کتاب: تیز ہوا کا شہر مصنفہ : نیلما ناہید درانی، تبصرہ نگار: ثمینہ سید

نیلما ناہید درانی


ہم بے ہنر کمال سے آگے نکل گئے

یہ نیلما ناہید درانی کے ایک شعر کا مصرعہ ہے۔ یہ انکسار کی حد سمجھئے، ورنہ سچ تو یہ ہے کہ…
کچھ لوگ اپنی ذات کے ہر زاویے میں اس قدر مکمل ہوتے ہیں کہ دوست احباب فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ کون سا زاویہ، کون سا کام ان کی ذات کی شناخت ہے۔ کیونکہ وہ سب کام لگن سے کرتے ہیں۔

ایک ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت کی کتاب”تیز ہوا کا شہر” مصنفہ نے محبت سے میرے نام لکھ کے بھیجی تو میں نے ورق ورق پڑھ ڈالی۔ حیرت کے در وا ہوتے چلے گئے۔

نیلما ناہید درانی بہت پیاری انسان ہیں ۔ رخساروں کو گلابی کرتی مسکراہٹ ان کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ بلا کی ذہین عورت ہیں۔ ہر وقت سوچتی ، بولتی، رقم کرتی ہوئی آنکھیں کتابوں کی صورت پکے رنگ چھوڑ رہی ہیں. ان کے نام کے ہجے روشن کر رہی ہیں.جو تادیر اپنی چمک سے یہ نام اگلی نسلوں تک منتقل کریں گی۔

“کتاب” لکھنے والے کی ذات کا حوالہ اور شخصیت کی عکاس ہوتی ہے۔ نیلما کی ذات کے رنگ شاعری بن کے بکھرتے ہیں تو کمال کرتے ہیں۔ نثر، نظم، سفرنامے اور افسانے ہر ایک صنف میں ان کا مشاہدہ، اسلوب کی سادگی,تحقیق کی گہرائی اور کام سے لگن صاف نظر آتی ہے۔

لہجے کی توانائی اپنا آپ منواتی ہے. پولیس کی شاندار نوکری، ادب سے لگاؤ,ٹیلی ویژن پہ اناؤنسر,کھیل اور کھلاڑیوں کے متعلق جامع معلومات ۔ نیلما تو معلومات کا انمول خزانہ ہیں۔

اپنے کام سے کام رکھنا,اپنے سے چھوٹوں کو محبت سے بازو کے حصار میں لے کے داد دینے کا حوصلہ بھی انکے وقار کو بڑھاتا ہے.تہذیب اور شائستگی کی مثال ہیں.

ایک سو اٹھائیس صفحات پہ مبنی اس کتاب کے اندر مختلف النوع چیزیں ہیں.سلمی’ آپا کہتی ہیں
“نیلما ناہید درانی ہمہ جہت قسم کی خوب صورت شخصیت ہیں.زندگی میں اگر ایک طرف اس نے پھولوں,ستاروں,خوشبوؤں بارش,بادل,پیار کی باتیں کی ہیں تودوسری طرف وہ عملی زندگی میں تھانہ ,کچہری جیسے ماحول میں سانس لیتی تھی.دو متضاد رویے,شخصیت کے دوروپ اور وہ ہرروپ میں مکمل کامیاب ہیں.”
اب میں کیا کہوں سلمی’ آپا کی رائے نے تو مہر لگادی.نیلما جی کی شخصیت اور تجربات کی رنگا رنگی مجھے تو پوری طرح اپنے حصار میں رکھتی ہے.ہمت دلاتی ہے.دکھوں سکھوں کو لپیٹ کر ایک طرف رکھنے اور کام سے محبت پہ اکسانے والی ہیں
کتاب میں پہلے سفرنامے ہیں.ازبک پری سے ملاقات میں نیلما جی نے اپنی دوست شہزودہ سے ہماری ملاقات کروائی.تحریر کی روانی اور سادگی متاثر کن ہے.
شہزودہ نے کہا” آپ دنیا میں میری پسندیدہ ترین خاتون ہیں”
ہماری نیلما ہیں ہی ایسی کہ ان سے محبت کی جائے .ان کے ساتھ پہ فخر محسوس ہو.


“شاہ اسماعیل خطائی کے دیس میں” باکو کی گلیوں محلوں کی خوب سیر کروائی.”یہاں کے لوگ صرف شکل وصورت اور قدو قامت میں ہی خوب صورت نہیں بلکہ اپنی گفتار,اطوار اور نفاست میں بھی بے مثل ہیں.”
“شاہ اسماعیل خطائی کا مجسمہ سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا تھا.یوں لگتا تھا جیسے ساری ٹریفک اس کا طواف کر رہی ہو.ایک اور ادیب سے تعارف ہوا.شاعروں اور ادیبوں کے مجسمے ہر آنے جانے والے سے انکی ملاقات کرواتے ہیں.ان کی تکریم کرواتے ہیں.” باکو جو آذر بائیجان کا خوبصورت ترین شہر ہے. ہم نے بھی گھوم لیا.
مجسمے تک نظر میں سمو لیے.
“آتش گاہ” میں لکھتی ہیں.
“میں جہاں جاتی ہوں وہاں کی گلیوں بازاروں میں گھومنے نکل جاتی ہوں.پرانے شہر کی پرانی گلیوں میں گزرے زمانے کے لوگوں کی خوشبو بسی ہوتی ہے.”
“زرتشت سے محبت اور خیروشر کے فلسفے سے دلچسپی بھی زمانہ طالب علمی میں ہی شروع ہوئی تھی.

نیلما نے فضولی جو آذر بائیجان کا اہم ترین شاعر ہے. تین زبانوں میں شاعری کرنے والے کا مجسمہ اسٹیشن سے نکلتے ہی ایستادہ دیکھا.تو قدموں میں بیٹھ کر سوال کربیٹھیں.
عشق کی کہانیوں کو ہی دوام کیوں ہے؟
لکھتی ہیں.” فضولی کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ پھیل گئی.سورج کی کرنوں نے رخ بدلا تو ان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آگئی.
“عشق حق ہے…….حق عشق ہے…جس دن تمہیں یہ بات سمجھ آگئی تمہاری شاعری کو بھی دوام مل جائے گا.”
حضرت بی بی ہیبت اور شاعرہ خورشید بانو ناتواں سے خوب تفصیلی تعارف کرواتی ہیں.اورروضہ کے وسیع صحن میں کھڑی سوچتی ہیں.
“باکوطوفانی ہواؤں کا شہر ہے جو اس قدر شدید ہوتی ہیں کہ سنبھلنا مشکل ہوجاتا ہے.”
تو اب سمجھ آئی کہ کتاب کا نام “تیز ہوا کا شہر” کیوں ہے.اگر باکو کے متعلق نہ ہوتی تو “تیز ہوا کا شور” ہی نام ہوتا..نظامی گنجوی اور نیشنل میوزیم فار لٹریچر کی سیر کرواتے ہوئے لکھتی ہیں.
“نظامی نے اپنی تین مثنویاں .ہفت پیکر,خسروشیریں اور سکندر نامہ کو شاہنامہ فردوسی سے متاثر ہو کر لکھا”
پرانا باکو بھی قدم قدم دکھا ڈالا.پھر اس فنکاروں ,شاعروں اورادیبوں کی سرزمین کو الوداع کہتے ہوئے لکھتی ہیں.

“اپنے دیس پہنچنے پر ایسا لگا جیسے ہم اپنا کچھ بھول آئے ہیں باکو کی گلیوں میں!”
مضامین کا سلسلہ بھی اسی کتاب کے دامن میں سجا ڈالا.یہ مضامین ہم فیس بک پر بھی تسلسل سے پڑھ رہے ہیں اور ہر سادہ سی چیز میں نیلما کی الگ نظر اور اپروچ کے قائل ہوئے جاتے ہیں.پہلا باب اپنے دادا جان کے متعلق لکھ کر یہ ثابت کر ڈالا.کہ وہ اپنی جڑوں سے گہری نسبت اور جڑاؤ رکھتی ہیں.چھوٹی سے چھوٹی یاد کو بھی قیمتی بنانے کا ہنر جانتی ہیں.
محسن نقوی پہ مضمون تعارف,نسبت تعلق اور عقیدت بھرا خراج ہے.زندگی کی بےثباتی نے آنکھیں نم کردیں.
مشیر کاظمی,آقائی صادق گنجی ,عمران خان,فضل محمود,طارق عزیز,صدیقہ بیگم,صبیحہ خانم اورامان اللہ کے بارے میں منفرد اور اپنائیت بھرے مضامین نے ان گزرے ہوئے پیارے لوگوں کو ایکبار پھر دلوں میں دھڑکنے اور کچھ پل جینے کی مہلت دے دی.
پھر کچھ افسانے اور کچھ افسانوی طلسم سے بوجھل ملاقاتوں کی روداد نے نیلما کے حرف حرف کو طراوت بخش دی.
نیلما کی یہ سترھویں کتاب ہے.لیکن مکمل گرفت,تجسس,دلچسپی, اور تسلسل کی غماز ہے.یقین ہے کہ یہ سفر جاری وساری رہے گا.بہت محبت کے ساتھ اگلی کتاب کا انتظار آج سے شروع۔