ڈاکٹرعبدالکریم

شعور ایوب میڈیکل کالج میں طب پڑھتے ہیں۔میرپور سے ہیں اور پروفیسر منیریزدانی کے صاحبزادے۔کچھ دن پہلے پروفیسر صاحب نے شعور کے انگریزی ناول کا تذکرہ کیا۔میری تحقیق کے مطابق آزادکشمیر کے کسی نوجوان نے اس سے پہلے انگریزی ناول نہیں لکھا اور یہ ناول بجا طور پر پہلا ناول ہے۔

ناول لکھنا آسان نہیں اور وہ بھی 20/22 برس کی بےچین عمر میں۔مجھے ناول 20 مئی کو ملا۔شعور نے لکھا تھا کہ اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔آپ کو اس ناول کی کہانی پسند آئے گی۔سچی بات یہ ہے کہ گیارہ برس کے بعد کوئی انگریزی ناول پڑھا۔

ناول کا پلاٹ گندھا ہوا اور مربوط لگا۔پڑھتا چلا گیا۔سنسنی،حیرت، جرم، رومان، سراغ رسانی، خوف: شعور نے سب کو یکجا کردیا۔یہ بدلے کی کہانی ہے۔جس کا معمہ سکاٹ لینڈیارڈ کے مشاق سراغ رساں حل نہ کر پائے۔

ناول کے مرکزی کردار نے اپنے والدین کے قتل کا بدلہ قاتلوں کی اولاد سے لیااور پھر ان کے 200 بلین پاونڈ کے نشہ آور ادویات کے بزنس کا بھانڈا پھوڑ دیا۔کہانی کے کردار تیزی سے بدلتے ہیں اور مناظر بھی۔

کہانی فلیش بیک کے سہارے آگے بڑھتی ہےاور آخر تک قاری کرداروں کے سحر میں جکڑا رہتا ہے۔کہانی ماضی اور حال کے سہارے آگے بڑھتی ہے۔یہ 1990 سے 2016 کے درمیان کے دور کو محیط ہے اور قاتل نے اسے ایک نظم کے سہارے آگے بڑھایا ہے

 KNOCK KNOCK

Who’s there?

It’s me

Me who? 

 ناول کیونکہ ایک طب کے طالب علم نے لکھا ہے تو ممکن ہی نہیں کہ ناول میں بیماریوں، ادویات، لاش، پوسٹ مارٹم، معائنہ ، نفسیاتی عارضوں اور خون کے تذکرے نہ ہوں۔فرانزک رپورٹ بھی بار بار موجود ہے اور ذہین نوجوان مجرم کے  نئے نئے منصوبے بھی۔

یہ نوجوان پکڑانہیں جاتا بلکہ خودکشی کرتا ہے لیکن اس کی خودکشی قاری کو دکھی نہیں کرتی کیونکہ اس نے زندگی سے بھرپور چھ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو خوف کا شکار کرکے موت کی دہلیز پر پہنچایا ہوتا ہے۔

ناول نگار نے خودکلامی اور بہترین مکالموں سے ناول کے اندر تحیر اور خوف کو سمویا ہے۔ناول کے ابواب کے نام رکھے ہیں جن سے قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ناول نگار ناول کے فن سے واقف ہے اور جانتا ہے کہ قاری کو کیسے مٹھی میں رکھنا ہے۔

تاہم ہیرو نے جو جو ہتھکنڈے استعمال کیے، شعور نے انھیں مخفی ہی رکھا ہے کہ ہم سوچیں کہ وہ کیسے عفریت کے ذریعے دستک دلواتا۔بجلی جلتی اور بجھتی۔جس نوجوان کا انتخاب کرتا ، اس کے نفسیاتی عارضوں کو استعمال کرتا۔سانپ، مکڑیاں، سورکا خون وغیرہ کا استعمال عجیب خوفناک طریقے سے کرتا کہ میں بھی نہیں سمجھ سکا۔شعور سے ہی پوچھنا پڑے گا۔

شعور نے کرداروں کے ساتھ خوب انصاف کیا ہے اور ان سے ان کی عمر کے مطابق کام لیا ہے۔ان کے کردار جوان اور زندگی سے بھرپور ہیں۔جدید دور کے تقاضوں سے آگاہ ہیں۔کچھ کرنا چاہتے ہیں اور روایات سےبھی جڑے ہیں۔تاہم کچھ باغی بھی ہیں۔

ناول میں املا، الفاظ اور جملوں میں توازن موجود ہے اور شعور نے جملے اور پیراگراف ناپ تول کر استعمال کیے ہیں۔قاری کو اپنی انگریزی کے سحر میں نہیں رکھا کہ وہ لغات تلاش کرتا پھرے۔اس عمر میں آپ کی پہلی تخلیق بھئی واہ۔مزید کے لیے دعاگو۔