افسانہ   = خاموشی/ بشریٰ حزیں

بشریٰ حزیں خاموشی کے زہر میں بجھی گھر کی فضاء چیخ چیخ کے بتا رہی تھی کہ مکین ناراض ہیں ۔ زین اور روحی ایک گھر میں رہتے ہوٸے بھی ایک قانونی و شرعی رشتے میں بندھے دو اجنبی تھے جن کے درمیان واجبی سی بات چیت ہوتی تھی ۔ ” بھوک لگی ہے “۔؟  […]

۔۔۔ محبت زندہ باد ۔۔۔۔۔۔۔ بشریٰ حزیں

بشریٰ حزیں ۔ محبتوں کے سفیر لوگوامیر لوگوگلاب بانٹوکہ نفرتوں سے تھکی فضاؤں میںجان آئےمحبتوں کے سفیر لوگومحبتوں سے سجے ہوئے پلکسی کے ڈر سے نہیں گنواؤوہ جن کی آنکھوں سے چھُپ کے بیٹھے ہوان کو فرصت کہاںکہ نکلیںہوس کی اپنی کمین گاہ سےمحبتوں کے سفیر لوگوجواپنی خلوت کی چار دیواریوں میںوحشت کے گندے چھینٹےاڑا […]

شاعری کھیل نہیں| بشریٰ حزیں

بشریٰ حزیں دوستو ! پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم پہ آپ کے فکروفن کی حوصلہ افزائی اور ترویج کے لئے ہم سب ہمہ وقت حاضر اور کوشاں ہیں۔ لکھنے کی صلاحیت ایک امانت ہے ٫ ایک فریضہ ہے اور جسے یہ نعمت عطاء ہوتی ہے وہ ادب کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے […]

عورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بشریٰ حزیں

عالمی یوم خواتین کے حوالے سے  جذبوں کی  شاعرہ  بشریٰ حزیں کی خا ص نظم عالمی دن نہیں پورا عالم مرا سارے دن ہیں مرے زندگی کی عمارت کی وہ اینٹ ہوں جس کو بنیاد میں رکھ کے بھولے ہو تم میں خداؤں مجازی خداؤں کی جنت کی وہ حور ہوں جس کو تمغوں سے […]

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact