شاہین اشرف علی
حالات زندگی
شاہین اشرف علی منفر د لہجے کی شاعرہ اور صاحب طرز نثر نگار ہیں-انھوں نے کم عمری ہی میں لکھنا شروع کیا -آبائی تعلق سندھ سے اور آج کل لاہور میں ہیں -انھوں نے ایک خالص ادبی ماحول میں آنکھ کھولی ان کے والد  سید علی رضا رضوی صاحب  مستند شاعر تھے رثائ شاعری پر انکی توجہ زیادہ تھی- دادا اور دادی بھی فارسی میں بات چیت کرتے تھے -جوش ملیح آبادی اور رئیس امرھوی ان کے  دادا کے دوست تھےکراچی یونیورسٹی سے  بی اے آنرز کیا اس وقت ان کی عمر بیس سال تھی اور اسی سال شادی کے بعد ملک سے باھر چلی گئیں  مگر پڑھنے کا سلسلہ جاری رکھا -مصر میں عربی زبان و ادب کے ساتھ دلچسپی پیدا ہوئی اور قاہرہ میں قیام کے دوران عربی زبان سیکھی بہت سارے عربی ادیبوں کو پڑھا -دس سال جنرل موٹر ز میں کام کیا اور پھر ان گنت کورس اور ڈپومہ ٹرنینگ کورسز مکمل کیے  انھیں کتابوں سے عشق ورثے میں ملا  ھے –  ان کو سیاحت کا جنون و شوق ہے  دلچسپ سفر نامہ لکھتی ہیں
شاہین اشرف علی کی تصانیف 
شاہین اشرف علی کی شاعری کا اولین مجموعہ چراغ در چراغ 2018 میں شائع ھوا -سفر نامہ حجاز لکھا لیکن مسودہ ایک حادثے میں گم ہو گیا جس کا ان شدید قلق ہے-افسانوں کا مجموعہ ستارے اتنے خواب بھی چھپ چکا ہے -ان دنوں تین کتابوں پر کام کرر ہی ہیں


شاہین اشرف علی کے  اسفار
شاہین اشرف علی کو ان گنت مرتبہ حج اور عمرے کی سعادت ملی انیس ممالک کی سیر و سیاحت اورپاکستان کے بیشتر شہروں کی سیر و سیاحت اور انکا احوال بھی قلم بند کر چکی ہیں-ان کو پہاڑوں سے عشق ھے کہ غار حرا،کوہ طور،جبل توبہ اور کوہ ثور پر بار بار جانے کی حسرت ھے
شاہین اشرف علی کی ادبی سرگرمیاں
کویت میں پینتیس سالہ قیام کے دوران وہ ادبی طور پر بہت متحرک رہی ہیں – وہ ادبی تنظیم انجمن تخلیق و تہذیب کی بانی صدر بھی ہیں ان کی تنظیم عالمی مشاعرے کا اھتمام کرتی رھی ہے انھیں کویت میں ادبی،سماجی اور  فلاحی کاوشوں پر بیس سے زیادہ ایوارڈ ملے ہیں – وہ پاکستان ویمن فورم کویت کی چئیر پرسن بھی رہی ہیں


سفیر پاکستان سید ابرار حسین شاہ صاحب چراغ در چراغ کے رسم اجرا کے موقع پر

 شاہین اشرف علی مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ساتھ

 شاہین اشرف علی بحرین میں فہمیدہ ریاض اور سلیم کوثر کے ساتھ ایک مشاعرے میں


شاہین اشرف علی کے مشاغل
شاہین اشرف علی ہر فن مولا شخصیت ہیں -کوہ پیمائی اور گھڑ سواری کے شوق کیساتھ پتھروں اورعلم اعداد سے دلچسپی ہے ان کی شخصیت قومی ثقافت کی محبت سے گندھی ہے لہذا علاقائی ملبوسات شوق سے تیار کرتی اور پہنتی ہیں- ان کو پینٹنگ کا شوق بھی ہے –


محترمہ شاہین اشرف علی گھڑ سواری کے دوران 
ان کے مطابق  گھوڑوں کی وفاداری نے انھیں بہت متاثر کیا 

محترمہ شاہین اشرف کی پینٹنگ


‎شاہین اشرف علی دوسروں کی نظر میں
‎انیلا طالب کی کتاب روشن ستارے میں چند مشہور شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے اس میں محترمہ شاہین اشرف علی کی علمی و ادبی خدمات کا احوال بھی ملتا ہے

سفیر پاکستان براے کویت عزت ماب غلام دستگیر  سے سماجی اور ادبی خدمات پر ایوارڈ لیتے ہوۓ