شفیق انجم 

ہم بہت بڑبولے ہیں

اپنی اوقات سے بڑھ کر بولتے ہیں

شیخی بگھارتے

شوخے ہوئے چلے جاتے ہیں

معلوم نہیں کیوں

رب پالتا پوستا اُستوار کرتا ہے

تو ہم اپنا ڈھول،

اپنا ڈھنڈورا پیٹنے لگتے ہیں

ہیجانی ہوئے جاتے ہیں

مقامِ شکر کی مٹی کھرچتے

پنجوں کے بَل ناچتے ہیں

عجیب ہیں ہم

حساب نہیں رکھتے

اپنے آپ کو سوچتے نہیں

نعمتوں، احسانوں، عطاؤں کے

ان گنت سلسلوں میں

عمر بھر رہتے

عمر بھر منہ پھیرے رکھتے ہیں

معلوم نہیں کیوں

ہم اتنے بد نصیب ہیں

کہ سب کچھ سیکھتے

شُکر کا سلیقہ نہیں سیکھ پاتے

کوئی ایک بھی

سجدہ نہیں کر پاتے

کہ مٹی ہمیں بوسہ دے

سہلائے۔۔۔

خوشبو کی طرح پھیلا دے

عجیب ہیں ہم

بڑبولے، شوخے، مشٹنڈے

عجز سے عاری

حالانکہ ہم اپنی اوقات جانتے ہیں

تالو چاٹتے

تُھوک نگلتے ہیں

۔۔۔مسلسل و متواتر!