تحریر:  ڈاکٹرعتیق الرحمن 

چند دن قبل سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل بینکوں کو کچھ ہدایات جاری کیں۔ ان ہدایات میں کار فائنانسنگ، کنزیومر فائنانسنگ سے متعلقہ ہدایات شامل ہیں۔ مثلا یہ کہ  کار فائنانسنگ  کی مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی۔ کار کے لیے تیس لاکھ سے زیادہ رقم کے قرضے جاری نہیں کیے جا سکتے اور یہ کہ ڈاؤن پیمنٹ پندرہ فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دی گئی۔ اس قسم کی ہدایات  پروڈینشل ریگولیشنز کہلاتی ہیں۔ پروڈینشل ریگولیشن اسٹیٹ بینک کی وہ طاقت ہے جو اسے بہت عرصے بعد یاد آئی۔ اسٹیٹ بینک جو کام پالیسی ریٹ بڑھا کر کرنا چاہتا ہے، اسے بہت آسانی کے ساتھ پروڈینشل ریگولیشنز کے ساتھ  کیا جاسکتا ہے۔ اور پروڈینشل ریگولیشن کے استعمال سے  ان نقصانات سے بھی بچا جاسکتا ہے جو پالیسی ریٹ کے بڑھانے سے حکومت اور عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ اس کے ساتھ  صارفین کا تحفظ زیادہ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ 

پالیسی ریٹ بڑھانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ  مجموعی ڈیمانڈ کو کم کرکے قیمتوں پر قابو پایا جاسکے کے۔ مثلا پالیسی ریٹ کے کم ہونے سے سے لوگوں کے لئے کار خریدنے میں زیادہ آسانی پیدا ہوتی ہے۔ اس سے بڑے پیمانے پر  کاروں کی خریداری کا رجحان  بڑھ جاتا ہے، جس سےکارکی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ ایسے میں اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں اضافہ کرکے ڈیمانڈ کو کم  کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس کوشش کے متعدد د دیگر نقصانات ہوتے ہیں۔ مثلا  پالیسی ریٹ کے بڑھنے سے کاروبار کے لیے  بھی رقوم کی فراہمی مہنگی ہو جاتی ہے ، جس سے مجموعی سپلائی میں کمی ہوتی ہے اور نتیجتا مہنگائی کے مزید بڑھنے کا امکان  موجود رہتا ہے۔ اسی طرح پالیسی ریٹ کے بڑھنے سے حکومت کے اپنے قرضوں پر سود کی رقم بڑھ جاتی ہے، جسے فائنانس کرنے کے لئے حکومت کو ٹیکسز بڑھانے پڑتے ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور بوجھ عوام پر منتقل ہوتا ہے۔ اسی طرح  نئے کاروبار شروع کرنے کے لئے رقوم کا حصول مشکل تر ہوجاتا ہے، یہ ساری چیزیں مل کر اقتصادی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ 

کنزیومرلون میں سے بھی ہر قسم کا قرض یکساں مراعات کا مستحق نہیں ہوتا۔ اگر قرض مکان کی تعمیر کے لئے ہو  تو ایسے قرض عوام  کو سہل شرائط پر ملنے چاہییں، لیکن اس کے برعکس بڑی اور لگژری کا ر کے لئے قرض کا حصول  دشوار اور مہنگا  ہونا چاہیے۔یعنی  ہر قسم کے قرض کے لئے جداگانہ مراعات کے پیکیج کی ضرورت ہوتی ہے۔ مراعات کا فرق صرف پروڈینشل ریگولیشن ہی سے ممکن ہے ۔ مثلا اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کو یہ ہدایات جاری کر سکتا ہے کہ مکان کی تعمیر کی خاطر دیا گیا قرض کائبور+ 2 سے زیادہ پر نہ ہو، اور امپورٹڈ کاروں کے لیے دیا گیا قرض  کائبور+ 10 سے کم پر جاری نہ کیا جا سکے۔

اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کو مزید اس قسم کی کی ہدایات بھی جاری کر سکتا ہے کہ بنک کے مجموعی قرضوں کا کم از کم 50 فیصدکاروباری قرض کے لیے دیا جائے ،اور اس کاروباری قرض میں سے کم از کم 25 فیصد نئے کاروبار کے لیے دیا جائے، اسی طرح سٹیٹ بینک یہ ہدایات جا ری کر سکتا ہے کہ مجموعی قرض کا کم از کم کم 10فیصد ہاؤس فائنانسنگ کیلئے دیا جائے۔ بینک کا کاروبار بہت زیادہ فارمل کاروبار ہوتا ہے جہاں  اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر عمل درآمد کو آسانی سے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ پروڈینشل ریگولیشن کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ صرف انہی اشیاء کی ڈیمانڈ کم کی جائے آئے جن کی ڈیمانڈ میں کمی میں قومی مقاصد سے ہم آہنگ ہو۔ 

اس کے برعکس سٹیٹ بنک عموماً ڈیمانڈ میں کمی کے لیے  پالیسی ریٹ بڑھانے کا نسخہ آزماتا ہے۔  مثلا 20 ستمبر کو سٹیٹ بنک نے پالیسی ریٹ میں 0.25 فیصد اضافہ کیا۔ یہ اضافہ لگژری کاروں کے خریداروں کیلئے بے معنی ہے، لیکن اس کے بہت سارے دیگر غیر پسندیدہ نتائج ہوتے ہیں۔ مثلا حکومت نے جو قرض کمرشل بینکوں سے حاصل کررکھے ہیں، ان  پر شرح سود کا انحصارپالیسی ریٹ پر ہوتا ہے۔ اگر پالیسی ریٹ بڑھ جائے تو ان قرضوں پرشرح سود بھی بڑھ جاتی ہے اور اس کے ساتھ سودی ادائیگیاں بھی بڑھتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت سودی ادائیگیاں وفاقی حکومت کے اخراجات کا سب سے  بڑا  سبب ہیں۔ رواں سال کے وفاقی بجٹ میں 33 فیصد رقم سود کی ادائیگیوں کے لیے مختص ہے۔ یہ رقم دفاعی بجٹ کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔   سود کی اتنی بڑی ادائیگیوں کی واحد وجہ پاکستان میں پالیسی ریٹ کا زیادہ ہونا ہے۔ آج دنیا کے اکثر ملک میں میں پالیسی ریٹ ایک فیصد سے کم ہے ،جبکہ پاکستان میں پالیسی ریٹ حالیہ اضافے کے بعد 7.5 فیصدہوچکا ہے۔ پاکستان میں موجود پالیسی ریٹ امریکہ کے پالیسی ریٹ کی نسبت 29 گنا زیادہ ہے۔ یعنی جتنا قرض پاکستان نے اپنے کمرشل بینکوں سے  حاصل کر رکھا ہے، اگر اتنا ہی قرض  امریکہ نے لیا ہو تو اسے ان قرضوں پر سود کی مد میں صرف 100  ارب کی ادائیگی کرنی ہوگی،  جب کہ پاکستان اتنے ہی قرض  پر 2750 ارب  خرچ کر رہا ہے۔ سود کے لیے اتنی بڑی رقم مختص کرنے سے دیگر اخراجات کے لیے رقوم کی فراہمی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔ 

اتنی بلند شرح سود کی وجہ سے کاروبار کے لیے قرض کی فراہمی بے حد مشکل ہو جاتی ہے۔ آج جب پالیسی ریٹ 7.25 فیصد ہے، بینک کے لیے کاروباری قرض جاری کرنا  10 فیصد سے کم کی شرح پر ممکن نہیں، جبکہ ان ممالک میں جہاں پر پالیسی ریٹ ایک فیصد یا اس سے کم ہو، وہاں کاروبار کے  لئے قرض کا حصول 3 سے 4 فیصد پر آسانی سے ممکن ہے۔ ظاہر کے پاکستان کے کاروباری حضرات کیلئے ان کے ساتھ مسابقہ ناممکن ہوگا۔

اس لئے میں عرصہ سے اس بات پر اصرار کر رہا ہوں کہ مہنگائی کم کرنے کیلئے پالیسی ریٹ والا نسخہ نہ آزمایا جائے۔ 2021 کے دران دنیا کے 25 ممالک نے اپنے ہاں پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا، ان میں سے کسی ایک بھی ملک میں مہنگائی میں کمی کی  شہادت نہیں ملی۔ مہنگائی  یا ڈیمانڈ کو کم کرنے کیلئے ٹارگٹ کر کے ان ہی اشیاء کیلئے ڈیمانڈ میں کمی کے اقدامات کئے جائیں جن کی ڈیمانڈ کو کم کرنا معیشت کیلئے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ پالیسی ریٹ میں اضافہ وفاقی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی کی شکل میں عوام پر منتقل ہوتا ہے اورکاروبار کو مشکل تر بناتا ہے ۔

Leave your comment !