تحریر شبیر احمد ڈار

          پاکستانی ادب میں  ایک تابندہ نام ” تسنیم جعفری ” کا ہے  جو ایک معروف ادیبہ ، ماہر تعلیم ، شاعرہ ، مصور ، سائنس فکشن رائٹر اور درجنوں کتب کی مصنفہ ہیں ۔  بچوں کے ادب کے حوالے سے آپ کی  شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ کی منفرد اسلوب پر مشتمل کہانیاں اور دیگر  مضامین کو علمی و ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی ۔

شبیر احمد ڈار

       تسنیم جعفری کا اصل نام ” تسنیم اختر جعفری ” ہے اور قلمی نام “تسنیم جعفری ” ہے آپ کا تعلق اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تاریخی شہر لاہور سے ہے ۔ آپ نے 2004ء میں اپنی پہلی کہانی لکھی جو ماہ نامہ پھول میں شائع ہوئی اس کے بعد یہ سفر تیزی سے جاری رہا اور اپنے فکری و فنی طرز تحاریر سے جلد ہی علمی و ادبی حلقوں کے ساتھ قارئین کی توجہ  بھی حاصل کر لی ۔  آپ کی ادبی خدمات کے سلسلے میں بہت سے سرٹیفکیٹ ، ایوارڈ ، سند سے آپ کو نوازا گیا ان میں معمار وطن ایوارڈ برائے ادب 2019ء اور 2020ء  ، اخوت دوست ایوارڈ 2019ء ، اخوت ادبی ایوارڈ 2020ء ، ابابیل ادبی ایوارڈ 2020ء وغیرہ شامل ہیں ۔ آپ نے ” تسنیم جعفری ایوارڈ ” کا اجراء  2019ء میں کیاجس کا مقصد بچوں کے ادب کے حوالے سے ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔

           تسنیم جعفری کی شخصیت پر بہت سے مضامین لکھے جا چکے ہیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے  ایک طالبہ نے اپنا تحقیقی و تنقیدی مقالہ برائے ایم فل اردو بہ عنوان ” تسنیم جعفری کی ادبی خدمات ” مکمل کرلیا ہے ۔ اس مقالے میں ان کی شخصیت اور ادبی کارناموں کی تفصیل ہمیں ملتی ہے ۔ پریس فار پیس فاونڈیشن کی جانب سے بھی آپ کی شخصیت اور ادبی کارناموں کے حوالے سے تحریری مقابلہ منعقد کیا گیا ہے جس سے ان کی شخصیت کے مزید چھپے ہوئے نمایاں  پہلو سے ہمیں آگاہی ملے گی۔

       تسنیم جعفری نے بچوں کے ادب کے حوالے سے بہت سی کہانیاں ، سائنس فکشن  پر مبنی سائنسی مضامین اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے ناولٹ لکھے یہ تمام صنف نثر مختلف اخبارات میں زینت بنتے رہے ۔ آپ کی درجنوں کتب منظر عام پر آنے کے بعد مقبولیت حاصل کر چکی ہیں جن میں ” ماحول سے دوستی ” 2012ء ، مریخ سے ایک پیغام ، لے سانس بھی آہستہ یہ  تین کتب اردو سائنس بورڈ کے زیر اہتمام شائع ہوئیں ۔ ” الف لیلہ” بھی آپ کی ایک مشہور تصنیف ہے جو کلاسک سے شائع ہوئی اس میں بچوں کے الف لیلہ ، لڑکیوں کے الف لیلہ ، جانوروں کے الف لیلہ اور پریوں کی الف لیلہ شامل ہے ۔ شاعری کی کتاب ” میرے وطن کی یہ بیٹیاں ” بھی ماورا کے زیر اہتمام شائع ہوئی جس میں پاکستانی خواتین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا یے۔ یہ کتاب 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر شائع ہوئی تھی ۔  سائنسی فکشن پر مبنی”  روبوٹ بوبی ” بھی شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر چکی ہے   اس کتاب  میں مختلف کہانیاں اور نام ور سائنسی شخصیات کی زندگی پر روشنی ڈالی گی ہے ۔         ” پیوستہ رہ شجر سے ” اپریل 2020ء میں تعمیر پبلی کیشنز سے شائع ہوئی ۔  اس کتاب میں آلودگی کے نقصانات اور فرد کے کردار پر روشنی ڈالی گی ہے نیز آپ کی کتاب  ” ماحولیاتی دوستی ” بھی منظر عام پرآنے کے بعد مقبولیت حاصل کر چکی ہے ۔

     محترمہ تسنیم جعفری ایک ادیب کے ساتھ ماہر تعلیم بھی تھی جو بچوں کی تعلیم و تربیت بہتر انداز میں کر رہی تھی ۔ آپ ایک مصور بھی تھی جو تخلیقی کام بھی کر رہی تھی ۔ بہ طور سائنس فکشن آپ نے سائنسی موضوعات کو آسان الفاظ میں قاری کے سامنے رکھا ۔ ماحولیاتی آلودگی کے متعلق شعور دینے کے لیے ناولٹ لکھے ۔ آپ نے سماجی برائیوں کے خاتمے اور انسانیت  کی خدمت میں ہمیشہ کوشاں  رہیں ۔ قلم کا استعمال مثبت طریقے سے کیا اور مثبت نتائج ملے۔

    ” پیوستہ رہ شجر ” آپ کی ایک مقبول تصنیف ہے جو گزشتہ سال شائع ہوئی تھی  اس کتاب کے بارے میں ایڈیٹر ” اردو سائنس میگزین ” فیضان اللہ خان لکھتے ہیں:

          “یہ کتاب اردو زبان کے نوجوان قارئین کے لیے ماحولیاتی آلودگی کے ضمن میں ایک اچھی کاوش ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگرادیب اور مصنفین بھی اس موضوع پر لکھیں اور معاشرے کے ہر فرد کو اس حوالے سے خواب غفلت سے بیدار کریں ۔  ہمیں امید ہے کہ اس نتیجے میں ہماری دنیا پر چھائی ہوئی خزاں چھٹ جائے اور پھر سے بہار کا موسم آ جائے ۔ “

    آپ کے سائنس فکشن کے حوالے سے ” محمد شعیب مرزا “مدیر ماہ نامہ پھول لاہور ، چیئرمین اکادمی ادبیات اطفال  لکھتے ہیں :

       ” تسنیم جعفری پاکستان کی نام ور مصنفہ ہیں جن کی ایک درجن سے زائد کتب شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر چکی ہیں ۔ اچھا ادیب وہی ہوتا ہے جس کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہو ۔ تسنیم جعفری نے زیادہ تر توجہ سائنسی ادب لکھنے پر دی کیوں کہ پاکستانی ادب میں سائنسی ادب پر توجہ بہت کم دی گی ہے ۔  جو لوگ بھی سائنس کے حوالے سے لکھتے ہیں وہ خشک موضوعات لکھتے ہیں جن میں عام قاری کی دلچسپی نہیں ہوتی  ۔ “

            تسنیم جعفری ایک عہد ساز شخصیت ہیں ۔ آپ کی کہانیوں میں سبق آموز واقعات ملتے ہیں ۔ آپ نے اپنے مضامین میں تاریخی واقعات کو منفرد انداز سے پیش کیا ہے ۔ بچوں کے ادب کے حوالے سے آپ کے لکھے گے مضامین میں فکری و فنی تمام اجزاء پوری قوت سے نظر آتے ہیں جو ایک مضمون نویس کے لیے ضروری ہے  ۔ آپ نے اپنے منفرد اسلوب سے قارئین کے ساتھ علمی و ادبی حلقوں کو بھی متاثر کیا اور انہیں ایک درست سمت دی اور نئے لکھاریوں کی راہ ہموار کی ۔

       تسنیم جعفری ایک باصلاحیت خاتون لکھاری ہیں جن کا قلم  ہمیشہ معاشرے کی بھلائی کے لیے استعمال ہوا قلم کے ذریعے کسی دوسرے پر کبھی تہمت وغیرہ نہیں لگائی اور نہ ہی ادب سے ہٹ کر قلم کو زیادہ استعمال کیا  آپ کی وجہ شہرت آپ کی تصانیف ہیں جو کم وقت میں مقبولیت حاصل کر چکی ہیں ۔  اردو ادب میں آپ کا نام ہمیشہ سربلند رہے گا ۔۔۔۔۔

Leave your comment !