قسمت کا دھنی : شاہد آفریدی -شبیر ا حمد ڈار

  اس دنیا میں ایسی بہت سی شخصیات ہیں جنھوں نے اپنی محنت سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا اور بے شک اللہ پاک جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے . آج ایک ایسی شخصیت کا تعارف پیش کرنے کی کوشش کروں گا جو کسی تعارف کی محتاج نہیں ہر ملک میں اس کا نام پرجوش لہجے میں لیاجاتا ہے ہر بچہ خود کو اس کے نام سے موسوم کرنے کی کوشش کرتا ہے . ہر نوجوان اس باصلاحیت شخصیت  سے متاثر ہے . یہ شخصیت خود رہے یا نہ رہے ہمارے دلوں میں اور کرکٹ کی تاریخ میں اس کا نام ہمیشہ گونجتا رہے گا . یہ باصلاحیت شخصیت “شاہد خان آفریدی ” ہے . آپ یکم مارچ 1976ء کو خیبر ایجنسی کے علاقہ وتیرہ میں پیدا ہوئے . آپ کا مکمل نام ” صاحبزادہ شاہد خان آفریدی ” ہے . آپ نے ابتدائی تعلیم کراچی کے اسکول النور اکیڈمی سے حاصل کی . میٹرک تک سرکاری اسکول میں باقاعدگی سے تعلیم حاصل کرتے رہے مگر کرکٹ کا جنون ان پر تاری رہاان کا دھیان کتاب کی بجائے کھیل کےمیدان میں ہوتا . انٹرمیڈیٹ اسلامیہ کالج کراچی سے حاصل کی .آپ نے 2005ء میں نادیہ نامی خاتون سے شادی کی . اللہ پاک نے بیٹیوں کی صورت میں آپ پر رحمتیں نازل کیں آپ کی چار بیٹیاں ہیں جن کے نام  اقصا ، افشا، اسمارا اور اجوا ہیں . 


     کرکٹ کی ابتدا شاداب کرکٹ کلب سے کی اور ابتدا میں فاسٹ باولر تھے مگر ایکشن درست نہ تھا جس وجہ سے آپ نے لیگ بریک اسپنگ باولنگ شروع کی  . ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی پرفارمنس کی بنیاد پر 1996ء کو آپ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں لیگ اسپنر مشتاق احمد کی جگہ  شامل ہوئے . اس وقت آپ کی عمر 16 برس تھی . 4 اکتوبر 1996ء کو سری لنکا کے خلاف میچ میں اپنی پہلی ہی اننگز میں 37 گیندوں پر 102 رنز  بنائے جو کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری تھی اور یہ ریکارڈ کئ سال تک قائم رہا . یہ سلسلہ جاری رہا آپ کی جارحانہ بیٹنگ اور شاندار باولنگ کے سب مداح ہو گے . یہاں تک کہ بھارتی کمنٹیٹر و سابق بھارتی کھلاڑی راوی شاستری نے آپ کو بوم بوم آفریدی کہہ  دیا اور یہ نام شائقین کی زبان پر بھی رچ بس گیا .ٹیم کے کھلاڑی آپ کو لالہ کہہ کر پکارتے . شاہد خان آفریدی جب بھی بیٹنگ کو آتے تو بوم بوم کی آواز سے پورا اسٹیڈیم گونج اٹھتا تھا آپ کی جھلک کو دیکھنے کےلیے سب بے تاب ہوتے اور کچھ تو یہ دعائیں بھی کرتے جلدی سے نصف ٹیم پویلین کو لوٹے  اور شاہد خان آفریدی کو موقع ملے . آپ جب وکٹ پرموجود ہوتے تو باولر کے ہاتھ بھی کپکپاہٹ کا شکار رہتے کئ بار پاکستانی ٹیم کو آپ نے اپنی جارحانہ بیٹنگ اور باولنگ سے فتوحات  دیں . 

    آپ ایک بہترین آل راونڈر رہے آپ جےسوریاکے بعد وہ واحد کرکٹ پلئیر تھے جنھوں نے 300 وکٹیں  اور 6000 زنز اسکور کر رکھےتھے . آپ نے پہلا ٹیسٹ میچ 12 اکتوبر 1998ء میں آسڑیلیا کے خلاف کھیلا اور آخری ٹیسٹ بھی اسی ٹیم کے خلاف 13 جولائی 2010ء کو کھیلا . 29 ٹیسٹ میچز میں آپ نے تقریبا 1716 رنز بنائے جن میں پانچ سنچریاں اور آٹھ نصف سنچریاں شامل ہیں . ٹاپ اسکور 156 رہا اور آپ نے 48 وکٹیں  حاصل کیں  . پہلا ایک روزہ میچ 2 اکتوبر 1996ء کو کینیا کے خلاف اور  آخری ایک روزہ میچ 20 مارچ 2015ء کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلا . 398 ایک روزہ میچز میں آٹھ ہزار کے لگ بھگ اسکور بنائے . جن میں 6 سنچریاں اور 39 نصف سنچریاں شامل تھیں . ٹاپ اسکور 124 رہا اور 395 وکٹیں حاصل کیں . پہلا ٹی ٹونٹی میچ 28 اگست 2006ء کو انگلینڈ کے خلاف کھیلا اور آخری ٹی ٹونٹی 25مارچ 2016ء کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلا . آپ نے 89 انٹرنیشنل ٹی ٹونٹی میچز میں 1405 زنز بنائے ان میں 4 نصف سنچریاں شامل تھیں ، ٹاپ اسکور 54 تھا اورآپ نے 97 وکٹیں حاصل کیں . یہ انٹرنیشنل میچز تھے  جس میں آپ نے پاکستان کی نمائندگی کی آپ بہترین آل راونڈر کے ساتھ ایک کامیاب کپتان بھی تھے . پاکستان کو بہت سے میچز میں فتح سے ہم کنار کیا . آپ نے اپنی پرفارمنس سے ہم سب کے دل جیتے .

   اللہ پاک سے دعا ہے کہ آپ کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے . آپ ایک اچھے اوصاف کی حامل شخصیت ہیں فلاحی کاموں میں بھی آپ کا کردار نمایاں ہے . امید ہے یہ سفر یونہی جاری رہے گا …..