ڈاکٹر ترنم ریا ض

ڈاکٹر ترنم ریا ض کا اصلی نام فریدہ ترنم تھا آپ 9 اگست 1963 کو سرینگر، کشمیر میں پیدا ہوئیں ۔ابتدائی تعلیم کرا نگر سرینگر میں ہی حاصل کی. آپ نے اردو اور ایجوکیشن میں ایم اے کرنے کے بعد ایجوکیشن میں ہی پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی. آپ درس و تدریس، تحقیق اور برقی میڈیا سے وابستہ رہیں. 

اردو ادب میں ترنم ریاض نے  ایک افسانہ نگار، ناول نگار،شاعرہ ،تبصرہ نگار،محقق ونقاد کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا. ان کی تصانیف اعلیٰ ادبی معیار کی حامل ہیں. ترنم ریاض ایک غیر معمولی صلاحیت کی افسانہ نگارہیں. ان کے افسانوں میں معاشرتی شعور کے ساتھ ساتھ نفسیاتی بصیرت اور متصوفانہ رنگ کی جھلک بھی ہے. ترنم ریاض کے یہاں متنوع زندگی کا گہرا تجربہ،فطرت انسانی کا شعور اور اظہار کی بے پناہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ تاریخ ، تخیل اور معاصر زندگی سے لپٹی ہوئی پیچیدہ حقیقت کو بیان کرنے کے لئے نئے نئے فنی وسائل اور تکینک تلاش کرنے میں ان کا ثانی کوئی نہیں ہے. ان کے افسانوں میں الفاظ کی بندش اور غضب کی چستی پائی جاتی ہے۔ان کے افسانوں میں معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں ، ظلم وجبر اور استحصال کی عکاسی خوب ملتی ہے. ان کے افسانوں کے کردار معاشرے کے وہ افراد ہیں جو ظلم و زیادتی اور نا انصافیوں کے شکارہیں اورغریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں مگر ان کی آہ و فریاد کسی نے نہ سنی.

ڈاکٹر ترنم ریاض جمعرات کی صبح دہلی کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئیں۔وہ کورونا کے انفیکشن میں مبتلا تھیں۔ سری نگر میں جنم لینے والی ترنم ریاض اپنے شوہر ڈاکٹر ریاض پنجابی کے انتقال کے صرف ڈیڑھ ماہ بعد ہی ملک راہی عدم ہوئیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ریاض پنجابی کا 8 اپریل کو دہلی میں ہی انتقال ہوا تھا۔ ۔

ڈاکٹر ترنم ریاض کی تصانیف

ڈاکٹر ترنم ریاض کی جو تصانیف منصہ شہود پر آئیں  ان میں آٹھ افسانوی مجموعے

یہ تنگ زمین(1998 )،ابا بیلیں لوٹ آئیں گی(2000)،یمبرزل (2004 )،میرا رخت سفر(2008 )،ناول مورتی(2004 ) برف آشنا پرندے(2009)، نرگس کے پھول ،صحرا ہماری آنکھوں میں شامل ہیں، جبکہ شعری مجموعوں میں ، پرانی کتابوں کی خوشبو،بھادوں کے چاند تلے، زیرسبزہ محو خواب(2015) اورچاند لڑکی نے  ادبی دنیا میں خاصی پذیرائی حاصل کی. دو ناول “برف آشنا پرندے” اور “مورتی” کے نام سے منظر عام پر آچکے ہیں.