فتنہ انکارسنت

تبصرہ نگار : سید مزمل حسین 

آزاد کشمیر کے سابق صدر اور وزیر اعظم سردار محمد عبدالقیوم خان کی ایک اہم تصنیف ’’فتنہ انکارسنت‘‘ کے نام سے کچھ عرصہ قبل منظر عام پر آئی۔ اس سے قبل وہ’’ کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘اور ’’مقدمہ کشمیر‘‘ سمیت متعدد کتابیں لکھ چکے تھے ۔

یہ تصنیف اس لحاظ سے مختلف ہے کہ ایک ہمہ وقت سیاستدان نے ایک نہایت مشکل دینی موضوع پر خامہ فرسائی کی اور اردو دان طبقے کے لیے اچھا خاصا مواد فراہم کیا۔ فتنۂ انکار سنت نئی بات نہیں ہے۔

یہ فتنہ چودہ سو سال کے عرصہ پر محیط ہے رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو چیلنج کرنے والے ہر دور میں موجود رہے ہیں ۔ ساتھ ہی ان فتنوں کا قلع قمع کرنے والے بھی ہر زمانے میں سامنے آتے رہے ہیں۔

قریب کے زمانے میں غلام احمد پرویز اس طبقے کے سرخیل تھے ۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ، پیر محمد کرم شاہ الازہری اور دیگر علماء کرام کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے غلام پرویز کے پھیلائے ہوئے افکار و نظریات کا بھر پور انداز میں محاکمہ کیا۔

فتنۂ انکار سنت پر عالم اسلام کے دیگر خطوں میں بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے ۔عربی زبان میں اس موضوع پر الشیخ مصطفی السباعی نے ایک وقیع کتاب ’’ السنۃ و مکانتھا فی التشریع الاسلامی‘‘کے نام سے لکھی جس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔

سید مزمل حسین 



سردار عبدالقیوم خان کو یہ کتاب لکھنے کا خیال کیوں آیا ؟ آئیے خود ان کے الفاظ میں دیکھتے ہیں:
’’ ہر دور میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں رہی جنہوں نے سنت رسول ﷺ پر مختلف نوعیت کے اعتراضات کر کے سنت کی اہمیت اور ضرورت کو ختم کرنے یا کم کرنے اور ایسے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس سے بالواسطہ طور پر اسلام کی بنیاد ہی ختم کی جا سکتی ہے اور اسلام میں اپنی مرضی کے عقائد و نظریات داخل کرنے کا وسیع دروازہ کھل سکتا ہے ۔ ہر دور میں ایسے اعتراضات کے جواب و تردید میں بھی صاحب علم لوگوں نے قابل تحسین کاوشیں کی ہیں

سال ۱۹۷۵؁ ء کی بات ہے پلندری جیل میں اپنی اسیری کے دوران میں نے محترم پیر کرم شاہ صاحب الازہری ؒ کی تصنیف’’سنت خیرالانامؐ ‘‘ پڑھی۔ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ، لیکن میرے جیسے ایک عام آدمی کے لیے کچھ مشکل لگی۔ دوسرا میں نے اس کتاب کے کے اندر ایک تشنگی محسوس کی کہ کتاب اپنے مخصوص موضوع کے اعتبار سے اگر مزید مفصل ہوتی تو جی چاہتا تھا کہ انسان اسے پڑھتا ہی چلا جائے‘‘ جلد اول ، صفحہ نمبر ۷)

سردار عبدالقیوم خان اپنی کتاب کے اغراض و مقاصد کے بارے میں خود یوں بتاتے ہیں:
’’ میری اس تحریر کے مخاطب وہ حضرات نہیں جو رسول ﷺ کی حدیث اور سنت پر سرے سے یقین ہی نہیں رکھتے اور رفتہ رفتہ کسی منطقی نتیجہ پر پہنچنا چاہتے ہیں۔ یعنی قرآن کریم کے مطلب ، معنی اور مفہوم میں رد و بدل کر کے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیں اور سمجھیں کہ وہ فی الواقع اچھا کام کر رہے ہیں ‘‘ (جلد اول ، صفحہ نمبر ۳۵)

کتاب لکھنے کے سلسلے میں سردار عبدالقیوم خان کو جن مراحل سے گزرنا پڑا اور جن شخصیات سے واسطہ پڑا ان مین سے ایک کے بارے میں وہ یوں بتاتے ہیں:
’’ہمارے ایک ساتھی شب بیداری اور ذکر و اذکار کے باعث طبیعت میں ہی کیا پورے جسم میں ایک دلکشی و جاذبیت رکھتے تھے۔ ان کے پاس بیٹھ کر اٹھنے کو جی نہ چاہتا تھا۔ ایک مرتبہ عرصہ کے بعد ان سے ملاقات ہوئی اور اسی سابقہ ذوق میں جو مل بیٹھے تو مجھے ایک عجیب سی کراہت محسوس ہوئی اور فوراً علیحدہ ہونے کو جی چاہا۔ میں نے پوچھا افضل کیا آپ اپنے ادوار وظائف پڑھتے ہیں؟ تو جھجک کر جواب دیا کہ: ’’ کچھ عرصہ سے ترک ہو گئے ہیں‘‘ ۔ وہ کچھ نادم اور الجھا ہوا دکھائی دے تھا۔ اس کا سبب تو مجھے بالکل معلوم نہیں مگر میرے منہ سے نکلا ’’افضل آپ کہیں پرویز کا لٹریچر تو نہیں پڑھتے‘‘ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور کہا کہ ہاں کچھ عرصہ سے وہی پڑھتا ہوں ۔ میں نے کہا کیا تب سے ہی اوراد وظائف اور عبادات چھوٹ گئی ہیں؟ کہا’’ ہاں‘‘۔ میں نے کہاکیا مزید کسی دلیل کی ضرورت ہے کہ جو کچھ تم پڑھ رہے ہو وہ شیطانی ہے؟ کہنے لگا آپ ٹھیک کہتے ہیں میں نے کہا تم نے شیشے میں اپنی شکل بھی دیکھی ہے اس کا کیا حال ہو گیا ہے ۔ کہنے لگا مجھے خود اس تبدیلی پر بہت تعجب اور افسوس ہے ۔ آپ کا شکر گزار ہوں اور آئندہ توبہ کرتاہوں۔ اس نے اگرچہ توبہ تو کر لی مگر وہ زہر سالہا سال تک اس کے جسم سے زائل نہ ہوا۔ بڑی مدت کے بعد وہ رفتہ رفتہ اپنے رنگ و روپ کی طرف لوٹا جب کہ زہر کا اثر ہونے میں تو شاید ایک لمحہ بھی نہ لگا ہو گا۔ انسان کی سوچ ، عقیدہ اور عمل کا جو اثر انسانی شکل و شباہت پر ہوتا ہے بجائے خود ایک سائنسی موضوع ہے۔ میں نے اس وقت تک پرویز کی کوئی کتاب نہ خود پڑھی تھی اور نہ کسی کتاب کو دیکھا تھا۔ صرف سنا ہی تھاکہ وہ شخص حدیث رسول ؐ اور سنت رسول ؐ کے خلاف ہے اور صرف قرآن پر ہی اکتفا کرنے کا پرچار کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے قرآن کریم کی اپنی من مانی تشریح و تفسیر کرتا ہے ۔ تیسرا سبب یہ ہوا کہ ماضی قریب میں ایک اور صاحب نے آنا جانا شروع کیا ۔ اس سے ملتے وقت بھی مجھے وہی احساس ہوتا جو افضل کے ساتھ ہوتا تھا۔ اسے افضل والا واقعہ سنایا مگر وہ مصر تھا کہ میں پرویز کی کچھ کتابیں ضرور پڑھوں ۔ شاید اس امید پر کہ اس تحریر کا مجھ پر بھی اثر ہو جائے۔ اس کی دلجوئی کے لیے میں نے ہاں کی تو وہ چند بنیادی اور مشہور کتابیں لے آیا۔ کچھ عرصہ تو ان کو ہاتھ لگانے سے بھی کراہت محسوس ہوئی بلکہ ان کو دوسری مذہبی کتابوں سے الگ رکھا اور یہ کوئی عقلی بات نہ تھی بلکہ وہ کتابیں بھی مجھے زہر آلود محسوس ہوتیں۔ بہرحال اس کے بار بار پوچھنے پر کہ پڑھا یا نہیں، میں نے پڑھنا شروع کیا تو دلچسپی بڑھتی گئی۔ طبیعت میں ایک خاص قسم کی کراہت اور غلاظت تو محسوس ہوتی رہی مگر دو تین کتابیں پڑھ ڈالیں۔ مزید برآں یہ کہ وہ کتابیں میرے کمرے میں ایک صندوق میں رکھی ہوئی تھیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ جوں ہی میں کمرے میں داخل ہوتا تو خلاف معمول خواہ مخواہ میری نظر اس صندوق پر پڑتی۔ ایسا لگتا جیسے کوئی زہریلا اژدھا ا س میں بند ہے ۔ جب تک میں نے ان کو تلف نہیں کیا یہی کیفیت رہی۔ بہرحال جوں جوں پڑھتا گیا خدا کا کرم ہے کہ اس تحریر کی ظاہری دلکشی کے باوجود تحریر کا اندرون دکھائی دیتا رہا اور ایسا محسوس ہو رہا تھاکہ ایک ایک لفظ زہر میں بجھا ہوا تیر ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے دل پر چلایا جا رہا ہے ۔ (جلد اول، صفحہ نمبر ۳۸، ۳۹)

سردار عبدالقیوم خان کی تصنیف مجموعی طور پر چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ پہلی جلد ۲۷۲ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ دوسری جلد ۳۱۴ صفحات پر جبکہ تیسری ۱۰۴ صفحات اور چوتھی ۱۵۸ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے ۔ پہلی جلد کے مندرجات میں خصوصی طور پر لفظ ’’ظن‘‘ کی قرآنی تشریح ، تاریخ ، اقسام حدیث اور حافظہ پر بات کی گئی ہے اسی طرح اس جلد میں قرآن کریم کی رو سے رسول اکرم ﷺ کا مقام ِ خصوصی توجہ کا طلبگار ہے ۔ پہلی جلد کے دیگر موضوعات میں تاریخ تدوین حدیث پر مفصل بحث کی گئی ہے اسی طرح منکرین سنت کے نظریات کا جائزہ لے کر انہیں جواب بھی دیا گیا ہے۔ دوسری جلد سنت رسول ﷺ کی قرآنی حیثیت کی وضاحت کے لیے مختص کی گئی ہے اس جلد میں وہ آیات قرآنی اور ان کے تراجم اور مختصر تفسیری مباحث بیان کیے گئے ہیں جن میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم ﷺ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ خطاب فرمایا ہے ۔ جلد سوئم میں بعض قرآنی مصطلحات سے بحث کی گئی ہے جن میں لفظ ’’یوم ، خسارہ، یوم میثاق‘‘ وغیرہ شامل ہیں ۔ چوتھی جلد حدیث کے مفہوم ، تاریخ ، حفاظت اور انکار سنت کے فتنہ کے اجمالی جائزے کے لیے مختص کی گئی ہے ۔ اس جلد میں مصنف نے حدیث کی تدوین اور اس کی حفاظت کے سلسلے میں عہد رسول اکرم ﷺ اور ان کے بعد صحابہ کرامؓ کے زمانے کی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔
کتابیات کے ضمن میں مصنف نے ۲۳ مصادر کا ذکر کیا ہے جو یہ ہیں:

قرآن مجید (ترجمہ مولانا محمود الحسن ) ، تفسیر ابن کثیر ( علامہ عماد الدین ابن کثیرؒ) ،تفسیر روح المعانی (علامہ آلوسی بغدادیؒ) ، مفردات القرآن (امام راغب اصفہانیؒ) تفسیر بیان القرآن (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ، تفسیر عثمانی (مولانا شبیر احمد عثمانیؒ) تفسیر موضح القرآن (شاہ عبدالقادر دہلویؒ ) ، معارف القرآن (مولانا مفتی محمد شفیع ؒ) معارف القرآن (علامہ محمد ادریس کاندھلویؒ) ، کنز الایمان (امام احمد رضا خان بریلویؒ) ضیاء القرآن (پیر کرم شاہ الازہریؒ)،بخاری شریف (محمد بن اسماعیل بخاریؒ )، ترمذی شریف (امام ابو عیسی محمد بن عیسی ترمذیؒ) مشکوۃ شریف (شرح،شاہ عبدالحق محدث دہلوی)معارف الحدیث (مولانا منظور احمد نعمانیؒ) ، شرح مظاہر حق جدید (علامہ نواب محمد قطب الدین خان دہلویؒ ) سنت خیرالانام(پیر کرم شاہ الازہریؒ) ، تاریخ تدوین حدیث (علامہ مناظر احسن گیلانیؒ ) ضرب حدیث (علامہ صادق سیالکوٹیؒ) تاریخ ابن کثیر (علامہ عماد الدین ابن کثیرؒ) ، کشف المحجوب ( حضرت علی بن عثمان الہجویریؒ) المنجد۔ جدید ترجمہ۔ ،فیروز اللغات (مولوی فیروز الدین ؒ ) ،
سردار عبدالقیوم خان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی اس کتاب میں اپنی نسبت کا کھل کا اظہار کیا ہے ۔ وہ رسول اکرم ﷺ ، ان کے اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین اور مشائخ عظام رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین کے لیے عقیدت و محبت میں ڈوبے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کتاب کا انتساب انہوں نے مندرجہ ذیل انداز میں کیا ہے ۔
٭ متقصدین یعنی راست فکر ، اعتدال پسند اور عوام الناس کے نام
٭ اس معصوم چڑیا کے نام جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لیے جلائی گئی آگ بجھانے کے لیے اس پر اپنی چونچ سے پانی کا قطرہ ڈالتی تھی۔
٭ اپنے شیخ کے نام جن کا اسم گرامی ’’عبدالعزیزؒ‘‘ عرف ’’ڈفرے والے بابا جی‘‘ جن کا فیضان نظر میری زیست کا منفرد سرمایہ ہے۔

کتاب کے مطالعے سے یہ بات نکھر کر سامنے آتی ہے کہ سردار عبدالقیوم خان نے نہایت محبت و عقیدت کے ساتھ یہ کتاب لکھی۔ انہوں نے قرآنی آیات اور احادیث کے حوالے دینے کی بھرپور کوشش کی۔ تاہم وہ دیگر کتابوں کے حوالے کما حقہ نہیں دے سکے۔ وہ کتاب میں جا بجا مختلف علماء کرام کا ذکر کرتے ہیں اور ان کے اقوال پیش کرتے ہیں مگر حوالے کے طور پر اکثر صفحات کا ذکر نہیں کرتے ۔ مثال کے طور پر وہ ایک جگہ امام ذہبیؒ کا قوم نقل کرتے ہیں جس کے مطابق حضرت علی کرم اﷲ وجہہ حدیث بیان کرنے والے سے قسم لیا کرتے تھے۔ مصنف نے امام ذہبی ؒ اور ان کی کتاب’’ تذکرۃ الحفاظ‘‘ کا تو ذکر کیاہے مگر صفحہ نمبر، کتاب کا سن طباعت ذکر نہیں کیا۔ اس طرح کی مثالوں سے یہ کتاب بھری ہوئی ہے۔

آخر میں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ سردار عبدالقیوم خان نے اس کتاب کے ذریعے اپنی عاقبت سنوارنے کا اہتمام کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک بہت بڑے فتنے کا بھی تدارک کرنے کی کوشش کی ہے۔ سردار عبدالقیوم خان کی اس کاوش نے اپنے رب کے ہاں یقینا قبول پایا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کی نماز جنازہ میں ہر مکتب فکر سے تعلق رہنے والے لوگ امڈ آئے اور ان کی موت کو ہر فرد نے اپنا نقصان قرار دیا۔ سردار عبدالقیوم خان کی یہ اہم تالیف ان کے صاحبزادے سردار عتیق احمد خان سے غازی آباد ، ضلع باغ، آزاد کشمیر کے پتہ پر خط لکھ کر حاصل کی جا سکتی ہے ۔