تحریر: نقی اشرف
جب کبھی مجھے اپنے بارے میں کچھ لکھنا پڑے تو مجھے بہت ہچکچاہٹ سی ہوتی ہے،اپنے  بہن بھائیوں ،قریبی رشتے داروں اور دوستوں کے  حوالے سے لکھنا  اور با لخصوص وہ کچھ لکھنا  جس سے اُن کی تعریف و توصیف کا کوئی پہلو نکلتا ہو،مجھے معیوب لگتا ہے،اسی لیے میں ایسا کرنے سے ہمیشہ گریزپا رہا ہوں۔ مگر زندگی میںکچھ گھاو  ایسے لگتے ہیں کہ انسان  تحریر سمیت اظہار کا ہر راستہ اپنا کر اپنے آپ کو ریلیف دینے کی کوشش کرتا ہے۔ کورونا کی یہ وبا جس نے ہر امیر و غریب،فقیر و بادشاہ سب کو بلا تفریق نشانہ بنایا ہے اور ہمیں ہمارے پیاروں سے محروم کیا ہے،اس وبا کے ہاتھوں زندگی ہار دینے والے اپنے کسی قریبی عزیر و رشتے دار یا دوست و ساتھی کے بارے میں کچھ ضبطِ تحریر میں لایا جائے تو اُسے میری ناقص رائے میں آب بیتی نہیں بلکہ جگ بیتی ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ میں ہمیشہ  انسانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے زیادہ  خراجِ تحسین پیش کرنے کا قائل رہا ہوں مگر کچھ قریبی رشتے جن  کی زندگی میں ایسا کرنا مشکل لگ رہا ہو تو اُن کے دُنیا سے پردہ کرجانے کے بعد اُن کے حوالے سے کچھ لکھنے میں حرج نہیں ہے۔  اسی لیئے میں نے اپنی بہن کے  حوالے سے یہ خامہ فرسائی کی ہے۔
میرے والد مرحوم نے تین شادیاں کیں۔ اُنھیں ایسا  با امرِ مجبوری کرنا پڑا۔ جب  اُنھوں نے پہلی شادی کی تو ہمارے  دو بھائی اور دو بہنیں پیدا ہوئیں،ہمارے وہ بہن بھائی چھوٹے ہی تھے کہ ہماری  اُس والدہ کی وفات ہوگئی،پھر والد مرحوم نے دوسری شادی کی ،چند ہی سالوں میں ہماری وہ والدہ  ایک بیٹی،جس کا نام نسیم اختر رکھا گیا کو جنم دیکر دُنیا سے رُخصت ہوگئیں۔ گھر میں بڑی عُمر کی کوئی خاتون نہ ہونے  کے باعث اُس شیرخوار بچی کو اُس کی نانی پالنے پوسنے کے لیئے ننھیال لے گئیں۔ پھر ہمارے والد نے  اپنی تیسری شادی ہماری  والدہ سے کی۔ ہماری والدہ  نے اپنی شادی کے  بعد جاکر نسیم اختر جسے ہم بہن بھائی باجی کہہ کر پکارتے تھے جبکہ دیگر لوگ شِمولی باجی، کو اُس کی نانی سے  اپنے پاس لایا۔ ہماری والدہ سے ہم چار بھائیوں اور دو بہنوں کی پیدائش ہوئی۔بڑے بہن بھائیوں کو علم ہوا ہوگا مگر ہم چھوٹے بہن بھائیوں کو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ ہماری اور باجی کی والدہ الگ الگ ہیں۔ جب ہم نے ہوش سنبھالا تو تو کوئی  سگے اور سوتیلے کی تفریق کرتا تو ہمیں حیرت سی ہوتی کہ وہ کیا کہہ رہا  ہے اور دُکھ سا ہوتا کہ وہ باجی کو ہماری  حقیقی بہن کی طرح نہیں سمجھتا ۔ممکن ہے جن لوگوں کی حقیقی اور سوتیلی مائیں بیک وقت موجود ہوتی ہوں،ا ُن بہن  بھائیوں میں تفریق ہوتی ہو مگر ہم نے کوئی سوتیلی ماں اور اُس کا سوتیلاپن تو دُور اپنی ماں اور باپ کو بھی کم ہی عرصہ دیکھا،اس لیے ان باتوں سے ناآشنا ہی رہے۔ہمیں اپنی باجی دوسری بہنوں سے کہیں بڑھ کر عزیز تھیں۔ ہمارا ایک بھائی  باجی سے سال بھر ہی چھوٹا تھا۔ دونوں  ایک ساتھ کھیل کُود کر پلے بڑھے۔ بڑی بہن اُنھیں پڑھاتیں،دونوں بہت اچھے پڑھ رہے تھے۔ دونوں پرائمری تعلیم ہی حاصل کرپائے تھے کہ  باجی بیمار پڑ گئیں۔ باجی کا جسم اچانک اکڑ  جاتا،وہ فلک شگاف چیخیں مارتیں  جو پورے  محلے میں سُنائی دیتیں۔اُن کے منہ سے جھاگ نکلتی۔اُن کی  آواز بھاری ہوکر مردانہ سی ہو جاتی اور وہ گفتگو میں اپنے لیے مذکر کا صیغہ استعمال کرتیں۔  جب اُن کو یہ حالت پڑتی تو ہم چھوٹے بہن بھائی ڈر سہم جاتے۔ والد  اور والدہ کا کہنا تھا کہ باجی کو کسی جن کا ـــ’’داخلہ‘‘ ہوگیا ہے۔  باجی کو پاکستان بھر میں مختلف ڈاکٹروں کو دکھایا گیا،درگاہوں پر گھمایا گیا مگر کوئی افاقہ نہیں ہورہا تھا۔ اس کیفیت میں چند سال گُزر گئے۔ بالآخر والد مرحوم کے بقول جہلم کے کسی عالم دین نے اُن کا  علاج کیا تو وہ ٹھیک ہوگئیں۔’’ جِن‘‘ سے باجی کی جان تو چھُوٹی مگر اُن کی تعلیم اُدھوری رہ گئی۔ باجی بیس سال کو پہنچی تھیں کہ اُن کی شادی کردی گئی۔ جیون ساتھی اچھا ملا،جس نے بہت پیار دیا اور باجی کا خوب خیال رکھا مگر دُکھوں کی دیوی تو جیسے باجی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی تھی۔ شادی کے محض پندرہ سال بعد اُن کے خاوند کی حرکتِ قلب بند ہونے سے وفات ہوگئی۔  پینتیس سال کی عُمر جس میں ہمارے ہاں بعض خواتین کی شادی ہوتی ہے یا اکثر خواتین کی شادی ہوئے محض چند سال ہوئے ہوتے ہیں،باجی اُس عمر میں بیوہ ہوگئیں اور چار بچے بھی یتیم رہ گئے۔ گو کہ باجی کی تعلیم محض واجبی سی تھی مگر  باجی کی بات چیت اور معاملا فہمی سے باجی کی تعلیم کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔  باجی کو یہ راز معلوم تھا کہ دُنیا خوش باش رہنے والوں  اور رکھنے والوں کے ساتھ دُور تک چلتی ہے مگر اُداس،رونے دھونے اور پریشان رہنے  والوں سے جلد ہی دُوری اختیار کرلیتی ہے،اسی لیئے  اُنھوں نے اپنے دُکھوں اور غموں کو اپنی طاقت بنا لیا۔  اپنے خاوند کی وفات کے بعد یوں ’’۔مردانہ وار‘‘۔کھڑی ہوگئیں کہ اپنے بچوں کو محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ وہ یتیم اور بے سہارا ہیں۔  اُن کے چہرے پرہمیشہ مسکراہٹ سجی رہتی اور ہنسی مذاق کرتیں۔ مجھے نہیں یاد کہ کسی بہن بھائی سے اُن کی لڑائی ہوئی ہو یا وہ کسی سے ناراض ہوئی ہوں۔ محبت اور خلوص تو گویا باجی میں کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ شائد اُنھیں یہ راز بھی معلوم تھا کہ محبت بانٹنے سے گھٹتی نہیں بڑھتی ہے کہ اس میں ضرب کا عمل کارفرما ہے،تفریق کا نہیں۔باجی  جس کسی سے ایک بار بھی  ملتیں تو کچھ ایسے جادوئی اخلاق و اخلاص کا مظاہرہ کرتیں کہ وہ اُنھیں عُمر بھر نہ بھولتا اور نہ وہ اُسے بھولتیں۔ ہمارے کئی دوست احباب جن کی اُن سے محض ایک بار ہی ملاقات ہوئی ہوتی وہ اُنھیں یوں یاد رکھتیںکہ جہاں کہیں بھی اُنھیں  ملتے،اُن سے خیر خیریت پوچھتیں۔ دوسروں کے دُکھ درد میں شامل ہونا اُن کی زندگی کا سب سے اہم حصہ تھا۔کسی کو تکلیف میں دیکھتیں تو بے چین ہوجاتیں اور اُس کی تکلیف دُور کرنے کے لیے اُن سے جو کچھ بن پڑتا کرتیں۔ مریضوں کی عیادت کرتیں،ہنسی مذاق کرکے اُن کا دل بہلاتیں اور اگر کوئی مریض اُن کا قریبی ہوتا تو اپنے  کام کاج چھوڑ کر اُس کی تیمارداری شروع کردیتیں۔  شادی بیاہ میں شرکت کرتیں  تو خود کھانا نہ کھاتیں،مہمانوں کو  اٹینڈ کرتیں،اُنھیں کھانا کھلاتیں۔مہمان نواز ایسی کہ اگر ہم وقت بے وقت اپنے دوستوں کے ساتھ بھی اُس کے گھر چلے جاتے تو  اُن کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔مہمانوں کی آمد پر وہ کِھل کِھل سی جاتی تھیں اور اُس کی خُوب آوبھگت کرتیں۔ خوداعتمادی اُن  میں ایسی تھی کہ کوئی نزاع پیش آجائے تو درجنوں مردوں میں اُنھیں تنہا بھیج دیں،وہ معاملا  اپنی خوبصورت گفتگو سے خوش اسلوبی سے نمٹا کر آتیں۔  اپنے سسرال اور میکے  سمیت  سب رشتہ داروں  سے اُن کے خوشگوار تعلقات دیکھ کر مجھے رشک آتا اور حیرت بھی ہوتی کہ یوں سب لوگوں کا وہ کیونکر خیال رکھ لیتی ہیں۔
باجی بہت محنتی انسان تھیں،صبح نماز کے لیے اُٹھتیں تو کام کاج شروع کردیتیں۔گھر میں کام کاج کرتیں،اُسے قرینے اور سلیقے سے رکھتیں، کھیتوں میں کام کرتیں،ساگ اور سبزیاں اُگاتیں،اتنی بڑی مقدار میں اُگاتیں کہ رشتے داروں اور محلے والوں کو بھی دیتیں۔یہی وجہ ہے کہ عمر بھر بیماریاں اُن سے دُور رہیں۔ پھر کہیں سے کورونا کی وبا آئی جس نے قیمتی جانوں کو نگلنا  شروع کررکھا ہے۔ کتنے نامور ،نایاب اور کمیاب لوگ اب تک اس وبا کے ہاتھوں اپنی زندگی ہار گئے(اُن کے حوالے سے قلم اُٹھانا بھی ہم پر قرض ہے،بھلا ہو ڈاکٹر صغیر خان جیسے لکھاریوں کا جو  یہ قرض چکا رہے ہیں ورنہ ہمارے جیسے طالب علموں کو ایسا کرنے کے لیے  فُرصت کہاں میسر)۔ ایک روز اس مرض نے ہماری باجی کو بھی آلیا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اُنھیں اندر سے کھوکھلا کرکے ختم کردیا۔  اپنے ماں  باپ اور بہن بھائیوں کے حوالے سے کتابیں لکھی جاسکتی ہیں مگر وہ سب کچھ محض ایک آرٹیکل میں  سمیٹنا کسی لکھاری کے لیے تو کارَ سہل ہوسکتا ہے ،میرے جیسے عامی  کے لیے کہاں ممکن ہے۔ ہمارے بچپن میں جب بیرونَ ممالک  اور دُور پار سے لوگ چِٹھیاں لکھتے لکھواتے،پڑھتے پڑھواتے تھے تو  یہ جملہ ضرور لکھتے لکھواتے’’تھوڑے لکھے کو بہت سمجھنا‘‘،بس آپ سے میری  عرض بھی وہی ہے جو اُن چِٹھیوں کا اہم حصہ ہوا کرتی تھی۔ آپ جس کا بھی کوئی پیارا اس جہانَ رنگ و بُو سے منہ موڑ گیا ہو،خدا اُسے غریقِ رحمت کرے اور ہماری باجی کو بھی۔ باجی کی زندگی سے جو میں نے سیکھا ہے وہ  اپنے دُکھوں پریشانیوں اور امتحانوں کو اپنی طاقت بنا لینا ہے۔ وبا،پریشانی اورآ ٓزمائش کی ان گھڑیوں میں ہم اسی بات کو اپنے پلو سے باندھ لیں تو  یہی درست اور عین انسانی رویہ ہوگا ۔ انسان ہر دور میں  مشکلات اور رکاوٹوں کو  ہمت ،حوصلے اور بہادری سے عبور کرتے ہوئے یہاں تک پہنچا ہے۔
پسَ تحریر: ہماری باجی نسیم اختر العروف ’’شمولی باجی‘‘ فرشتہ نہیں انسان تھیں،اس لیے جس کسی کو بھی زندگی میں اُن سے واسطہ پڑا ہو ،اُن سے کوئی اونچ نیچ ہوئی ہو تو وہ براہِ مہربانی اُنھیں معاف کردے۔