تجزیہ : بیگم تنویر لطیف  تمغہ امتیاز

آزاد کشمیر میں عام  انتخاب  25جولائی 2021کو ہوں گے لیکن اس بار انتخابی مہم میں ماحول اجنبی سا ہے جس کا آزاد کشمیر کی بنیادی اساس سے کوئی تعلق نہیں ۔ آزاد کشمیر کے موجودہ قائدین کو اب یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ 24اکتوبر 1947ئ؁ کو اپنے آباؤاجداد کے خون اور ہڈیوں پر قائم ہونے والی آزاد ریاست جموں و کشمیر کو تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کے طور پر قائم گیا گیاتھا جس میں چودھری غلام عباس کی قیادت میں جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اہم رہنماؤں مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان، سردار محمد ابراہیم خان، چودھری نور حسین، راجا حیدر خان، سردار فتح محمد کریلوی اور قائداعظم کے معتمد سیکرٹری ، قانون دان اور انہی کے سیاسی تربیت یافتہ بیرسٹر خورشید حسن خورشیدکی جدوجہد اور قربانیاں شامل تھیں۔ابھی کل کی بات ہے سردار محمد عبدالقیوم خان کی سربراہی میں مسلم کانفرنس کا انتخابی نعرہ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ انتخابی مہم کا عنوان ہوا کرتا تھا۔ جموں و کشمیر لبریشن لیگ جب تک فعال رہی پنڈال میں بھارتیو:سن لو ’’کشمیر کے وارث زندہ ہیں‘‘ اور ’’بھارت کو نکال کے دم لیں گے‘‘کے نعروں کی گونج سے پہاڑ بھی لرز جایا کرتے تھے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر پر سخت تناؤ کے باوجود بھی ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رہااور مئی 1964 ء ؁میں کے ایچ خورشید کے دور میں پہلی بار وزیراعظم ہندوستان پنڈت جواہر لعل نہرو نے وزیراعظم کشمیر شیخ محمد عبداللہ کو آزاد کشمیر کے سیاسی قائدین اور صدر ایوب خان اور ان کے معتمدین سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات کی غرض سے مظفرآباداور اسلام آباد کے دورے پر بھیجا تھا۔خبریں گرم تھیں کہ قائدین کشمیر باہمی گفت و شنید سے دونوں حکومتوں کو کوئی نہ کوئی قابل قبول راستہ دکھا دیں گے۔ شیخ محمد عبداللہ نے مظفرآباد میں عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب بھی کیا ۔ راولپنڈی میں چودھری غلام عباس کے گھر شیخ محمد عبداللہ اور افضل بیگ کی سہ رکنی میٹنگ رات گئے تک جاری رہی لیکن شومئی قسمت سے اگلے روز پنڈت جواہر لعل نہرو وزیراعظم ہندوستان دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے جنہوں نے اقوام متحدہ میں رائے شماری کا وعدہ کر کے فائر بندی کرائی تھی اسطرح تاریخ آزاد کشمیر کا ایک اہم باب ختم ہو گیااور حالات کشمیر ہی کی بنیاد پر ہولناک جنگوں کی طرف بڑھ گئے جن کے عبرت ناک نتائج آزاد کشمیر کی سیاست پر بھی مرتب ہوئے۔

شملہ معاہدہ کے فوراً بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مظفرآباد تشریف لائے اور آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی شاخ قائم کرنے کا اعلان کر دیاجس نے تحریک آزادی کشمیر کی سیاسی اساس کو ایک تاریک سرنگ میں دھکیل دیا۔ ڈی آئی جی پولیس میجراورنگزیب کو اس کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی جس نے سیاسی قائدین کے روٹ پرمٹ معطل کرنے سے لے کر دوسرے فضول ہتھکنڈے اختیار کر کے جموں و کشمیر لبریشن لیگ اور جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کو کچلنے کی کوشش کی۔لبریشن لیگ کا شکنجہ اس قدر کسا گیااور ایسے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے کہ کے ایچ خورشید جیسی قابل اور تاریخ ساز شخصیت کو خون کے آنسو رلا کر بالآخر لبریشن لیگ کو مشرف بہ پیپلز پارٹی کر کے ضم کر دیا گیاالبتہ مسلم کانفرنس سخت جاں ثابت ہوئی۔صدر مسلم کانفرنس اور صدر حکومت آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم خان چٹان کی طرح ڈٹ گئے۔ بھٹو صاحب آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کا اعلان بھی کرنا چاہتے تھے لیکن سردار قیوم خان کی فراست نے ان کی نہ چلنے دی۔ سردار صاحب نے نو ماہ کے لئے پلندری جیل اور صدارت سے دستبرداری قبول کر لی لیکن مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے عوام کی دھڑکنوں میں زندہ رہی اور سردارقیوم خان کی حیات تک کشمیر کے دونوں حصوں کو جوڑنے میں مسلم کانفرنس کا کردار جگمگاتارہا۔ قائدین کشمیر چودھری غلام عباس، سردار فتح محمد کریلوی، راجا حیدر خان، سردار محمد ابراہیم، چودھری نور حسین اور سردار محمد عبدالقیوم خان  کے بعد آزادکشمیر کی سیاسی صورتحال یتیم ہو گئی۔ 2016ئ؁ کے انتخابات کے موقع پر پاکستان میں مسلم لیگ کی حکومت تھی۔ آزادکشمیر میں میاں نواز شریف کو بے پناہ مقبولیت حاصل تھی۔ لوگ ان سے دیوانہ وار محبت کرتے تھے لیکن وہ خود آزاد کشمیر میں مسلم لیگ نون کی بنیاد رکھنے کے خلاف تھے۔ چنانچہ نیلابٹ کے مقام پر انہوں نے اعلان کیا کہ قائداعظم کے فرمان کے مطابق آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس ہی مسلم لیگ کی جگہ لے گی اور ہم یہاں مسلم لیگ کی بنیاد نہیں رکھیں گے لیکن یہاں جو لوگ میاںمحمد نواز شریف کی مقبولیت اوران کی کرشمہ ساز شخصیت کوکیش کرنے کے لئے بے قرار تھے وہ بالآخر جیت گئے اور پھر انہوں نے آزاد کشمیر میں وہی کچھ کیا جو شیخ محمد عبداللہ نے مسلم کانفرنس کو تقسیم کرکے کیا تھا۔ اگر شیخ صاحب بھی قائداعظم اورچودھری غلام عباس کی بات مان لیتے تو آج پوری ریاست جموں و کشمیر پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہر ا رہا ہوتا اور اہل کشمیر اندرونی خود مختاری اور اپنی شناخت کے ساتھ اپنی گلیوں میں سر اٹھا کر چلتے۔ اب طاقت کے اس کھیل میں تحریک انصاف فولادی قوت اور تھپڑوں اور گالیوں کے اسلحہ سے لیس ہو کر میدان میں موجود ہے ۔ میاں نواز شریف کی عوامی عقیدت اور محبت کی قیمت پر آزاد کشمیر میں پانچ برس کے دوران جو خطرناک منظر ابھرا ہے وہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کی انتخابی ٹکٹوں کی فہرستوں سے عیاں ہے۔ یہ مقابلہ سیاسی پارٹیوں کے درمیان نہیں بلکہ چودھریوں اور راجوں کے درمیان ہو گاجس کی تھوہر کی فصل برسوں میں کاٹنی ہو گی۔ برادری ازم کا جو زہر سردار خالد ابراہیم، راجا ذوالقرنین اور چودھ ری صحبت علی جیسی محب وطن اور تحریک آزادی کشمیر کی خاطر سیاست میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے والی قدآور شخصیات کے فہم و تدبر نے ختم کیاتھا آج شہدائے کشمیر کے قائم کئے ہوئے فولادی آہنی نظام کو اپنی کمزور مٹھی میں بند کر کے کھیلنے والے سیاستدانوں کی کج ادائی اور بے تدبیری کے ہاتھوں ہم اپنے اصل مقصد سے دور ہٹ کر ہر گوشے میں پسپائی اختیار کر رہے ہیں۔الحمداللہ کہ راجا ذوالقرنین اور چودھری انوارالحق میدان میں موجود ہیں ا ب انکی فراست اور شفاف قومی سیاست کاری کا کڑا امتحان ہو گاکہ وہ یہ زہر کیسے ختم کرتے ہیں۔ آزادکشمیر کے نشریاتی ادارے تباہ حالی کا شکار ہیں۔ ریڈیو آزاد کشمیر کبھی تحریک آزادی کشمیر کا نقیب ہوا کرتا تھاجو مقبوضہ کشمیر کے عوام کی محبوب ترین آواز تھا اس کا گلہ گھونٹ دیاگیا ہے۔ آزادکشمیر ٹیلی ویژن سنٹر پرانے شیلٹر میں سسکیاں لے رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی اہم ترین خبریں کوہالہ پار ہی دم توڑ دیتی ہیںاور مقامی اخبارات آخر ی ہچکیاں لے رہے ہیں۔ کشمیر کے اطراف  بس سروس کی وجہ سے کشمیر ڈائیلاگ عوامی حلقوں میں جاری تھا۔ غیرریاستی حکومتوں سے کوئی بات کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ آزادکشمیر پریس کلب مظفرآباد میں ڈاکومنٹریز بھی چلتی رہیں لیکن ایک سرد مہری ماحول میں بامقصد اور نتیجہ خیز گفتگو کیسے ہو سکتی ہے کیونکہ سواد اعظم  (مسلم کانفرنس )کے صدر سردار عتیق احمد خان کی سیاسی تربیت شاندار ماحول میں ہوئی ہے ان کی جدت پسند سیمابی طبعیت نے بھی ملٹری ڈیموکریسی کا شوق پورا کر لیا ہو گا۔ وہ تحریر و تقریر کے چیمپئن اور مسئلہ کشمیر کو ڈاکومنٹ کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں۔ یوں بھی آزاد کشمیر کا امن پاک فوج کا مرہون منت ہے اور آزاد کشمیر کے سرحدی علاقوں کے عوام پاک فوج سے محبت کرتے ہیں جن کے جذبہ ایثار کی بدولت وہ بارڈر پر تکلیف دہ حالات کامقابلہ کر رہے ہیںلیکن آج کا بدلا ہوا ماحول کسی کے لئے بھی باعث تسکین نہیںجس میں عوام کا مقبول ترین نعرہ  ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کی بجائے ـ’’جئے بھٹو‘‘ اور ’’تبدیلی آئی ہے‘‘  اور ’’میاں دے نعرے وجن گے‘‘کے غیرمانوس اور بے مقصد نعروں کی بے ہنگم اور بے حس آوازوں میں انتخابی مہم چل رہی ہے۔ عوام کے دل کی کیفیت یہ ہے کہ ان کا کشمیر بھارتی ظلم و ستم اور مودی کی حماقتوں سے مکمل طور پر پامال ہو چکا ہے، لٹ چکا ہے اور کچھ بھی باقی نہیں بچا ہے۔ نہ معیشت، نہ تجارت ، نہ ہنر، نہ روزگار، نہ عزت، نہ آبرو۔ آزادی کا بیس کیمپ آزاد کشمیر اسی سب کچھ کا امین تھا۔ہمارے رہبر ہمیں کس منزل کی طرف لے جا رہے ہیں، کون جواب دے گا؟