تحریر : ظہیر ایوب
معدودے چند نفوس ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے قلوب و اذہان پر گہرے نقوش ثبت کر جاتے ہیں۔جنکی لمحاتی صحبت بھی ہماری زندگیوں پر دور رس اثرات مرتسم کر جاتی ہے۔انکی محفل میں تقدس و پاکیزگی کا ایک گہرا احساس ہوتا ہے۔وہ لب نہ بھی ہلائیں لیکن انکی ذات و صفات کا نورانی ہالہ دوسروں کو اپنی ٹرانس میں لیے رکھتا ہے۔ وہ ایک ہی نظر میں سارا لائف اسٹائل بدل دینے کی قدرت رکھتے ہیں۔دلوں پر خواہ کتنا ہی میل و زنگ کیوں نہ لگا ہو وہ ایک پل میں اسے اتار کر صیقل کر دیتے ہیں۔
ان کا وجود ایک نعمت غیر مترقبہ کا درجہ رکھتا ہے۔ان کا سایہ برکت، سلامتی اور خوشحالی کا مؤجب ہوتا ہے۔وہ منبع سکوں اور امن و آشتی کے سفیر ہوتے ہیں۔ ہمہ وقت آسانیاں تقسیم کرتے رہتے ہیں اور سراپاء پیار ومحبت ہوتے ہیں۔
دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللّٰہی
آج خواجہ شفیع مدنی قدس سرہ کی رحلت پر سوچتا ہوں کہ کیا لکھوں کیا نہ لکھوں؟ کہ ایسے قیمتی جواہرات پر اپنی کیا بساط کہ کچھ خامہ فرسائی کرسکوں۔مجھے اس وقت اپنی بے بضاعتی کا ایک بے نام سا احساس ستاتا ہے جب ایسی قدآور ہستیاں مقابل آ جاتی ہیں۔لفظوں کا گویا ایک قحط سا پڑ جاتا ہے۔ اگرچہ چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں مرحوم کے ساتھ جڑی یادداشتوں کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا تو ہے لیکن اسے پوسٹ کرنے سے ہچکچاہٹ کا شکار رہا مبادا کہ یہ سب مرحوم کے شایانِ شان نہ ہو۔
مرحوم کے دولت خانے پر ہمارا آنا جانا لگا رہتا تھا۔کیونکہ وہاں عرصہ دراز سے ہمارے ادارے کا اسکول قائم ہے جہاں اکثر اسکول مانیٹرنگ کے دوران ان کے ساتھ ملاقات ہو جاتی تھی۔بلکہ سالانہ تقریب میں خواجہ صاحب ہی مہمان خصوصی ہوا کرتے تھے۔ 2019ء کی تقریب کے دوران وہ خرابئ صحت کیوجہ سے راولپنڈی تھےلیکن ہمارے بیحد اصرار پر رات کا سفر کر کے علی الصبح گھر پہنچے اور اسکول تقریب کو رونق افروز کیا۔آپ کے لہجے میں ایک خاص دھیماپن، سوز و گداز اور علم و حلم پایا جاتا تھا۔جو یونہی کسی کو عنایت یا ودیعت نہیں ہوتا۔بلکہ اسے پانے کیلئے پہروں عبادت و ریاضت اور شب بیداری کے کٹھن مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔ہمہ وقت اپنے قلب کی طہارت و صفائی کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پانا پڑتا ہے۔چپ کا روزہ رکھ کر بالآخر آواز و لہجوں کی تاثیر و حلاوت کشید کرنا پڑتی ہے۔تب جا کر آپکے قلب و نظر میں بھی وہ طاقت و توانائی اور مقناطیسیت عود کر آتی ہے جس سے ہر خاص و عام آپکی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔آپ کی ہستی مرجع خلائق اور سرچشمۂ فیض بن جاتی ہے۔
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہوتو عزیز تر ہے نگاهِ آئینہ ساز میں
مرحوم مدنی صاحب صحیح معنوں میں ایک صوفی باعمل بزرگ تھے۔آپکے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔وہ سرتاپا عشقِ مصطفویؐ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ایک ایسے سچے عاشقِ رسولؐ جس نے آپؐ کے عشق و مؤدت میں اپنا سب کچھ تج دیا ہو۔ناموس رسالتؐ پر اپنا تن من دھن نچھاور کر دیا ہو۔مدحتِ رسولؐ ہمہ وقت آپ کے لبوں پر جاری رہتی اور نعت خوانی کی مختلف محافل میں شمع رسالتؐ کے پروانوں کے دل گرماتے رہتے تھے۔ شریعت محمدیؐ آپ کا اوڑھنا بچھونا بن چکی تھی۔آپ سراپاء عجز و انکسار تھے۔آپ کی ہر بات اور عمل میں ایک تال میل اور ہارمنی تھی جو سیدھی قلب و روح میں اتر جاتی تھی۔
ایکبار مدنی صاحب کی اقتداء میں نمازِ ظہر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔مرحوم کا  خشوع و خضوع، عاجزی اور الحاح زاری دیکھ کر ہم جیسے کاہل و سست الوجود کی عادتِ نماز بھی ایک عرصہ تک قائم رہی۔جس کا ثواب بالواسطہ طور پر مدنی صاحب ہی کو جاتا ہے۔
آپ اسی برس کے پیٹے میں تھے لیکن اس کے باوجود دائیں بائیں مختلف تقریبات میں شرکت کرتے رہتے تھے۔لیکن تین ماہ قبل آپ کے چھوٹے بھائی خواجہ شبیر صاحب اچانک بیٹھے بیٹھے وفات پا گئے۔جس کا دل پر  کافی اثر ہوا اور صحت روز بروز گرتی چلی گئی۔بالآخر 6 اگست جمعتہ المبارک کی رات راہ گزرِ عالم آخرت ہو گئے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مرحوم علاقہ بھر کی نیک سیرت اور نیک طینت شخصیت تھے۔آپکو ڈھائی عشرے مدینہ منورہ گنبد خضریٰ کے سائے تلے بسر کرنے کا شرف حاصل رہا ہے۔اس پچیس سالہ قربت نے آپکے مزاج کے اندر حلیمی،بردباری، عاجزی اور ژرف بینی جیسی صفاتِ عالیہ پیدا کر دیں۔2001ء میں آپ واپس تشریف لے آئے اور اپنی ساری زندگی خدمتِ دین و مذہب کیلئے وقف کر دی۔
آپکے تین صاحبزادے ہیں جن میں خواجہ عبدالحفیظ صاحب دو دھائیوں سے غوثیہ گرلز کالج پلنگی ممتاز آباد چلا رہے ہیں۔منجھلے صاحبزادے حافظ خواجہ محمد اعجاز صاحب ہیں جنہیں نعت خوانی کے حوالہ سے بلبلِ حویلی بھی کہا جاتا ہے۔اعلیٰ پائے کے خطاط اور آرٹسٹ بھی ہیں۔سب سے چھوٹے صاحبزادے خواجہ فیاض احمد صاحب ہیں جن کی حال ہی میں بذریعہ این۔ٹی۔ایس بحثیت عربی معلم تقرری ہوئی ہے۔تینوں بھائی ماشاءاللہ عالمِ دین بھی ہیں۔
مرحوم مدنی صاحب نے ساری اولاد کی تعلیم و تربیت پرخصوصی توجہ دی اور انہی اوصاف حمیدہ سے متصف کیا جو مرحوم کا طرۂ امتیاز تھے۔ارکان اسلام کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بجا آوری پر بھی اتنا ہی زور دیا۔ سبھی بھائی سچے عاشق رسولؐ ہیں اور دینِ متین کے ابلاغ میں ہمہ وقت مشغول رہتے ہیں۔
دعا ہے کہ رب کریم مدنی صاحب اور انکے برادرِ صغیر خواجہ شبیر صاحب کو اعلیٰ علین میں جگہ عطا فرمائے اور ساری اولاد کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اس شخص کے ہاتھوں کا ہنر یاد رہے گا
جو حبس کے عالم میں ہوا بانٹ رہا تھا

Leave your comment !