تحریر :شمس رحمان مانچسٹر /میرپور

میں نے کبھی سوچا نہیں  تھا کہ  اس موضوع پر بھی لکھوں گا جو نزاکت سے بڑھ کر “گرم آلو”  بن چکا ہے۔ تاہم  جب بات عشق کی آتی ہے تو بہت بڑا نہیں لیکن چھوٹا سا عاشق میں بھی خود کو سمجھتا  ہوں ۔ علم کا، دانش کا،  شعور کا، امن کا ، لوگوں کی خوشحالی کا، معاشرتی ترقی کا ،  سماجی انصاف اور انسانی آزادی کا۔ اور فیض نے کہا تھا کہ

جب بازی عشق کی بازی ہے تو جو چاہے لگا دو ڈر کیسا ۔

گر جیت گے تو کیا کہنے، ہارے بھی تو بازی مات نہیں۔

 اس لیے آج کا دن اور یہ کالم عشق اور عاشقی کے نام ۔

بیتے دنوں کی کہانی 

 میری ابتدائی  پرورش ایک ایسے قصبے میں ایک ایسے عہد میں ہوئی جب مقامی سماج ایک طرف  تو ایک انتہائی عظیم تاریخی تبدیلی کے اثرات سے سنبھل رہا تھا اور دوسری طرف سے  دو اور عظیم معاشی تبدیلیوں کی لپیٹ میں تھا۔  میں ساٹھ و ستر کی دہائیوں کے  اکال گڑھ کی بات کر رہا ہوں اور جس تبدیلی سے مقامی سماج سنبھل رہا تھا وہ تھی بھارت و پاکستان کا قیام اور دونوں کی جارحیت کے نتیجے میں ریاست کشمیر کی تقسیم اور تقسیم کے اس عمل کے دوران ضلع میرپور ( اور ‘آزاد’ کشمیر) سے غیر مسلموں کا انخلاء  جس سے معاشرہ ایک دم کثیر المذہبی ماحول سے ایک مذہبی ماحول میں بدل  گیا تھا۔  جن دو تبدیلیوں کی لپیٹ میں تھا  ان میں ایک  برطانیہ نقل مکانی کے عمل میں تیزی و وسعت  تھی جس کے نتیجے میں صدیوں سے قائم روزی روٹی کے ذرائع اور آلات میں کئی ایک  تیز رفتار اور  بنیادی  تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں اور دوسری  منگلا ڈیم کی تعمیر جس  کے نتیجے میں قدیم شہر میرپور  غرق آب ہو گیا اور  ایک لاکھ سے زاہد افراد  بے بسی سے اپنی بے دخلی  اور اپنے گھروں، مکانوں ، دوکانوں، مسجدوں مزاروں اور قبروں کو دیکھتے رہ گئے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت مجھے ان تبدیلیوں کی رتی برابر بھی سمجھ نہیں تھی کیونکہ سکول کے نصاب  یا پڑھنے کے لیے جو کچھ مواد ہمیں اس عمر میں  میسر تھا اس میں کہیں ان  عظیم واقعات  اور ان کے اثرات کا  کوئی ذکر نہیں تھا۔ یہ تو اب جا کر معلوم ہوا ہے کہ جس ماحول میں میری پرورش ہو رہی تھی وہ کن حالات سے گذرا اور گذر رہا تھا اور اس پر اور اس میں بسنے والے مجھ سے پہلی نسل کے لوگوں پر کیا گذر رہی تھی۔ خیر یہاں مقصود اپنے اس ماحول کا تجزیہ نہیں بلکہ صرف وہ تناظر بیان کرنا ہے جس میں ، میں نے ( اور ظاہر ہے کہ وہاں کے سب باشندوں نے) زندگی کے مختلف پہلووں کی ابتدائی سمجھ بوجھ اور شعور حاصل کیا۔ آج جس پہلو پر بات کرنے جا رہا ہوں وہ ہے عشق   اور  عاشقی    کے نام پر اندھی   علم سے خالی فرقہ  واریت  کی  کوکھ سے جنم لینے والی نفرتیں اور ما ردھاڑ۔

مذکورہ بالا عظیم معاشی و معاشرتی تبدیلیوں کے طاقتور طوفانوں کی ذد میں زندگی کی بقاء اور انسانی ارتقاء کی جدوجہد میں مشغول اکال گڑھ میں بسنے والے ہزاروں انسانوں کے  بیچ میری معمولی سی  ذاتی زندگی میں میرا تعارف عشق اور عاشقی  سے بہت پہلے فرقہ واریت  سے ہوا تھا۔ اپنے گاوں موڑا لوہاراں میں چھوٹی سی مسجد جہاں میں نے رمضان میں نماز پڑھنا سیکھا اپنے دادا مرحوم سردار خان جن کو میں ” بہھاجی” (باوا جی کا مختصر) کہتا تھا کی رفاقت میں وہاں کوئی فرقہ بندی، فرقہ پرستی یا فرقہ واریت نہیں تھی۔  اب میں سوچتا ہوں کہ اس کی وجہ شاید  یہ تھی کہ  گاوں میں کوئی اور فرقہ تھا ہی نہیں ۔ سب سُنی تھے۔ اور باقاعدہ نماز بھی  صرف بزرگ ہی پڑھتے تھے۔ ہم لڑکے بالے صرف رمضان میں جاتے تھے اور وہ بھی تراویح کی چار رکعتوں کے بعد زور زور سے کلمہ پڑھنے کے جوش کی کشش میں ۔ اور بزرگ بھی ایسے کہ گرمیوں میں قبرستان جو کہ گاوں کا  ” میل جول، کھیل  اور آرام مرکز”  بھی تھا میں بیری ( جھنڈ) کے درخت تلے بچھی چارپائیوں پر تاش کھیلتے اور ان ہی میں سے کوئی پیشی (ظہر) کی اذان (بانگ)  کے وقت جا کر اذان دیتا اور باقی پتے پھینک کر نماز پڑھنے چل پڑتے۔ میرے بچپن میں تو وہاں کوئی باقاعدہ مولوی یعنی امام بھی نہیں تھا۔ کبھی دادا جی نماز پڑھاتے ، کبھی اجی حسن اور بعدازاں میرے والد صاحب اگر انگلینڈ سے گھر گئے ہوتے یا کیپٹن ( ریٹائڑڈ) لال صاحب۔ بہت بعد جب میں ساتویں آٹھویں جماعت میں تھا  تو گاوں کے ہی ایک انتہائی شریف النفس انسان صوفی نثار باقاعدہ نماز پڑھانے لگے وہ بھی کوئی معاوضہ نہیں لیتے تھے۔ روزی کے لیے  اکال گڑھ بازار (چوک) میں چچا اسحاق کی “عتیق بکڈپو” چلاتے تھے۔

گوغی کا رولا 

فرقہ بندی سے میرا تعارف تب ہوا جب میری عمر کوئی دس بارہ سال کی تھی اور میں ” عید میلاد النبی ” کے جلوس میں گیا۔ یہ جلوس رکھیال مسجد سے شروع ہوتا تھا  جہاں درخت کاٹ کر بڑے بڑے گیٹ بنائے جاتے تھے جن کو پتوں اور پتلے سے کاغذ کی رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجایا جاتا تھا۔ یہاں  اکثر صاحبزادہ  حبیب اورعتیق الرحمان   ڈھانگری والے (اب  فیض پوری، سابق رکن اسمبلی )  مہمان خصوصی ہوتے تھے ۔ جلوس مسجد سے شروع ہو کر بازار سے ہوتا ہوا  نیو ٹاون کی طرف جاتا جہاں رکھیال (انوارِ مدینہ) سے بھی بڑی جامع مسجد ( شاید  اس کا بھی کوئی  نام  تھایاد نہیں) تھی جس کے امام و خطیب  محمود الحسن صاحب تھے۔ کبھی بازار کی دوسری سمت میرا کھائی کے گاوں کی طرف جاتا اور پھر واپس آکر پرانے اکال گڑھ جس کی وجہ سے اب یہ پورا علاقہ اکال گڑھ کہلاتا ہے کی طرف جاتے۔ مجھے  یہ تو نہیں یاد کہ پہلی بار یہ احساس پہلے جلوس میں ہوا یا دوسرے میں  لیکن یہ احساس یاد ہے کہ  جلوس جب اکال گڑھ کی طرف جانے والی سڑک پر  چلنا شروع  کرتا  تو شرکاء کے جوش و خروش میں اضافہ ہوجاتا اور نعرہ رسالت  کی گونج سے علاقہ تھرانے لگتا ۔ اور ” آج میلادَ نبی ہے کیا سہنا نور ہے ۔  آ گیا وہ نور والا جس کا سارا نور ہے ” پڑھنے والوں کی لے میں ایک دم نیا جوش پیدا ہو جاتا۔ مجھے بھی  یہ جوش محسوس کرنا اور  جوش میں لہک لہک کر پڑھنا یاد ہے۔ اور پھر جب اکال گڑھ کے اندر پہنچتے تو جوش بڑھ کر ( اب میں سمجھتا ہوں) جارحیت کی شکل اختیار کر لیتا۔ جذبات اُبلنے اور بے قابو ہونے لگتے اور پھر کوئی بزرگ کہتا کہ چلو اب واپس چلو۔ لیکن اسی طرح کے ایک جلوس میں اکال گڑھ کے مولوی جو عطر بھی بیچتے تھے پر جلوس کے کسی شریک نے حملہ کر دیا ۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ اکال گڑھ میں وہابی رہتے ہیں۔ اور یہ کہ وہابی اچھے مسلمان نہیں تھے کیونکہ وہ ہمارے نبی صل اللہ وصلعم کو حاضر ناظر نہیں مانتے۔ ظاہر ہے اس وقت میری سمجھ میں یہ بات کیا آنا تھی۔  لیکن اکال گڑھ میں تو میرے رشتہ دار رہتے تھے۔  طارقو ، طارقا،  چاچا اقبال ۔ میں نے گھر دادا جی سے پوچھا کہ وہابی کیا ہوتا ہے۔ دادا جی جو انگریزی فوج  سے ریٹائڑڈ اور بڑی مزا حیہ طبعیت کے مالک تھے کہنے لگے وہابیوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔۔۔  ہیں؟ اچھا ؟۔ ظاہر ہے اس وقت  میں ان کا  طنز نہیں سمجھ سکتا تھا۔ تاہم مجھے اطمینان ہوا کہ ہمارے رشتہ داروں میں کوئی وہابی نہیں ہے کیونکہ ان میں سینگ والا تو میں نے کوئی نہیں دیکھا تھا۔  لیکن  سینگ والا تو میں  کوئی بندہ کبھی  بھی نہیں دیکھا تھا۔  شاید دادا جی کو مجھ پر ترس آگیا کہنے لگے      ”       پُتر یہ فضول باتیں ہیں ۔ ان کی طرف دھیان نہیں دینا۔ سب اللہ کی مخلوق ہے۔ سب انسان ہیں اور سب مسلمان ہیں۔”

 تو سینگ نہیں ہوتے ان کے؟۔۔۔  دادا جی ہنس کر بولے   ” نہیں پُتر نہیں کسی انسان کے سینگ نہیں ہوتے۔ بس یہ گوغی (روٹی) کا رولا ہے۔ تو بس قران ختم کر اور سکول کی کتابوں پر توجہ دیا کر۔ بڑا ہو کر تو خود سمجھ لے گا سب۔ ” 

یہ تھا فرقہ  واریت  سے میرا  پہلا تعارف۔ اور عشق ؟ ذاتی زندگی میں اکالگڑھ جہاں میں ایف اے تک رہا اور چونکہ ایف اے چار سال میں کیا تھا اس لیے انیس بیس سال کی عمر تک عشق (جس کو میں عشق سمجھتا تھا)   وہ مجھے صرف خدا کی مخلوق سے ہوا ۔  وہ بھی خاص صنف سے اور خاص تخلیق سے۔ اور آج تک اسے بتا نہیں سکا۔ عشق گناہ تھا اور میں  معصوم ، کمزور  سادہ نہیں بزدل۔

عشق یا “ ٹھڑک “

 اور پھر میں کراچی چلا گیا ۔ کراچی یونیورسٹی میں جانے کی وجہ بھی پڑھائی ہر گز نہیں تھی۔ بلکہ  کراچی میں کچھ عرصہ اپنے چچا  ڈاکٹر ( اس وقت شاید میجر اب ریٹارڈ کرنل) عبدالرحمان کے ہاں رہنے کے دوران یونیورسٹی میں خدا کی مخلوق کی ایک صنف جس کو اس وقت میں نازک سمجھتا تھا کی کچھ ہنستی مسکراتی کھلکھلاتی ، اٹھکیلیاں کرتی ہوئی جھلکیاں تھیں۔  عام الفاظ میں تو اس کو بھی عشق ہی کہہ دیا جاتا ہے لیکن اس کے لیے اصل لفظ ہماری زبان کا ہے ” ٹھڑک” ۔ اور دوسال تک یہی مشغلہ رہا۔ میرا ہی نہیں پاکستان کے دور دراز علاقوں سے آنے والے اور کشمیریوں کی اکثریت کا محبوب مشغلہ بھی یہی تھا ۔ تاہم ذرا فاصلے سے کیونکہ گاوں میں لوگوں کے جوتوں کا ڈر تھا  لیکن یہاں ان کے اپنے جوتے ماشااللہ ان گنت اقسام کے تھے اور جرات و بے باکی بلا کی۔

وطن کی عاشقی کا سفر 

 اور پھر وہ حادثہ ہو گیا جس نے زندگی کا رخ اور مقصد ہی بدل دیا۔ گیارہ 11 فروری انیس سو چوراسی 1984  مقبول بٹ کی پھانسی کے خلاف کراچی کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے باہر انڈین ائیر لائن کے دفتر کے سامنے  پتھراو سے بھرپور مظاہرے میں اتفاقیہ اور برائے نام شرکت پر پاکستانی پولیس کے پنجابی سپاہیوں نے میری وہ درگت بنائی اور وہ تذلیل کی کہ میں  دماغی طور پر کئی روزتک صدمے ، دکھ ، کرب اور بے بسی کے احساسات کے کچوکے سہتا ہوا عاشق بن گیا۔ کشمیر کا۔ کشمیر کی آزادی کا، مقبول بٹ کا اور اسی راہ پر چلتے چلتے علم کی تلاش ، شعور کی جستجو اور کائنات کے تمام خوبصورت جذبوں ، سپنوں، خوابوں اور انسانوں  کی خوشیوں کا۔ اور اسی راستے پر مجھے پتہ چلا کہ عشق کے کئی روپ اور کئی مراحل اور کئی نام اور کئی شکلیں ہیں۔

ایک بڑا فرق جو اکال گڑھ  کے ماحول میں موجود تھا لیکن میں ‘ تعلیم یافتہ’  کہلائے جانے کے فیشن کے اثر میں اس کو سمجھ نہ سکا۔ وہ تھا  حقیقت اور مجاز ۔ مجھے یاد آیا کہ میں نے یہ  اصلاحات منکراہ میں اپنے ماموں زاد بھائی خالد کے گھر سنی تھیں ۔ پوٹھوہاری شعروں کے تناظر میں کہ شعر خوان عشق حقیقی پر مبنی شعر بھی گاتے ہیں جن میں اللہ اور اس کے رسول کی مداح  اور ان سے قربت کا اظہار ہوتا ہے اور عشق مجازی بھی جن میں انسانی محبوب کے لیے دل کی بیقراریوں کے اظہار کے لیے زمین اور آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں۔ شاعری اور شعر خوانی کی یہ صنف آج بھی پوٹھوہار ، آزاد کشمیر اور برطانیہ میں مقیم آزاد کشمیریوں اور پوٹھوہاریوں میں مقبول عام ہے۔ اور اب میں بھی اس کو خوب سنتا ہوں بلکہ اس کی محفلیں کمیونٹی سنٹروں اور بعد میں اپنا چینل اور کے بی سی پر بھی خاص طور سے منعقد کرواتا رہا ہوں۔

صوفیانہ عشق 

عشق کے حوالے سے ایک نئے جہان سے تعارف اپنے ان عظیم فلسفی شاعروں کے کلام سے ہوا جن کو صوفی ، ولی، اور باوے کہا جاتا ہے۔

 وارث شاہ کا یہ شعر میرے لیے عشق کی سمجھ کے نئے جہانوں کی کنجی تھا۔

اول حمد خدا،             ورد  کیجئیے ، عشق کیتا سو جگ دا مول میاں

پہلے آپ ہی  رب نے عشق کیتا ،  معشوق ہے نبی رسول میاں

عشق پیر فقیر دا مرتبہ ہے مرد عشق دا بھلا رنجول میاں

کھلے تنہاں دے باغ قلوب اندر جنہاں کیتا ہے عشق قبول میاں

اور پھر اپنے میاں  محمد بخش صاحب نے اسی عشق کے بارے میں فرمایا

جس تن اندر عشق نہ رچیا ، کتے اُس تھیں چنگے

مالک دے در راخی کردے،  صابر،         پُکھے ننگے

اور یہ کہ

بال چراغ عشق دا ، میرا روشن کر دے سیناں

دل دے دیوے دی روشنائی،   جاوے وچ زمیناں

عشق کی اس سمجھ نے میرے جیسے معمولی  گنہگار شخص کو بھی چھوٹا سا  عاشق بنا دیا ۔ لیکن میرا تجربہ تو کہتا ہے کہ یہ عشق جذبات ، محسوسات اور تخیل و تصوارت کو سہلاتا ہے ، قلب و روح اور دل و دماغ کو کھول کر کائنات کی وسعتوں اور محبتوں  کو اندر سمو لیتا ہے پھر یہ خانقاہوں اور درگاہوں اور درباروں و مزاروں تک کیوں محدود ہے؟ عام زندگی میں عشق کے نام پر سفاکی اور وحشت کیوں برپا پے؟ اور وہ بھی اس کے عشق کے نام پر جس نے عشق کو جگ کا مول کیا۔ جس نے یہ جہاں اپنے معشوق کے لیے بنایا ۔ خدا کے  معشوق کے عشق کے نام پر گلے کیوں کاٹے جاتے ہیں ؟ گولیاں کیوں برسائی جاتی ہیں؟ جانیں کیوں لی جاتی ہیں؟ جس عشق کے بارے میں میاں محمد بخش نے کہا کہ سینہ روشن کرتا ہے اور جس کے بغیر انسان  وفادار کتوں  کی سطح سے بھی نیچے گر  جاتا ہے اس عشق کے نام پر انسان درندہ کیسے بن سکتا ہے؟

سیاسی عشق 

اس پر مجھے ایک اور حقیقی واقعہ یاد آ گیا ہے ۔ شاید 2011 کی بات  ہے ۔ ہم کچھ دوست لاہور کے سیوئے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ وہاں پاس سے ہی ایک ”  اوور پاس”           (اوپر گذار) ہے ۔ کسی نے کہا یار دیکھو نواز شریف اور شہباز شریف نے کم از کم ایسے کام تو کیے ہیں ۔ ایک دوست جو مقامی تھے کہنے لگے اس کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ دراصل یہاں آگے ایک علاقے میں شہباز شریف کی معشوقہ رہتی تھی۔ وہ اس سے ملنے جاتا تھا۔ لیکن سڑک بڑی خراب تھی۔ تو اس نے یہ پاس خصوصی طور پر اس کے لیے بنا دیا۔ پہلا بولا نہیں نہیں یہ پروپیگنڈہ ہے  ۔ میں نے کہا چلو یار اگر مان بھی لیا جائے کہ یہی وجہ ہے پاس بنانے کی تو شکر کرو کہ شہباز سرمایہ دار اور صنعتکار ہے ۔ اگر جاگیردار ہوتا تو محبوبہ کو اٹھا کر لے آتا۔ سڑک نہ بناتا۔

حاصل کلام 

عشق سب ہی کرتے ہیں لیکن اس کے اظہار کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔  کچھ لوگوں کو پھولوں سے عشق ہوتا ہے تو وہ اس عشق میں پھول اُگاتے ہیں ۔ ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ اور کچھ عشق کا اظہار پھولوں کو توڑ کر کرتے ہیں۔کہا جا سکتا ہے کہ اس کا سبب جہالت ، ان پڑھی اور قبائلی اور جاگیردارانہ سماج میں ہے۔ لیکن میرے ‘بہھاجی’  اور ان جیسے گاوں اور قصبے کے کتنے ہی بزرگ بھی تو اسی سماج کے پروردہ تھے۔ وارث شاہ بھی تو سرمایہ داری سے پہلے کے قبائلی اور جاگیردارانہ سماج میں لکھ رہا تھا۔ میاں محمد ، بلھے شاہ ، شاہ حسین ، بابا فرید اور بابا ناننک بھی تو اسی معاشی ڈھانچے پر کھڑے سماجی نظام میں پلے بڑھے تھے؟ میرے خیال میں  اس کی وجوہات کہیں ہیں  اور  اپنے سماجوں  کو مزید   گہرائی سے پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اللہ نیاں اللہ ہی جانے 

یہ ایک الگ اور طویل بحث ہے کہ اس طرز عمل پر جدید تجزیاتی سانچوں میں رکھ کر قبائلی و جاگیردارانہ لیبل چسپاں کیے جاسکتے ہیں لیکن ایک بات  جو میں نے اپنی زندگی سے  سیکھی ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ کا عشق اپنے معاشرے کو سمجھنے کے لیے اپنے معاشرے میں ، اپنی زمین سے پیدا ہونے والے علم کے مطالعہ اور سمجھ کی کوکھ سے پیدا نہیں ہوا  بلکہ صرف باہر کے علم یا اس علم سے بے علم عقیدت سے پھوٹا ہے تو پھر باہر سے آئے ہوئے لفظوں اور اصطلاحات کے اسیر ہو کر آپ عمر بھر لوگوں کو ان الفاظ اور اصطلاحات کے لغوی معنوں کی بوتلوں میں بند کرنے کے بے فیض اور بے ثمر جتنوں   میں لگے رہتے ہیں ۔ وہ لفظ اور اصطلاحات جو ایک اور زمین ایک اور سماج میں ایک اور وقت میں اور طرح کے حالات میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھ کر سیاست کے گھوڑوں اور جہازوں  پر سوار ہو کر بادشاہت اور  سامراج کا روپ دھاڑ کر پھیلے اور جدھر کو منہ آیا ادھر علاقوں ملکوں کو تاراج کیا اور لوگوں کو معاشی ، سماجی اور فکری اور علمی طور پر  سرنگوں  کیا اور مفتوح  فاتحاوں  کی زبانوں اور فکر میں ڈھلنے کے لیے بے تاب و بے قرار ہوئے اور آج تک ہیں۔ اپنے سماج کی ٹھوس اور مادی  تاریخ اور حقیقتوں سے کٹے ہوئے ۔ علم سے خالی عشق جو اپنا اظہار پھول اگانے میں نہیں پھول توڑنے میں پاتا ہے جو سڑک بنانے کی بجائے معشوقہ کو اٹھا لاتا ہے جو نہیں جانتا کہ خدا نے اپنے معشوق کے عشق میں یہ کائنات تخلیق کی اس کو تباہ نہیں کیا۔ یہ عشق  جو تباہی پھیلاتا ہے ملکیت کا عشق  ہے۔ اس کو عشق نہیں ہوس گیری کہنا چاہیے ۔ جس کو معشوق کے احساسات کی پراہ تو کیا ان کو روند کر سکون ملتا ہے۔ جو محرومی کی کوکھ میں پلتا ہے اور ان گنت محرومیوں اور تنگ دستیوں ( معاشی اور ذہنی) کے مارے ہوئے مار کر اپنی محرومیاں مٹانے کو عشق سمجھتے ہیں جو درحقیت عشق نہیں  نفسیاتی ٹھرک ہے۔ اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ جن کے نعروں کے پرجوش جواب میں وہ علاقوں کو تھراتے ہیں اور جن کے جوش خطابت میں بہہ کر وہ قتل کرتےہیں وہ ان کے نام پر کیا کیا کچھ  کہاں کہاں سے وصول کرتے اور کہاں کہاں محل بناتے ہیں۔ ویسے تو عرب حکمرانوں نے معشوقِ خدا کی سب نشانیوں کو ایک ایک کر کے مٹا دیا ہے لیکن مٹانے سے پہلے بھی کیا کہیں ان کا کوئی محل تھا؟ کیا عاشقان رسول میاں محمد ، وارث شاہ، بابا فرید  ، خوشحال خان ، الن فقیر  کا کوئی محل ہے؟ حبہ خاتون۔ لل دید (للہ عارفہ) نور الدین ولی سے بڑا کون عاشق تھا؟ کیا انہوں نے کوئی محل چھوڑا؟  مجھے دادا جی کی بات یاد آرہی ہے۔ پُتر اے سارا رولا گوغی ناں ہے۔ ( بیٹا یہ سب شور روٹی کا ہے) تم بڑے ہو کر سمجھ جاو گے۔ اور ہاں بات کچھ کچھ سمجھ میں آرہی ہے۔  یہ رولا گوغی کا ہے۔ کچھ کے لیے لغوی طور پر کہ ان کو صرف دو وقت کی روٹی چاہیے اور کچھ کے لیے استعارے کے طور پر کہ ان کے پیٹ تو بھرتے ہی نہیں ہیں۔

پس تحریر : 

کسی کی کسی قسم  کی دل آزاری اور گستاخی مقصود نہیں اور سہواً  سرزد ہو گئی ہو تو معافی چاہتا ہوں۔اللہ نیاں اللہ ہی جانے۔