احمد شمیم
‎احمد شمیم 1929 میں سرینگر میں پیدا ہوۓ۔میڑک کرنے کے بعد ایس پی کالج سرینگر میں داخلہ لیا اور کالج کے مباحثوں میں حصہ لینے لگے اور ساتھ ہی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں کام کرنے لگے۔1947  میں آپ ایف۔اے کے طالب علم تھے جب تحریک آزادی عروج پر تھی،کئ بار سیاسی سرگرمیوں کے دوران ڈوگرہ فوج اور پولیس سے تشدد کا سامنا کیا -ایک دفعہ گرفتار کر کے تھانہ کوٹھی باغ میں بند کر دیا گیا۔احمد شمیم 1947 میں آزاد کشمیر آگۓ اور آزاد کشمیر ریڈیو تراڑ کھل میں کام کرتے رہے -وہاں سے محکمہ اطلاعات آزاد کشمیر میں ڈپٹی ڈا ئر یکٹر اور پھر ڈائریکٹر اطلاعات کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے -وہ ہفت روزہ آزاد کشمیر کے ایڈیٹر بھی رہے۔احمد شمیم کشمیری،فارسی،اردو،پنجابی کے علاوہ انگریزی زبان پر کامل دسترس رکھتے تھے۔انہوں نے انگریزی اور اردو میں کشمیر پر سینکڑوں مضامین تحریر کیے اور برسوں تک مظفرآباد میں مقیم رہے۔ان کے اردو کلام کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے اور ایک خاتون نے ان کی شخصیت اور فن پر ایم فل بھی کیا ہے۔افسوس کہ یہ نابغہ روز گار شخصیت 17 اگست 1982 کو ہمیں داغ مفارقت دے گی جبکہ ابھی ان کی عمر باون سال تھی۔احمد شمیم پنڈی میں اصغر مال روڈ کالج کی پچھواڑے قبر ستان میں آسودہ خاک ہیں۔
وہ شہرہ آفاق نظم کبھی ہم بھی خوب صورت تھے کے خالق ہیں-

Leave your comment !