خوشبو کو پکڑ سکتے ہیں

دشتِ دل میں بھی اک ناقہ سوار آیا تھا

آج تک مجھ میں بہت گرد اڑا کرتی ہے

ہوائے موجِ تمنا نے سر اُٹھا کے کہا

سوالِ تشنہ لبی آٹھ گیا تو کیا ہوگا

اس سے پہلےکہ ترا دشت مجھے راس آ جائے

اپنی وحشت کو اٹھاؤں گی، چلی جاؤں گی

عجیب درد کی تھی بانسری جو بجتی رہی

عجیب زخم تھا جس نے لہو رلایا مجھے

سکوتِ عصر میں گونجی ہوئی اذان ہوں مَیں

بہت سے کرسی نشینوں کے درمیان ہوں مَیں

ادب جی کرب و بلا کوفۂ صدا یے گواہ

ہواے شام کا لکھا ہوا بیان ہوں مَیں

فرات تشنگیٔ شوق رو بہ رو تیرے

جسے جلایا گیا تھا وہی مکان ہوں مَیں

مَیں وہ زلیخا تھی جس نے کبھی بھی یوسف پر

کوئی بھی تہمتِ نا مہرباں لگائی نہیں

گوزہ گر چھوڑ گیا مجھ کو بکھرنے کے لیے

اب مری خاک کو مٹی میں ملا رہنے دے

خبر نہیں کہ غلط کیا ہے اور کیا ہے درست

دلا! یہ عشق ہے تو قیل و قال رہنے دے

خیمے لگتے ہیں اور اکھڑتے ہیں

دشت پر کچھ اثر نہیں پڑتا

سگانِ کوچہ بہت شور کرنے لگ گئے تھے

سو ہم نے گھر میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہے

مَیں تھک گئی ہوں تقدس کے بوجھ سے لیکن

کوئی مزار پہ چادر چڑھانا چاہتا ہے

غزلیات کے علاوہ “ردائے ہجر” میں نظمیں بھی پروئی گئیں ہیں جو متذکرہ خصوصیات سے پُر ہیں ۔مگر یہاں طوالت کے باعث انتخاب سے صرفِ نظر کرنا پڑ رہا ہے اور ساتھ ہی یہ خوف بھی دامن گیر ہے کہ آیا میں انتخاب میں انصاف بھی کر پاؤں یا نہیں۔