July 5, 2022

 شریک جرم… طارق روڈ پر واقع مسجد کے بارے میں

نوائے سروش

طارق روڈ پر واقع مسجد کے بارے میں سپریم کورٹ کے حکم سے ایک انتہائی نازک اور گمبھیر صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ چونکہ یہ معاملہ عدالت عظمی میں زیر بحث ہے اور انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے چنانچہ اس پر کسی قسم کی رائے زنی سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ محترم چیف جسٹس نے فرمایا کہ یہ پارک کی جگہ تھی اور یہاں پارک انہوں نے خود دیکھا ہے۔

ذرائع ابلاغ پر یہ خبر دیکھ کر ،دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکر رہ گئیں، کہ یہ علاقہ وہ ہے جہاں نہ صرف بچپن کی بہت سی حسین یادیں وابستہ ہیں بلکہ جوانی دیوانی بھی انہی گلیوں میں کھوئی۔ اور یہ تب کی بات ہے جب نہ یہاں پارک تھا نا ہی خانہ خدا۔ اور نہ ہی میں یہاں کہیں رہتا تھا۔

میرا گھر یہاں سے کچھ دور عالمگیر روڈ اور حیدر علی روڈ کے سنگم پر تھا ۔لیکن اس مسجد سے کچھ آگے چل کر طارق روڈ کی متوازی شمالی سڑک یعنی خالد بن ولید روڈ پر میری پھوپھی کا گھر تھا اور ہماری دوڑ اکثر عالمگیر روڈ، بہادر آباد، شہید ملت روڈ، طارق روڈ، سر سید روڈ اور خالد بن ولید روڈ کے درمیان رہتی تھی۔ یہ ساری سڑکیں آپس میں گندھی مندھی ہیں۔ انہی سڑکوں پر کراچی کی مشہور چھکڑا بس، دس نمبر ،چلا کرتی تھی جو سوسائٹی آفس کے رستے خالد بن ولید روڈ پر “ ارشاد منزل” کے پاس مڑتی جس کے سامنے میری پھوپھی کا گھر “ روشن نشان” تھا۔ اگلی چورنگی چیل والی کوٹھی تھی جہاں سے مڑ کر یہ بس کیفے لبرٹی کے پاس طارق روڈ پر مڑجاتی ۔

چیل والی کوٹھی کی اگلی چورنگی پر ایک وسیع عریض کوٹھی تھی جہاں پہلے کبھی امریکن مشن تھا اور بعد میں یونائیٹد بینک ( یوبی ایل) کا اسٹاف کالج تھا۔ یہ کوٹھی میری ہونے والی سسرال کی تھی جو انہوں نے بینک کو کرائے پر دے رکھی تھی۔ میں اسی گھر سے اپنی دلہن بیاہ کر لے گیا تھا۔

لیکن نہ تو پھوپھی کا گھر، نہ ہی میرا سسرال میری ان یادوں کا باعث ہے۔ یہ علاقہ دراصل ہم دوستوں کی کمین گاہ تھی جہاں ہم نے وہ جرائم سرانجام دئیے جن کے بغیر ، گلستان کی بات رنگین ہے نہ مہ خانے کا نام۔وہ حرکتیں جو نہ کی ہوتیں تو آج بڑھاپے میں نری پارسائی کے سوا یاد کرنے کو کچھ نہ ہوتا۔

کسی کا عہد جوانی میں پارسا ہونا

قسم خدا کی یہ توہین ہے جوانی کی۔ (جوش)

اور عدم نے بھی شاعر انقلاب کی تائید کی ، کہ

نوجوانی میں پارسا ہونا

کیسا کار زبون ہے پیارے

یاد نہیں کی یہاں پارک تھا یا نہیں، لیکن یہ اچھی طرح یاد ہے کہ یہاں میرے جان و جگر، مونس و ہمدم بھائی مسلم، اور دوستوں کی ٹولی رہتی تھی۔ اس مسجد سے دو بلاک پہلے جو سڑک دہلی مرکنٹائل اسکول کے عقب میں جاتی ہے ( اس سڑک کا نام شاید ڈاکٹر محمود حسین روڈ تھا۔بہت پہلے کی بات ہے، شاید یہ نام درست نہ ہو)۔ ڈی ایم ایس اسکول کے عین سامنے اور ریاض مسجد کے مغرب میں بھائی مسلم کا گھر تھا۔ ( ریاض مسجد کی گلی میں بھائی غفار کے کبابوں کی دکان تھی جو ان دنوں مسجد کے عقبی دروازے پر ۸ مکعب فٹ کے کمرے پر مشتمل تھی۔ اب سنا ہے نہ صرف پوری گلی میں بھائی غفار کی دکان ہے بلکہ شہر میں کئی جگہ ان کی شاخیں ہیں )۔

بھائی مسلم اور میری دوستی کالج کے پہلے سال سے تھی۔ اللہ جانے کیسے اور کب مسلم اور اس کے دوست میرے دوست بن گئے۔ یہ سارے دہلی سوداگران کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ خالد، مسعود، شمیم، انجم وغیرہ ریاض مسجد کے آس پاس ہی رہتے تھے۔ تنویر بہادر آباد میں رہتا تھا ۔ یہ دراصل رئیس کا گھر تھا جو طارق روڈ پر اس مسجد سے متصل اس سڑک پر تھا جو ڈی ایم ایس کے عقب میں تھی ۔رئیس کے گھر کے بالکل پیچھے ایک جھیل تھی( دوسری جھیل وہ تھی جو آج جھیل پارک کہلاتی ہے۔ تب ہم اسے بڑی جھیل کہتے تھے) ۔ ہم کوکن سوسائٹی سے یہاں مچھلیاں پکڑنے آتے تھے لیکن مجھے یاد نہیں کہ یہاں ہمیں کبھی مچھلی ملی ہو۔

رئیس کے گھر اور موجودہ مسجد کے درمیان کی کوٹھی ایک مشہور سیاستدان کی تھی جن کا نام میں بہت عرصے سے بھولے ہوئے ہوں۔ ان کا آخری نام زبیری تھا اور اکثر وہاں بڑے بڑے سیاستدانوں کی میٹنگ ہوا کرتی۔ ان کا نام یاد دلانے والا رئیس اب اس دنیا میں نہیں۔ دوستوں کی اس ٹولی میں رئیس نے سب سے پہلے دغا دی۔ پھر شمیم اور مسعود بھی اس کے پاس پہنچ گئے۔ تنویر امریکہ میں ہے۔ خالد کا بھی علم نہیں کہ کہاں ہے۔ بھائی مسلم سے الحمدللّٰہ اب بھی ملنا رہتا ہے۔

میں یہاں دراصل بھائی مسلم کے گھر آیا کرتا تھا۔ وہ ہمارے کالج کے سابق پروفیسر اور مشہور استاد عذیر احمد سے ٹیوشن لیا کرتے تھے اور میں بھائی مسلم کے پاس آکر اکاؤنٹینسی اور شماریات کے لئے مدد لیا کرتا۔ بعض اوقات ہم سب “ جوائنٹ اسٹڈی” بھی کرتے۔ لیکن یہ پڑھائی کبھی کبھار ہوتی۔ کبھی کسی دوست کے گھر شادی میں، یا رمضان میں افطار کے لئے ہم سب زیادہ تر مسلم کے ہاں اکٹھے ہوتے۔ بھائی غفار کے کبابوں سے افطار کرکے اور ریاض مسجد میں تراویح پڑھ کر ہم طارق روڈ پر با جماعت لڑکیوں کی زیارت کے لئے نکل جاتے۔ موجودہ مسجد سے آگے پان کی ایک مشہور دکان تھی جس کے برابر بنگالی “ رس گلے” والے کی دکان “ مشٹی مکھ” تھی۔ میٹھے خوشبودار پان منہ میں دبا کر ہم کچھ دیر عید کی شاپنگ کی لئے آئی ہوئی لڑکیوں کا جائزہ لیتے اور پھر “ گلیمر ون” میں جو ان دنوں نیا نیا بنا تھا، کی پہلی منزل کی گیلری جو داخلی دروازے کے سامنے تھی، مورچہ لگالیتے کہ وہاں سے تمام آنے جانے والیوں پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ ہماری یہ واردات صرف دور دور سے لڑکیوں کو دیکھ کر خوش ہونے تک محدود تھی۔ نہ کبھی کسی نے کسی لڑکی پر کوئی آوازہ کسا یا قریب ہونے کی کوشش کی۔ بس حسین چہرے دیکھ کر خوش ہو لیا کرتے۔

بھائی مسلم اور میرے مشترکہ جرائم کی ایک طویل فہرست ہے۔ کالج میں ہم دونوں کلاس میں ایک ساتھ بیٹھتے، ایک ساتھ نکالے جاتے۔ لائبریری، کامن روم ، ٹیبل ٹینس، کینٹین ہر جگہ ہم ساتھ ہوتے۔ ہم دونوں کی نہ صرف عینکیں بلکہ شکلیں بھی ملتی جلتی تھیں البتہ مسلم چھ فٹ کا اور میں صرف پانچ فٹ نو انچ کا تھا جو فرق آسانی سے نہیں مٹ سکتا تھا۔ لڑکے ہمیں ساتھ دیکھتے۔ اکثر مجھے مسلم اور مسلم کو شکور کہہ کر مخاطب کرتے۔

کالج کینٹین میں کراچی کی مشہور یونائیٹڈ بیکری کے پیٹیز اور کریم رول ملتے تھے جو کہ ظاہر ہے بہت مہنگے ہوتے تھے اور ہم دوستوں کی بحث، لڑائی اور ناراضگی صرف اسی بات پر ہوتی تھی کہ فلاں کی جیب میں پیسے تھے لیکن اس نے پیٹیز نہیں کھلائے ۔ یہ نوبت البتہ کم ہی آتی تھی کہ ہم میں سے کبھی کسی کے پاس اتنے ہیسے نہیں ہوتے کہ یہ پیٹیز خرید سکیں یا بوتل وغیرہ پی سکیں۔ یہ عیاشیاں ان امیر ماں باپ کی اولادوں کے نصیب میں تھیں جن کی تعداد کالج میں کم نہ تھی کہ گورنمنٹ کامرس کالج میں طلبہ کی اکثریت ان کی تھی جن کے باپ کراچی کے مشہور سرمایہ دار اور صنعتکار وغیرہ تھے۔

ہماری اوقات کے مطابق چائے اور پیٹیز کالج سے متصل جہانگیر بومن ہیلتھ کلب کی کینٹین تھی جہاں چائے اور کیک پیسٹری وغیرہ کچھ سستے تھے اور جب جیب میں چار پیسے زیادہ ہوتے تو ہم یہاں سے چائے پینے کی عیاشی کرلیتے۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر غریب پرور کینٹین پی آئی ڈی سی ہاؤس کی تھی جس کے وسیع و عریض ہال میں بیک وقت تین چار سو لوگ “ داد عیش” دے رہے ہوتے۔ یہاں ایک کپ چائے نو پیسے کی اور اسپیشل چائے چار آنے یعنی پچیس پیسے کی ملتی جس میں ہم تین یا چار لوگ چائے پی لیتے۔ بریانی یہاں آٹھ آنے کی ملتی لیکن یہ عیاشی ہم نے شاید ایک یا دو بار ہی کی ہو۔

اب یہ تو میں نے ازراہ تکلف اور برائے معلومات لکھ دیا کہ چائے نو ہیسے کی ملتی تھی۔ یہ نو پیسے ہم نے شاید ہی کبھی دئیے ہوں۔ یہ نوبت کبھی کبھار ہی آتی اور وہ بھی اس صورت میں کہ ہم سب سے آخر میں وہاں سے اٹھے ہوں۔

بات دراصل یہ تھی کہ ہم جیسے سارے لڑکوں کی چوکڑی پی آئی ڈی سی کی کینٹین میں جمتی۔ لڑکوں کے گروہ آتے۔ کینٹین میں مکھیوں کی کی طرح بھن بھن ہورہی ہوتی۔ ساری میزیں بھری ہوتیں اور کینٹین کے بیروں کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کس نے کس میز پر کیا کھایا۔ ہم دو تین میزیں گھیر لیتے۔ لڑکوں کی ایک ٹولی آتی، چائے، ٹوسٹ وغیرہ منگواتی، گپ شپ، ہنسی مذاق ، بحث مباحثہ چلتا رہتا۔ کھاپی کر پہلی ٹولی دوسری کے لئے جگہ خالی کرکے ٹہلتی ہوئی باہر نکل جاتی۔ ہمارا کالج کراچی کا واحد کالج تھا جہاں یونیفارم لازمی تھی۔ سفید قمیض اور گرے پتلوں والے لڑکوں کی ٹولیاں پورے ہال میں چکراتی رہتیں۔ کون کب آیا، کہاں بیٹھا، کیا کھایا اور کہاں گیا کچھ سمجھ نہ آتا۔ ہمارا داؤ کبھی کبھی نہیں بھی چلتا اور کوئی ویٹر ہم پر گہری نظر رکھتا اور ہمیں پیسے دیتے ہی بنتی۔

پی آئی ڈی سی کے تجربے نے ہمیں عادی مجرم بنادیا۔ ایک دن میں اور مسلم صدر میں چودھری فرزند علی کی قلفی کھانے پہنچے۔ وہاں کچھ عجیب سا سسٹم تھا۔ باہر سے کوئی ٹوکن لے کر شاید پہلے پیسے دے کر دکان میں داخل ہوتے تھے۔ ہم سچ مچ معصومیت سے بغیر ٹوکن کے اندر گئے اور دو کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ایک بیرے نے ہمارے سامنے دوقلفیوں کی پلیٹیں دھر دیں۔ ہم اطمینان سے قلفی کھاکر پوری ایمانداری سے کاؤنٹر پر پیسے دینے پہنچے لیکن بہت دیر کھڑے رہنے کے باوجود اس نے ہماری طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ ہم دکان سے باہر آگئے، پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں طے کیا کہ یہاں سے نکل چلو۔ یہ تجربہ ہم نے یہاں ایک بار اور بھی کیا اور کامیاب رہے۔

پہلی واردات کامیاب ہوجائے تو مجرم کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک دن ہم برنس روڈ کی مشہور “ نیو پنجاب لسی ہاؤس” پہنچے۔ پیڑے والی لسی کا لمبا سا گلاس پیا، اور باہر آگئے۔ دراصل ہم دونوں کی شکلیں اس قدر شریفانہ تھیں۔ آنکھوں پر موٹی موٹی عینکیں، صاف ستھری سفید قمیضیں۔ ہلکی نیلی پتلونیں، ہاتھ میں ایک دو موٹی سی کتابیں اور فائل۔ اس فرشتہ صفت حلیے سے کوئی مجرمانہ حرکت وابستہ ہونا ناقابل تصور تھا۔

پھر ایک دن مجبوراً” ہمیں یہ حرکت کرنی پڑی۔ جب بس سے کالج آتے تھے تو برنس روڈ سے اتر کر پیدل چل کر کوئنز روڈ تک آنا پڑتا تھا۔ ایک صبح ہم برنس روڈ کے ایک ہوٹل کے پاس سے گذر رہے تھے جس کی حلوہ پوری بہت مشہور تھی اور ترتراتی پوریوں کی مہک دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ بھائی مسلم آج شاید گھر سے ناشتہ کرکے نہیں آئے تھے۔ مجھے انہوں نے بتایا کہ اس کی پوری بڑی زبردست ہے۔ خیر ہم دونوں اندر داخل ہوئے۔ پوری، ترکاری اور حلوے سے بھرپور انصاف کیا۔

“ پیسے ہیں ناں تمھارے پاس” بھائی مسلم نے انگلیاں چاٹتے ہوئے پوچھا۔

“ پیسے؟ میرے پاس تو صرف کرائے کے پیسے ہیں” میں نے بتایا۔

“ کیا بکواس ہے” بھائی مسلم مجھ پر برس پڑے

“ کیوں تمہارے پاس نہیں ہیں “

“ میں سمجھا تمہارے پاس ہونگے”

“ اچھا میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں” کہہ کر بھائی مسلم جو گئے تو پلٹ کر ہی نہ آئے۔

مجبوراً مجھے کاؤنٹر پر جانا پڑا۔ میں نے اپنی پلیٹ کے پیسے دئے۔

“ اس کے پیسے کون دے گا؟”

“ کس کے” میں نے معصومیت سے پوچھا۔

“ وہ جو تمہارے ساتھ تھا”۔

“ وہ میرے کالج میں پڑھتا ہے، مجھے یہاں مل گیا تھا۔ کیا اس نے پیسے نہیں دئیے؟”

ہوٹل والے نے باہر جھانک کر دیکھا۔ وہاں کوئی نہیں تھا، پھر اپنے اسٹاف کو گالیاں دینے لگا۔ میں چپ چپاتے سے باہر نکل آیا۔ اسلم روڈ کے پیچھے نالے کے پاس بھائی مسلم مجھے مل گئے۔ ہم دونوں کا زوردار پھڈا ہوا۔ کئی دن ہم دونوں نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔ اس کے بعد ہم کبھی حلوہ پوری والے ہوٹل بھی نہیں گئے۔

سیکنڈ ائیر میں بھائی مسلم نے یاما ہا نائنٹی خرید لی۔ بس اب کیا تھا۔ صحراست کہ دریاست، تہہ بال و پر ماست کے مصداق ہم پوری کراچی میں دندناتے پھرتے۔ بھائی مسلم کے گھر سے طارق روڈ سے براہ شارع فیصل سیدھا راستہ کالج کو جاتا تھا لیکن وہ مخالف سمت میں یعنی بہادر آباد چورنگی آکر مجھے ساتھ لے جاتے۔ شارع فیصل سے نیپئر بیر کس، پیلس سینما، میٹروپول ہوٹل سے ہوتے ہوئے جب کالج سے کچھ ہی دور یعنی کراچی جیمخانہ کے سامنے سے گذرتے ہوئے ہم میں سے کسی کو خیال آتا کہ فلاں استاد نے اسائنمنٹ دیا تھا۔ جو عموماً ہم دونوں ہی نے نہیں کیا ہوتا تھا۔ اس امر کی اطلاع ہوتے ہی کالج جو کراچی انٹر کان کے سامنے ہمارے دائیں جانب ہوتا، وہاں مڑنے کے بجائے بھائی مسلم موٹر سائیکل کو سیدھا کوئنز روڈ پر لے جاتے ۔ ہمارے سفر کا اختتام کیماڑی پر ہوتا۔

پہلی بار جب کیماڑی آئے تو دیکھا کہ ایک جانب ایک جہاز نما اسٹیمر منوڑا جانے کے لئے تیار ہے۔ ایسے دو اسٹیمر تھے۔ “ سرخاب” اور “سیخ پر”۔ ہم بھی اس میں سوار ہوگئے۔ ہماری نیت ٹکٹ خریدنے کی تھی لیکن ہم نے دیکھا کہ اس میں کے پی ٹی کے ملازم سوار ہورہے ہیں اور پوچھنے پر کسی “ کو ڈیپارٹمنٹ “ کا نام لے رہے ہیں۔ یہاں کوئی ٹکٹ وغیرہ نہیں تھا۔ ہم نے بھی بڑے اعتماد سے “ کو ڈیپارٹمنٹ” کا نام لیا اور بلا ٹکٹ منوڑے پہنچ گئے۔ پھر تو یہ معمول ہوگیا کہ کلاس “ بنک” کرنا ہو تو سیدھے کیماڑی پہنچ جاؤ اور وہاں سے سرخاب میں سوار ہوکر منوڑہ اور پھر وہاں سمندر کی سیر۔

اور یہ کلاس بنک bunk کرنا ایک آدھ بار نہیں، ہفتے میں دوتین بار ہوتا۔ ہم یا تو کامن روم میں ٹیبل ٹینس کھیلتے ، یا لائبریری میں ( کبھی کبھار) ہوتے۔ یا سامنے انٹرکان ہوٹل میں گوریوں کو دیکھنے نکل جاتے۔ گلشن میں علاج تنگئ داماں بمقدار وافر موجود تھا۔ کالج کے آس پاس تفریح کی کمی نہیں تھی۔ سامنے داؤد سینٹر کی گیارہ منزلہ عمارت کی جدید لفٹ میں سوار ہوکر آخری منزل تک جاتے، ورنہ داؤد سینٹر اور پی آئی ڈی سی کے درمیان واقع مشہور عالم “ موسی پی آئی ڈی سی پان ہاؤس” سے خوشبودار میٹھے پان سے لطف اندوز ہوتے ( پورے پیسے دے کر) ۔ وگرنہ پی آئی ڈی سی کینٹین اور کیفے جہانگیر تو تھے ہی۔ سامنے ہی پیلس ہوٹل اور انٹر کانٹینینٹل ہوٹل تھے۔ وہاں ایلے گہلے گھومتے رہتے۔ کبھی موڈ ہوا تو امریکن سینٹر کی ایرکنڈیشنڈ لائبریری میں “سستانے” پہنچ جاتے اور خنک ماحول میں نرم اور آرام دہ صوفوں پر نیم دراز ہوجاتے۔ کبھی برٹش کونسل پہنچ جاتے۔ حبیب بنک پلازہ بھی نیا نیا بنا تھا۔ ہم بلا کسی مقصد کے وہاں پہنچ جاتے اور شاید کوئی یقین نہ کرے، اس کی چھت پر پہنچ کر نیچے میکلوڈ روڈ ( موجودہ چندریگر روڈ) پر روا دواں ڈبیا جتنی بسوں اور کاروں کو دیکھتے رہتے۔

امریکی اور برطانوی ہماری کسی قسم کی شرانگیزی سے محفوظ رہتے لیکن یہ بے چاری چینی تھے جن کے ساتھ ہم وہ سلوک کرتے جو بقول شخصے، بادشاہ، بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں، یعنی بہت ہی برا سلوک کرتے۔

نیپئر بیر کس سے اگلی سڑک جو کینٹ اسٹیشن جاتی ہے اور جس کانام غالبا” داؤد پوتا روڈ” ہے۔ اس سڑک پر اودے رنگ کے گنبد والی ایک کشادہ سی بہت خوبصورت عمارت ہوا کرتی تھی۔ اللہ جانے اب ہے یا نہیں۔ یہاں چینی قونصل خانہ تھا۔ ہم اکثر یہاں پہنچ جاتے۔ استقبالیہ پر متعین مسکین سی شکل والے چینی ہماری شکلیں دیکھ کر اور مسکین صورت اور پریشاں نظر آتے۔ ہم ان سے گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے۔ پاک چین دوستی کا واسطہ دیتے اور ان سے رنگین رسالہ “ چین باتصویر” China Pictorial حاصل کرتے اور رنگین پکچر کارڈز کا مطالبہ کرتے۔ غریب چینی ہمیں ٹالنے کی کوشش کرتے لیکن ہم وہاں دھری ہوئی کرسیوں پر جم کر بیٹھ جاتے۔ کاؤنٹر پر مہمانوں کی تواضع کے لئے ٹین کے کارٹن میں بڑی اچھی نسل کے چینی سگریٹ رکھے ہوتے تھے۔ ہم سگریٹ نہیں پیتے تھے، لیکن مفت کی سگریٹ چھوڑنا گناہ کبیرہ سمجھتے تھے۔ ایک ایک سگریٹ پر تو چینی کچھ نہیں کہتے۔ لیکن بھائی مسلم کاؤنٹر کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر “ چین باتصویر” کے مطالعے میں مصروف ہوجاتے اور وقفے وقفے سے ایک سگریٹ اٹھا کر رسالے کے صفحات کے بیچ میں رکھتے جاتے۔ جب “ مناسب” مقدار میں سگریٹ جمع ہوجاتے تو رسالے کو رول کرکے، استقبالیہ کلرک سے ہاتھ ملاتے جس کے چہرے پر بے چارگی اور گہری ہوجاتی۔ یہ سگریٹ کالج آکر یا گھر جاکر مستحقین یعنی قریبی دوستوں میں تقسیم کئے جاتے۔

رنگین رسالہ، پکچر کارڈز اور سگریٹ تک تو غنیمت تھا۔ لیکن ہم نے جو سلوک “ عظیم چئیرمین ماؤ” کی کتاب کے ساتھ کیا اس کے لئے ماؤ زے تنگ کی روح ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

ہوا یوں کہ ایک دن ان چینیوں نے ہمیں ماؤ کی ایک کتاب دی۔ یہ ماؤ کی تعلیمات کا انتخاب، ایک ضخیم سی کتاب Selected Works of Chairman Mao تھی۔اس کتاب کی شان و شوکت کیا بیان کروں ، یوں سمجھئے کہ اس وقت تک میں نے ایسی آن بان اور شان والی کتاب نہیں دیکھی تھی۔ کتاب کا کاغذ بہترین کیوں نہ ہوتا کہ کاغذ سنا ہے کہ ایجاد ہی چینیوں کی ہے۔ پھر وہ ان کے لیڈر کی کتاب تھی۔ چھپائی بھی لیڈر صاحب کے شایان شان تھی۔ کتاب کھولو تو پہلے سادہ سے صفحے کے بعد ایک بالکل شفاف ڈرائنگ پیپر جیسا صفحہ تھا۔ اگلے صفحے کے درمیان میں ایک مستطیل، گہرے سرخ ریشم کا پردہ نما کپڑا تھا، جسے اٹھاؤ تو نیچے چئیرمین ماؤ کی تصویر تھی۔ اس سستے زمانے میں جب ابن صفی کے ناول ڈھائی یا تین روپے کے ملتے تھے، اس کتاب کی قیمت کچھ نہیں تو کم ازکم پچیس تیس روپے ضرور ہوگی۔

ہم دونوں وہ کتابیں لے کر اور چینی دوستوں کا شکریہ ادا کرکے قونصل خانے سے باہر آئے۔ سامنے سڑک پر ایک ٹھیلے والا، ٹھنڈے میٹھے فالسے بیچ رہا تھا۔ ہماری طبیعت للچائی لیکن جیب حسب معمول خالی تھی۔ حسن اتفاق سڑک کی دوسری جانب ایک “ باٹلی پیپر “ والا گذر رہا تھا۔ بھائی مسلم نے اسے روک کر پوچھا کہ ردی لوگے ؟ اس نے حیرت سے اور کچھ مشتبہ نظروں سے ہماری جانب دیکھا۔ بھائی مسلم نے چئیرمین ماؤ کی کتاب اس کے آگے کردی۔ کچھ تردد کے بعد اس نے کتاب کو تولا۔ یہ آدھ سیر سے کم تھی۔( جی ہاں تب تک کلو کا رواج نہیں ہوا تھا)۔ بھائی مسلم نے میری کتاب بھی لےکر اس کے حوالے کردی۔

“ چھ آنے ملیں گے” ردی والا بولا

“ لاؤ دو” بھائی مسلم نے کوئی بھاؤ تاؤ نہیں کیا۔ان کی نظریں فالسے والے ٹھیلے پر تھیں۔

کچھ دیر بعد ہم اخبار کی بنی پڑیا سے فالسے کھا رہے تھے۔بھائی مسلم خوش تھے کہ “ردی” کے اچھے دام مل گئے۔

کچھ دنوں بعد ہم نے چینی قونصل خانہ جانا بند کردیا۔ ہمیں یوں لگتا کہ وہاں سے نکلنے کے بعد کوئی ہمارے پیچھے ہوتا ہے۔ ایک دن چچا نے چینی رسالے اور پکچر کارڈ دیکھ کر پوچھا کہ یہ کہاں سے آئے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ہم چینی مرکز اطلاعات جاتے ہیں تو انہوں نے سختی سے وہاں جانے سے منع کردیا۔ ان دنوں کمیونسٹوں پر گہری نظر رکھی جاتی تھی۔

ہمارے جرائم کی فہرست لکھوں تو ایک کتاب بھی کم پڑ جائے۔ لیکن ہم یہ سب کچھ گناہ سمجھ کر نہیں کرتے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ سب ہم بہ امر مجبوری کرتے ہیں جیسا کہ فلموں میں ہوتا ہے کہ کوئی جاگیردار کے ظلم وستم سے مجبور ہوکر ڈاکو بن جاتا ہے۔

عجب حال تھا عہد شباب میں دل کا

مجھے گناہ بھی کار ثواب لگتا تھا

نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹسٹ میچ ہورہا تھا۔ بھائی مسلم کو کرکٹ کا کوئی شوق نہیں تھا نہ انہوں نے کبھی کرکٹ کھیلی۔ لیکن وہ نہ جانے کس چکر میں میرے ساتھ میچ دیکھنے پہنچ گئے۔ کھانا اور پھل ہم گھر سے لے گئے تھے۔ لنچ کے دوران باہر آئے جہاں پاکولا کا اسٹال دیکھ کر بھائی مسلم کو پیاس لگ گئی۔ اسٹال پر بہت بھیڑ تھی۔ اس کیبن کے ایک جانب کریٹوں میں بوتلیں رکھی تھیں۔ بھائی مسلم نے دو بوتلیں نکال کر دانتوں سے کھولیں۔ ہم نے گرما گرم پاکولا پیا اور وہاں سے چل دئیے۔

کلاس میں ہم کم ہی ہوتے اور جب ہوتے تو کسی نہ کسی وجہ سے ٹیچرز کے زیر عتاب ہوتے۔ ایک دن اردو کے پیرئیڈ میں سر کچھ نوٹس املا کروا رہے تھے اور ساتھ ہی ہماری میزوں کے درمیان ٹہل رہے تھے کہ ان کی آواز آئی۔

“ واہ بھئی! انگلش سبجکٹس میں تو اردو میں نوٹ لکھے جاتے ہیں ، لیکن یہ صاحبزادے اردو کے نوٹس انگریزی میں لکھ رہے ہیں”۔

میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ بھائی مسلم کی نوٹ بک میں جھانک رہے تھے جہاں اردو کے پیرئیڈ میں وہ اکنامکس کے نوٹس لکھ رہے تھے۔

انہی استاد نے ایک دن نوٹس لکھواتے ہوئے بھائی مسلم سے پوچھا کہ آپ کیوں نہیں لکھ رہے۔ بھائی مسلم نے بتایا کہ ہاتھ میں چوٹ لگ گئ ہے اور لکھا نہیں جارہا۔

“ کیوں کیا ہوا۔ کیسے چوٹ لگی” سر نے پوچھا۔

“ سر یہ انگلی، یوں نہیں مڑ رہی” بھائی صاحب نے شہادت کی انگلی موڑتے ہوئے سر کو دکھائی۔

“ دیکھیں ذرا!” سر بولے۔” انگلی موڑ کر دکھا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انگلی نہیں مڑتی” ۔

وہ دن تھے کہ پاکستان کی تاریخ ایک نیا موڑ مڑ رہی تھی۔ ایوب خان کی آمریت کے خاتمے کے بعد ملک میں ایک نیا سیاسی شعور انگڑائی لے رہا تھا۔ دائیں بائیں کی کشمکش زوروں پر تھی۔ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھیں۔ کالجوں میں جمیعت اور این ایس ایف کا شدید ٹکراؤ تھا۔ ہمارے کالج میں چار برادریوں کی اکثریت تھی۔ سب سے زیادہ میمن بھائی تھے، دوسرے نمبر پر دہلی سوداگران، تیسرے چنیوٹی اور چوتھے پارسی برادری کے لوگ۔ دراصل یہ سب اصلا” کاروباری طبقے کے لوگ تھے۔ دہلی والے، چنیوٹی اور میمن دوستوں کی اکثریت جمیعت کی حامی تھی۔ ویسے بھی ہمارے ہاں این ایس ایف کا وجود نہیں تھا جو ڈی جے، ڈاؤمیڈیکل، اسلامیہ ، ایس ایم کالج وغیرہ میں زیادہ متحرک تھی۔ ہم آسانی سے جمیعت کے نرغے میں آگئے اور بڑھ چڑھ کر اس کی انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے۔

لیکن دوسرے ہی سال ہم جمیعت سے بیزار ہوگئے۔ ہم کسی کے ساتھ نہیں تھے۔ ہم چند لڑکوں کا گروپ تھا جو تفریحا” الیکشن میٹنگز پر چوری چھپے پانی سے بھرے غبارے یا امونیا ملا رنگین پانی پھینکتے۔ ہمارا کام صرف مزے لینا ہوتا۔ ان دنوں مختلف طلباء جماعتوں کے پینل الیکشن جیتنے کے بعد کاروں اور موٹر سائیکلوں کے جلوس کی شکل میں جامعہ کراچی پہنچتے۔

ایک سال ہم بھی اپنی یاماہا پر سوار ایسے ہی ایک جلوس کا حصہ تھے۔ راستے میں پڑنے والے دوسرے کالج بھی ہمارے ساتھ شامل ہوجاتے۔ نرسری پہنچ کر ہم موٹر سائیکل سواروں کا ایک ،دستہ، پی ایس سی ایچ ایس گرلز کالج کی جانب مڑ گیا۔ ہم اس دستے کے ہراول یعنی سب سے آگے تھے۔ کالج کی گلی میں داخل ہوئے تو بہت سی لڑکیاں وہاں کھڑی گپ شپ کررہی تھیں۔ ہمیں دیکھ کر وہ کالج کی دیوار کی جانب سمٹ گئیں اور ان کے عقب سے لاٹھی بردار پولیس کی ایک بڑی نفری نے ہماری جانب دوڑ لگادی۔ بھائی مسلم نے گرد آلود سڑک پر تقریبا” لوٹتے ہوئے یو، بلکہ، او ، ٹرن لیا۔ ہماری پتلونیں بری طرح مٹی میں سن گئیں۔ ہم بال بال بچے۔۔دراصل اس سال ہاکس بے پر طالبات کے ساتھ ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ پیش آچکا تھا اور شہر کی انتظامیہ نے سخت احتیاطی انتظامات کئے ہوئے تھے۔

ایسی ہی حرکتوں کے سبب ہم ایک بار گورنر ہاؤس پر پولیس کے نرغے میں آتے ہوئے بچے۔ دوسری بار برٹش کونسل پر پتھراؤ کرتے ہوئے آنسو گیس کی شیلنگ کا شکار ہوئے، بعض اوقات یہ تفریح مہنگی پڑ جاتی۔ لیکن ہماری قسمت اچھی تھی کہ پولیس کے ہاتھ نہ آتے۔

ہمارے کالج کے پاس بہت سی سرکاری اور سیاسی سرگرمیاں ہوتی رہتیں ۔ وجہ یہ تھی کہ گورنر ہاؤس، چیف منسٹر ہاؤس، کمشنر ہاؤس، امریکن کونسلیٹ وغیرہ سب آس پاس ہی تھے۔ یہیں سے کلفٹن کے لئے سڑک جاتی ہےجہاں ۷۰ کلفٹن میں بھٹو صاحب کی رہائش تھی اور وہ اکثر یہیں سے گذرتے تھے۔

پی آئی ڈی سی اور شیرا ٹن ہوٹل سے کلفٹن یا تین تلوار جاتے ہوئے جو پہلا پل پڑتا ہے اس کا نام آج کل تو اللہ جانے کیا ہے، ہم اسے “ لو برج” Love Bridge کہتے تھے۔ اسی لو برج پر آنے کے لئے جب ہم ساتھ کی گلی سے مڑے تو وہاں پولیس تعینات تھی۔ پتہ چلا بھٹو صاحب یہاں سے گذرنے والے ہیں اور راستہ بند ہے اور یہاں تک آنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ پولیس والے نے ہمیں روک کر ایک ہاتھ سے ہماری بائیک کا ہینڈل مضبوطی سے پکڑا اور بھائی مسلم سے لائسنس دکھانے کا مطالبہ کیا۔ مجھے یاد نہیں کہ کیا وجہ تھی، لیکن اتنا یاد ہے کہ بھائی مسلم نے “ غاؤؤؤؤں کرکے موٹر سائیکل کو رفتار دی۔ موٹر سائیکل ایک بار اڑیل گھوڑے کی طرح اچھلی، پولیس والا لڑکھڑا کر دیوار سے جا لگا اور ہم تیزی سے آگے نکل گئے۔ بھائی مسلم اس دوران مجھ سے عقب کی خبر لیتے رہے۔ ہم بس اسی قسم کی لاحاصل سرگرمیوں میں ملوث رہتے۔

میں بھائی مسلم کی وارداتوں میں ان کا شریک کار اور سہولت کار رہتا تھا۔ ہمارا کالج عام طور پر پڑھاکو لڑکوں کا کالج سمجھا جاتا تھا جس کا ڈسپلن پورے کراچی میں مثالی تھا۔ بورڈ اور یونیورسٹی کے امتحانوں میں زیادہ تر پوزیشن ہمارے کالج کی آتیں اور ان دنوں جب کامرس میں پاس ہونے والوں کا تناسب بمشکل تیس پینتیس فیصد ہوتا، ہمارے کالج کا نتیجہ سو فیصد ہوتا۔

میں کورنگی میں رہنے والا ایک غریب ملازمت پیشہ باپ کا بیٹا تھا۔ بھائی مسلم سوسائٹی میں رہنے والے کھاتے پیتے کاروباری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ امتحان قریب آتے تو وہ ٹیوشن وغیرہ پڑھ کر اپنی کمی دور کرلیتے۔ ویسے بھی سوداگران کے قبیلے سے تھے۔ کامرس کا مضمون ان کے مزاج کے مطابق تھا اور وہ بات کو جلد سمجھ لیتے تھے۔ مجھے حساب کتاب سے کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ امتحان کے دنوں میں کورنگی سے سوسائٹی آکر بھائ مسلم اور دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کر جوائنٹ اسٹڈی کرتا۔

مزے کی بات یہ کہ ہماری تمام تر نالائقیوں، لابالی پن اور لاپرواہی کے باوجود ہمارا نتیجہ دوسروں سے بہتر ہوتا۔ بھائی مسلم تو فائنل امتحان میں فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوئے۔ میں بھی اتنا برا نہیں رہا اور “ اچھی” سیکنڈ ڈویژن (good 2nd division ) میں کامیاب ہوا۔ بھائی مسلم کو ایک مضمون میں “ترقی” دے کر پاس کیا گیا لیکن ان کے دوسرے مضامین میں اچھے نمبر تھے۔ لیکن میں تمام مضامین میں پاس ہوا۔ زندگی کا ایک دور تمام ہوا اب مستقبل کی منصوبہ بندیاں ہورہی تھیں۔

لیکن یہ منصوبے وہ باندھ رہے جن کے سامنے مستقبل تھا۔مجھ جیسوں کے سامنے مستقبل نہیں مقدر تھا۔ کچھ لڑکے ماسٹرس کے لئے آئی بی اے جانے کی سوچ رہے تھے، کسی کا ارادہ چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کا تھا۔ ایسے بھی تھے جو ملک سے باہر جانے کی تیاریاں کررہے تھے۔ بہت سے لڑکوں نے اپنے خاندانی کاروبار سنبھال لئے۔ ہمارا نہ کوئی کاروبار تھا، نہ ذرائع۔ ہماری توجہ نوکری کی تلاش پر تھی کہ اب مزید ماں باپ پر بوجھ نہیں بن سکتے تھے۔ وقت آگیا تھا کہ اپنے والدین کا بوجھ ہلکا کریں۔

قدرت بھی شاید کچھ لوگوں کو امتحانوں کی بھٹی سے گذارتی ہے۔ بھائی مسلم کو نوکری کی ضرورت نہیں تھی لیکن انہیں کراچی کی سب سے مشہور ٹریول ایجنسی میں ملازمت مل گئی جو دراصل ان کے رشتہ دار بھی تھے۔ ان کا دفتر انٹر کان میں تھا ۔ میں یہاں وہاں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا۔ ہمارا ملنا جلنا بھی اب بہت کم ہوگیا تھا کہ ایک دوپہر بھائی مسلم میرے گھر کورنگی پہنچ گئے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پی آئی آئی اے Pakistan Institute of Industrial Accountants میں داخلہ لے لیا ہے۔ ( اب یہ شاید آئ سی ایم اے کہلاتا ہے Institute of Cost and Management Accountants) جہاں بی کام میں سیکنڈ ڈویژن لانے والوں کو براہ راست دوسرے سمسٹر میں داخلہ ملتا ہے۔ انہوں نے مجھ سے بھی چلنے کے لئے کہا۔ لیکن میں آنا کانی کرتا رہا۔ دراصل وہاں داخلے کی فیس کے لئے میں ابا سے نہیں کہہ سکتا تھا جو ان کی نصف تنخواہ کے برابر تھی۔ لیکن کچھ دنوں بعد بھائی مسلم پھر میرے گھر آئے۔ وہ میرے داخلے کا فارم لائے تھے۔ کہنے لگے کہ داخلہ ٹسٹ تو دے دو۔ میں نے ٹسٹ دیا اور کامیاب ہوگیا۔لیکن ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ مسلم کو میرے مالی حالات کا علم تھا۔ وہ خاموشی سے میری داخلہ فیس جمع کرا آئے۔

پی آئی آئی اے کی کلاسز اور پھر ہم دونوں کا یکے بعد دیگرے وہاں سے نکلنا، میرا بحرین چلے جانا، بھائی مسلم کا اپنا ٹریول کا کاروبار شروع کرنا اور دنیا بھر میں گھومتے پھرنا۔ ان کی شادی، پھر میری شادی، ہمارے خاندانوں کی دوستی، ہمارے بچوں کے ایک دوسرے سے دوستی ، ہمارا ایک دوسرے کے مختلف کام کرنا اور وقت پر مدد کرنا یہ ایک طویل داستان ہے۔بھائی مسلم کے مجھ پر بے شمار احسانات ہیں جنہیں میں نے وقتا” فوقتا” مختلف شکلوں میں اتار بھی دیا لیکن P.I.I.A میں میرے داخلے کی فیس نہ انہوں نے کبھی مانگی، نہ میں کبھی انہیں دینا چاہتا ہوں کہ اس سے میرا ان سے محبت اور خلوص کا جو رشتہ آج سے چھیالیس سینتالیس سال پہلے قائم ہوا تھا، آج تک تروتازہ ہے۔ میں ان کا مقروض رہنا چاہتا ہوں کہ اس بہانے ہمیشہ انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھوں۔

ہم نے جو بھی حرکتیں کیں وہ شاید اتنی قبیح نہ ہوں کہ کم از کم میں نے زندگی میں اس سے کہیں بڑھ کر خطائیں کی ہیں۔ اب جب طاقت گناہ نہیں رہی تو زہد و عبادت کی چادر اوڑھ کر اللہ کے سامنے گڑگڑاتا رہتا ہوں اور اسے اس کے رحمان اور رحیم ہونے کا واسطہ دیتا رہتا ہوں۔ اس کی رحمت میرے گناہوں سے بڑھ کر ہے اور اس رؤف و رحیم سے ہمیشہ پرامید رہتا ہوں۔ آپ بھی میرے لئے دعا کیجئے۔

بھائی مسلم نے البتہ اپنے آپ کو مستقل اللہ کی رضا کے لئے وقف کردیا۔ وہ تبلیغی جماعت میں شامل ہوکر تقریباً ساری دنیا کا سفر کرچکے ہیں اور بے شمار خلق خدا کو اللہ کے دین کی راہ پر لگا چکے ہیں۔ تبلیغی جماعت سے متعلق میرے کچھ تحفظات اور خدشات ہمیشہ رہتے ہیں لیکن ایک بات مانتا ہوں کہ خالص اللہ کی راہ میں اپنی جیب سے خرچ کرنے اور اپنا وقت دینے والے معمولی لوگ نہیں ہوتے اور ان کا اجر صرف اور صرف اللہ ہے کے پاس ہے۔

اور جو اللہ پر توکل کرتے ہیں اللہ ان پر آسانیاں کرتا ہے اور اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ بھائی مسلم اس دعوت الی اللہ کے اکابرین میں سے ہیں اور اپنے کاروبار کی پرواہ کئے بغیر اپنا سارا وقت اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے میں مصروف رہتے ہیں اور اللہ نے بھی انہیں اپنی عنایتوں اور برکتوں سے خوب نوازا ہے۔

ہم اب بھی ملتے ہیں۔ جب کبھی کراچی آتا ہوں تو کم ازکم ایک پرتکلف دعوت ضرور بھائی مسلم کے گھر ہوتی ہے۔ ہماری بیگمات کی آپس میں بہت گہری اور بے تکلف دوست ہے۔ ہمارے درمیان جو بے غرضی کا رشتہ آج سے تقریباً نصف صدی پہلے تھا آج بھی ویسا ہی تروتازہ ہے۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء

بہت سی باتیں اور یادیں باقی ہیں۔ بہت سی باتیں اب بھی لکھ سکتا ہوں لیکن شاید اس کی ضرورت نہیں ۔ آپ سب کچھ جان گئے ہوں گے۔یہ شاید پہلی داستان ہے جو میں نے کسی اور کو نہیں صرف خود کو سنانے کے لئے لکھی ہے۔ کسی اور کو بھلا میری اور میرے دوستوں کی حرکتوں سے کیامطلب ؟ یہ تو صرف جوانی کی راتوں اور مرادوں کے دن کی کچھ یادیں ہیں جو ایک گوشہ نشین، تنہا شخص خود کو یاد دلارہا ہے۔

پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے

اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے

نوٹ : اس کہانی کے تمام واقعات سوفیصد سچ ہیں۔ تمام کرداروں کے نام بھی وہی ہیں سوائے بھائی مسلم کے۔ یہ تحریر ان تک نہیں پہنچے گی کہ وہ ان خرافات سے دور ہیں۔ رہے ہمارے مشترکہ دوست تو وہ اب جنت میں بیٹھک جمائے ہوں گے۔

Close