محمد صدیق شاذ
‎انجینئر محمد صدیق شاذؔ  جو دودھنیال  وادی نیلم  آزاد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں آپ ایک نوجوان کشمیری  شاعر  ہونے کے ساتھ,ساتھ اردو ادب میں بچوں کے شاعر بھی ہیں اس کے علاوہ اپنی ثقافت اور مادری لسان کیلئے بھی کوشاں ہیں آپ نے اپنی مادری زبان میں تین کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں ابھی تک کوئی کتاب منظرِ عام پر نہیں آئی- اردو ادب میں تین کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں ایک کتاب دردِ حیات کے نام سے 2014 میں منظرِ عام‎پر آئی آپ نے میڑک کے بعد الیکڑیکل انجنئیرنگ میں ڈپلومہ کیا اور اس کے بعد بی ٹیک کی تعلیم حاصل کی۔وسائل نہ ہونے کے سبب اس کے بعد آپ  تعلیم کو خیر آباد کہہ کر فکر ِ معاش کی تلاش میں نکلے اور مختلف پرائیویٹ کپمنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے لیکن فکر ِ معاش میں مگن ہونے کے ساتھ ساتھ آپ اپنی مادری زبان کشمیری کے کے فروغ کیلئے کوشاں رہے اور اردو ادب میں جہاں بچوں کا ادب ختم ہوتا جا رہا ہے وہاں آپ بچوں کے  ادب کو زندہ رکھنے کیلئے کوشاں ہیں۔ پھول میگزین میں آپ کی کئی نظمیں شائع ہو چکی ہیں
‎اس کے علاوہ آپ اپنی  کشمیری ثقافت کی کئی چیزیں تیار کرنے کا فن رکھتے ہیں جن میں کشمیری ٹوکرے, کشمیری چادریں, گول ٹوپیاں دیودار لکڑ پہ کندہ کاری  اور دیگر کئی کار آمد چیزیں تیار کر لیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ فن ان کی والدہ نے انہیں سکھاۓ ہیں۔۔۔آپ دن رات اپنی  بھر پور کاوشوں سے ایک روشن منزل کی جانب رواں ہیں آپ کا خواب ہے کہ کشمیری زبان کو پھر سے وہ مقام ملے جو اسے حاصل تھا۔۔۔۔۔

Leave your comment !