تحریر  : شبیر احمد ڈار
        معاشرہ افراد کے ایسے گروہ کا نام ہے جہاں سب مشترکہ مفاد کے تحت زندگی بسر کرتے ہیں  ۔ معاشرے میں انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کو ترجیح دی جاتی ہے ۔  عہد حاضر میں ہمارا معاشرہ تیزی سےبگاڑ کی راہ پرگامزن ہے ۔ معاشرے میں احساس ختم ہو رہا اور  خوفناک وحشت و درندگی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ۔ آج معاشرے میں ایسے سانحات رونما ہو رہے ہیں جن کو دیکھ اور سن کر رونگھٹے  ہو جاتے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں ۔  ایک ہی بات ذہن میں آتی جو معاشرہ امن و سکوں کی علامت تھا آج جنگلی حیوانوں میں بدل چکا ہے ۔
     اخلاقیات سے وابستہ رہنے والی قومیں ہی اس دنیا میں عروج پاتی ہیں مگر بد قسمتی سے ہم نے اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیا ہے ۔ قرآن و سنت کو چھوڑ دیا ہے اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پھنس کر رہ چکے ہیں۔   ٹیکنالوجی کا درست استعمال کر کے اقوام اگرچہ ترقی پارہی ہیں مگر ہمارے ہاں زوال پذیر اور اخلاقی پستی کے شکار معاشرے میں اس کا غلط استعمال ہو رہا جس سے ہم اپنے مذہبی، معاشرتی اور خاندانی نظام کو کھوکھلا کر رہے ہیں اور آئندہ آنے والی نسلوں کو ایک زوال پذیر معاشرہ دے رہے ہیں ۔
   معاشرہ کردار سازی کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر آج ہماری نوجوان نسل معاشرے میں فسادات کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ والدین اپنی ذاتی مصروفیات میں اپنےبچوں کو تعلیم تو دے رہے مگر تربیت نہیں ۔ والدین اپنے بچوں سے مکمل غفلت کا شکار ہیں کہ ان کے بچے کیا کر رہے؟ کون سی سنگت انھوں نے اپنائی ہوئی ہے ؟ کون سے مشاغل میں یہ مصروف ہوتے ہیں ؟ جب ہم یہ چیزیں بھول جائیں گےتو زوال ہمارا مقدر بنے گا۔  ہماری زندگی میں زوال مال و  دولت کی کمی یا وسائل کی کمی سے نہیں آتا بل کہ اخلاقی پستی کی وجہ سے آتاہے ۔ اس کے نتائج بھی بھیانک ہوتے ہیں جس سے معاشرے میں سکون ختم ہو جاتا ہے ، بیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں رہتی ، بڑوں کا ادب و احترام ختم ہو جاتا ہے ،بیٹا باپ کا قاتل بن جاتا ہے ، حلال و حرام میں فرق ختم ہو جاتا ہے ، بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے ، والدین سے دوری اختیار کرنے میں سکون ملتا ہے ، دوسروں کے حقوق غصب کرنے پر ہماری توجہ ہوتی ہے یہ سب چیزیں ہماری اخلاقی پستی کی وجہ سےممکن ہوتی ہیں۔
   جنسی بے راہ روی ، مخلوط نظام تعلیم ، اخلاقی تربیت کی کمی ، طبقاتی تقسیم ، مناسب راہ نمائی کا فقدان ، مال و دولت کی ہوس وغیرہ  ہماری نوجوان نسل میں اخلاقی اقدار کی کمی کی اہم وجوہات ہیں  ۔ ہم اپنے بچوں کو اسکول میں اس لیے بھیجتے تاکہ وہ ایک ڈاکٹر یا کیپٹن  بنے ہماری کبھی یہ سوچ نہیں ہوتی وہ ایک اچھا انسان بنے,وہ معاشرے کے لیے فائدہ مند بنے , وہ جس بھی مقام پر ہو سب کے لیے باعث فخر بنے مگر ہماری نظر صرف سیلری پیکج پر ہوتی ہے ۔  والدین بچوں کے سامنےنشہ کرتےہیں اور انھیں دکان پر نشہ آور اشیاء لانے کے لیے بھیجتے ہیں جس کا شکار وہ بچہ بھی ہو جاتا ہے اور ہم اس کے ذمہ دار کسی اور ٹھہراتے ہیں ۔ قبروں سے مردےنکال کر ان کے جسم سے زیادتی ہو رہی ، عوامی جگہوں پر عورت کو سرعام نوچا جاتا ہے ، نابالغ بچیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے ، بیٹا باپ کو جائیداد کے لیے قتل کر دیتا ہے ، بیٹابیوی کو خوش کرنےکے لیے ماں باپ کو چھوڑ دیتا ہے ، بہنوں کی خوشیوں کی بجائے نشہ آور چیزوں کی خرید و فروخت پر ہماری توجہ ہوتی ہے کیا ہم ایسے معاشرے میں رہ کر ترقی کر سکتے ہیں یقینا نہیں ۔ اس نظام کو بدلے بغیر ہم کبھی ایک انچ بھی ترقی نہیں کرسکتے ۔
   آئیں مل کر عہد کریں کہ خود بھی بدلیں گے اور اس سماج کوبھی بدلیں گے  ۔ اس سوچ کی ابتدا خود سے کرنی یے جب ہم خود نہیں بدلیں گے

Leave your comment !