سردار محمد حلیم خان

ایک ماہ کے قلیل عرصے میں اوپر تلے کئی واقعات ایسے ہوے ہیں جنہوں نے بیس کیمپ کی قیادت پر بھاری ذمہ داریاں ڈال  دی ہیں۔ایک نظر ان واقعات یا اقدامات پر ڈالتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ پراسرار انداز میں درج ذیل واقعات ہوے

۔پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان 2003کے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق

۔پاکستانی وفد کا دورہ بھارت اور آبی تنازع کے مذاکرات میں شرکت

۔پاکستان کے آرمی چیف کی طرف سے بھارت کو ماضی بھلا کر اگے بڑھنے کی پیشکش

۔وزیراعظم مودی کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کی بیماری پر نیک تمناوں کا اظہار اور  یوم پاکستان پر مبارکباد کا خط

۔اندرون خانہ حکام کا اس بات پر اتفاق کہ وزیراعظم عمران خان بھارت کے خلاف سخت موقف ترک کریں گے

۔اور اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا یہ کہ پاکستان بھارت اور چین مشترکہ جنگی مشقیں کریں گے۔

۔یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ دونوں ممالک اپنی معمول کی سفارتی سرگرمیاں شروع کرنے والے ہیں جلد دونوں ممالک کے ہائی کمشنرزاپنی ذمہ داریاں پھر سے سنبھال رہے ہیں اور تجارت پھر سے شروع ہونے والی ہے۔

ان اقدامات کے کشمیر اور اہل کشمیر پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے سے پہلے یہ جان لیجئے کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور سیاسی کارکنوں و رہنماؤں کی رہائی تک کسی قسم کے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔قائد تحریک سید علی گیلانی اور چئیرمین متحدہ جہاد کونسل نے بجا طور پر پاکستان کی سول اور فوجی قیادت سے یہ سوال پوچھا ہے کہ کیا بھارت نے وہ اقدامات کیے ہیں جن کا مطالبہ پاکستان کرتا رہا ہے؟کیا 5 اگست کو بھارت کی طرف سے کشمیر ہڑپ کرنے کے اقدامات کے معاملے میں کوئی تبدیلی ائی ہے؟کیا بھارت کی طرف سے بے گناہ کشمیریوں کی داروگیر اور ٹارگٹ کلنگ میں کوئی کمی ائی ہے؟جبکہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق لاک ڈاون 5 اگست کے بعد 323 نوجوانوں کو شہید کیا گیا ہزاروں زخمی اور سینکڑوں غائب کر دیے گے ہیں۔املاک جلائی گئی ہیں سینکڑوں گھر ڈائنامائٹ سے اڑا دیا گیا ہے اور ریاست میں ہندوستانی شہریوں کی اباد کاری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔مندرجہ بالا واقعات نے اہل کشمیر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔2003کے مشرفی معاہدہ جنگ بندی کی سب سے خطرناک شق  یہ تھی کہ پاکستان اپنی یا اپنے زیر انتظام زمین کو بھارت کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔یہ شق بھارت نے ہر طرف فوجوں کو اکٹھا کر کے بزدل کمانڈو کو ڈرا کر منوائی تھی۔موجودہ مشرف ایکسٹینشن حکمرانوں نے اس پہ کاربند رہنے کا پھر سے اعلان کر دیا ہے۔اس سے اگے بڑھ کر فوجی سربراہ نے ماضی کو بھلانے کا اعلان بھی کیا ہے جس کا اختیار کسی بھی سرکاری ملازم کو نہیں دیا جا سکتا۔ماضی بھلانا بھارت کے عین مفاد میں ہے کیونکہ بھارت نے پہلے کشمیر پر قبضہ کیا پھر مشرقی پاکستان کو کاٹ کر پاکستان سے الگ کیا اور کراچی اور بلوچستان میں نہ بجھنے والی آگ سلگا رکھی ہے ایسے میں جس ادارے کی ذمہ داری ملک کی حفاظت کرنا اور بھارت سے اس کے جرائم کا بدلہ لینا ہے اس کا سربراہ کس طرح اتنی بڑی افر کر سکتا ہے کیا اس کو یہ اختیار پاکستان کے عوام یا پارلیمنٹ نے دیا ہے؟

لیکن بہر حال پاکستان اپنی مرضی کا مالک ہے اسے اپنے فیصلے خود کرنے اور اپنے مفادات کا تعین کرنے کا اختیار ہے  کشمیریوں کو ہر حال میں پاکستان کی ضرورت رہے گی۔سوال مگر یہ ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کے بدلتے رویوں کے باوجود  ازادی کی منزل سے ہمکنار ہونے کے لئے اہل کشمیر کے پاس کیا لائحہ عمل ہے۔یہ کشمیر کی سیاسی قیادت کا امتحان ہے۔یہ نہایت تلخ حقیقت ہے کہ 5 اگست سے لیکر اس وقت تک کشمیر میں قیادت کا سنگین بحران سامنے ایا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں قیادت سے لیکر کارکنان تک جیلوں میں ٹھونس دیے گے ہیں وادی عملا ایک جیل بن چکی ہے یہ صرف آزاد کشمیر ہے جس پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ یہاں کی سیاسی قیادت نئے حالات کے تحت لائحہ عمل بھی دے اور پاکستان کی طرف سے مسلسل خود سپردگی کے خلاف عوام کو بھی متحرک کرے لیکن ایسی قیادت سامنے نہ اسکی جس کی وجہ سے ایک بڑا خلا اور مایوسی ہے۔یہ کام  بیس کیمپ کے صدر یاوزیراعظم بہترین طریقے سے کر سکتے تھے ان کی ذمہ داری بھی تھی اور وسائل بھی تھے لیکن ہر دو حضرات نے اپنے آپ کو قیادت کے لئے قطعی نا اہل ثابت کیا۔آزمائش کی گھڑیوں میں ہی قیادت ابھر کے سامنے اتی ہے حکومت سے باہر کسی سیاسی جماعت کی قیادت بھی قیادت اور رہنمائی کرنے کا کام نہ کر سکی۔

پس چہ باید کرد

اب کیا ہونا چاہیے اس حوالے سے درج ذیل تجاویز ہیں

۔پاکستانی حکمرانوں کی مسلسل پسپائی کے خلاف  فوری بھرپور احتجاج کیا جائے اور بھارتی فوج کی مشقوں کے لئے پاکستان امد کے موقع پر آزاد کشمیر مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں میں بھرپور ہڑتال کی جائے۔

۔سارک کے اجلاس کے موقع پر مودی کی اسلام اباد امد کے موقع پر اسلام آباد میں لاکھوں کشمیریوں کا مظاہرہ کیا جائے۔

ازاد کشمیر کی ساری سیاسی جماعتیں تین نکات پر متحد ہو جائیں

۔حق خود ارادیت

۔بیس کیمپ کی بحالی جس کا مطلب 24 اکتوبر 47 کو قائم ہونے والی حکومت کے تمام اختیارات کی بحالی آزاد حکومت کو ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت تسلیم کروانا مہاجرین کی سیٹوں کے بغیر قانون ساز اسمبلی کا انتخاب کروانا ہونا چاہیے

۔وحدت کشمیر

ان نکات پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہو سکتا ہے۔اس اتفاق رائے کے نتیجے میں آئندہ الیکشن ایسی اسمبلی کے لئے منعقد ہوں جس کا کام صرف تحریک آزادی کشمیر کی منصوبہ بندی اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہو۔

تمام تر ترقیاتی کام بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے کروائے جائیں اور اس کے لئے بلدیاتی الیکشن عام انتخابات سے پہلے یا فوری بعد کروائے جائیں۔

ان تین مقاصد کے حصول کے لئے ازاد حکومت اگے نہیں بڑھتی تو تحریک آزادی کشمیر سے دلچسپی رکھنے والی جماعتیں خود اگے بڑھ کر متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دیں۔

ریاست میں اس وقت بدلتے حالات کے باوجود اگر آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت نے اپنا فرض ادا نہیں کیا تو قیامت کے دن مقبوضہ کشمیر میں بہنے والا لہو آپ کو معاف نہیں کرے گا۔اور تمہاری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں