تحریر: عارف الحق عارف (امریکا)

جہلم سے ہمارا کئی حوالوں سے جذباتی تعلق ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کا ذکر آتے ہی آنکھوں میں چمک سی پیدا ہوتی اور توجہ و دلچسپی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ہر اس شخص سے اپنائیت و قربت کا احساس ہونے لگتا ہے، جس کا اس تاریخی شہر سے کسی نہ کسی طرح تعلق ہے۔ یہ حوالے ہجرت، بچپن، جوانی اور بڑھاپے سے جڑے ہیں۔ یہ کل چھ حوالے ہیں، لیکن چھٹا حوالہ باقی پانچ سے نیا، توانا اور سب پر سبقت لے گیا ہے کہ یہ حوالہ جہلم کے مشہور اشاعتی ادارے بک کارنر اور اس کے بانی شاہد حمید، ان کے دو لائق اور فرماںبردار بیٹوں گگن شاہد اور امر شاہد کا ہے۔

جہلم سے تعلق کا پہلا حوالہ ہجرت اور بچپن کا ہے کہ ہم 1947ء میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے عارضی طور پر جس مہاجر کیمپ میں رکھے گئے تھے، وہ جہلم کے قریب چک جمال کی فوجی چھاؤنی کی بڑی بڑی بیرکوں میں قائم کیا گیا تھا۔ ہمارے بچپن کے چار سال 1948ء سے 1952ء تک جہلم کے قریب اسی مہاجر کیمپ میں گزرے، جو انڈین آرمی اور ایئر فورس کے حملوں کے نتیجے میں گھر بار چھوڑ کر کشمیر کے مختلف علاقوں سے آنے والے لُٹے پٹے کشمیری مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام  عارضی طور پر بنایا گیا تھا۔ ہم بھی اپنے آبائی علاقے مہل پیر بڈیسر (موجودہ ضلع میرپور) چھوڑ کر قریباً 130 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے کئی ہفتوں میں وہاں پہنچے تھے۔ اس شہر سے دوسرا حوالہ یہ ہے کہ ہم ساتویں جماعت میں تھے کہ عالمِ دین بننے کا شوق ہوا اور ہم اپنے دوستوں، صوفی دین محمد اور دل محمد کے ساتھ گھر والوں کے بتائے بغیر پیدل ہی، پہلے میرپور، پھر وہاں سے شکریلہ، سرائے عالمگیر اور وہاں سے جہلم پہنچے اور وہیں یہ فیصلہ کیا کہ اب کون سے دارالعلوم جانا ہے۔ یہ بات اور ہے کہ ہمارا شوق پورا نہ ہو سکا۔ تیسرا حوالہ یہ ہے کہ میٹرک کے بعد جب ہمارا کراچی جانے کا انتظام ہوگیا تو کھوئی رٹہ سے کراچی جاتے ہوئے تین چار دن جہلم میں قیام کیا کہ یہاں کراچی لے جانے والے محسنوں کے رشتےدار رہتے تھے۔ چوتھا حوالہ یہ ہے کہ جب کراچی آکر مستقل رہائش پذیر ہوئے اور کراچی پورٹ ٹرسٹ میں مستقل ملازمت مل گئی تو چھٹیوں میں بذریعہ ریل آزاد کشمیر جاتے ہوئے ہمارا پہلا پڑاؤ جہلم ہی ہوتا اور کبھی ہوٹل میں، اور 1967ء کے بعد اس شہر میں روزنامہ جنگ کے نمائندے کے یہاں ٹھہرتے تھے۔ پانچواں حوالہ، جہلم کے ایک مشہور سیاسی خاندان سے ہے، جن کے راجا محمد افضل سے کراچی میں ہمارے نہایت دوستانہ تعلقات تھے۔ ان پانچ حوالوں کے بعد اب چھٹا حوالہ حال ہی میں قائم ہوا اور اب وہی سب سے مضبوط حوالہ ہے، یعنی شاہد حمید اور ان کے بیٹے۔ جن سے ہمارا رابطہ ملک کے بڑے ادیب اور کہانی نویس، سب رنگ ڈائجسٹ کے مدیر، شکیل عادل زادہ اور معروف اینکر اور کالم نگار رؤف کلاسرا نے کروایا۔ اگرچہ ان کے ساتھ ہمارے رابطے کو چند ہی ہفتے ہوئے ہیں، لیکن امر شاہد اور گگن شاہد سے چند بار فون پر گفتگو سے ایسا محسوس ہوا جیسے ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہیں، جیسے کوئی عرصے سے بچھڑا ہوا خاندان تھا جو اچانک مل گیا اور اب ہمارے اس خاندان پر قیامت گزر گئی کہ اس کے سربراہ، بک کارنر کے بانی، جہلم شہر کی پہچان، شاہد حمید کا انتقال ہوگیا، جس سے نہ صرف یہ گھرانہ، بلکہ پورا جہلم شہر گہرے صدمے اور سوگ میں ہے۔

شاہد حمید نے جہلم میں کتاب کے ذریعے علم کی روشنی پھیلائی۔ انھوں نے 1970ء میں ایک چھوٹی سی دُکان کی ایک آنہ لائبریری سے کام کا آغاز کیا اور اپنی شبانہ روز جدوجہد سے جہلم شہر میں دُنیا کے ہر موضوع پر ہزاروں کتابوں کی بڑی لائبریری اور بک کارنر جیسا بڑا اور مثالی اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ جس کا شمار آج پاکستان کے چند بڑے اشاعتی اداروں میں ہوتا ہے، جو ملک کے چوٹی کے ادبا، افسانہ نگاروں، ناول نگاروں اور اسکالرز کی کتب نہایت دلکش انداز میں شائع کرتا ہے۔ شاہد حمید کو بچپن ہی سے علم اور کتاب سے پیار تھا، جب انھوں نے اپنے شہر میں علم کی روشنی پھیلانے کا پختہ عزم کیا تو پھر پیچھے مڑ کر کبھی نہیں دیکھا اور ہر قسم کے نامساعد حالات کا پامردی سے مقابلہ کرتے ہوئے جہلم جیسے شہر میں بک کارنر اور لائبریری کی شکل میں ایک بڑا ایمپائر قائم کر دیا، جس پر نہ صرف جہلم بلکہ پورے ملک کے علمی حلقوں کو فخر ہے۔

شاہد حمید کے بچپن کے دوست شبیر جہلمی بیان کرتے ہیں کہ ’’یہ 1983ء کی بات ہے، میری موجودگی میں شاہد بھائی کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ ’’جتنی مرضی کوشش کر لیں، جہلم میں کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔‘‘ اس شخص کی بات پر شاہد صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ’’بےفکر رہیے، ان شاء اللہ میں آپ کو کامیاب ہو کر دکھاؤں گا۔‘‘ اور پھر دُنیا نے دیکھا کہ اس شخص نے مختصر مدّت میں اپنے پختہ ارادے، جہدِ مسلسل، سچّی لگن اور محنت سے کتاب کے ذریعے علم کی روشنی ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کے لیے بک کارنر کی شکل میں ایک بڑا پبلشنگ ہاؤس قائم کر دیا۔ انھوں نے نہ صرف حیران کن کامیابیاں حاصل کیں بلکہ دُنیا بھر میں جہلم کا نام بھی روشن کیا۔‘‘ علم و ادب کے چراغ روشن کرنے والا یہ ستارہ 17 مارچ 2021ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔ شاعر نے شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا ہے کہ  ؎

ایک روشن دماغ تھا، نہ رہا

شہر میں اِک چراغ تھا، نہ رہا

بشکریہ روزنامہ جنگ