ٹہاکیاں نے پُھل ہماری طرف پہاڑی علاقوں میں چڑھائی والے پیدل راستے کو ٹہکی کہا جاتا ہے اورچڑھائی چڑھنے کو “ٹہکی چھکنا” کہتے ہیں۔اور ٹہاکہ ایسی ڈھلوان یا پہاڑ کو کہتے ہیں جہاں سے گرنے کے امکانات زیادہ ہوں۔ان ٹہاکوں پر گھاس بھی ہوتی ہے۔کہیں کہیں پھول بھی ہوتے ہیں۔

درخت اور جڑی بوٹیاں بھی ہوتی ہیں اور کچھ ٹہاکے بالکل خشک بھی ہوتے ہیں۔”ٹہاکیاں نے پُھل” ایک شعری مجموعہ ہے جس کے مصنف شکیل اعوان صاحب ہیں۔شکیل اعوان صاحب کو آپ سب جانتے ہی ہوں گے وہ سریلی آواز اور گائیگی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔

وہ مشہور فوک گلوگار ہونے کے ساتھ ساتھ پہاڑی اور اردو زبان کے بہترین شاعر بھی واقع ہوئے ہیں۔ان کا یہ شعری مجموعہ پہاڑی ہندکو لہجے میں لکھی گئی غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے مادری زبان کے ٹھیٹھ الفاظ،محاورات،علاقائی مثالوں کا بھرپور استعمال کیا ہے۔

لکھتے ہیں کہ:-روئی روئی سُکی گئیاں اتھرو نیاں ٹنّاںاکھیں تاڑے لگیاں ہوئیاں مڑ وہ مہاڑیا چناّںکوئی آخن سنی چنگے ، کوئی آخن وہابیمیں آں ساد مرادی بندہ کس کس نیاں مناّںست چوہے کھائی بلی حجے اپر ٹریچھج پرونے کی مینے دینا سنیا اپنے کنّاںہک آساں ناں دل نہ سانجھا باقی ہر شے سانجھیکنداں ، بیڑے ، پانی ، لانگا ، کوٹھا ، ڈوغا، بنّاںآخان سیانیاں لوکاں ناں یا یار شکیل پراناپتر اپنے چنگے لگنے پر پرایاں رنّاںاکھیں تاڑا لگنا خالص پہاڑی زبان کا جملہ ہے جو اب معدومیت کا شکار ہوگیا ہے

۔شدت سے راستے دیکھ کر کسی کا انتظار کرنے یا نزاع کے وقت آنکھیں ایک جگہ رک جانے کو “اکھیں تاڑا لگنا”کہتے ہیں۔اسی طرح “ست چوہے کھائی بلی حجے اپر ٹری”یہ کہاوت بھی تقریباً تمام مادری زبانوں میں اپنے اپنے لہجے کے ساتھ استعمال ہوتی ہے۔اسی طرح “چھج پرونے کہہ مینا دیسی ” اس مشہور کہاوت کو بھی مصنف نے استعمال کرکے جہاں غزل کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے وہاں ایک مشہور پہاڑی آخان کو بھی محفوظ کیا ہے۔کتاب کی ہر نظم اور غزل اپنی مثال آپ ہے اور پہاڑی زبان اور ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔

شکیل اعوان صاحب سمیت وہ تمام لوگ خراج تحسین اور ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں جہنوں نے اپنی بولی کے لیے کسی نہ کسی انداز میں کام کیا ہے یا کر رہے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ پہاڑی زبان کروڑوں لوگوں کی زبان ہونے کے باوجود آج تک اس کا نہ کوئی مستقل رسم الخط بن سکا اور نہ لغت مرتب ہو سکی اور نہ ہی سرکاری نصاب میں شامل ہو سکی۔حالانکہ دانشوروں کا کہنا ہے کہ بچہ مادری زبان میں بات کو جو جلدی سمجھتا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ پہاڑی کتابیں بہت کم لوگ پڑھتے ہیں۔

“ٹہاکیاں نے پُھل ” کا جب سے مجھے پتہ چلا تب سے تلاش کرنے کی کوشش کی حتی کہ مصنف سے بھی رابطہ کیا کہ کتاب بھیج دیں لیکن مصنف نے بھی “لارا” لگایا کہ لاہور آؤں گا تو ساتھ لے آؤں گا-بالاخر مانسہرہ سے کتاب دوست اور ہمارے پیارے دوست عظیم ناشاد اعوان صاحب نے ایبٹ آباد سے کتاب خرید کر مجھے بھیجی اور میرے ذوق کی تسکین کی۔بہت بہت شکریہ عظیم ناشاد بھائی۔۔۔۔۔اگر آپ شکیل اعوان صاحب کو نہیں جانتے تو ذیل میں دئیے گئے لنک کو کلک کر کے ان کا گیت سن لیں یقیناً آپ جھوم جائیں گے اور تعارف بھی ہو جائے گا۔https://www.facebook.com/Kay2TV/videos/262899045149041/