August 8, 2022

نام کتاب – تماشائے اہلِ کرم  ، مصنف – پروفیسر محمد ایاز کیانی

 تبصرہ نگار  : مظہر اقبال مظہر

پروفیسر محمد ایاز کیانی کی تصنیف “تماشائے اہلِ کرم ” میرے سامنے ہے۔طباعت ، املاء اور پروف کی غلطیوں سے مبرَّا یہ دیدہ زیب کتاب پریس فار پیس فاؤنڈیشن (یو ُکے) نے شائع کی ہے۔  رنگین ٹائٹل پر تاریخی عمارات کے عقب میں ہرے بھر ے کھیت اور برف پوش چوٹیاں  قاری کے تخیل کو اندرونی صفحات کھولنے پر مجبور کردیتی ہیں۔  کتاب  کا پہلا صفحہ ایسے منظرکی تصویر کشی کر رہا ہے جس  میں ایک سیدھی دو رُویہ سڑک کا داہنی حصہ خالی ہے جب کہ   بائیں جانب “محمد ایاز کیانی” کے الفاظ تحریر ہیں ۔ گرد سے اٹے اوردائیں بائیں  لڑھکتے ہوئے  پتھروں اور خود رو جھاڑیوں  کے بیچ میں سے گزرتی ہوئی یہ سڑک دُور کہیں پانیوں، پہاڑوں اور بادلوں میں یُوں گم ہو رہی ہے  جیسے کوئی مسافر ان دیکھے راستوں پر چلتا اور اگلی منزلوں کے نشان ڈھونڈتا  ہوا سفر میں گم ہو جائے۔

ٹھنڈے  میٹھے چشموں، راگ الاپتے جھرنوں اور گنگناتی آبشاروں کی سرزمین راولاکوٹ کے آسمان  ِ ادب پر چمکتے دمکتے  ادبی ستاروں کے جھرمٹ میں ایک نئے ستارے کا اضافہ    ہوا ہے۔ خدا کرے کہ یہ ستارہ بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ  تادیر روشنی بکھیرتا رہے۔ہر ستارہ روشنی کا استعارہ ہوتا ہے۔ پروفیسر ایاز کیانی کےقلم کی روشنی  جس سرعت ِ رفتار  کے ساتھ  دبستان  علم سے  ہوتی ہوئی نگارستان  عالم  تک پھیلنا شروع ہوئی ہے، اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ ادب میں نئی  شعاعیں بھی بکھیرے گی۔   ان نئی جہتوں کی توجیہہ سفرنامے  کے کینویس سے ان کی چھیڑ چھاڑ سے ملتی ہے۔ پورے پاکستان کے کئی شہروں کی سیر ایک ہی سفرنامے میں سمیٹ لینا ، یہ انہی جیسے تیشہ گروں کا  حوصلہ ہے ۔

 جب ایاز کیانی جیسا کوئی سفرنگار اپنے ارد گرد کی  ظاہر پرست دنیا کے بکھیڑوں کو لات مار کر اپنی ذات  کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیےان دیکھی  دنیاؤں اور  لہجے بدلتی بستیوں  کی راہ لیتا ہے تو  وہ  محض سر ِ جادہ عمل ہی نہیں ہوتا بلکہ عرفان  ذات کے سفر پر بھی نکلتا ہے۔ وہ  نوکِ قلم کی جنبش سے علم و آگہی کے پہاڑوں کو کھود کر حکمت  و دانش کے  ایسے موتی چُن لاتا ہے جو  کبھی دریائے جہلم کے سینے میں پوشیدہ  رازوں یا اس کی کوکھ سے پھوٹتی روشنیوں کی صورت گری  بن جاتے ہیں  یا کبھی جامعہ پنجاب کی راہداریوں میں مچلتی  کھِلکھلاتی  امنگوں  کے تاثراتی ترجمان کا روپ دھار لیتے ہیں۔

 میری نظر میں سفرنامہ ظاہری سے زیادہ باطنی مناظر سے کشید ہوتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ظاہری مناظر تجزیے، تفکر اور تدبر کی جانب نکلنے والی راہوں کے  محرکات ہوتے ہیں۔ ایک سفرنگار کا قلم  اس کے  تجربے اور تجزیے کی  آشنائی سے روشنائی   حاصل کرتا  ہے ۔نت نئی منزلوں کی جانب بڑھنےکا حوصلہ جہد مسلسل  اور سعی و خطا  کی  ایک بھٹی میں جل رہا ہوتا ہے۔ اور وہ بھٹی بھی ایسی کہ  جس میں کہیں  صعوبتوں کے  پسینے کی تراوٹ اسے بے ذوق ِ عمل ہونےپر مائل کرتی ہے تو کہیں شوق آوارگی جہاں جوئی پہ اکساتا ہے ۔

ہرسفر نگارکے سفر  کا آغاز  بصد شوق ہوتا  ہے، شوق  وہ نسخہ اکسیر ہے  کہ جس کی ہلکی سی   ملاوٹ بھی  جامہ ہستی میں شامل ہو جائے تو کسی محبوب راہ پر نکلنے کے لیے روایتی اہتمام  یا کثیر زاد راہ کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ مجھے  پوری امید ہے کہ جس  سرشاری و چاہت  سے ایاز کیانی نے  اس سفر کا آغاز کیا ہے ، راستے کی دُھول سے    ان کی منزل  نظروں سے اوجھل کبھی نہ ہوگی ۔مجھے اس سفر نگار کے زاد راہ  نے پہلی نظر میں کھینچا ہے۔ پہلی کتاب کا پہلا انتساب ماں کی  اس ہستی کے نام جو جہان رنگ و بو سے شناسائی کا پہلا سبق سکھانے والی  اور سُندر کامناؤں کی جوت جگانے والی ہے۔

 دنیا  جادو نگری ہے،ساری   بھاشا ئیں  اس جادو نگری کا سحر تبھی قائم رکھ سکتی ہیں جب اس سحر کاری میں لفظوں کی چترکاری  کو ماں جیسا اتالیق مل جائے۔ دنیا میں اگر ماں نہ ہوتی  تو انسان لفظوں کے معنی سے آشنا ہی نہ ہوتا۔”تماشائے اہل ِ کرم ”  کے  انتساب کے خِرمن میں سبھی سامان بھروسے کا ہے۔  کتاب سے محبت کرنے والے احباب ، خالص نیتوں اور سچے کھرے جذبوں کو جومسافر زاد راہ بنا لے ، اس کی منزل کھوٹی ہو ہی نہیں سکتی۔جس دھرتی کی کوکھ سے ٹھنڈے میٹھے چشمے ابلتے ہوں وہاں سچے اور سُچے جذبوں کو ہی پنپنا چاہیے۔

انتساب کے بعد اگلے صفحے پر اکبر الہ آبادی کا  ایک سیاحت افروز  شعر کتاب کے عنوانات کی فہرست سے قبل ایک نقارچی کی مانند اعلان کرتا پھر رہا ہے کہ  “سفر کرو سفر کرو “۔ فہرست ہی نہیں  بلکہ پوری کتاب  کا حسن ترتیب بڑی خوبصورتی   سے مصنف کے حسن آوارگی  کو آشکار کر رہا ہے ۔ گمان یہ ہے کہ اس کی نوک پلک کسی ماہر   فنکار کے  ہنرمند ہاتھ  نے حسن  پری چہرہ   جان کر  درست کی ہوگی۔ پہلے سے متعارف مصنف کے تعارف پر سر سر ی نظر دوڑانے کے بعد  میری نظر جس تحریر پر ٹھہر گئی  اسے لکھنے والے نے پنڈی بھٹیاں سے لکھ کر بھیجا ہے ۔ایک سفر نگار کی زندگی میں تجربے اور تجزیے کی بھٹی کا ذکر تو میں پہلے کر چکا ہوں ۔ “موتیوں کی وادی سے شہر ِ نگاراں تک ” کے عنوان کے تحت لکھی گئی یہ تحریر پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پنڈی بھٹیاں میں جلوہ افروز پروفیسر اسد سلیم شیخ  کا قلم و ہنر ایسی کئی بھٹیوں  میں سے گزر کر کندن بنا ہے جن کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے ۔  ان کی یہ  تحریر ذوق سلیم کا پتہ  ہی نہیں راستہ بھی بتاتی ہے۔

حرف اول و دوئم پر لکھنے کے لیے میرے قلم کی بساط  تنگ پڑ جاتی ہے ۔ اس لیے کہ  یہ دونوں تحریریں  جن دو بڑے ادیبوں کے قلم سے نکلی ہیں  سید سلیم گردیزی اور محمد جاوید خان،       دونوں کا تعلق آزاد جموں وکشمیر کے قلم قبیلے کے اس گروہ سے ہے جنہوں نےنثری ادب کی آبیاری میں اپنے خون جگر کو شامل کیا ہے۔ گردیزی صاحب اگر “گرم پانیوں کی تلاش” اور  “غیر ملکی سیاحوں کی سیاحت کشمیر” جیسی تخلیقات سامنے نہ بھی لاتے تو  صدارتی ایوارڈ یافتہ  کتاب “میں نے کشمیر جلتے دیکھا” انہیں ادبیات کشمیر میں امرکر چکی ہے ۔”عظیم ہمالیہ کے حضور ” اور    “ہندوکش کے دامن میں”  لکھ کر محمد جاوید خان نے  سفرنامے کی بڑے لکھاریوں میں جو جگہہ بنائی ہے اس کا اعتراف  ان کے پہلے سفرنامے” عظیم ہمالیہ کے حضور”  کو انجمن ترقی پسند مصنفین کی طرف سے “سال 2019 کا بہترین سفرنامہ” کے ایوارڈ  کی صورت میں ہو ا ہے ۔

جس ایاز کیانی کو میں پیش لفظ میں ڈھونڈنا چاہتا تھا وہ مجھے نہیں ملا ،   مگر پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ،  وہ آگے چل کر مل جائے گا۔  “پہلی بات ” میں اس کا پرتو نظر آتا ہے۔ ان کے قلم سے لکھا گیا ” پیش لفظ  ” سفرنامے کے سفر کا ایک مختصر تنقیدی جائزہ  بھی ہے اور اعتراف ِ نعمت بھی  کہ انہیں علمی و ادبی شخصیات کی سنگت میسر رہی جو اس سفرنامے کو لکھنے کی تحریک بھی ثابت ہوئی ۔” آغاز سفر” راولاکوٹ اور راولپنڈی، اسلام آباد  کے درمیان باقاعدگی سے  سفر کرنے والوں کے عمومی سفری احوال کی مانند ہے مگر الفاظ کا چناؤ اور جملوں کی ساخت اسے پروفیسرانہ تجربہ  بنا دیتا ہے۔ 

لاہور یاترا میں ہمیں سیر کم اور تاریخی واقعات کی امتحانی تیاری زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ تاہم  لاہوریوں کے مزاج کا تذکرہ تحریر کو دلچسپ بنا رہا ہے۔ اور آگے تو کمال ہو گیا ۔ داتا کے دربار پر کھڑا مصنف اپنی ذات کے کشکول  میں غور و تدبر کے قطرے  نچوڑتا نظر آتا ہے۔مینار پاکستان پر اس کاتخیل کئی دہائیاں پیچھے چلا جاتا ہے۔  قذافی اسٹیڈیم ، چڑیا گھر، میوزیم، باغ جناح، ریس کورس پارک کی طاہرانہ سیر کے بعد  ” لاہور پیچھے رہ گیا” ۔

پھولوں کے شہر پتوکی پر اچھوتی نظر ڈالنے کے بعد سفر نگاروہاڑی میں قدم رنجہ ہوئے توزمانہ طالب علمی کے مہربان دوستوں نے مہمان نوازی سے نوازا۔ میلسی اور وہاڑی میں بھی جب مصنف سابق ہم جماعتوں میں معیت میں نظر آتے ہیں تو ان کا طریقہ واردات سمجھ میں آجاتا ہے۔بستی بستی پھرا مسافراور ہر بستی میں ملا شناسا۔ شناسائی کی راہ و رسم نبھانے میں یہ فائدہ بہرحال موجود ہے کہ قیام و طعام کی بے فکری ہو جاتی ہے مگر شہر کے عمومی مزاج کا سنگ آستاں نگاہوں سے اوجھل ہی رہتا ہے۔

ملتان کی تاریخ کے   اجمالی تذکرے ،  جامعہ زکریا کی راہداریوں میں بیتے  ہوئے دنوں کی یاد نگاری  اور ” گھنٹہ گھر  اور  قاسم باغ کے ملحقہ بازاروں کے ایک  چکر” کے بعد مصنف کی ملتان یاترا  کی پہلی قسط اختتام کو پہنچ جاتی ہے۔اگلی قسط کا ذکر آگے آنے والا ہے۔ دوسرے دن گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج شجاع آباد کے کھیلوں کے میدان اور دو خوبصورت بسوں کو دیکھنے کے بعد دوستوں کے ساتھ چائے نوشی  کے بعد  شجاع آباد پیچھے رہ جاتا ہے اور ہم مصنف کے ہمراہ    واپس ملتان پہنچ جاتے ہیں۔  

گول باغ اور  گھنٹہ گھر کے سرسری تذکر ے کے  ساتھ ہی جامعہ قاسم العلوم  پر تفصیلی بیان اور مابعد مصنف نے ایک مکمل مضمون مزار شاہ رکن عالم رحمہ پر تحریر کیا ہے، جس سے ان کی صوفیا کی  حیات و  تعلیمات  میں دلچسپی عیاں ہوتی ہے۔ اس سفرنامے میں یہاں وہاں   چلتے پھرتے سر راہ پڑتے  مقامات کی سیر بھی ملتی ہے جیسے ملتان کے قیام میں قلعۂ ملتان  کی سیر ۔ ظاہری و باطنی علوم میں یکتائے روزگار   حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمہ  اور شمس تبریزی شمس الدین سبزواری  رحمہ کا تذکرہ جس  محبت و عقیدت کا تقاضا کرتا ہے، مصنف نے اس سے  مکمل انصاف کیا ہے۔  

مصنف کا اگلا پڑاؤ اگرچہ کوئٹہ ہے مگر بلوچستان کے داخلی راستے  پر موجود  “رکنی” تک پہنچے سے قبل  وہ   خیال کے گھوڑے پر سوار ہو کر ڈیرہ غازی خان اور فورٹ منرو  کی تاریخ کو کھنگالنے پر کمر کس لیتے ہیں۔اس علاقے کی تاریخ کا تذکرہ ہم تاریخ و جغرافیہ کے طالب علموں پر چھوڑتے ہیں اور آگے چلتے ہیں۔  یہ سفرنامہ اگر مصنف کے راستے کی اگلی چیک پوسٹ یعنی   لورالائی سے شروع ہوتا تو  تب بھی کامیاب رہتا۔

 ایک سفر نگار جب حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے تو اسے وہ سب کچھ نیم وا آنکھوں سے بھی دکھائی دیتا ہے جو ایک عام مسافر کے بس کی بات نہیں ہے۔ سنگ مرمر کے کارخانوں، سڑکوں پر فراٹے بھرتی  چمکتی کاروں،   اور میلوں پر پھیلے بادام اور سیب کے باغات کے باوجود لورالائی میں غربت اور کسمپرسی  اشرافیہ کی جس بے حسی کا ماتم کرتی پھرتی ہے اسے ہمارا سفرنگار ایک نظر میں ہی پہچان لیتا ہے۔ قلعہ سیف اللہ کی زرعی زمینوں، منڈیوں، اور  برف پوش چوٹیوں پر انگریز سرکار کی نظر التفات ،  قبائلی سرداروں کے کارناموں،  جنگلی حیات، معدنیات و دیگر قدرتی وسائل  سب کا تذکرہ یا جائزہ ہمیں اس باب میں مل جاتا ہے۔

کوئٹہ پہنچ کر مصنف پر کیا گزری  یہ جاننے کے لیے آپ کو سفرنامہ پڑھنا ہوگا۔ یہاں بھی میزبانی کے فرائض  ادا کرتے  ہوئے شناسا چہروں نے اجنبیت کو قریب نہیں آنے دیا۔ جموں و کشمیر کے باسی کو کوئٹہ  اور کشمیر کے مظاہر قدرت  کے  موازنے کا بے شمار سامان یوں بھی مل جاتا ہے ۔اس کے باوجود حیرتوں میں غوطہ زنی جاری رہتی ہے کہ کوئٹہ ایک  یگانہ و یکتا شہر  ہے۔

مصنف کی ہنہ جھیل ، اڑک آبشار ، اور کوئٹہ شہر   کی سیر سے جڑی  خوشگوار یادوں اور ان مقامات کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے جملوں کے حِظ  کو ہم قاری کے لیے چھوڑتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔  کراچی شہر کے  “حبس زدہ گرم تندور” میں  گرتے ہی  مصنف  ایک نستعلیق  گو سفرنگار سے   منجھے ہوئے تجزیہ نگار بن جاتے ہیں۔  مزار قائد پر پہنچ کر ایاز کیانی  کامشاہدہ جس قوت سے سراٹھاتا ہے ، ان کا  قلم اس سے کئی گنا زیادہ ہنر مندی سے ان کا بھرپور ساتھ دیتا ہے۔حاشیہ حاشیے کا گواہ ہوتا ہے۔   مزار قائد  پر حاشیہ باندھ کر  لکھی ہوئی ان کی تحریر خصوصی توجہ مانگتی ہے۔

ایمپریس مارکیٹ،  بولٹن مارکیٹ، پرانا  اور  نیا کراچی ،  قدیم عمارتوں کا احوال اور ان کے تاریخی حوالے،  مسجد قبا ، ملیر ،  جامعہ کراچی، منوڑہ،   اورپورٹ گرینڈ کا تذکرہ بہت دلچسپ پیرائے میں کیا گیا ہے ۔ تاریخی حوالوں کو سفرنامے  کا حصہ بنانے کے لیے مصنف نے یقیناً عرق ریزی سے کام لیا ہے جس کے لیے وہ داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ ایک سفرنامہ نگار کے لیے واپسی کے سفر کا ذکر مشکل اور  صبر آزما ہوتا ہے۔

ایاز کیانی کا یہ سفر بھی واقعاتی تسلسل کے ساتھ بڑی  متانت ِفکر کے ساتھ   اختتام پذیر ہوتا ہے۔ سفر کے  اختتام سے پہلے مصنّف ذات کے سمندر میں غوطہ لگانا نہیں بھولا  ۔” آزاد پتن پر دریا بدستور خاموش اور پرسکون تھا ،  نجانے یہ سکون عارضی تھا یا  کسی طوفان کا پیش خیمہ ۔دریا کو روکنے سے  پہلے اس کی رضامندی لی گئی یا اس کے بغیر ہی اس پر بند باندھ دیا گیا۔” صد شکر کہ ہمارا یہ  سفر نگار نامراد نہیں لوٹا ہے ۔ لہجے بدلتی بستیوں کے سفر سے جب وہ واپس لوٹا تو اس کی ذات کا  سمندر پرسکون تھا ۔

Leave your comment !

Close